Inquilab Logo Happiest Places to Work

حج کی حقیقی جہت یہ ہے کہ دل کی دُنیا میں حرم ِ بندگی کی تشکیل ہو!

Updated: April 24, 2026, 3:57 PM IST | Mohammed Kafeel Qasmi | Mumbai

فریضۂ حج ادا کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے کیونکہ وسائل بڑھ گئے ہیں۔ مگر حج سے حقیقی استفادہ کرنے والوں کی تعداد گھٹ رہی ہے۔دلوں کا حال خدا ہی جانتا ہے مگر جب حج کی ادائیگی کے باوجود زندگی تبدیل ہوتی دکھائی نہ دے تو حیرت اور افسوس ہوتا ہے۔ کاش ہم حج کے بعد ویسا ہی بدلیں جیسا کہ بدلنا چاہئے !

Photo: INN
تصویر: آئی این این

عازمین ِحج کے قافلے اپنی مقدس منزل کی جانب رواں دواں ہیں۔ دلوں میں شوقِ دیدارِ حرم کی بیقراری اور تڑپ، آنکھوں میں مدینہ منورہ کی نورانی فضاؤں کے دلنشیں خواب، اور لبوں پر لبیک کی مترنم صدائیں، یہ سب مل کر ایک ایسی روح پرور فضا تشکیل دیتے ہیں جہاں ہر قدم بندگی کی نئی جہت سے روشناس ہوتا ہے۔ حج محض ایک سفر نہیں، بلکہ باطن کی صفائی، ارادوں کی ازسرِ نو تشکیل اور ربِّ کائنات سے تعلق کی گہرائی کو پھر سے دریافت کرنے کا ایک جامع اور ہمہ گیر تجربہ ہے۔ یہی وہ ساعت ِسعادت ہے جب دنیاوی مشاغل پسِ پشت رہ جاتے ہیں اور بندہ اپنے خالق کے حضور سراپا عجز و نیاز بن کر، ایک نئی روحانی زندگی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے۔

اسلامی شعائر میں حج ایک ایسا فریضہ ہے جو بیک وقت تاریخ، تہذیب، روحانیت اور اجتماعیت کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ محض چند ایام پر مشتمل ایک مذہبی سفر نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تجربہ ہے، جس میں انسان اپنی ذات کے خول سے نکل کر ایک وسیع تر انسانی و ایمانی کائنات میں داخل ہوتا ہے۔ تاہم عصرِ حاضر میں جب ہم اِس فریضہ کی ادائیگی کو دیکھتے ہیں تو ایک بنیادی سوال ذہن میں ابھرتا ہے: کیا یہ عظیم عبادت اپنی حقیقی روح کے ساتھ ادا کی جا رہی ہے یا رفتہ رفتہ ایک رسمی عمل میں ڈھلتی جا رہی ہے؟

یہ بھی پڑھئے: اصلاحِ معاشرہ کیلئے دینی تعلیمات پر عمل ضروری

یہ سوال ایک سنجیدہ فکری جستجو کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ حج کی اصل روح کو سمجھے بغیر اس کی رسمی ادائیگی، اپنے جوہر سے محروم ہو تی ہے۔ یاد رہنا چاہئے کہ حج کی بنیادجس سنت ِ ا براہیمی پر قائم ہے، وہ اطاعت، ایثار اور غیر مشروط سپردگی کا استعارہ ہے۔ یہ وہی روایت ہے جس میں ایک باپ اطاعت ِخداوندی میں اپنے بیٹے کی قربانی کے لئے آمادہ ہوتا ہے، ایک ماں اپنے بچے کے تشنہ لبوں کی سیرابی کے لئے بے آب و گیاہ وادی میں دوڑتی ہے، اور ایک عظیم انسان اپنے رب کے حکم پر اپنی تمام ترجیحات کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ یہی وہ روح ہے جو حج کو محض عبادت نہیں بلکہ ایک ’’تجربۂ بندگی ‘‘بناتی ہے، ایسا تجربہ جس میں انسان اپنے وجود وترجیحات کی ازسرِ نو تشکیل کرتا ہے۔

مگر اس عہد میں جب لاکھوں افراد اس فریضے کی ادائیگی کے لئے حرم کی سرزمین پر جمع ہوتے ہیں، تو اس تجربے کی نوعیت میں ایک نمایاں تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ انتظامی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی اور منظم نظام نے حج کو بلاشبہ آسان بنا دیا ہے، تا ہم آج بھی حج کا باطنی اور فکری پہلو اکثر پس منظر میں چلا جاتا ہے، گویا’’ادائیگی‘‘باقی رہ جاتی ہے، مگر’’معنویت‘‘بتدریج کمزور پڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ احرام، جومساوات، عجز اور سادگی کی علامت ہے، آج بھی پہنا جاتا ہے، مگر اس کے پیچھے کارفرما تصورِخودی کی نفی اور برابری کا شعورکتنی حد تک دلوں میں اترتا ہے؟ طواف کیا جاتا ہے، مگر کیا واقعی انسان اپنی زندگی کے مرکز کو پہچان پاتا ہے؟ سعی کی جاتی ہے، مگر کیا حضرت ہاجرہؑ کی جستجو اور یقین کی کیفیت ہمارے اندر زندہ ہوتی ہے؟ عرفات میں قیام ہوتا ہے، مگر کیا وہ لمحہ،احتساب اور خود آگہی کا ذریعہ بنتا ہے؟ رمی ِجمرات کی جاتی ہے، مگر کیا انسان اپنے’’ باطن کے شیاطین‘‘کے خلاف کوئی حقیقی عزم لے کر لوٹتا ہے؟ یاد رہنا چاہئے کہ عبادات کی اصل قدر ان کے اثرات میں ہوتی ہے، نہ کہ رسمی ادائیگی میں۔ اگر ایک شخص حج سے لوٹ کر بھی اپنے رویے، معاملات اور ترجیحات میں کوئی تبدیلی محسوس نہ کرے تو پھر خود سے سوال کرنا ضروری ہوگا کہ حج سے ہم نے کیا پایا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: قران، تمتع اور افراد: حج کی تین اقسام ہیں

اِس عبادت کی معنوی جہت کو واضح کرتے ہوئے اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے (خالص)  اللہ کے لئے حج کیا، اور اس کو بے حیائی اور بُری بات سے آلودہ نہیں کیا، وہ حج سے اس طرح واپس ہوتا ہے، جیسے آج ہی اس کی ماں نے اس کو پیدا کیا ہو۔‘‘ (صحیح البخاری: ۱۵۲۱) یہ روایت حج کے اُس باطنی انقلاب کی طرف اشارہ کرتی ہے جو انسان کو ایک نئی اخلاقی اور روحانی ابتدا عطا کرتا ہے۔ لیکن اس بشارت کو محض ایک رسمی اجر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے طور پر بھی سمجھنا چاہیے یعنی ایسی پاکیزگی جو بعد کی زندگی میں بھی برقرار رکھی جائے۔

حج کے دوران اجتماعی نظم و ضبط اور اخلاقی رویوں کا مشاہدہ بھی ہمیں ایک ایسے منظرنامے سے روشناس کراتا ہے جہاں کہیں صبرو ایثار کی روشن مثالیں ملتی ہیں، اجنبی افراد ایک دوسرے کی مدد کرتے نظر آتے ہیں،تو کہیں بے صبری، بدنظمی اور ذاتی ترجیح کا غلبہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ یہ تضاد دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حج کو بطور ایک اخلاقی تربیت گاہ سمجھنے کا شعور ہنوز ادھورا ہے۔یہاں ایک اہم پہلو’’اجتماعی شعور‘‘کا بھی ہے۔ حج محض انفرادی عبادت نہیں بلکہ ایک عالمی اجتماع ہے، جہاں امت ِ مسلمہ اپنی وحدت کا عملی اظہار کرتی ہے لیکن اگر اس اجتماع میں نظم، برداشت اور باہمی احترام کی کمی نظر آئے تو یہ اس بڑے  مقصد کو متاثر کرتی ہے جو حج کے ذریعے حاصل کیا جانا چاہئے تھا۔ حج ہمیں صرف عبادت نہیں  بلکہ صبر و ایثار کے ساتھ ’’اکٹھا جینے ‘‘کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے،اوریہی سلیقہ آج حد درجہ درکار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: زندگی کی تین اہم بنیادیں: فکر، عزم اور کاوش

تصویر کا دوسرا رخ

ہر سال لاکھوں افراد ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے حج، زندگی بدل دینے والا تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ وہ اس سفر سے لوٹ کر نہ صرف اپنے اعمال کا جائزہ لیتے ہیں بلکہ اپنے رویّوں، ترجیحات اور تعلقات میں بھی ایک مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے لئے حج ایک ’’اختتام‘‘ نہیں بلکہ ایک ’’آغاز‘‘ہوتا ہے، ایک نئے طرزِ زندگی کا آغاز، جس میں زیادہ شعور، زیادہ ذمہ داری اور زیادہ اخلاقی سنجیدگی شامل ہوتی ہے۔ یہی وہ حقیقی پہلو ہے جوحج کی اصل روح ہے، گرچہ اسے مزید بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حج کو محض ایک فرض کی تکمیل کے طور پر دیکھا جائے گا تو وہ رسمی عمل بن جائے گا۔ لیکن اگر اسے ایک فکری و اخلاقی سفر اور ایک داخلی انقلاب کے طور پر سمجھا جائے تو یہی عبادت انسان کی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حج کے تعلق سے ہماری اجتماعی تفہیم کو اُس کی حقیقی معنویت سے آشنا کیاجائے۔ عازمین حج کی تیاری صرف مناسک کی معلومات تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے فکری، اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کی معنویت کو بھی شامل کیا جائے۔ یہ کام محض خطبات یا رسمی تربیتی نشستوں سے آگے بڑھ کر ایک سنجیدہ علمی و فکری کاوش کا متقاضی ہے۔ اگر حج سے پہلے ہی اس کے حقیقی مقاصد ذہنوں میں واضح ہوں تو اس کا تجربہ زیادہ بامعنی اور اثر انگیز ہو سکتا ہے۔

حج کے بعد کی زندگی

حج کے بعد کی زندگی کو بھی اس عبادت کے تسلسل کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ اگر حج کے اثرات صرف چند دنوں یا ہفتوں تک محدود رہیں تو اس کی معنویت ادھوری رہ جاتی ہے۔ اصل امتحان تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی روزمرہ زندگی میں ان اقدار کو نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے جن کا حج کے دوران احساس ہوا۔ حج دراصل ایک آئینہ ہے،ایسا آئینہ جس میں فرد اپنی ذات کو اور امت اپنی اجتماعی حالت کو دیکھ سکتی ہے۔ آج حج کی حقیقی روح اور اس کی رسمی صورت کے درمیان جو فاصلہ محسوس ہوتا ہے، وہ دراصل ایک دعوت ہے کہ ہم اس عظیم عبادت کو اس کی حقیقی روح اور معنویت کے ساتھ مربوط کریں۔ کیونکہ حج اپنی روح میں محض ایک مذہبی سفر نہیں،بلکہ ایک ایسی بیداری ہے جو انسان کو اس کی اصل حقیقت سے روشناس کراتی ہے، اس کے باطن کو جِلا بخشتی ہے، اور اسے ایک بااخلاق اور ذمہ دار شخصیت میں ڈھال دیتی ہے۔ حج کا حقیقی کمال و اثرواپسی میںظہور پذیر ہوتا ہے کہ بندہ سرزمین ِحرم سے لوٹے تو اس کے دل کی سرزمین میں بھی ایک حرم آباد ہو چکا ہو، جہاں ہر خیال عبادت اور ہر عمل اطاعت ہو۔

یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، ضرورت مند کی مدد کرنا بہت اونچا عمل ہے!

فریضہ ٔحج کی تکمیل

مناسک حج کی تکمیل اور اُس کے روح آفریں سفرکااختتام درحقیقت ایک ایسی دائمی ابتدا کی نوید ہے، جو بندۂ مومن کی پوری زندگی کا رخ متعین کر دیتی ہے۔ فریضہ حج محض متعینہ  مناسک کی ادائیگی نہیں، بلکہ اِس سے دِل کی سرزمین میں حرمِ بندگی کی ایسی تشکیل مطلوب ہے جو شعور، کردار اور باطن کو یکسر تبدیل کر د ے۔ حج کی اصل روح یہی ہے کہ انسان اپنی باطنی دنیا کو خواہشات کی آلودگی سے پاک کر کے تقویٰ، صبر اور ایثار  پر مبنی ایک نئی شخصیت کی تشکیل کرے۔ جب دل خود حرم بن جائے تو پھر زندگی کا ہر لمحہ عبادت کی لَے میں ڈھل جاتا ہے اور ہر عمل رضائے الٰہی کی جستجو میں بدل جاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو فریضہ حج کو ایک ہمہ گیر تجربہ بنا دیتی ہے،ایسا تجربہ جو انسان کو نہ صرف اپنے رب سے قرب عطا کرتا ہے بلکہ اسے معاشرے میں خیر، امن اور اعلیٰ اقدار کا پیامبر بھی بنا دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK