Inquilab Logo Happiest Places to Work

پڑوسی کے حقوق؟ ارشادِ نبویؐ پڑھئے!

Updated: April 17, 2026, 4:59 PM IST | Muhammad Musa Khan Nadvi | Mumbai

’’حضرت جبرئیل مجھے پڑو سیوں کے ساتھ حسن سلوک کی برابر تاکید کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگاکہ کہیں وہ مال میراث میں بھی پڑوسی کے حق کا حکم لے کر نہ آجائیں۔‘‘

Step outside your own world and see if there is someone in your neighborhood who needs you. Is there an elderly person waiting for your help? Photo: INN
اپنی دنیا سے ذرا باہر نکل کر دیکھئے، کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کے پڑوس میں کسی کو آپ کی ضرورت ہو ؟ کوئی معمر آپ کی مدد کا انتظار کررہا ہو؟ تصویر: آئی این این

کہتے ہیں کہ انسان انس سے بنا ہے۔ وہ تنہا زند گی نہیں گزار سکتا۔ زندگی میں مختلف حالات آتے ہیں، جن میں اس کو دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے،اس کیلئے تعلقات رکھے گئے ہیں تاکہ انسان تعلقات کے بندھنوں میں رہ کر زندگی کےمسائل میں ان سے خود بھی مدد لیتا رہے اور اُن کی مدد بھی کرتا رہے۔ اس طرح زندگی کا کارواں آگے بڑھتا رہے۔ ان تعلقات سے انسان خود کو علاحدہ نہیں کر سکتا، ورنہ قدم بہ قدم دشواریاں پیش اُس کا راستہ روک لیں گی ۔

پڑوس کی اہمیت

تعلقات میں رشتہ داروں کےبعدپڑوسی آتےہیں۔ اسلام میں پڑو سی کی بڑی اہمیت بتلا ئی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ قریبی پڑوسی ( رشتہ داریا قریب میں رہنےوالاپڑوسی) و اجنبی پڑوسی (رشتہ دارنہ ہو یا فاصلہ پر رہتا ہو) اور سفر یا کام کےساتھی کےساتھ اچھا سلوک کرو: ’’اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے) اور نزدیکی ہمسائے اور اجنبی پڑوسی اور ہم مجلس اور مسافر (سے)، اور جن کے تم مالک ہو چکے ہو، (ان سے نیکی کیا کرو)۔‘‘ (النساء:۳۶) 

یہ بھی پڑھئے: بے حسی، فکری و روحانی جمود ہےاسی لئے قرآن انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے

اس آیت میں پڑوسیوںکے ساتھ اچھے سلوک کی تلقین کرتے ہوئے تمام پڑوسیوںکا احاطہ کیا گیا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک حقوق العباد میں سب سے اعظم ہے، اس کے فوری بعد پڑوس کے ساتھ حسن سلوک کاحکم ہے۔ حدیث میں بھی پڑوسیوں کے ساتھ اچھے سلوک کی بڑی تاکید آئی ہے۔ خاتم الانبیاء ؐ نےتین دفعہ قسم کھا کر فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں ہے جس کےپڑوسی اس کے شر یا اس کی تکلیفوں سےمحفوظ نہ ہوں۔ (مشکوۃکتاب الآداب ) ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا، حضرت جبرئیل مجھے پڑو سیوں کے ساتھ حسن سلوک کی برابر تاکید کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگاکہ کہیں وہ مال میراث میں بھی پڑوسی کے حق کا حکم لے کر نہ آجائیں۔ (مسلم کتاب البروالصلۃو الآداب) 

صحابی ٔ رسول حضرت عبدالرحمٰن ؓ بن ابوقراد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ آپؐ کی خدمت میں حاضرتھے، آپؐ نے برتن سےپانی لےکروضوفرمایا، ہم آپؐ کے وضوکا پانی لے کر جسم پر ملنے لگے، آپؐ نےپوچھا کہ تم ایسا کیوں کررہے ہو؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت کی وجہ سے۔ آپؐ نے فرمایاکہ جب تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ ورسولؐ سےمحبت کرو تو اگر تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اس کو واپس کردو، اور جب بات کرو توسچ بولو،اوراپنےپڑوسی کے ساتھ اچھاسلوک کرو۔ (مشکوٰۃکتاب الآداب باب حب الصحابۃؓ لرسولؐ) اس حدیث شریف سےمعلوم ہوا کہ پڑوسی کے ساتھ اچھاسلوک کرنا آپؐ کی محبت حاصل کرنے کابہت بڑاذریعہ ہے۔پڑوسی کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں جائیداد کی فروخت کے وقت پڑوسی کا حق انتہائی اہم ہے جسے ’’حقِ شفعہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنا گھر یا زمین بیچتا ہے، تو شرعی اور قانونی طور پر سب سے پہلا حق قریبی پڑوسی کا ہوتا ہے کہ وہ اسے اسی قیمت پر خریدے۔(ابوداؤد کتاب الاجارۃباب فی الشفعۃ) شرائط یہ ہیں کہ اس کے پاس اتنا مال ہوکہ اس کی قیمت ادا کرنےکی قدرت رکھتاہو، فورا ً ارادہ کرلے اور گواہ بنالے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر میں حصہ لینا ایک قومی اور مذہبی فریضہ

 پڑوس کےساتھ حسن سلوک

اسلام میں پڑو س کی اسی اہمیت کے پیش نظر پڑو سیوں کے سا تھ حسن سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ کے پیارے نبیؐ نے ارشاد فرمایاہےکہ کوئی پڑوسی عورت اپنی پڑوسن کی جانب سےآنےوالےہدیہ کومعمولی اور حقیر نہ سمجھے، چاہے بکری کی کھر ہی کیوں نہ ہو۔ (بخاری کتاب الادب) کیونکہ اس سے آپسی دوریاں کم ہیں اور رنجشیں کافور ہوتی ہیں۔ اس میں جا نبین سے اچھے سلوک کی تا کید بھی ہےکہ اپنے پڑوس کوحسب حیثیت جو بھی میسر آئے ہدیہ دینا چاہئے، اور لینے والی پڑوسن کو تاکید ہے کہ جیسا ہو اور جو ہو اس کو قبول کرلے، معمولی سمجھ کرواپس کرکےپڑو سن کی دل شکنی نہ کرے۔ 

حدیث شریف کی کتاب طبرا نی کی روایت میں ہے کہ اُس شخص کامجھ پرایمان نہیں جوخودپیٹ بھرکھائے اور اس کا پڑو سی بھوکا ہو ، اور اس کومعلوم بھی ہو۔ دو سری حدیث شریف میں آپؐ نےپڑوسیوں کے کھانے پینےکی ضرورت کاخیال رکھنےکی تلقین کرتےہوئےفرما یا کہ اگر شوربہ بناؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈال دو، پھر پڑوسی کاخیال رکھواوراس میں سےکچھ اسےبھی دے دو۔ ( ابن ماجہ کتاب الا طعمۃ )

نیچے چوکھٹے میں دیکھئے پڑوسی تین طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلا درجہ چوکھٹے میں بیان کیا گیا۔ دوسرا پڑوسی وہ ہوگا جس میں دونسبتیں جمع ہیں، ایک مسلمان ہونےکی اور دوسرے پڑوسی ہونےکی۔ اس کے بعد تیسری قسم ہے جو محض پڑوسی ہونےکی نسبت سےحسن سلوک کا حقدار ہے۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کتنا اہم ہے کہ غیرمسلم ہو تب بھی بہتر سلوک کا حقدار ہے۔

 پڑوسی کےحقوق یہ ہیں کہ اس کےساتھ اچھامعاملہ کیا جائے، تکلیف نہ دی جائے، ضروریات کا خیال رکھا جائے، ضرورت ہو تو مدد کی جائے، اس کی خو شی و غم میں شرکت کی جائے ، مصیبت و پریشانی کو دور کرنے کی کوشش ہو، مالی ضرورت پر جس قدر ممکن ہو مدد کی جائے اور جو بنیادی دینی علم سے محروم ہیں انہیں علم سکھایا جائےاورجو بے علم ہیں ان کا کام ہےکہ اپنے صاحب ِعلم پڑوسی سےعلم حاصل کرے۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حجر اسود کا بوسہ، دونوں طرف سے نفع، قرض کے بدلے نفع، شراب نوش دکاندار

صحابہؓ کی تربیت

جہاں آپؐ کا پڑوسیوں کے ساتھ عملاً برتاؤ بہترین رہا ہے وہیں آپؐ نےصحابۂؓ کرام کی تربیت بھی ایسی ہی فرمائی تھی۔آپؐ نے پڑوس کاحق اداکرنےکواپنی محبت کا معیار بتلایا ہے۔ (مشکوٰۃکتاب الآداب باب حب الصحابۃؓ لرسولؐ اللہ) ایک صحابیؓ کے سوال پر آپؐ نے فرما یا کہ اچھا پڑوسی وہ ہے جو اپنےپڑوسی کے ساتھ اچھا ہو۔ غور کیجئے کہ ایک دور وہ تھا کہ لوگ مسلمانوں کے پڑوس میں رہنے کو پسند کرتے تھے اور ان کے پڑوس کو چھوڑناکسی قیمت گوارا نہ تھا۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کی زندگی میں دین کی کمی کی وجہ سے جو اخلاقی بگاڑ پیدا ہوا ہے اور جو اُن کا رہن سہن بگڑا ہے، اُس میں ایک پڑوسی کےساتھ بدسلوکی بھی ہے۔ بہتر ہوگا کہ ہم ایمانداری سے محاسبہ کریں اور ایک اچھا پڑوسی بننے کا حق ادا کریں۔

سیرتِ نبویؐ اورپڑوسی کےساتھ حسن سلوک

نبی کریمﷺ کےپڑوس میں ایک یہودی رہتاتھا،وہ بیمار ہوگیا، آپؐ اس کی عیادت کیلئے تشر یف لے گئے۔ آپؐ کےسلوک سے متاثر ہو کر اس کے بیٹے نےاسلام قبول کرلیا۔( الادب المفرد کتاب الجار باب جار الیہودی) پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک میں عیا دت بھی شا مل ہے۔ یاد رہنا چاہئےکہ اقوام عالم میں اسلام و مسلمانوں کے سب سے زیادہ کٹر دشمن یہود ہیں۔ قرآن میں آتا ہے: ’’آپ یقیناً ایمان والوں کے حق میں بلحاظِ عداوت سب لوگوں سے زیادہ سخت یہودیوں اور مشرکوں کو پائینگے۔‘‘ (المائدہ:۸۲) یہ آپؐ کےاخلاق کاکمال ہےکہ کٹر دشمن بھی اسلام کی دو لت پا گیا۔ دوسری بات یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ پڑو سی کے ساتھ اچھے سلوک کیلئےاس کا مسلمان ہو نا بھی ضر و ری نہیں،بلکہ غیر مسلم پڑو سی کے ساتھ اچھے سلوک کی اہمیت دعوت ِدین کے اعتبار سے بھی ہے، اس لئے کہ اگر مسلمان پڑوسی غیر مسلم پڑوسی کےساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تویہ دعوت دین وتبلیغ اسلام بھی ہے، کیوںکہ تقریر و تحریر سےزیادہ پُراثرکردار ہے، جو دل و دماغ کو متاثر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دل کو ذکر و فکر سے آباد رکھئے، زندگی پُرسکون اور بابرکت رہے گی

پڑوس کی قیمت

یاد رہے کہ کبھی ضرورت ہو تو رشتہ دار (جو دور رہتے ہوں) بعد میں مدد کیلئے آتے ہیں، پہلے پڑوسی حاضر ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کبارمحدثین میں سے ہیں، ان کے پڑوس میں ایک یہودی رہتا تھا،اس نےاپنامکان بیچنا چاہا، اور مکان کی قیمت دو ہزار دینار لگائی۔ خریدنے والے نے پتہ لگا کر کہاکہ اس کی قیمت تو ایک ہزار دینار ہے۔ یہودی نے کہا کہ ایک ہزارمکان کی قیمت اور مزید ایک ہزارابن مبا رکؒ کےپڑوس کی وجہ سےکہے۔

پڑوسی تین طرح کے ہوتے ہیں
پڑو سی تین طرح کے ہوتےہیں،ایک ایسا پڑوسی جو پڑوسی ہونے کے ساتھ ساتھ رشتہ دار بھی ہو اور مسلمان بھی۔ دوسرا ایسا پڑوسی جو مسلمان ہو، اور تیسرا ہے غیرمسلم پڑوسی۔ جس میں نسبت زیادہ ہے وہ حسن سلوک کا اتناہی زیادہ حق دار ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو پہلی قسم کاپڑوسی اچھےسلوک کاسب سےزیادہ حق دار ہے،کیوںکہ اس میں تین نسبتیں اکٹھا ہوگئی ہیں، اسلام اور قرابت (رشتہ) داری، اور تیسری نسبت جوار ( پڑوسی ہونے) کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK