Inquilab Logo Happiest Places to Work

بے حسی، فکری و روحانی جمود ہےاسی لئے قرآن انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے

Updated: April 17, 2026, 4:51 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai

بے حسی کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ انسان دوسروں کے دکھ سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ ظلم دیکھتا ہے مگر اس کے خلاف کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرتا۔ وہ مصیبت دیکھتا ہے مگر اس کے ازالے کی کوشش نہیں کرتا۔

Another cause of insensitivity is excessive preoccupation with material life. When a person`s attention is focused only on his own success, wealth, and interests, he becomes oblivious to the problems of others. Photo: INN
بےحسی کا ایک اور سبب مادّی زندگی میں حد سے زیادہ مشغولیت ہے۔ جب انسان کی توجہ صرف اپنی کامیابی، دولت اور مفادات پر مرکوز ہو جائے تو وہ دوسروں کے مسائل سے غافل ہو جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی وجود کی اصل حقیقت اس کا باطن ہے، اور باطن کی اصل زندگی اس کے احساسات میں مضمر ہے۔ انسان صرف سوچنے والی مخلوق نہیں بلکہ محسوس کرنے والی ہستی بھی ہے۔ اس کے اندر رحم، محبت، ہمدردی، ندامت، خوفِ خدا اور خیر خواہی جیسے جذبات ہی اس کے اخلاقی وجود کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہی احساسات اس کے کردار کو توازن دیتے ہیں اور اسے انسانیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچاتے ہیں۔ مگر جب یہی احساسات مدھم پڑنے لگیں، جب دل دوسروں کے درد سے بے اثر ہو جائے، جب انسان اپنے گناہوں پر نادم یا شرمندہ ہونا چھوڑ دے، اور جب حقائق اس کے سامنے آ کر بھی اس کے باطن میں کوئی ارتعاش پیدا نہ کریں، تو یہ کیفیت بے حسی کہلاتی ہے۔ قرآنِ مجید نے اس حالت کو محض ایک اخلاقی کمزوری کا نام نہیں دیا بلکہ دل کی موت کا آغاز قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر میں حصہ لینا ایک قومی اور مذہبی فریضہ

بے حسی دراصل ایک تدریجی کیفیت ہے، جو یکایک پیدا نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ انسان کے باطن پر غالب آتی ہے۔ ابتداء میں انسان کسی برائی کو دیکھ کر متاثر ہوتا ہے، پھر اس کا اثر کم ہونے لگتا ہے، پھر وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے، اور آخرکار وہ اس کے سامنے بالکل بے حس ہو جاتا ہے۔ قرآنِ مجید اس تدریجی انحطاط کو نہایت بلیغ انداز میں یہ کہتے ہوئے بیان کرتا ہے: ’’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے، پس وہ پتھروں جیسے ہو گئے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت۔ ‘‘ (سورہ البقرہ:۷۴)

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ دل کی سختی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان کی حساسیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ نہ خیر سے متاثر ہوتا ہے اور نہ شر سے متنفر ہوتا ہے۔ اس کا دل گویا پتھر کی مانند ہو جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے ایک اور مقام پر اس کیفیت کو ان الفاظ میں  بیان کیا ہے: 

’’ ان کے دل ہیں مگر وہ ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔‘‘ (الاعراف:۱۷۹)

قرآن کا یہ پیغام اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ بے حسی صرف جذباتی مسئلہ نہیں بلکہ فکری اور روحانی جمود بھی ہے۔ انسان کے پاس تمام ذرائع موجود ہوتے ہیں مگر وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ اللہ کے رسولؐ نے بھی دل کی اس کیفیت کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا:

’’ سن لو! جسم میں ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری)

یہ ٹکڑا دراصل دل ہے۔ اگر دل زندہ اور حساس ہو تو انسان کا پورا وجود متوازن ہو جاتا ہے، اور اگر دل مردہ ہو جائے تو انسان کی پوری شخصیت بگڑ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دل کو ذکر و فکر سے آباد رکھئے، زندگی پُرسکون اور بابرکت رہے گی

بے حسی کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ انسان دوسروں کے دکھ سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ ظلم دیکھتا ہے مگر اس کے خلاف کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرتا۔ وہ مصیبت دیکھتا ہے مگر اس کے ازالے کی کوشش نہیں کرتا۔ سرکار دو عالمؐ نے فرمایا:  ’’ تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری)  یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ایمان کا تقاضا حساس دل ہے۔ اگر انسان دوسروں کے لئے وہی محسوس نہ کرے جو اپنے لئے کرتا ہے تو مفہوم یہ ہوگا کہ اس کا دل بے حس ہو چکا ہے۔

بے حسی کا ایک اہم سبب گناہوں کی کثرت بھی ہے۔ جب انسان مسلسل غلطیوں میں مبتلا رہتا ہے اور ان پر ندامت محسوس نہیں کرتا تو اس کا دل آہستہ آہستہ سخت ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں حضور پرنورؐ نے فرمایا: 

’’ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے۔‘‘ (ترمذی) یہ سیاہ نقطے بڑھتے بڑھتے دل کو ڈھانپ لیتے ہیں اور انسان بے حس ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انسانی تربیت میں والدین کا کردار بنیادی ہے

بے حسی کی ایک اور علامت یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال پر ندامت محسوس نہیں کرتا۔ وہ غلطی کرتا ہے مگر اسے غلطی محسوس نہیں ہوتی۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اصلاح کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔ نفسیات میں اس کیفیت کا تعلق Empathy Loss سے ہے۔ یعنی انسان دوسروں کے جذبات کو سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت کھو دینا۔ تب انسان  دوسروں کے دکھ کو محض ایک خبر یا واقعہ سمجھتا ہے، اس کے دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

اسی طرح Compassion Fatigueبھی ایک اہم وجہ ہے۔ جب انسان مسلسل دوسروں کے مسائل اور تکالیف کو دیکھتا ہے تو  ذہنی طور پر تھک جاتا ہے اور اس کے اندر ہمدردی کی قوت کم ہونے لگتی ہے۔ 

بے حسی کا ایک اور سبب مادّی زندگی میں حد سے زیادہ مشغولیت ہے۔ جب انسان کی توجہ صرف اپنی کامیابی، دولت اور مفادات پر مرکوز ہو جائے تو وہ دوسروں کے مسائل سے غافل ہو جاتا ہے۔یہ بھی بے حسی کی ایک صورت ہے۔ 

اسلامی تعلیمات میں بے حسی کے علاج کیلئے سب سے اہم چیز دل کی بیداری ہے۔ قرآنِ مجید بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ اس کا دل زندہ رہے۔ اسی طرح ذکر الٰہی دل کو نرم کرتا ہے:  ’’ یاد رکھو! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘ (سورہ الرعد:۲۸)

اسی طرح خدمت ِ خلق بھی دل کو زندہ رکھتی ہے۔ جب انسان دوسروں کی مدد کرتا ہے تو اس کے اندر ہمدردی اور احساس بڑھتا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے دل کو زندہ رکھے، اپنے احساسات کو بیدار رکھے اور اپنے اندر رحم، محبت اور ہمدردی کو فروغ دے۔ جب انسان کا دل زندہ ہوتا ہے تو وہ نہ صرف خود بہتر بنتا ہے بلکہ دوسروں کیلئے بھی رحمت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ زندہ دلی ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتی ہے، اور یہی وہ کیفیت ہے جو ایک صحتمند، متوازن اور باوقار شخصیت کی بنیاد ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘

بے حسی کی نفسیاتی اصطلاح 

نفسیاتی اعتبار سے بے حسی کو Emotional Numbness کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے جذبات کو سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ وہ نہ خوشی کو شدت سے محسوس کرتا ہے اور نہ غم کو۔ یہ کیفیت اکثر مسلسل دباؤ، صدمات یا جذباتی تھکن کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔

ایک اور نفسیاتی عمل Desensitization ہے۔ جب انسان بار بار کسی تکلیف دہ یا منفی منظر کا سامنا کرتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کی حساسیت کم ہو جاتی ہے۔ آج کے دور میں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے انسان روزانہ ظلم، حادثات اور تکلیف دہ مناظر دیکھتا ہے۔ ابتداء میں وہ متاثر ہوتا ہے، مگر وقت کے ساتھ وہ ان چیزوں کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کا دل بے حس ہو جاتا ہے۔

نفسیاتی اعتبار سے بے حسی کا علاج

نفسیاتی اعتبار سے بے حسی کے علاج کیلئے نفسیاتی باخبری Emotional Awareness ضروری ہے۔ انسان کو اپنے جذبات کو پہچاننا اور انہیں دبانے کے بجائے سمجھنا چاہئے۔یہ عمل اس کی نفسیاتی صحت کیلئے اہم ہے۔ 

اسی طرح Empathy Training اور دوسروں کے حالات کو سمجھنے کی مشق بھی انسان کی بے حسی کو دور کرتی ہے اور اس کو احساس مند یا حساس بناتی ہے۔

ایک اور اہم طریقہ Slow Living کا ہے جس کا معنی ہے زندگی کی رفتار کو کم کرنا تاکہ انسان اپنے احساسات کے ساتھ معقول طریقے سے وابستہ ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK