محبت ایک نو ر ہے ۔ یہ وہ چراغ ہے جو ظلمت حیات کو روشنی سےمنور کرتا ہے۔ اور تمام محبتوں میں سب سے پاکیزہ محبت بندے کی اللہ سے محبت ہے۔ قرآن تمام عالم انسانیت کے لئے سرچشمۂ ہدایت ہے۔جہاں اس نے انسانی زندگی کے ہر گوشے کے لئے ہدایت و رہنمائی فراہم کی ہے وہیں اللہ سے محبت کرنے کا بھی ایک واضح کلیہ پیش کر دیا ہے۔
رسول ؐ کی محبت صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ یہ عمل کا نام ہے۔ تصویر: آئی این این
محبت ایک نو ر ہے ۔ یہ وہ چراغ ہے جو ظلمت حیات کو روشنی سےمنور کرتا ہے۔ اور تمام محبتوں میں سب سے پاکیزہ محبت بندے کی اللہ سے محبت ہے۔ قرآن تمام عالم انسانیت کے لئے سرچشمۂ ہدایت ہے۔جہاں اس نے انسانی زندگی کے ہر گوشے کے لئے ہدایت و رہنمائی فراہم کی ہے وہیں اللہ سے محبت کرنے کا بھی ایک واضح کلیہ پیش کر دیا ہے۔چنانچہ سورہ آل عمران کی آیت نمبر۳۱؍ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فکر کی تبدیلی قوموں کے عروج و زوال کا خاموش اعلان ہوتی ہے
یہ آیت گویا ایک پیمانہ ہے اس محبت و عقیدت کو جانچنے اور پرکھنے کا۔ بلا شبہ جو لوگ اللہ کی محبت کے دعوے دار ہیں اس کسوٹی پر خود کو پرکھ سکتے ہیں کہ اتباع نبویؐ ہماری زندگی میں کس قدر موجود ہے۔ قرآن ہم سے صرف زبانی اقرار نہیں چاہتا بلکہ اس جذبۂ محبت سے ہماری پوری زندگی کو سر شار دیکھنا چاہتا ہے ۔
اللہ کی محبت اصل ایمان کی جڑ: یہ جذبہ ٔمحبت اس وقت سے ہمارے دلوں میں موجود ہے جب عالم ارواح میں اللہ رب العزت نے ہم سے یہ اقرار لیا تھا الست بربکم ۔چنا نچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ ایمان والوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں ۔ (سورہ مائدہ) اللہ کی محبت کوئی عام جذبہ نہیں بلکہ یہ وہ تعلق ہے جو انسان کو خود اس کی ذات سے بلند کر دیتا ہے ۔ جب دل اللہ کی محبت سے معمور ہوتا ہے تب دنیاوی خواہشات ہیچ نظر آتی ہیں، گناہوں سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور عبادات میں لذت محسوس ہوئی ہے۔ لہٰذا اللہ سے محبت کا تقاضہ یہ ہےکہ انسان شکر گزار ہو ، زمانۂ مصائب میں صابر ہو ، خوشی میں عاجزی اختیار کرے اور ہر حال میں اللہ کی رضا ڈھونڈتا رہے۔
یہ بھی پڑھئے: شکر گزاری سے نعمتوں کو دوام اور تسلسل عطا ہوتا ہے
رسول اکرم ﷺکی محبت ایمان کی تکمیل: آپؐ کی محبت کے بغیر ایمان کی تکمیل ممکن نہیں۔ مومن کا اللہ کے سوا کوئی معبود نہ ہونے کا اقرار نا مکمل ہو گا جب تک وہ محمد ؐ کے رسول اللہ ہونے کی گواہی نہ دے ۔ یہ اللہ کی اپنے حبیبؐ سے محبت کی واضح نشانی ہے جو تاقیامت ایمان والوں کے لئے حتمی کسوٹی ہوگی ۔ خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ’’کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ، اولاد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔ ‘‘
حب رسول ؐ کے تقاضے: حضور ؐ وہ ہستیٔ مبارکہ ہیں جن کے ذریعے ہمیں رحمٰن ملا ، قرآن ملا اور ہم نے سیدھی راہ کا پتہ پایا ۔ یہ آپؐ کی محبت ہی ہے جو انسان کو اخلاق و کردار اور انسانیت کی بلندیوں پر فائز کرتی ہے ۔ علامہ اقبال اسی بات کو یوں بیان کرتے ہیں:
وہ دانائے سبل ، ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادیٔ سینا
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں ، وہی یٰسیںوہی طہٰ
لیکن خیال رہے ،رسول ؐ کی محبت صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ یہ عمل کا نام ہے ۔ سنت نبویؐ کی پیروی کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا لینے کا نام عشق رسولؐ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فجر اور عصر کے بعد والے اوقاتِ مکروہہ میں طلوع اور غروب سے پہلے دوگانہ ٔ طواف کی بھی ممانعت ہے
اللہ اور رسول کی محبت زندگی کا سہارا: جس دل میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت آجائے اسکی زندگی میں حیرت انگیر تغیر آجاتا ہے۔ ایسے دل سے نفرت، حسد ، بغض ،کینہ اور ریا کاری فخر و تکبر خود بخود نکل جاتے ہیں۔ اس کا کردار خوشبو بن کر پھیلتا ہے جس سے اس کا اطراف معطر ہو جانا ہے اور وہ سراپا خیر بن جاتا ہے ۔ زندگی کی تمام مشکلات اس محبت کے سامنے سہل ہو جاتی ہیں کیو نکہ انسان اس راز کو پالتاہے کہ ’’جو اللہ اور اس کے رسول کا ہو جائے اللہ اور اس کے رسول اس کے ہو جاتے ہیں۔‘‘
محبت الٰہی ورسالت آخرت کی کا میابی کی ضمانت: بروز حشر جب نفسا نفسی کا عالم ہوگا ، اعمال تو لے جائیں گے اور زبانوں پر قفل لگے ہوں گے اس وقت صرف وہی سچی محبت کام آئے گی جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے کی گئی ہوگی، اللہ اس پر رحم فرمائے گا۔ جو رسولؐ اللہ سے محبت رکھے گا وہ قیامت کے دن آپ ؐکی شفاعت کے سائے میں ہوگا ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی حیات مبارکہ حب الله وحب رسولؐ کا عملی نمونہ تھیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو اتباع نبویؐ سے یک سرمو انحراف نہ کرتے تھے ۔ نتیجتاً اللہ ان سے راضی ہوا اور ان پر رحمتوں کا نزول ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: جب نام اور نسب کو فوقیت کا زینہ بنا لیا جائے تو فکر کی بلندی، پستی میں بدل جاتی ہے
آخری بات: اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت ایسا خزانہ ہے جو دلوں کو روشن، زندگیوں کو پُر نور اور آخرت کو کامیاب بناتا ہے۔ اس محبت کو دل میں بسا لینے کے لئے ضروری ہے کہ قرآنی تعلیمات پر عمل ہو ، سنت نبویؐ کی پیروی ہو ، ذکر الٰہی سے زبانیں تر رہیں اور آپ ﷺ کی ذات اقدس پر درود بھیجنا دن رات کا معمول بنا لیا جائے ۔
جان لیجئے! جب یہ محبت دل میں اترتی ہے تو انسان دنیا میں بھی سربلند ہو جاتا ہے اور آخرت میں بھی سرخرو ہوگا۔ ان شاء الله۔