Inquilab Logo Happiest Places to Work

دل کی سختی بڑھ جائے تو احساس کی موت ہونے لگتی ہے!

Updated: June 12, 2026, 4:18 PM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai

قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے دل کو زندہ ، نرم اور حق کیلئے کھلا رکھے۔ جب دل نرم ہوتا ہے تو انسان خیر کی طرف مائل ہوتا اور متوازن اور باوقار شخصیت بن جاتا ہے۔

In Islamic teachings, the most important thing to cure hardness of heart is to keep the heart alive. This life is achieved through remembrance, worship, and repentance. Photo: INN
اسلامی تعلیمات میں دل کی سختی کے علاج کے لئے سب سے اہم چیز دل کو زندہ رکھنا ہے۔ یہ زندگی ذکر، عبادت اور رجوع کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی وجود کی اصل روح اس کا دل ہے۔ یہی دل انسان کے اندر احساس، تاثیر، ندامت اور محبت کی کیفیت کو زندہ رکھتا ہے۔ یہی دل خیر کی طرف مائل ہوتا ہے اور شر سے رکنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔ مگر جب یہی دل اپنی تاثیر کھو دے، جب وہ سچائی کو سن کر بھی متاثر نہ ہو، جب اس میں خیر کی دعوت کوئی ارتعاش پیدا نہ کرے اور جب انسان اپنے ہی اندر سے اجنبیت محسوس کرنے لگے تو یہی کیفیت دل کی سختی کہلاتی ہے۔ یہ محض ایک عارضی کیفیت نہیں بلکہ ایک تدریجی زوال ہے، جو انسان کو روحانی جمود میں مبتلا کر دیتا ہے۔

دل کی سختی دراصل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کے اندر احساس کی موت واقع ہونے لگتی ہے۔ ابتدا میں انسان غلطی کرتا ہے تو اسے شرمندگی ہوتی ہے، وہ تڑپتا ہے، وہ رجوع کرتا ہے۔ مگر جب وہی غلطی بار بار دہرائی جائے، جب انسان اپنے ضمیر کی آواز کو مسلسل نظر انداز کرے تو اس کا دل آہستہ آہستہ بے اثر ہو جاتا ہے۔ قرآنِ مجید اس کیفیت کو نہایت دردناک انداز میں بیان کرتا ہے:

’’پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کے ذکر سے سخت ہو گئے ہیں، یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔‘‘ (الزمر::۲۲)

 دل کی سختی صرف ایک باطنی کیفیت نہیں بلکہ یہ انسان کو گمراہی کی طرف لے جانے والا راستہ ہے۔ جب دل ذکر سے متاثر نہ ہو، جب وہ نصیحت کو قبول نہ کرے تو وہ اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتا ہے۔اس کی ایک بنیادی علامت یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں کو محسوس کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ غلطی کرتا ہے مگر اسے غلطی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ ظلم کرتا ہے مگر اسے احساس نہیں ہوتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے اندر سے ندامت ختم ہو جاتی ہے، اور یہی ندامت کی کمی دل کی سختی کی سب سے بڑی علامت ہے۔اللہ کے رسولؐ نے اس کیفیت کو ایک نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا کہ ’’ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو وہ نقطے بڑھتے بڑھتے دل کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ یہی ڈھانپ جانا دراصل دل کی سختی ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: امت کو مسائل پر قابو پانے کیلئے واقعۂ ہجرت سے اخذ کردہ اسباق کو پھر دہرائیں

دل کی سختی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ انسان نصیحت سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ اچھی بات سنتا ہے مگر اس کے دل میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔ وہ قرآن سنتا ہے مگر اس کے اندر کوئی لرزش نہیں ہوتی۔ یہ کیفیت اس بات کی علامت ہے کہ اس کا دل اپنی تاثیر کھو چکا ہے۔

نفسیاتی اعتبار سے اس کیفیت کو Emotional Blunting کہا جاتا ہے، یعنی انسان کے جذبات کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ وہ نہ خوشی کو محسوس کرتا ہے اور نہ غم کو، نہ محبت کو اور نہ نفرت کو۔ اس کے اندر ایک طرح کی بے حسی پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح ایک اور پہلو Moral Desensitization یعنی ’’اخلاقی حساسیت کا فقدان‘‘ ہے، جہاں انسان اخلاقی برائیوں کا عادی ہو جاتا ہے۔ جو چیز ابتدا میں اسے غلط لگتی تھی، وہی بعد میں معمول بن جاتی ہے۔

دل کی سختی کی ایک بڑی وجہ مسلسل غفلت ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کو بغیر شعور کے گزارے، جب وہ اپنے اعمال کا جائزہ نہ لے اور جب وہ اپنے باطن سے بے خبر رہے تو اس کا دل آہستہ آہستہ سخت ہو جاتا ہے۔اسی طرح دنیا کی محبت بھی دل کو سخت کرتی ہے۔ جب انسان کی توجہ صرف مادی کامیابی، دولت اور لذت پر مرکوز ہو جائے اور انسان انہی میں کھویا رہے تو اس کا دل روحانی اثرات سے دور ہو جاتا ہے۔

دل کی سختی کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ انسان اپنی اصلاح کی ضرورت کو محسوس نہیں کرتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ ٹھیک ہے، اسے کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ یہی احساس اسے مزید جمود میں مبتلا کر دیتا ہے۔

نفسیات میں اسے Psychological Rigidity نفسیاتی سختی یا نفسیاتی  اکڑن کہا جاتا ہے، یعنی انسان اپنے خیالات اور رویوں میں سخت ہو جاتا ہے اور تبدیلی کو قبول نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: مہرفاطمی کی ادائیگی، صدقات کی اقسام، ایام ِ اضحیہ کے بعد کوئی قربانی نہیں

دل کی سختی کا ایک اور نتیجہ یہ ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتا ہے۔ جب اس کا دل نرم نہیں ہوتا تو وہ دوسروں کے ساتھ بھی نرمی سے پیش نہیں آتا۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:  ’’جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘ ایک اور حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ ’’جو دل کی نرمی سے محروم ہوا وہ خیر سے محروم ہوا ۔‘‘ یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دل کی نرمی انسان کے اخلاق کا بنیادی حصہ ہے۔

اسلامی تعلیمات میں دل کی سختی کے علاج کے لئے سب سے اہم چیز دل کو زندہ رکھنا ہے۔ یہ زندگی ذکر، عبادت اور رجوع کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے:

’’اللہ ہی نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے، جو ایک کتاب ہے جس کی باتیں (نظم اور معانی میں) ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں (جس کی آیتیں) بار بار دہرائی گئی ہیں، جس سے اُن لوگوں کے جسموں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر اُن کی جلدیں اور دل نرم ہو جاتے ہیں (اور رِقّت کے ساتھ) اللہ کے ذکر کی طرف (محو ہو جاتے ہیں)۔(سورہ الزمر:ٗ۳)

یہ حقیقت ہے کہ دل میں نرمی تعلق بالقرآن کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح توبہ بھی دل کو نرم کرتی ہے۔ جب انسان اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کا دل دوبارہ زندہ ہونے لگتا ہے۔دل کی سختی کا علاج صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے ہوتا ہے۔ جب انسان اپنی زندگی میں نرمی، عاجزی اور سچائی کو جگہ دیتا ہے تو اس کا دل بدلنے لگتا ہے۔ دل کی سختی انسانی باطن کی ایک ایسی کمزوری ہے جو انسان کو روحانی جمود میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یہ اس کے دل کو بند کر دیتی ہے اور اسے خیر سے دور کر دیتی ہے۔

قرآنِ مجید انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے دل کو زندہ رکھے، اسے نرم رکھے اور اسے حق کیلئے کھلا رکھے۔ جب انسان کا دل نرم ہوتا ہے تو وہ سچائی کو قبول کرتا ہے، خیر کی طرف مائل ہوتا ہے اور ایک متوازن اور باوقار شخصیت بن جاتا ہے۔ یہی وہ نرمی ہے جو انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے اور یہی وہ کیفیت ہے جو حقیقی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: ایام تشریق کی قضا نماز، گوشت کی تقسیم کا مسئلہ، قربانی میں شرکت

دل کی سختی کا نفسیاتی علاج
نفسیاتی اعتبار سے دل کی سختی کے علاج کیلئے Emotional Reconnection ضروری ہے۔ انسان کو اپنے جذبات کے ساتھ دوبارہ جڑنا ہوگا، انہیں محسوس کرنا ہوگا اور انہیں دبانے کے بجائے سمجھنا ہوگا۔ اسی طرح Compassion Training یعنی دوسروں کے لئے ہمدردی پیدا کرنا بھی دل کو نرم کرتا ہے۔ایک اور اہم طریقہ Self-Reflection ہے، جہاں انسان اپنے اعمال، اپنے خیالات اور اپنی نیتوں کا جائزہ لیتا ہے۔ اسی طرح Gratitude Practice بھی دل کو نرم کرتی ہے۔ جب انسان اپنی نعمتوں پر غور کرتا ہے تو اس کے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK