Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیلنڈر کسی بھی قوم کی اپنی شناخت ہوتا ہے

Updated: June 12, 2026, 5:18 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

ہجری کیلنڈر پر غور کر جائیے ، اس میں اکثر مہینوں کے نام وہ ہیں ، جو اسلامی عبادات اورمسلمانوں کی مذہبی روایات کی نشاندہی کرتے ہیں اور نام ہی سے ان مہینوں سے متعلق عبادات اور واقعات کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے۔

The Hijri calendar has a great history that should be known and remembered. Photo: INN
ہجری کیلنڈر کی ایک عظیم تاریخ رہی ہے جسے جاننا اور یاد رکھنا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

اسلامی کیلنڈر ’’ ہجری کیلنڈر‘‘ کہلاتا ہے ، پیغمبر اسلام ﷺکے واقعہ ہجرت کی طرف اس کی نسبت ہے ۔ ہجرت در اصل پیغمبروں کی سنت ہے، شاید ہی کوئی پیغمبر ہو، جس کو ہجرت نہ کرنی پڑی ہو ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام وغیرہ کی ہجرت کے واقعات تو خود قرآن مجید میں مذکور ہیں  لیکن تاریخ میں ہجرت کے نام سے جو شہرہ آپؐ  کی ہجرت کا ہوا ، کسی اور پیغمبرکی ہجرت کا نہیں ہوا۔  آپؐ  ۵۷۱ء میں پیدا ہوئے اور ٹھیک ۴۰ ؍ سال کی عمر یعنی ۶۱۱ء میں نبوت سے سرفراز کئے گئے۔ 
۱۳ ؍ سال آپؐ  نے مکہ میں دعوتِ دین کی جد و جہد فرمائی ، یہ ۱۳ ؍ سال ایسے گزرے کہ شب و روز آپؐ بے قرار رہتے کہ کسی طرح اللہ کے بندے اللہ کو پالیں اور صحیح راستہ کی طرف آجائیں ، پورا دن آپؐ  گلی کوچوں اور بازاروں  میں گھوم گھوم کر دعوت دینے میں گزارتے، ایک ایک دروازہ پر پہنچتے اور دروازۂ دل کو دستک دیتے، ایک ایک شخص سے ملتے اور اس کی خوشامد فرماتے مگر مٹھی بھر لوگوں نے ہی آپؐ  کی بات مانی۔ اکثریت ان لوگوں کی تھی کہ حق کی روشنی ان کے سامنے دوپہر کی دھوپ کی طرح کھل کر آگئی مگر بت پرستی اور بے دینی کو چھوڑ نے پر وہ آمادہ نہیں تھے ؛ کیونکہ یہی ان کے آباء واجداد کا مذہب تھا۔  اس دوران کوئی تکلیف نہ تھی جو آپؐ  کو پہنچائی نہ گئی ہو، آپؐ کا پورے خاندان سمیت بائیکاٹ کیا گیا، مسلمان لقمہ لقمہ کو ترستے تھے، اور آپؐ اپنے اہل خاندان کے ساتھ درخت کے پتے اور چھال تک کھانے پر مجبور تھے، جسم اقدس پر اونٹ کی اوجھ اور غلاظت ڈال دی گئی، گلے میں پھندہ ڈالنے  کی کوشش کی گئی، راستہ میں کانٹے بچھائے گئے حتیٰ کہ آپؐ  کو فاتر العقل اور جادو گر مشہور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ماحولیات کا تحفظ دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ

آپؐ نے طائف کا رخ کیا، شاید ان کو قبولِ اسلام کی توفیق ہو؛ لیکن طائف کی زمین مکہ سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوئی۔ وہاں کے لوگوں نے نے نہ صرف انکار کیا ؛ بلکہ آپؐ  کے پیچھے اوباش لڑکوں کو بھی لگادیا، یہ  آپؐ پر پتھر پھینکتے، خاک اُڑاتے، ہنستے اورتمسخر کرتے۔ آپؐ کا  جسم مبارک لہو لہان ہوگیا ۔ حضرت زید بن حارثہؓ ساتھ تھے ، انہوں نے آپؐ  کو کاندھوں پر اُٹھالیا اور ایک باغ کی پناہ لی۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ اس وقت  ٹوٹے ہوئے دل اور اشکبار آنکھوں سے آپ ؐ  خدا کی طرف متوجہ ہوئے اور بڑی پُر درد دُعاء فرمائی۔ 
خدا کی قدرت دیکھئے کہ ایمان اور اسلام کا جو تخم آپؐ  نے مکہ اور طائف کی سرزمین میں بویا تھا  اللہ اس سے اہل مدینہ کے دلوں کو بار آور فرما رہا تھا ، بارش کہیں اور ہو رہی تھی اور ایمان کا آب حیات کہیں اور جمع ہو رہا تھا ، حج کے موقع سے مدینہ کے لوگ مکہ آئے، ان کے کان آپؐ کی دعوت کی طرف متوجہ ہوئے، وہ مخلص اور حق کے متلاشی تھے، ضد اوراکڑ نہ تھی، اس لئے فوراً ہی کانوں سے دلوں تک کا فاصلہ طے ہوا، ایمان لائے اور اہل ایمان کو پناہ دینے کا عہد بھی کیا، مکہ کی زمین بتدریج اہل ایمان پر تنگ سے تنگ تر ہوتی جاتی تھی لیکن مجال نہ تھی کہ دامنِ صبر مسلمانوں سے چھوٹ جائے، آخر خود خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ مسلمان مکہ چھوڑ کر مدینہ جائیں، مسلمان آہستہ آہستہ مدینہ جانے لگے اور صرف وہی مکہ میں رہ گئے، جو یہاں سے جا نہیں سکتے تھے؛ لیکن آپؐ ابھی تک مکہ ہی میں مقیم تھے اور اپنے بارے میں حکم خداوندی کے منتظر۔ دشمنانِ اسلام نے آپؐ کے قتل کا منصوبہ بنا یا  اور درِ دولت کا محاصرہ کر لیا، ادھر خدا کی طرف سے صورتحال سے آپؐ کو آگاہ کیا گیا اور ہجرت کا حکم ہوا۔ آپؐ پورے اطمینان کے ساتھ کچھ آیتوں کا وِرد کرتے ہوئے اور ایک مشت ِغبار محاصرین پر پھینکتے ہوئے نکلے اور غار ثور اور مختلف راہوں سے ہوتے ہوئے مدینہ پہنچ گئے۔ 
سرکار دو عالمؐ جب مدینہ میں داخل ہوئے تو جشن کا منظر تھا۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد اور عورت، آقا اور غلام سب  دل اور آنکھیں بچھائے پروانہ وار کھڑے تھے، زبان پر استقبالیہ نغمے، نگاہانِ شوق بے تاب۔ مکہ کی سرزمین مسلمانوں پر تنگ تھی مگر مدینہ نے دل و جگر راہوں میں بچھا دیئے۔ اہل مدینہ نے جو ایثار کیا، شاید ہی انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال مل سکے، اہل مکہ کی قربانیاں بھی کچھ کم نہ تھیں، گھر چھوڑا، وطن چھوڑا،   اس کی فضاؤں کو خیر باد کہا، اعزہ واقرباء کی محبت قربان کی اور اپنی پوری دنیا سے منہ موڑ کر ایسی منزل کو چل پڑے جہاں اجنبیت سے سابقہ تھا اور مستقبل موہوم تھا؛ اس لئے آپ ؐ نے مکہ ترک کر کے آنے والوں کو ’’ مہاجرین ‘‘ اور مدینہ کے رہنے والوں کو ’’ انصار ‘‘ کا نام دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: مہرفاطمی کی ادائیگی، صدقات کی اقسام، ایام ِ اضحیہ کے بعد کوئی قربانی نہیں

ہجرت کا حقیقی معنی کیا ہے؟

عربی زبان میں ’’ ہجر‘‘ کے معنی چھوڑ نے کے ہیں، اسی سے ہجرت کا لفظ ماخوذ ہے۔  ہجرت ایک اسلامی اصطلاح ہے۔ایمان کی حفاظت یادین کی اشاعت کی غرض سے ترکِ وطن کرنے کو ’’ہجرت ‘‘ کہتے ہیں۔ ’’ تارکین وطن‘‘ آج کل ایک بین الاقوامی اصطلاح ہے۔ ہرملک میں تارکین وطن موجود ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ان کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔ یہ وہ تارکین وطن ہیں، جنہوں نے معاشی اور سیاسی مقاصد کے تحت اپنا وطن چھوڑا ہے ، ان کو مہاجرین کہنا ’’ ہجرت ‘‘ کے مقدس لفظ کے ساتھ نا انصافی ہے۔

 مہاجرکا معنی ہے ’’ دین کے لئے ترک وطن کرنے والا ‘‘ اور ’’ انصاری‘‘ کے معنی ہیں اہل ایمان کی مدد ونصرت کرنے والا۔ مسلمانوں میں ان دو طبقوں کے سوا کسی تیسرے طبقہ کا تصور نہیں ، نہ ذات پات کا ، نہ قبیلہ اور برادری کا ، نہ ملک اور صوبہ کا ، نہ زبان کا ، کوئی اور تقسیم نہیں جو اللہ تعالیٰ کو گوارا ہو ۔ 
ہجرت کا یہ واقعہ ایک طرف مسلمانوں کی قربانی اور دین کی حفاظت و اشاعت کے لئے پیغمبر اسلام جناب محمد الرسولؐ اللہ اور ان کے رفقاء عالی مقام کے ایثار و فدا کاری کی یاد گار ہے اور دوسری طرف آئندہ اسلام کو جو فتوحات اور کامیابیاں حاصل ہوئیں ، ان کا مقدمہ۔  یہ محض مکہ سے مدینہ کی طرف سفر نہیں تھا ؛ بلکہ مغلوبیت سے غلبہ و ظہور کی طرف اور مقہوریت سے طاقت و شوکت کی طرف سفر تھا ۔ بظاہر مسلمانوں پر زمین تنگ ہو رہی تھی ؛ لیکن خدا نے اسی تنگی میں آفاق کی وسعت کو سمو رکھا تھا ۔ یہ واقعہ نااُمیدیوں میں اُمید کی کرن سے روشناس کرتا ہے اور حوصلہ شکن حالات میں اُمید و حوصلہ کا چراغ جلاتا ہے ، اور اس بات کو بھی یاد دلاتا ہے کہ کیسی کیسی قربانیوں اور جانثاریوں سے خدا کے اس دین کو سربلند کیا گیا ہے ، اور کس قدر خون و لہو کے ذریعہ حق وصداقت کے اس شجرۂ طوبیٰ کی آبیاری فرمائی گئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اقراء کے ساتھ باسم ربک بھی ضروری ہے

حضرت عمرؓ کے سامنے بحیثیت خلیفہ ایک فائل آئی، جس میں تاریخ درج تھی ، سال درج نہ تھا ، آپ ؓ کو خیال ہوا کہ مسلمانوں کا اپنا کیلنڈر ہونا چاہئے ، آپ ؓ نے مجلس شوریٰ میں یہ تجویز رکھی اور غالباً حضرت علی ؓ کی رائے پر فیصلہ ہوا کہ اسلامی کیلنڈر واقعۂ ہجرت پر مبنی ہونا چاہئے؛ چنانچہ مہینوں کی ترتیب وہی قائم رہی جو اسلام سے پہلے عربوں میں مروج تھی ، محرم سے آغاز اور ذوالحجہ پر اختتام اور سال کا آغاز واقعۂ ہجرت کے سال سے مانا گیا۔  اس طرح، رواں سال یعنی  ۱۴۴۷ھ کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺکے واقعۂ ہجرت کو اتنے سال گزر چکے ۔ 
کیلنڈر بھی کسی قوم کی اپنی شناخت ہوتی ہے ، اس سے قوم و ملت کی تاریخ وابستہ ہوتی ہے ، ہجری کیلنڈر پر غور کر جائیے ، اس میں اکثر مہینوں کے نام وہ ہیں ، جو اسلامی عبادات اورمسلمانوں کی مذہبی روایات کی نشان دہی کرتے ہیں اور نام ہی سے ان مہینوں سے متعلق عبادات اور واقعات کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے ، دوسری قوموں کے جو کیلنڈر مروج ہیں ،   وہ بھی ان کے مذہبی افکار و روایات کے مظہر ہیں ، یہی حال مہینوں اور ہفتوں کے نام کا ہے ،   مثلاً : Sunday اور Monday کے الفاظ ہی پر غور کیجئے ، ان کے معنی ہیں سورج کے دن اورچاند کے دن؛ چوںکہ اہل یونان کے یہاں ایک دن سورج کی پرستش کے لئے مقرر تھا اورایک دن چاند کی پرستش کے لئے ، اسی لئے مختلف دیوتاؤں کے نام سے دنوں کے نام ہوا کرتے تھے ، کچھ اسی طرح کا معنی مہینوں کے نام کے پیچھے بھی کار فرما ہے ، اسی لئے حضرت عمرؓ نے ان کیلنڈروں کو قبول نہیں فرمایا ، جو اس زمانہ میں مروج تھے ۔
پس اسلامی کیلنڈر مسلمانوں کی اپنی ایک پہچان ہے؛ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس کیلنڈر کو رواج دیں اور نئی نسل کو اس کے پس منظر اور اس کی دینی و ملی حیثیت سے واقف کرائیں ، علماء نے لکھا ہے کہ ہجری کیلنڈر کے چلن کو باقی رکھنا اور اس کی ترویج کی سعی کرنا فرض کفایہ یعنی اُمت کا اجتماعی فریضہ ہے ، یہ کیلنڈر ہمیں ہمارا تشخص یاد دلاتا ہے ، اور ہجرت کے عبرت آمیز اور موعظت انگیز واقعہ کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK