کلام مجید میں انسان کے ظاہر و باطن، عقل و قلب اور فرد و معاشرہ سب کی اصلاح کا سامان ہے اسلئے اسکے ساتھ تعلق بھی اسی جامعیت کا مظہر ہونا چاہئے جس میں تلاوت کی لذت، فہم کی بصیرت اور عمل کی سنجیدگی ایکدوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 5:11 PM IST | Mohammed Kafeel Qasmi | Mumbai
کلام مجید میں انسان کے ظاہر و باطن، عقل و قلب اور فرد و معاشرہ سب کی اصلاح کا سامان ہے اسلئے اسکے ساتھ تعلق بھی اسی جامعیت کا مظہر ہونا چاہئے جس میں تلاوت کی لذت، فہم کی بصیرت اور عمل کی سنجیدگی ایکدوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔
قرآنِ مجید سے امت ِ مسلمہ کا تعلق اپنی حقیقت میں ایک ہمہ جہت رشتہ ہے، ایسا رشتہ جس میں صوتی ادائیگی کی روحانیت، فکری تفہیم کی بصیرت اور عملی التزام کی سنجیدگی باہم اس طرح مربوط ہیں کہ ان میں کسی ایک کو دوسرے سے جدا کر دینا، دراصل خود اس کتابِ ہدایت کے مزاج سے انحراف کے مترادف ہے۔ تاریخِ اسلامی کے مختلف ادوار میں اس توازن کا بگڑ جانا ایک فکری المیہ ہے؛ کبھی تلاوت کو مقصودِ کل سمجھ کر فہم و تدبر کی اہمیت کو پسِ پشت ڈال دیا گیا، اور کبھی فہم کے نام پر اس روحانی نسبت کو کمزور کر دیا گیا جو الفاظِ وحی کی تلاوت سے قلب و وجدان میں رچتی ہے۔
حالانکہ تلاوتِ قرآن بجائے خود ایک عظیم عبادت اور باعثِ اجر و ثواب ہے، مگر اس کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ انسان قرآن فہمی سے بے نیاز ہو جائے۔ اسی طرح فہم و تدبر کی ناگزیریت اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، لیکن اس کے نام پر تلاوت کی سنت کو ترک کر دینا بھی ایک غیر متوازن طرزِ فکر کی علامت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پڑوسی کے حقوق؟ ارشادِ نبویؐ پڑھئے!
قرآنِ کریم نے اپنے نزول کے اغراض و مقاصد کو نہایت صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے اس لئے نازل کیا تاکہ اس کی آیات میں غور و فکر کیا جائے۔‘‘ (سورہ ص ٓ: ۲۹) اسی طرح ایک تنبیہی اسلوب میں فرمایا گیا:’’کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟‘‘ (النساء:۸۲) یہ آیات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ قرآن محض کتابِ تلاوت نہیں، بلکہ غور و فکر اور فکری تفاعل کی دعوت دینے والی کتاب ہے۔ امام فخر الدین رازیؒ اس مقام کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ تدبر سے مراد محض ظاہری معانی کا ادراک نہیں بلکہ ان کے پسِ پشت کارفرما حکمتوں اور لطائف تک رسائی حاصل کرنا (التفسیر الکبیر، ج ۱۰، ص۵۶ ۱ )۔ گویا قرآن اپنے قاری سے ایک بیدار ذہن اور متفکر قلب کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسی مفہوم کو امام ابو جعفر طبریؒ نے یوں واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس لیے تدبر کا حکم دیا تاکہ وہ اس کے اوامر و نواہی کو سمجھ کر اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ ) جامع البیان، ج ۵، ص ٓ ۲۷ ( اور یہی فہم دراصل عمل کی بنیاد بنتا ہے۔
تاہم اس حقیقت کے ساتھ ایک اور پہلو بھی نہایت اہم ہے، اور وہ ہے تلاوتِ قرآن کی مستقل حیثیت۔ احادیث ِ نبویہ میں اس کی جو فضیلت بیان ہوئی ہے، وہ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ الفاظِ قرآن کی قرأت، بذاتِ خود ایک عبادت ہے۔ نبیؐ اکرم کا ارشاد ہےکہ ’’جس نے قرآن سے ایک حرف پڑھا، اس کے لئے اس کے بدلہ میں ایک نیکی ہے ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ المٓ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ ‘‘ (امام ترمذی) امام نووی نے اس حدیث کی شرح میں تصریح کی ہے کہ یہ فضیلت ہر اس شخص کو حاصل ہے جو اخلاص کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرے، خواہ اس کا فہم کامل نہ بھی ہو۔ (شرح صحیح مسلم، ج ۶، ص ۸۴) اس سے واضح ہوتا ہے کہ تلاوت کو فہم کے تابع قرار دینا درست نہیں؛ بلکہ یہ خود ایک مستقل روحانی عمل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بے حسی، فکری و روحانی جمود ہےاسی لئے قرآن انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے
یہاں اصل نکتہ اس توازن کی بازیافت ہے جو قرآن کے ساتھ تعلق کو بامعنی اور ہمہ گیر بناتا ہے۔ اگر تلاوت کو ترک کر دیا جائے تو وہ روحانی تاثیر اور قلبی ربط کمزور پڑ جاتا ہے جو الفاظِ وحی کی تلاوت سے پیدا ہوتا ہے؛ اور اگر فہم کو نظر انداز کر دیا جائے تو تلاوتِ قرآن ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتا ہے، جس کا انسانی فکر و عمل پر اثر محدود ہو جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن کی تلاوت دل میں نور اور خشوع پیدا کرتی ہے، جبکہ اس کا فہم عقل کو جلا بخشتا اور فکر کو مہمیز کرتا ہے؛ اور یہ دونوں عناصر مل کر انسان کو ہدایت کے راستے پر استوار کرتے ہیں (حجۃ اللہ البالغہ)۔ اس تعبیر میں تلاوت اور فہم کے باہمی تعلق کو جس جامعیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، وہ ایک معتدل اسلامی منہج کی بہترین عکاسی ہے۔
سماعت، تفکر اور اتباع، یہ تینوں مراحل ایک مربوط فکری و عملی نظام کی تشکیل کرتے ہیں، جو قرآن کے ساتھ مطلوب تعلق کی حقیقی تصویر ہے۔
احادیث نبویہ بھی اسی ہمہ گیر تعلق کی طرف رہنمائی کرتی ہیں: ’’تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ‘‘ (صحیح بخاری۲۷ ۵۰) جیسی روایت اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے، جس میں سیکھنے کا عمل محض تلفظ کی درستگی تک محدود نہیں بلکہ معانی کے ادراک، احکام کی معرفت اور عملی التزام تک پھیلا ہوا ہے۔ امام غزالیؒ نے احیاء علوم الدین میں نہایت بلیغ انداز میں لکھا ہے کہ قرآن سیکھنے کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اس کے معانی کو سمجھے، اس کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں جگہ دے اور اپنے باطن کو اس کے نور سے منور کرے۔ گویا قرآن کے ساتھ تعلق ایک ایسا زندہ اور متحرک رشتہ ہے جو محض الفاظ کی تلاوت سے آگے بڑھ کر ایک ہمہ گیر تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر میں حصہ لینا ایک قومی اور مذہبی فریضہ
عصر ِ حاضر میں اس توازن کا فقدان ایک نمایاں فکری بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف قرآن کو محض ثواب کی کتاب سمجھ کر اس کی تلاوت کو ایک رسمی عمل بنا دیا گیا ہے، جس میں فہم و تدبر کا عنصر کمزور پڑ گیا ہے؛ اور دوسری طرف بعض حلقوں میں فہم کے نام پر تلاوت کی اس روحانی اہمیت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے جو دراصل قرآن کے ساتھ تعلق کی بنیاد ہے۔ حالانکہ قرآن نہ صرف ایک فکری رہنما ہے بلکہ ایک روحانی منبع بھی ہے، جو انسان کے قلب و ذہن دونوں کو بیک وقت متاثر کرتا ہے۔ تلاوت دل کو نرم کرتی ہے، وجدان کو بیدار کرتی ہے اور بندے کو اپنے رب کے قریب لاتی ہے، جبکہ فہم عقل کو روشنی دیتا ہے، زندگی کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے اور انسان کو ایک بامقصد وجود عطا کرتا ہے جو بامقصد زندگی گزارنے کے قابل ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تلاوت اور فہم کو ایک دوسرے کے مقابل رکھنا دراصل ایک غیر علمی تقسیم ہے۔ قرآن وہ جامع ترین کتاب ہے جو انسان کے ظاہر و باطن، عقل و قلب اور فرد و معاشرہ، سب کی اصلاح کا سامان فراہم کرتی ہے اس لئے اس کے ساتھ تعلق بھی اسی جامعیت کا مظہر ہونا چاہئے، جس میں تلاوت کی لذت، فہم کی بصیرت اور عمل کی سنجیدگی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔
یہی وہ معتدل منہج ہے جو نہ صرف قرآن کے مقاصدِ نزول کے عین مطابق ہے بلکہ امتِ مسلمہ کو اس کے اصل سرچشمۂ ہدایت سے دوبارہ وابستہ کرنے کا درست راستہ ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن اعلان کرتا ہے: ’’بے شک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ، جو سب سے درست ہے۔ ‘‘ (سورہ الاسراء:۹) اور اس راستے تک رسائی کیلئے ضروی ہے کہ تلاوت کی حلاوت، فہم کی بصیرت اور عمل کی سنجیدگی تینوں ایک حسین امتزاج میں ڈھل جائیں۔ اس نکتے کو ہم جتنی اچھی طرح سمجھیں اُتنا فائدہ حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حجر اسود کا بوسہ، دونوں طرف سے نفع، قرض کے بدلے نفع، شراب نوش دکاندار
ہمارا روزانہ کا معمول کیا ہو؟
ایک سنجیدہ اور متوازن طرزِ عمل یہی ہے کہ اہلِ ایمان قرآن کریم کی تلاوت کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی جزو بنائیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے معانی و مطالب کو سمجھنے کی بھر پورکوشش بھی جاری رکھیں۔ ترجمہ، تفسیر اور تدبر کے ذریعے قرآن کے پیغام کو اپنی فکری و عملی دنیا میں داخل کرنا ہی اس کے ساتھ حقیقی تعلق کی علامت ہے۔ مفسرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قرآن کو حضورِ قلب کے ساتھ پڑھا جائے، یعنی اس طرح کہ قاری کا دل اور دماغ دونوں اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوں؛ کیونکہ یہی وہ کیفیت ہے جس میں قرآن اپنی حقیقی تاثیر ظاہر کرتا ہے۔