• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رشتوں کی کہکشاں میں رشتۂ ازدواج کو مرکزی حیثیت حاصل ہے

Updated: January 16, 2026, 8:04 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

زوجین کے باہمی تعلق کی فکری بنیاد محض انسانی تجربے پر نہیں بلکہ ایک ایسے ابدی اصول پر قائم ہے جو انسانی فطرت کو اس کی گہرائیوں تک سمجھتا ہے۔

When husband and wife become a source of comfort and joy for each other, this relationship enriches life. Photo: INN
جب میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے راحت اور مسرت کا سامان بن جائیں تو یہی رشتہ زندگی کو وسعت عطا کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این

رشتوں کے ہجوم میں اگر کسی رشتے کو مرکزیت حاصل ہے تو وہ زوجین کا رشتہ ہے؛ جو محض دو جسموں یا دو ناموں کا اتصال نہیں بلکہ دو زندگیوں، دو سوچوں اور دو دِلوں کا عہدِ باہمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی ذات کی سب سے قیمتی متاع اسی رشتے پر نچھاور کرنے کو آمادہ ہو جاتا ہے، اپنے مفادات، خواہشات اور بعض اوقات اپنی انا تک کو قربان کر دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس ایک بندھن کی مضبوطی پورے وجود کو سہارا دیتی ہے۔ جس گھر میں یہ رشتہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہو، وہاں زندگی بوجھ نہیں بنتی بلکہ سکون کا نام ہو جاتی ہے، اور جہاں اس کی جڑیں کمزور ہوں وہاں آسائشیں بھی بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔
اس رشتے کی اصل طاقت کسی ظاہری نظم یا رسمی وعدے میں نہیں، بلکہ اس خاموش اعتماد میں پوشیدہ ہے جو لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا، اور اس احترام میں جو اختلاف کے لمحوں میں بھی اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ اعتماد وہ ستون ہے جس پر زندگی کی چھت ٹکی ہوتی ہے؛ اگر یہ ستون ہلنے لگے تو معمولی جھونکا بھی پورے نظام کو متزلزل کر دیتا ہے۔ اسی طرح احترام وہ روشنی ہے جو باہمی کمزوریوں کے اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔ جب اعتماد مجروح ہو جائے اور احترام رخصت ہو جائے تو وہی رشتہ جو کبھی سکون کا استعارہ تھا، آہستہ آہستہ اذیت کا سامان بننے لگتا ہے، اور یوں دلوں کے درمیان پڑنے والی دراڑیں وقت کے ساتھ ایسی خلیج میں بدل جاتی ہیں جہاں پہنچ کر واپسی کے تمام راستے مسدود دکھائی دینے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جب ماں کا شعور بیدار ہو تو وہ آنے والے زمانوں کی فکری لکیر کھینچ دیتی ہے

زوجین کے باہمی تعلق کی فکری بنیاد محض انسانی تجربے پر نہیں بلکہ ایک ایسے ابدی اصول پر قائم ہے جو انسانی فطرت کو اس کی گہرائیوں تک سمجھتا ہے۔ اسی لئے قرآن ایک مختصر مگر ہمہ گیر تعبیر میں اس رشتے کی وہ تصویر پیش کرتا ہے جس میں معنی کی کئی پرتیں پوشیدہ ہیں: قرآن مجید فرماتا ہے: ’’تمہاری بیویاں تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کیلئے۔‘‘ (البقرہ:۱۸۷)
یہ تعبیر کسی وقتی جذبے یا سطحی تعلق کی ترجمان نہیں، بلکہ ایک ایسے رشتے کا تصور پیش کرتی ہے جو انسان کے ظاہر و باطن دونوں کو محیط ہو جاتا ہے۔ لباس انسان سے جدا نہیں ہوتا، وہ اس کے ساتھ جیتا ہے، اسی کے مطابق ڈھلتا ہے اور اسی کی ضرورت کے مطابق اس کی حفاظت کرتا ہے؛ اسی طرح زوجین کا تعلق بھی قربت، ہم آہنگی اور باہمی انحصار کا نام ہے۔
لباس انسان کے جسم کو ڈھانپتا ہے، مگر اصل میں وہ اس کی کمزوریوں کو چھپاتا ہے؛ وہ سردی کی شدت اور گرمی کی حدت سے بچاتا ہے، مگر اس سے بڑھ کر انسان کو اطمینان کا احساس دیتا ہے۔ یہی کردار میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے ادا کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے عیوب کے پردہ دار بنتے ہیں، رازوں کے امین ہوتے ہیں اور ایسے داخلی تحفظ کا ذریعہ بنتے ہیں جس کے بغیر زندگی بے وزن محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس تعلق میں حسن بھی ہے، مگر وہ حسن جو نمائش کا محتاج نہیں؛ سکون بھی ہے، مگر وہ جو خاموشی میں بولتا ہے؛ اور قربت بھی ہے، مگر وہ جو محض جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور اخلاقی سطح پر بھی اپنا اثر چھوڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رجب شروع ہوگیا، یہ بیج بونے کا مہینہ ہے، شعبان پانی دینے کا اَور رمضان فصل کاٹنے کا مہینہ ہے

یہ رشتہ خواہش کی تکمیل پر ختم نہیں ہو جاتا بلکہ خواہش کو ایک پاکیزہ سمت دے کر انسان کو اندرونی انتشار سے بچاتا ہے۔ جب جائز ضرورت پوری ہوتی ہے تو انسان کے باطن میں ایک توازن پیدا ہوتا ہے، اور یہی توازن اسے لغزشوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی طرح جیسے لباس انسان کے مزاج، موسم اور حالت کے مطابق اختیار کیا جاتا ہے، ویسے ہی ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا، اپنے آپ کو ڈھالنا اور قربانی دینا لازم ہو جاتا ہے۔ یوں یہ تعلق جبر نہیں بلکہ رضا سے جنم لیتا ہے، اور بوجھ نہیں بلکہ سہارا بن جاتا ہے۔اس ایک جملے میں ازدواجی رشتے کی وہ مکمل روح سمٹ آئی ہے جو عزت کو بنیاد، سکون کو مقصد، حسن کو ذوق اور تحفظ کو ذمہ داری بنا دیتی ہے۔ یہی وہ تصور ہے جو زوجین کے تعلق کو محض سماجی معاہدہ نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک زندہ، باوقار اور بامعنی رشتہ بنا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اللہ، رسولﷺ کی محبت وہ خزانہ ہے جو دل کو روشن، زندگی کو پُر نور اور آخرت کو کامیاب بناتا ہے

جب اس رشتے کی فطری قدریں پامال ہونے لگیں تو اس کی مضبوط دیواریں اندر ہی اندر کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ راز، جو امانت ہوتے ہیں، اگر افشا ہونے لگیں؛ کمزوریاں، جو پردہ چاہتی ہیں، اگر ہتھیار بنا لی جائیں؛ اور اگر تحفظ و حقوق، جو سکون کی ضمانت ہوتے ہیں، نظر انداز کر دیئے جائیں تو اعتماد خاموشی سے رخصت ہو جاتا ہے اور احترام آہستہ آہستہ دم توڑ دیتا ہے۔ ایسے میں زندگی کا وہ سفر جو کبھی ہم سفری کا لطف رکھتا تھا، رفتہ رفتہ ایک ایسی گھاٹی میں اترنے لگتا ہے جہاں ہر موڑ پر اذیت کمین گاہ بنائے کھڑی ہوتی ہے اور گھر، جسے اصولاً پناہ گاہ ہونا چاہئے تھا، بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔اس کے برعکس جب میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے راحت اور مسرت کا سامان بن جائیں تو یہی رشتہ زندگی کو وسعت عطا کرتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں، بے تکلف گفتگو، ایک دوسرے کے ساتھ گزارا ہوا وقت اور کبھی کبھار محبت کے اظہار کے لئے دیا جانے والا تحفہ، بظاہر معمولی لگتے ہیں مگر دراصل یہ وہ خاموش زبان ہے جس سے دل آپس میں بات کرتے ہیں۔ اختلاف کا لمحہ آئے تو معذرت میں پہل کر لینا کمزوری نہیں بلکہ ذہنی بلوغت کی علامت ہوتا ہے؛ یہ وہ پل ہے جو ٹوٹتے ہوئے رابطے کو دوبارہ جوڑ دیتا ہے اور دلوں کے درمیان پیدا ہونے والی دراڑ کو پھیلنے سے روک لیتا ہے۔ صرف یہ ایک لفظ (Sorry) تمام اختلافات کو ختم کرنے کیلئے کافی ہوتاہے مگر اس کیلئے اپنی انا کو دبانا پڑےگا اور اس میں پہل کرنی ہوگی کیونکہ یہ قوت ضبط کا امتحان بھی ہے اور صبر کا اعلیٰ مقام بھی۔ لیکن یہ کسی کی شکست نہیں بلکہ رشتے کی فتح ہوتی ہے۔ 
اگریہ توازن برقرار نہ رہے تو اس کے اثرات صرف زوجین تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس فضا میں پلنے والی اولاد بھی اس کشمکش کی قیمت چکاتی ہے۔ اسی لئے اولاد کی درست تربیت کا پہلا زینہ والدین کی اپنی اصلاح ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK