Inquilab Logo Happiest Places to Work

اختلاف صحیح بنیادوں پر قائم ہو تو یہ فکر کی حرکت اور علم کی وسعت کا سبب بنتا ہے

Updated: April 17, 2026, 5:17 PM IST | Mohammed Tauqeer Rahmani | Mumbai

انسان اس دنیا میں محض ایک بے سمت وجود کے طور پر نہیں آتا بلکہ اس کے اندر اختیار کی وہ قوت ودیعت کی جاتی ہے جو اسے انتخاب، ترجیح اور فیصلہ سازی کا اہل بناتی ہے۔ یہی اختیار اس کی ترقی کا زینہ بھی ہے اور زوال کا دروازہ بھی۔

When disagreement is accompanied by the search for truth, the power of argument, and an awareness of one`s own limitations, it becomes an asset of knowledge. Photo: INN
جب اختلاف حق کی تلاش، دلیل کی قوت اور اپنی حد کے شعور کے ساتھ ہو تو وہ علم کا سرمایہ بن جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسان اس دنیا میں محض ایک بے سمت وجود کے طور پر نہیں آتا بلکہ اس کے اندر اختیار کی وہ قوت ودیعت کی جاتی ہے جو اسے انتخاب، ترجیح اور فیصلہ سازی کا اہل بناتی ہے۔ یہی اختیار اس کی ترقی کا زینہ بھی ہے اور زوال کا دروازہ بھی۔ اگر وہ اپنے فیصلوں کو شعور، وقت کی نزاکت اور حقیقت کی پہچان کے ساتھ ہم آہنگ کر لے تو کامیابی اس کے قدم چومتی ہے، اور اگر وہ اسی اختیار کو خواہش یا سطحی فہم کے تابع کر دے تو وہی آزادی اس کے لئے بوجھ بن جاتی ہے۔ گویا آزادی بذاتِ خود کامیابی کی ضمانت نہیں، بلکہ اس کا درست مصرف ہی اصل معیار ہے۔
یہی اصول انسانی علوم اور میدانِ فکر پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ دنیاکا ہر شعبہ اپنی ایک داخلی ساخت، اصول اور معیار رکھتا ہے، جسے سمجھنے کے لئے عمر بھر کی محنت، مشاہدہ اور گہرا غور درکار ہوتا ہے۔ جو لوگ اس محنت سے گزرتے ہیں، وہی کسی مسئلے پر رائے دینے کا حق حاصل کرتے ہیں۔ ان کی رائے محض ایک خیال نہیں ہوتی، بلکہ تجربے، تسلسل اور فہم کے ارتکاز کا نتیجہ ہوتی ہے۔ لیکن جب کوئی شخص اس دائرے سے باہر کھڑے ہو کر اسی یقین کے ساتھ رائے دینے لگے جس یقین کے ساتھ ایک ماہر بولتا ہے، تو یہ دراصل علم کی نہیں بلکہ اعتمادِ بے جا کی علامت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن کریم سے حقیقی تعلق: حلاوتِ تلاوت سے شعورِ ہدایت تک پہنچاتا ہے

اسی تناظر میں یہ حقیقت بھی اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ اختلاف بذاتِ خود کوئی عیب نہیں، بلکہ صحیح بنیادوں پر قائم ہو تو یہ فکر کی حرکت اور علم کی وسعت کا سبب بنتا ہے۔ جب اہلِ نظر اپنے اپنے دلائل کے ساتھ کسی مسئلے کو دیکھتے ہیں تو حقیقت کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں، جیسے ایک ہی منظر کو مختلف زاویوں سے دیکھنے سے اس کی مکمل تصویر واضح ہو جاتی ہے۔ اس طرح کا اختلاف دراصل جمود کو توڑتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، اور تحقیق کے نئے دروازے کھولتا ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو علم کو ٹھہراؤ سے بچا کر آگے بڑھاتی ہے اور پوشیدہ گوشوں کو نمایاں کرتی ہے۔ 
یہیں ایک باریک حد بھی قائم ہوتی ہے جسے نظر انداز کر دیا جائے تو یہی اختلاف اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ اگر رائے دلیل کے بجائے تقلید ِ محض پر کھڑی ہو، یا تحقیق کے بجائے کسی شخصیت کے سائے میں پروان چڑھی ہو، تو وہ فکر کی روشنی نہیں بلکہ اس کی کمزوری کی علامت بن جاتی ہے۔ اسی طرح جب اختلاف کا محرک حق کی تلاش کے بجائے ذاتی مفاد، برتری کا احساس، یا خود کو نمایاں کرنے کی خواہش ہو، تو وہ علمی خدمت نہیں رہتا بلکہ ایک پوشیدہ خود پسندی میں بدل جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پڑوسی کے حقوق؟ ارشادِ نبویؐ پڑھئے!

اس کیفیت کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے کوئی شخص روشنی حاصل کرنے کیلئے چراغ جلائے، تو اس کا مقصد راستہ دکھانا ہوتا ہے؛ لیکن اگر وہی چراغ محض اپنی چمک دکھانے کیلئے جلایا جائے تو وہ آنکھوں کو خیرہ تو کر سکتا ہے، راستہ نہیں دکھا سکتا۔ بالکل اسی طرح وہ اختلاف جو اخلاص اور تحقیق سے خالی ہو، وقتی طور پر توجہ حاصل کر سکتا ہے، مگر وہ نہ علم میں اضافہ کرتا ہے اور نہ ہی حقیقت تک رہنمائی کرتا ہے۔
نتیجتاً اصل قدر اختلاف کی موجودگی میں نہیں، بلکہ اس کی نیت، بنیاد اور سمت میں پوشیدہ ہے۔ جب اختلاف حق کی تلاش، دلیل کی قوت اور اپنی حد کے شعور کے ساتھ ہو تو وہ علم کا سرمایہ بن جاتا ہے؛ اور جب وہ انا، مفاد اور سطحی برتری کے احساس سے پیدا ہو تو وہ بظاہر چمک کے باوجود اندر سے کھوکھلا رہتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی فکری دیانت کا امتحان ہوتا ہے، وہ یا تو اختلاف کو ذریعۂ تعمیر بناتا ہے، یا اسے اپنے زوال کا ہتھیار بنا لیتا ہے۔
آخرکار فکر کی ساری جولانیاں ایک ایسے مقام پر آ کر ٹھہر جاتی ہیں جہاں سوال یہ نہیں رہتا کہ رائے کتنی مضبوط ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اثرات کس سمت میں جا رہے ہیں۔ ایک بات اپنی دلیل میں کتنی ہی مستحکم کیوں نہ ہو، اگر اس پر عمل کے نتیجے میں اخلاقی توازن بگڑنے لگے، انسان کے رویّے میں دراڑ پیدا ہو اور معاشرے کی فضا میں بے اعتدالی سرایت کرنے لگےاور یہ سب محض ایک اندیشہ نہیں بلکہ بارہا کے مشاہدے سے ثابت بھی ہو چکا تو یہاں اصرار دانشمندی نہیں رہتا، بلکہ خود فریبی بن جاتا ہے۔ ایسے مقام پر رک جانا، بلکہ پیچھے ہٹ جانا ہی دراصل آگے بڑھنے کی علامت ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی رائے اپنے خالق سے بڑی نہیں ہوتی، اور نہ ہی کوئی اجتہاد اس درجہ مقدس ہوتا ہے کہ وہ نتائج کی کسوٹی سے بالاتر ہو جائے۔ جو شخص حقیقتاً بصیرت رکھتا ہے، وہ اپنی بات کے اثرات سے آنکھ نہیں چراتا۔ اگر اس کے سامنے یہ واضح ہو جائے کہ اس کی رائے سے وہ خرابی پیدا ہو رہی ہے جس کا وہ خود بھی منکر ہے، تو اس کیلئے رجوع کرنا شکست نہیں بلکہ فکری دیانت کی معراج ہے۔ دراصل یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں علم اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے، جب انسان اپنی بات سے زیادہ حقیقت کو اہم سمجھنے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بے حسی، فکری و روحانی جمود ہےاسی لئے قرآن انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے

اس حقیقت کو ایک عام تجربے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے: ایک معالج اپنے نسخے پر کامل یقین رکھتا ہے، وہ اس کی تعریف بھی کرتا ہے اور اس کی افادیت پر دلائل بھی دیتا ہے، لیکن جب یہی نسخہ مریضوں کے لیے نفع کے بجائے نقصان کا سبب بننے لگے تو اس کا تسلسل علاج نہیں بلکہ اذیت بن جاتا ہے۔ ایسے میں اگر وہ معالج اپنے نسخے سے دستبردار نہیں ہوتا تو وہ دراصل اپنے علم کی نہیں، اپنی ضد کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔ جبکہ اصل بصیرت یہ ہے کہ نقصان کے واضح آثار دیکھ کر فوراً رک جائے، اس سے پہلے کہ لوگوں کا اعتماد مجروح ہو۔
اس گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ رائے کی قدر اس کی پختگی سے نہیں، بلکہ اس کے نتائج کی درستگی سے متعین ہوتی ہے۔ جو فکر انسان کو اخلاقی بلندی تک لے جائے وہی قابلِ اختیار ہے، اور جو اسے اندر سے کھوکھلا کرنے لگے، اس سے دوری ہی نجات ہے۔ یہی وہ باریک مگر فیصلہ کن فرق ہے جو علم کو حکمت میں بدلتا ہے اور انسان کو محض بولنے والا نہیں، بلکہ سمجھنے والا بنا دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK