انتخابات کے پیش نظر ہر اُمیدوار وعدوں کے انبار لگا رہا ہے ، ایسے میں مسلم اُمیدوار ں کو وعدہ کرنے سے قبل دین کی روشنی میں نگہبانی کے اصول کو دیکھنا اور سمجھنا چاہئے۔
EPAPER
Updated: January 09, 2026, 6:59 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai
انتخابات کے پیش نظر ہر اُمیدوار وعدوں کے انبار لگا رہا ہے ، ایسے میں مسلم اُمیدوار ں کو وعدہ کرنے سے قبل دین کی روشنی میں نگہبانی کے اصول کو دیکھنا اور سمجھنا چاہئے۔
جب بھی ہمارے وطن عزیز میں الیکشن کا دور آتا ہے، اس کے ساتھ ہی ایک سوال ابھر آتا ہے کہ ایک عوامی نمائندے کا کردار، اس کی ذمہ داری اور اس کا کام کس طرح ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کے ہر پہلو میں انحطاط اور گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے اورغالبًا اس تنزل کا سب سے زیادہ اثر سیاست پر ہوا ہے۔ اس کی پراگندگی کا عالم بیان کرنے کے لئے الفاظ کافی نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ عوام کے ذہن میں سیاست اور بدعنوانی ہم معنی لفظ بن چکے ہیں۔جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان دونوں کا آپس میں کوئی رشتہ ہی نہیں ہونا چاہئے۔ اسلامی تعلیمات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ سیاست کوئی پیسہ کمانے، عہدہ حاصل کرنے، عوام کے درمیان واہ واہی لو‘ٹنے کا نام نہیں ہے، بلکہ سیاست جس کے ذریعہ عوام کی قیادت حاصل ہوتی ہے ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔چاہے کوئی شخص کارپوریٹر بنے ، ایم ایل اے، ایم ایل سی، یا لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا ایم پی بنے یاپھر کوئی وزارت اس کو حاصل ہو، بہرصورت وہ عوام کا نمائندہ ہے جس کا مقصد عوام کی بے لوث خدمت ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایمانداری، دیانتداری، اور انتھک محنت و جدوجہد کے ساتھ اپنی خدمات اس طرح انجام دے کہ عوام کے مسائل حل ہوں اور وہ اُس سے خوش اور مطمئن ہوں۔
یہ سب اس وقت ممکن ہے جب مسلم عوامی نمائندہ یہ جان لے کہ اسلام اس سے کن باتوں کا تقاضہ کرتا ہے اور اس سے کس طرح کے کردار اور رویہ کی امید کی جاتی ہے۔ ایسے مسلمان کو جو عوامی امور کا ذمہ دار بنے اس کو تو سب سے پہلےنبی کریمؐ کی یہ نصیحت یادکرلینا چاہئے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے متعلق سوال ہوگا۔‘‘
حضرت عمرؓ کے متعلق حلیۃ الاولیاء میں امام ابو نعیم اصفہانی نے لکھا ہے کہ ان کے احساس ذمہ دار ی کا یہ عالم تھا کہ حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ فرمایاتھا: اگر عراق میں ایک خچر (یا گھوڑا) بھی ٹھوکر کھا جائے تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ مجھ سے پوچھے گا کہ تم نے اس کیلئے راستہ کیوں درست اور ہموار نہیں کیا؟
آج کے دور کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ جو چیز عوامی کاموں کے سلسلے میں سب سے زیادہ رکاوٹ بنتی ہے وہ بدعنوانی اور رشوت ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات بالکل واضح ہیں۔ اسلام نے ہر قسم کی رشوت کو بالکل واضح الفاظ کے ساتھ منع قراردیا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمدؐ نے ارشاد فرمایا: رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنم میں جائینگے۔ (طبرانی) جبکہ ترمذی شریف میں اسی طرح کی ایک اور حدیث ملتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں: ’’ اللہ کے رسول ﷺ نےحکم کے معاملے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: دعا کےبعد چہرے پہ ہاتھ پھیر لینا،موزوں پہ مسح ،کاروبار میں ضمانت،وراثت کی تقسیم
اولین دور ہی سے اسلامی تعلیمات میں قیادت اور لیڈرشپ ایک نہایت اہم موضوع رہا ہے اور ان کے متعلق واضح تعلیمات دی گئی ہیں۔ اسی لئے علماء نے نہایت ہی مفصل انداز میں سرداری کے اصول اور اس کے ضوابط پر مفصل بحثیں کی ہیں ۔ مثلاً امام علی بن محمدالماوردیؒ (وفات ۱۰۵۸ء) نے اپنی کتاب ’الاحکام السلطانیۃ‘ کے مقدمے میں زمام سلطنت سنبھالنے والے شخص کے متعلق لکھا ہے کہ اس میں سات شرائط کا پایا جانا ضروری ہے: سب سے پہلی شرط انصاف کا مزاج ہے۔ دوسری شرط اس کے پاس علم کا ہونا ضروری ہے جس کے ذریعہ وہ پیش آنے والے مسائل کا حل تلاش کرسکے۔ تیسری شرط عقلی طور پر اس کے حواس کا کام کرنا ضروری ہے کہ جن کے ذریعہ وہ حکومت کے کام انجام دے سکے۔ چوتھی شرط جسمانی طور پر اس میں کوئی ایسا عیب نہ ہو جو سرعت ِعمل میں مانع ہو۔ پانچویں شرط ایسی رائے جو عوام کے نظم و نسق اور ان کے مفادات کی درست دیکھ بھال کا ذریعہ بنے۔ چھٹی شرط ایسی شجاعت اور دلیری جو قوم اور ریاست کی سلامتی اور حفاظت کا ذریعہ بنے۔ اور ساتویں شرط یہ کہ وہ نسب کے لحاظ سے قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتا ہو۔
اسلام میں قیادت ایک امانت ہے، انصاف پسندی کا جذبہ ہے اور عوام کی بے لوث خدمت ہے۔ اس کا تعلق طاقت کے حصول، اپنےذاتی مفادات کا تحفظ اورغیر شرعی اور غیر قانونی طریقے سے دولت کمانا یا عزت وجاہ کا لالچ دل میں رکھنا نہیں ہے۔ اب جو شخص عوامی قیادت کا ذمہ دار بنے وہ سب سے پہلے اپنے دل کو اس بات کے لئے راضی کرلے کہ وہ حب مال وحب جاہ سے پاک ہو کر عوام کی بے لوث خدمت کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: دین اسلام کس قدر حسین ہے!
قرآن مجید میں رب العالمین نے امانتوں کے متعلق فرمایا ہے: ’’یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقدار تک پہنچاؤ۔‘‘ اب عوام کے ووٹ پر منتخب ہونے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان کو ساری سہولتیں مہیاکروائے جس کے وہ حقدار ہیں۔ اس لئے کہ یہ سب وہ امانتیں ہیں جن کا میسر آنا ان کے لئے بہت ضروری ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے ساتھ عدل و انصاف کا بھی حکم دیا ہے۔
اللہ عزوجل نے وعدوں کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:’’وعدوں کو پورا کرو۔‘‘ہر قائد اور لیڈر کی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کے وقت پہلےتو وہی وعدہ کرے جس کو وہ پوراکرسکتا ہے اس لئے کہ قرآن کہتا ہے کہ انسان سے اس کے کئے ہوئے وعدوں کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ ایک حدیث ہے جس کوامام طبرانیؒ نے نقل کیا ہے:’’قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے‘‘۔ اگر چہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے مگر خلفاء راشدین کی عملی زندگی کو دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے دنیا پر یہ ثابت کردیا کہ قوم کا جو مکھیا ہوتا ہے، وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کا سچا ، بے لوث اور مخلص خادم ہوتا ہے۔ وہ ان کی خاطر اپنی زندگی کا ہرسکھ، ہر خوشی اور ہر آرام قربان کردیتا ہے۔بلکہ اپنی مکمل زندگی ان پر نچھاور کردیتا ہے۔ آج بھی ہمارے لیڈران ان مخلصانہ جذبات اور مکمل دیانتداری کے ساتھ سیاست میں اتریں تو یقیناًاللہ تعالی کی مدد شامل حال ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: تدبر ِ قرآن اور اس کے آداب و شرائط
اس طرح کی لیڈرشپ کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ اسلام کی شبیہ بگاڑنے کی جوکوششیں ہورہی ہیں ان کا منہ توڑ جواب ہم دے پائینگے۔ اسی کو ذریعہ بنا کرہمیں اسلام میں ذمہ دار سیاسی قائد کی اصلی تصویر عوام کے سامنے عملی طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب زمانہ اتنا بدل گیا ہے کہ’’ بہت کچھ‘‘ ضروری ہوگیا ہے جبکہ مسلم قائد کا فرض ہے حالات کو بدلے نہ کہ خود بدل جائے۔