اور اخلاقیات کے تمام بنیادی اصول ہمیں نبی اکرمؐ کی حیاتِ مبارکہ میں ملتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 4:27 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
اور اخلاقیات کے تمام بنیادی اصول ہمیں نبی اکرمؐ کی حیاتِ مبارکہ میں ملتے ہیں۔
آج دنیا ترقی کی بلندی پر پہنچ چکی ہے۔ سائنس نے کائنات کے بے شمار رازوں سے پردہ اٹھا دیا ہے، انسان نے سمندروں کی گہرائیوں سے لے کر آسمانوں کی وسعتوں تک اپنی رسائی کے امکانات پیدا کر لیے ہیں، فاصلے سمٹ گئے ہیں اور پلک جھپکتے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچ جاتا ہے۔ لیکن ایک سوال اب بھی تشنہ ٔ جواب ہے کہ کیا اس بے مثال مادی ترقی نے انسان کو وہ سب کچھ دے دیا جس کی اسے ضرورت تھی؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینا تقریباً محال ہے، کیونکہ تمام چکاچوند، آسائش، سہولت اور ترقی کے بیچ آج کا انسان خود یہ محسوس کر رہا ہے کہ اس کا کچھ بہت قیمتی کھو گیا ہے۔ اس کے پاس وسائل بڑھ گئے، مگر سکون کم ہوگیا؛ رابطے آسان ہوگئے، مگر دلوں کے فاصلے بڑھ گئے؛ معلومات کا ذخیرہ وسیع ہوگیا، مگر زندگی کا مقصد اب بھی بہت سے لوگوں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں پیغامِ محمدیؐ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی معنویت کا احساس دلاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اہل غزہ: سب نے آنکھیں پھیر لیں!
اس منظرنامے میں نبی اکرم ؐ کی تعلیمات اور آپؐ کے پیغام کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ آپ ؐ جس دور میں مبعوث ہوئے، اسے تاریخ ’’زمانۂ جاہلیت‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے، جبکہ آج کا دور علم، سائنس، ٹیکنالوجی اور روشنی کا دور کہلاتا ہے۔ لیکن غور کیجئے کہ جس ہستی نے جاہلیت کے اندھیروں میں انسانیت کے اندر انقلاب کی روح پھونک دی، جس نے پتھر دل انسانوں کو محبت، عدل، رحم، امانت اور ایثار کا پیکر بنا دیا، اس ہستی کی تعلیمات علم و روشنی کے اس جدید دور میں غیر مؤثر کیسے ہوسکتی ہیں ؟
قرآن مجید نے بعثت ِ نبویؐ سے قبل کے معاشرے کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ اس دور کی اخلاقی تاریکی کو پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے رکھتی ہے۔ ایک طرف بیٹی کی پیدائش پر چہرے سیاہ پڑ جاتے تھے، دوسری طرف جو طاقتور تھے وہ کمزوروں کے حقوق پامال کرتے تھے اور قبائلی عصبیت نے انسانی رشتوں تک کو زخموں سے بھر دیا تھا۔ ایسے ماحول میں آپؐ تشریف لائے اور انسان کو اس کی اصل عزت یاد دلائی۔ آپؐ نے بتایا کہ انسان کی قدر اس کے مال، قبیلے، رنگ یا طاقت سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ سے ہے۔ یوں آپؐ نے صرف ایک قوم نہیں بلکہ پوری انسانیت کے اخلاقی شعور کو نئی زندگی عطا کی۔
یہ بھی پیغامِ محمدیؐ کی عالمگیریت اور دائمی معنویت کی ایک روشن دلیل ہے کہ آپؐ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ قرآن مجید نے نہایت صراحت کے ساتھ اعلان فرمایا: ’’محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ ‘‘ (الاحزاب:۴۰) جب نبوت کا سلسلہ آپؐ پر مکمل ہوگیا تو اس کے ساتھ آپؐ کی سیرت اور تعلیمات کی ذمہ داری بھی آخری اور دائمی رہنمائی کی حیثیت اختیار کرگئی۔ دنیا کتنی ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائے، انسان کتنی ہی نئی منزلیں کیوں نہ دریافت کرلے، اسے اپنے اخلاق، کردار، خاندان، معاشرے اور انسانیت کے ساتھ تعلق میں صحیح سمت کی ضرورت ہمیشہ رہے گی؛ اور اس صحیح سمت کا سب سے کامل نمونہ سیرتِ نبوی ؐ ہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’لباسِ زندگی‘ : معیار و انتخاب
ترقی کے اس دور میں نئی ایجادات اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حصہ ہیں اور ان کا ظہور بھی اسی کی عطا کردہ عقل، صلاحیت اور امکانات کے ذریعے ہوتا ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: ’’اور ایسی چیزیں بھی پیدا کریں گے جن سے تم ابھی واقف نہیں ہو۔ ‘‘ (النحل:۸) یعنی انسانی علم اور دریافتوں کی دنیا مسلسل وسیع ہوتی رہے گی؛ کل جن چیزوں کا تصور بھی محال تھا، آج وہ ہماری زندگی کا حصہ ہیں اور آنے والے کل میں اس سے آگے کی دنیا ہمارے سامنے ہوگی۔ لیکن اصل سوال ایجاد کا نہیں، اس کے استعمال کا ہے۔ ایٹمی توانائی بجلی بھی پیدا کرسکتی ہے اور تباہی بھی؛ مصنوعی ذہانت انسان کے لئے آسانیاں بھی پیدا کرسکتی ہے اور اسے فریب، ظلم اور بے راہ روی کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے؛ سوشل میڈیا دلوں کو قریب بھی کرسکتا ہے اور نفرتوں کو پھیلا بھی سکتا ہے۔ اس لئے ہر نئی ترقی کے ساتھ اخلاقی رہنمائی ضروری ہے، اور اخلاقیات کے وہ تمام بنیادی اصول ہمیں نبی اکرمؐ کی زندگی میں روشن اور کامل صورت میں ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت تک ترقی کی کوئی منزل ایسی نہیں ہوگی جہاں نبوی تعلیمات کا اطلاق نہ ہوگا۔
اس کی ایک واضح مثال آج کی مصنوعی ذہانت اور جدید مواصلاتی ذرائع ہیں۔ انسان نے ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کرلی ہے جو چند لمحوں میں معلومات کے سمندر تک رسائی دے سکتی ہے، زبانوں کا ترجمہ کرسکتی ہے، تصاویر اور تحریریں تخلیق کرسکتی ہے اور انسانی زندگی کے بے شمار شعبوں میں معاون بن سکتی ہے۔ مگر اس طاقت کے ساتھ اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری کا شعور نہ ہو تو یہی ٹیکنالوجی جھوٹی خبریں، کردار کشی، دھوکا دہی اور فتنہ پھیلانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہاں اخلاقِ نبویؐ ہمارے سامنے رہنمائی کا چراغ بن کر آتے ہیں۔ آپؐ نے سچائی کو ایمان کی بنیاد بنایا، امانت کو کردار کی علامت قرار دیا اور دوسروں کو نقصان پہنچانے سے روکا۔ گویا ٹیکنالوجی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں، جبکہ سیرتِ نبویؐ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے:معافی کا فلسفہ کیا ہے؟ اللہ نے اس میں کتنی برکت رکھی ہے!
ربیع الاول کا سوال : ہم نے اسوۂ نبویؐ پر کتنا عمل کیا اور کتنا دوسروں تک پہنچایا؟
آج مسلمانوں کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ انہیں دنیا کو صرف یہ بتانا نہیں ہےکہ اسلام نبی رحمتؐ کا دین ہے، بلکہ اپنے کردار سے یہ ثابت کرنا ہے کہ پیغامِ محمدیؐ آج بھی انسانیت کے مسائل کا جواب رکھتا ہے۔ ہمیں دنیا کو دکھانا ہوگا کہ ترقی اگر انسان کو انسان سے دور کررہی ہے تو نبوی تعلیمات اسے دوبارہ رشتوں کی حرارت عطا کرسکتی ہیں ؛ اگر ٹیکنالوجی کو نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے تو اخلاقِ نبوی اسے خیر اور اصلاح کا ذریعہ بنا سکتے ہیں ؛ اگر طاقت ظلم کا سبب بن رہی ہے تو سیرتِ مصطفیٰؐ طاقت کو عدل و امانت کا پابند بناتی ہے۔ ہمیں یہ پیغام دینا ہوگا کہ ترقی کی گاڑی کو روکنا اسلام کا مقصد نہیں، بلکہ اس کی سمت درست کرنا اسلام کی تعلیم ہے۔ نبی ِ رحمتؐ کے امتی ہونے کے ناطے مسلمانوں کو اس عہد میں عملاً تعلیمات و پیغاماتِ نبویؐ کی افادیت ثابت کرنا ہوگی۔ اگر ہم سچائی کی بات کریں مگر کاروبار میں دھوکا دیں، محبت ِ رسولؐ کا دعویٰ کریں مگر پڑوسی کو تکلیف پہنچائیں، سیرت کی محفلیں سجائیں مگر سماج کے کمزور افراد کے ساتھ سختی کریں، تو ہماری زبان اور ہمارا عمل ایک دوسرے کی تردید کریں گے۔ محبت ِ رسولؐ کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ہم آپؐ کا نام احترام سے لیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاملات میں آپؐ کی امانت، ہماری گفتگو میں آپؐ کی سچائی، ہمارے گھروں میں آپؐ کی شفقت، ہمارے معاشرے میں آپؐ کا عدل اور ہمارے دلوں میں آپؐ کی رحمت نظر آئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ربیع الاول کا یہ مبارک مہینہ ہمیں صرف حضورؐ کی ولادتِ باسعادت کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ یہ سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ ہم نے آپؐ کے اسوہ سے پر خودکتنا عمل کیا اور اسے دنیا تک کتنا پہنچایا؟