Inquilab Logo Happiest Places to Work

امت کو مسائل پر قابو پانے کیلئے واقعۂ ہجرت سے اخذ کردہ اسباق کو پھر دہرائیں

Updated: June 12, 2026, 3:35 PM IST | Sadruddin Albyanvi | Mumbai

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مبارکہ ایک نہایت عظیم تاریخی واقعہ ہے۔ سنہ ہجری کا آغاز بھی اسی واقعے کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔ اس واقعے نے مسلمانوں کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ ہجرت کے موقع پر نبی کریمؐ اور اہل ایمان کو غیرمعمولی مسائل کا سامنا تھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مبارکہ ایک نہایت عظیم تاریخی واقعہ ہے۔ سنہ ہجری کا آغاز بھی اسی واقعے کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔ اس واقعے نے مسلمانوں کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ ہجرت کے موقع پر نبی کریمؐ اور اہل ایمان کو غیرمعمولی مسائل کا سامنا تھا۔ آپؐ نے ان تمام مشکلات پر قابو پاتے ہوئے غلبۂ دین کی جدوجہد کو جاری رکھا اور بالآخر عالم عرب مسخر ہوکر رہا۔ آج بھی اُمت مسلمہ کو بہت سے مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اسلئے ضروری ہے کہ واقعہ  ٔ ہجرت سے اخذ کردہ اسباق کو ایک بار پھر ذہنوں میں تازہ کریں۔آئیے اس سلسلے کے چند اہم اسباق پر نظر ڈالیں:
راہ خدا میں ابتلا پر صبر
نبی مہربان ؐاور آپؐ کے ساتھیوں کو مکۃ المکرمہ میں فریضۂ دعوت و رسالت کی ادائیگی کے دوران بہت سی سختیاں اور ایذائیں جھیلنا پڑیں۔ ایسی ایسی تکالیف دی گئیں کہ جنہیںبرداشت کرنا عام آدمی کے بس کی بات نہ تھی ۔ انہی بے پناہ سختیوں کی وجہ سے آپ ؐ کو مدد و نصرت کی درخواست لئے طائف جانا پڑا مگر وہاں سے بھی کوئی مدد نہ ملی۔ پیش آمدہ تکلیفوں کی بنا پر ہی آپ ؐ کے ساتھیوں کو پہلے حبشہ اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر نا پڑی، بعد میں خود آپ ؐ کو بھی مدینہ کی جانب اذنِ ہجرت ملا۔ ہجرت از خود ایک طرح کی آزمائش اور امتحان کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جائو تو ان میں سے کم ہی آدمی اس پر عمل کرتے۔‘‘ (سورہ النساء:۶۶)

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حجر اسود کا بوسہ، دونوں طرف سے نفع، قرض کے بدلے نفع، شراب نوش دکاندار

بوقت ہجرت آپ ؐ  نے مکہ کو مخاطب کر کے فرمایا:  ’’اللہ کی قسم !اے مکہ! تو اللہ کے شہروں میں سے مجھے محبوب ترین ہے۔ اگر تیرے باسی، باشندے  مجھے یہاں سے نکال نہ دیتے تو میں کبھی یہاں سے نہ جاتا۔‘‘
آپ ؐ اور آپ ؐ کے ساتھیوں کو مکہ میں جس قسم کی اذیتوں کا سامنا رہا اور پھر جس کسمپرسی کے عالم میں انہیں پہلے حبشہ اور پھر مدینہ کی جانب سفر ہجرت اختیار کرنا پڑا اس سارے عمل میں ہمارے لئے بے حد اہم اسباق پوشیدہ ہیں۔ ہمیں بھی اُمت کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے ان اسباق کا پوری دقت  ِ نظر سے مطالعہ کرنا ہوگا تاکہ یہ ہمارے لئے مایوسی اور ناامیدی کے بجائے پیش قدمی اور فتح مندی کا ذریعہ بن جائیں۔ شرط یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کو   اخلاص سے معمور کرلیں۔ فرمان نبویؐ ہے: اعمال کا تمام تر دارومدار نیتوں پر ہے۔ ہر شخص وہی پائے گا جس کی نیت کرے گا۔ پس جس کی ہجرت واقعی اللہ اور اس کے رسولؐ کی جانب ہوگی اسے شمار کیا جائے گا اور جس کی ہجرت کسی دنیاوی مفاد یا کسی خاتون سے نکاح یا منافع کمانے کیلئے تجارت کی خاطر ہوگی تو اس کی ہجرت نقل مکانی یا نقل وطن تو کہی جائیگی، اصل معنوں میں ہجرت نہیں۔(متفق علیہ)
بہترین تیاری اورمحکم تدبیر
واقعہ  ٔ ہجرت کو جو بھی پڑھتا ہے حیران رہ جاتا ہے کہ آپ ؐ نے اس سفر کی کتنی ہمہ پہلو تیاری کی۔ آپؐ نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ، تمام ممکنہ مادی وسائل کو بروئے کار لایا، حالانکہ آپ ؐ کو وحی ربانی کی مکمل تائید بھی حاصل تھی اور اللہ قادر مطلق اس بات کی مکمل طاقت رکھتا تھا کہ آپ ؐ اور آپؐ ؐکے تمام اصحاب بغیر کسی تکلیف اور مشقت کے مدینہ پہنچادیے جاتے۔ لیکن اللہ عز وجل کو امت کیلئے ابدی قانون اور داعیان حق کے لئے بہترین سنت قائم کروانا تھی ۔ آئیے آپ ؐ کی تیاریوں اور منصوبہ بندی کی کچھ جھلکیا ں دیکھیں:
 (۱) دوتیز رفتار سواریوں کی یوں تیاری کی کہ چار ماہ تک دونوں اونٹنیوں کی خوب دیکھ بھال کی گئی اور عین سفرِ ہجرت کے موقع پر انہیں ضروری سازو سامان سے پوری طرح لیس کیا گیا۔
 (۲) راستوں کے ماہر عبد اللہ بن اریقط کو راستے کی نشان دہی کے لئے باقاعدہ اجرت پر ساتھ لیا ۔ اگرچہ عبد اللہ اس وقت مشرک تھے لیکن اپنے کام میں خوب مہارت رکھتے تھے اس لئے آپؐ نے ان کا انتخاب کیا۔
 (۳) زاد راہ اور سامان خوردو نوش کا باقاعدہ انتظام کیا گیا۔ جب تک آپؐ غار ثور میں تھے تب تک حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ ہر شام کھانا پہنچاتیںاور عامر بن فہیرہ رات کودودھ پہنچایا کرتے۔حضرت ابوبکر ؓنے اپنی جمع پونجی (تقریباً چھ ہزار درہم )سفر میں اپنے ساتھ رکھی۔
(۴) ہجرت کے معاملے کو مکمل راز داری میں  رکھا گیا۔ صرف انہی چند لوگوں کو اس کی خبر تھی جنہیں براہ راست اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ راستوں کے بارے میںدشمنوں کو مغالطہ دینے کے لئے آپ ؐ نے جنوب میں واقع یمن کا راستہ اختیار کیا حالانکہ مدینہ سمت ِشمال میں واقع ہے۔ اسی طرح دشمنوں کی نقل و حرکت سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہنے کا انتظام بھی تھا۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: مہرفاطمی کی ادائیگی، صدقات کی اقسام، ایام ِ اضحیہ کے بعد کوئی قربانی نہیں

(۵)غار ثور میں تین روزتک قیام پذیر رہے تاکہ دشمن کی تگ و دو ماند پڑجائے۔ قدموں کے نشان مٹانے کا بھی مکمل انتظام کیا گیا کہ کہیں یہ نشان کفار کو سمت ِسفر اور جگہ کے تعین میں مدد نہ دیں۔
ان تمام اسباب و وسائل کی باحسن فراہمی کے بعد اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا اور مکمل اعتماد تھا۔ آئیے !توکل علی اللہ کے جذبے سے لبریز وہی مکالمہ ایک بار پھر بگوش ِ ہوش سنیں:
سیدنا ابوبکر الصدیق ؓ: اے اللہ کے رسولؐ!اگر ان (تعاقب کرنے والوں) میں سے کسی نے بھی اپنے قدموں پر نظر ڈالی تو ہم ضرور دیکھ لئے جائیں گے۔
رسول اکرمؐ : ابو بکر ؓ! ان دو کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ خو دہو۔
اللہ پر کامل اعتماد،بہترین تیاری، منصوبہ بندی اور فراہمی ٔ اسباب و وسائل کے بعد پھر اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسا برحق ہے۔ اس سارے عمل کا براہ راست پھل اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت اور سفر ہجرت کی بحفاظت تکمیل کی صورت میں برآمد ہوا تھا۔
مہاجرین و انصار کے درمیان رشتۂ اخوت
 اخوت کی یہ مثال،محبت اور ایثار و قربانی کی نادر الوجود مثال ہے ۔ضروری ہے کہ دعوت الی اللہ کے علمبردار، اللہ کی خاطر قائم اس جذبۂ اخوت کو اپنے درمیان فروغ دیں ۔
ہجرت مدینہ دراصل ایک نئے مرحلے کی ابتداتھی جس میں دعوت الی اللہ کا کارواں، صبروابتلا کے طویل دور کے بعد کامیابی کی منزلوں سے ہمکنار ہوا۔ ذہن میں رہے کہ کامیابی کی اس منزل کے پیچھے تمام ممکنہ اسباب کی فراہمی، بہترین تیاری اور منصوبہ بندی، اللہ پر کامل بھروسا اور توکل، اسی کی ذاتِ بے ہمتا پر کامل اعتماد،رسولؐ اللہ کی ذات گرامی سے بے پناہ محبت، ہرقسم کی صلاحیتوں اور قوتوں سے استفادہ، ایسی حقیقی اخوت کا قیام جس نے رسولؐ اللہ کے اصحاب کے دلوں کو یکجان کرکے خوب صورت ترین مثال بنادیا ۔ یہی وہ عناصر تھے جن کی بدولت کامیابی اور فتح مندی مقدر ٹھہری اور آپؐ اس سے سرفراز فرمائے گئے۔
اس ساری مہم میں حضرت اسماء ؓبنت ابوبکر اور حضرت عائشہ ؓنے جو کردار انجام دیا اس سے دعوت الی اللہ کے میدان میں مسلمان خواتین کا کردار بخوبی واضح ہوجاتا ہے۔ اسی طرح عبد اللہ بن ابو بکر ؓجس طرح دن بھر قریش کی خبریں اکٹھی کرتے اور شام کے وقت آپؐ تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے رہے، اس سے نوجوانوں کے کردار کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ اسی لئے نوجوانوں کی فعال صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: ماحولیات کا تحفظ دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ

صدیق اکبرؓ کی بے مثال فداکاری
سفرِ ہجرت میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی جانب سے رسولؐ اللہ کی ذات اقدس کے لئے فداکاری اور محبت کی بے مثال تصویر ہمارے سامنے آتی ہے ۔ آپؓ کو  اس ذمہ داری کا پوری شدت سے احساس تھا کہ کتنی عظیم ہستی کو منزلِ مراد تک بحفاظت پہنچانا ہے۔ غار ثور تک پہنچنے کے بعد صدیق اکبر کہتے ہیں: ’’اللہ کی قسم! اس (غار ) میں آپؐ سے پہلے میں داخل ہوں گا، اس میں اگر کوئی خطرناک چیز ہو تو آپؐ کے بجائے مجھے نقصان پہنچائے۔‘‘ پھرحضرت ابو بکرؓغار میں موجود تمام سوراخ بند کر چکے تو ایک سوراخ ایسا باقی تھا جو بند نہیں کیا جا سکا تھا ۔ اسے حضرت ابو بکر ؓ نے اپنا پاؤں رکھ کر بند کر دیا ۔نبی کریم ؐ حضرت ابوبکر ؓ کے زانو پر سر رکھ کر سوگئے۔ اسی دوران بل میں موجود کسی زہریلی چیز نے ڈنک مارا لیکن ابو بکر ؓ ہلے تک نہیں کہ کہیں آپؐ کی نیند نہ خراب ہوجائے۔یہاں تک کہ تکلیف کی شدت سے حضرت ابو بکرؓ کی آنکھوں سے بے اختیاربہہ پڑنے والے آنسو آپؐ کے چہرۂ انور پر گرے تو آپؐ کو صورت واقعہ کا علم ہوا۔پھر مدینہ کے راستے میں ابو بکر صدیق ؓکبھی آپؐ کے آگے چلتے تو کبھی پیچھے۔ آپؐ حضرت ابوبکرؓ کے اضطراب کو بھانپ گئے۔ پوچھنے پر ابوبکرؓ نے جواب دیا : ’’یا رسولؐ اللہ! جب میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ کہیں دشمن آگے سے گھات لگا کر آپؐ پر حملہ نہ کر دے تو میں آگے ہو جاتا ہوں، جب خیال آتا ہے کہ پیچھے سے کوئی حملہ نہ کر دے تو میں پیچھے چلا جاتا ہوں۔ جب مجھے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ دشمن کہیں دائیں یا بائیں سے حملہ نہ کر دے تو میں دائیں یا بائیں جانب چلنے لگتا ہوں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK