Inquilab Logo Happiest Places to Work

دلوں کو تسخیر کرتی ہے حسنِ اخلاق کی خاموش قوت

Updated: April 03, 2026, 4:33 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

اسلامی تعلیمات میں حسنِ اخلاق کو جو مقام دیا گیا ہے، وہ محض ایک سماجی خوبی نہیں بلکہ انسان کی داخلی ساخت کا آئینہ ہے۔

The strongest source of invitation is a life that inspires with its actions. Photo: INN
دعوت کا سب سے مضبوط ذریعہ وہ زندگی ہے جو اپنے عمل سے متاثر کرتی ہے۔ تصویر: آئی این این

اسلامی تعلیمات میں حسنِ اخلاق کو جو مقام دیا گیا ہے، وہ محض ایک سماجی خوبی نہیں بلکہ انسان کی داخلی ساخت کا آئینہ ہے۔ یہ وہ وصف ہے جو انسان کے ظاہر سے زیادہ اس کے باطن کو سنوارتا ہے۔ باطن کی یہ روشنی باہر کے رویّوں میں جھلکتی ہے۔ انسان اپنے علم، قوت یا مال سے وقتی طور پر اثر ڈال سکتا ہے، مگر اس کا اخلاق ہی ہے جو دلوں میں جگہ بناتا ہے۔ اسی لئے یہ تعلیم دی گئی کہ انسان کی اصل پہچان اس کی زبان، اس کے برتاؤ اور اس کے طرزِ عمل سے ہوتی ہے، نہ کہ اس کے دعوؤں سے۔ اگر ہم انسانی معاشرے کو ایک زندہ وجود سمجھیں تو حسنِ اخلاق اس کی روح کی مانند ہے۔ جہاں یہ روح قوی ہو، وہاں تعلقات میں نرمی، گفتگو میں وقار اور رویّوں میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ ایک بااخلاق شخص کسی اصولی تبلیغ کے بغیر بھی اپنے وجود سے ایک خاموش پیغام دیتا ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو اس کے الفاظ میں وزن ہوتا ہے، اور جب خاموش رہتا ہے تو اس کی خاموشی بھی دوسروں کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے لوگوں کو متاثر کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی؛ اس کا کردار خود ایک دلیل بن جاتا ہے، اور لوگ اس کے قریب آ کر غیر محسوس طور پر اس کے رنگ میں رنگنے لگتے ہیں۔
انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ حسن کی طرف مائل ہوتی ہے، اور اخلاق کا حسن سب سے زیادہ دلکش ہوتا ہے۔ ایک نرم مزاج، بردبار اور خیرخواہ انسان نہ صرف اپنی موجودگی سے ماحول کو خوشگوار بناتا ہے بلکہ اپنی غیر موجودگی میں بھی ایک خلا چھوڑ جاتا ہے۔ لوگ اس کی کمی کو محسوس کرتے ہیں، اس کے لئے دعا کرتے ہیں، اور اس کی واپسی کے منتظر رہتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کے دلوں میں زندہ رہنے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: اعتکاف اور شوال کے روزوں کی قضا کا حکم

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ضرورت کے وقت انسان کی اصل قدر سامنے آتی ہے۔ جس شخص نے اپنے رویّوں میں خلوص، ہمدردی اور انصاف کو جگہ دی ہو، اس کے لئے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔ لوگ اس کی مدد کو محض ایک فرض نہیں بلکہ قرض سمجھتے ہیں، کیونکہ اس نے پہلے ہی اپنے اخلاق سے ان کے دل جیت لئے ہوتے ہیں۔ یوں اس کا اخلاق ایک غیر مرئی سرمایہ بن جاتا ہے، جو مشکل گھڑی میں اس کے کام آتا ہے۔لیکن اگر اس حقیقت کو صرف دنیاوی فائدے تک محدود کر دیا جائے تو یہ اس کی ادھوری تعبیر ہوگی۔ 
اصل کامیابی وہاں ہے جہاں انسان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ جو وصف یہاں دلوں کو جیتتا ہے، وہی وہاں میزان کو بھاری کرتا ہے۔ اس لئے بتایا گیا کہ اہلِ جنت میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوگی جو پرہیزگاری کے ساتھ حسنِ اخلاق کے بھی حامل ہوں۔ (جامع ترمذی) گویا اخلاق محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ایک ابدی کامیابی کا زینہ ہے، جو انسان کو اس کے رب کے قریب کرتا ہے اور اسے ایسی دائمی کامیابی عطا کرتا ہے جس کے بعد کوئی محرومی باقی نہیں رہتی۔
جب کسی فکر کو انسانوں کے دلوں تک پہنچنا ہو تو وہ محض الفاظ کے سہارے نہیں پہنچتی، بلکہ اس کے لئے ایک ایسا کردار درکار ہوتا ہے جو ان الفاظ کی سچائی پر مہر ثبت کر دے۔ اسلام کی دعوت بھی اسی اصول پر آگے بڑھی کہ اس نے پہلے انسان کے باطن کو سنوارا، پھر اسی باطن کی روشنی سے دوسروں کے دلوں کو منور کیا۔ اس تاریخی حقیقت کے پیش نظر محسوس کیا جاسکتا ہے کہ حسنِ اخلاق دعوت کا محض ایک حصہ نہیں بلکہ اس کی روح ہے۔ ایک سچا، نرم خو اور دیانت دار انسان جب کسی بات کی طرف بلاتا ہے تو اس کی زبان سے پہلے اس کا عمل گواہی دیتا ہے، اور یہی گواہی دوسروں کے لئے سب سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دلوں کو فتح کرنے کا راستہ تلوار سے نہیں بلکہ کردار سے ہو کر گزرتا ہے۔ جب لوگ کسی ایسے انسان کو دیکھتے ہیں جو اپنے اختیار کے باوجود نرم ہو، اپنی طاقت کے باوجود منصف ہو، اور اپنے مفاد کے بجائے دوسروں کے حق کو ترجیح دیتا ہو، تو وہ غیر محسوس طور پر اس کے قریب ہونے لگتے ہیں۔ یہی وہ داخلی کشش ہے جو محض دلائل سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ ایک زندہ مثال سے جنم لیتی ہے۔ اسی لیے ابتدائی دور میں بہت سے لوگوں نے پیچیدہ دلائل یا لمبی بحث کے بغیر صرف کردار کی سچائی کو دیکھ کر حق کو قبول کیا۔

یہ بھی پڑھئے: آج ہم جن پریشانیوں میں مبتلا ہیں، وہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے!

اسلامی تاریخ کا وہ منظر نہایت معنی خیز ہے جہاں ایک طرف دنیا کے مختلف خطوں میں حکمرانی ظلم، جبر اور استحصال کی علامت بنی ہوئی تھی، اور دوسری طرف ایسے حکمراں سامنے آئے جنہوں نے اقتدار کو خدمت کا ذریعہ بنایا۔ جہاں عام طور پر طاقت کا مطلب دوسروں پر اپنی مرضی تھوپنا سمجھا جاتا تھا، وہاں یہ تصور ابھرا کہ اصل طاقت انصاف قائم کرنے میں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ رعایا نے پہلی بار حکومت کو اپنے لئے سہارا محسوس کیا، نہ کہ بوجھ۔ اس تبدیلی نے لوگوں کے ذہنوں میں ایک نیا سوال پیدا کیا:  اگر یہ نظام اتنا منصفانہ ہے تو اس کے پیچھے کون سا اصول کارفرما ہے؟ اور یہی سوال انہیں اس سرچشمے تک لے گیا جہاں سے یہ روشنی پھوٹ رہی تھی۔
فتح مکہ کا وہ منظر یاد کیجئے، سب کو انتقام کا خوف تھا لیکن حضورؐ  کے معافی کے اعلان نے سب کے دل کا کایا پلٹ دی اور پورا مکہ شہر کلمہ کی آواز سے گونج اٹھا۔ اس حقیقت کو ہم صلاح الدین ایوبی کے اس طرزِ عمل میں بھی دیکھتے ہیں جو انہوں نے بیت المقدس کی فتح کے موقع پر اختیار کیا۔ عام طور پر فتح کا مطلب انتقام اور خونریزی سمجھا جاتا تھا، مگر یہاں ایک فاتح اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی ایسا برتاؤ کر رہا تھا جو رحم، وقار اور انسانیت کا مظہر تھا۔ اسی طرح عمر بن خطاب کا وہ معیارِ عدل یاد کیجئے، جس میں ایک عام شہری اور حکمراں کے درمیان کوئی امتیاز باقی نہیں تھا، اور عمر بن عبدالعزیز کی وہ حکمرانی پر غور کیجئے، جس میں اقتدار ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی بھلائی کے لئے استعمال ہوا۔ یہ سب محض تاریخی واقعات نہیں بلکہ اس اصول کی عملی تصویریں ہیں کہ جب اخلاق اقتدار کے ساتھ جڑ جائے تو وہ دلوں کو بدل دیتا ہے۔ یہاں ایک باریک نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان فطری طور پر انصاف اور حسنِ سلوک کی طرف مائل ہوتا ہے۔ جب وہ کسی نظام میں یہ صفات دیکھتا ہے تو اس کے قریب ہو جاتا ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی پس منظر سے ہو۔ اس طرح اخلاق ایک خاموش داعی بن جاتا ہے، جو نہ شور مچاتا ہے اور نہ خود کو منوانے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس کی تاثیر ایسی ہوتی ہے کہ لوگ خود اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ یہی وہ قوت ہے جس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں لوگوں کو جوق در جوق ایک نئے طرزِ زندگی کی طرف مائل کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ان اخلاقی خوبیوں کو اپنائیے جن سے جنت کے مستحق بن سکیں

یوں کہا جا سکتا ہے کہ دعوت کا سب سے مضبوط ذریعہ وہ زبان نہیں جو بولتی ہے، بلکہ وہ زندگی ہے جو اپنے عمل سے متاثر کرتی ہے۔ جب یہ زندگی سچائی، انصاف اور حسنِ سلوک کا نمونہ بن جائے تو پھر اسے کسی اضافی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ اس کا ہر لمحہ خود ایک دلیل بن جاتا ہے، ایسی دلیل جو دلوں میں اترتی ہے، ذہنوں کو بدلتی ہے، اور انسان کو ایک نئے راستے پر چلنے کے لئے آمادہ کر دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK