• Sat, 24 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اخلاقی احیا کا راستہ مستقل شعوری محنت سے نکلتا ہے

Updated: January 23, 2026, 4:56 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

ہم اخلاق کو ایک داخلی ذمہ داری کے بجائے خارجی مہم بنا چکے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چند تقاریر، نصیحتیں اور رسمی اجتماعات ہمیں اپنے فرض سے سبکدوش کر دیں گے حالانکہ اخلاق نہ کسی اسٹیج سے منتقل ہوتا ہے اور نہ کسی ہال میں سکھایا جا سکتا ہے۔

Advice given to others is only effective when the person giving it himself acts on it. Photo: INN
دوسروں کو کی جانے والی نصیحت اسی وقت کارگر ہوتی ہے جب بیان کرنے والا خود بھی ان پر عمل کرتا ہو۔ تصویر: آئی این این

اخلاق بظاہر ایک ایسی قدر ہے جس کی تحسین پر سب متفق نظر آتے ہیں؛ ہر زبان پر شرافت، ہر محفل میں تہذیب اور ہر مجلس میں مثالی معاشرے کا خواب گردش کرتا رہتا ہے۔ مہذب خاندانوں کا تذکرہ فخر سے کیا جاتا ہے، معاشرتی بگاڑ پر افسوس کے نعرے بلند ہوتے ہیں، اور اصلاحِ معاشرہ کے نام پر اجتماعات، خطابات اور جدید اصطلاح میں ڈسپلن ورکشاپس کا انعقاد بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے۔ مگر یہ سارا شور جب تھم جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ کی نبض وہیں کی وہیں ہے، بلکہ بسا اوقات بگاڑ پہلے سے زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے، گویا کثرتِ گفتار نے قلت ِ کردار کو مزید آشکار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: الفاظ اگر اخلاص کے ساتھ ادا کئے جائیں تو دِلوں میں اتر جاتے ہیں

اس تضاد کی جڑ میں جھانکا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے: ہم اخلاق کو ایک داخلی ذمہ داری کے بجائے خارجی مہم بنا چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چند تقاریر، نصیحتیں اور رسمی اجتماعات ہمیں اپنے فرض سے سبکدوش کر دیں گے  حالانکہ اخلاق نہ کسی اسٹیج سے منتقل ہوتا ہے اور نہ کسی ہال میں سکھایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو عمل کے خاموش نمونے سے دلوں میں اترتی ہے، مگر جب خود کو آئینے میں دیکھنے کے بجائے انگلیاں دوسروں کی طرف اٹھائی جائیں تو اصلاح ایک زندہ عمل نہیں رہتی، محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔
یوں، ہوتا یہ ہے کہ ہم دوسروں کو سنوارنے کی فکر میں خود کو بھول جاتے ہیں، اور اخلاق کو اپنانے کے بجائے اسے تبلیغ کا موضوع بنا لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نصیحت وزن کھو دیتی ہے، اور معاشرہ ایسے واعظوں سے بھر جاتا ہے جن کے الفاظ بلند مگر قدم کمزور ہوتے ہیں۔
تاریخ کے اوراق پلٹتے ہی ایک ایسا منظر ابھرتا ہے جس میں معاشرہ محض افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ کردار دکھائی دیتا ہے۔ گلیوں کی خاموشی، بازاروں کی دیانت، گفتگو کی شائستگی اور برتاؤ کی سادگی خود اعلان کرتی تھی کہ یہاں رہنے والوں کے باطن میں کوئی مضبوط قدر سانس لے رہی ہے۔ کسی اجنبی کو نام پوچھنے یا تعارف کی حاجت نہ ہوتی؛ وہ چہروں کے اطمینان، لین دین کی شفافیت اور اختلاف میں بھی وقار کے انداز سے پہچان لیتا کہ یہ مسلمانوں کی بستی ہے۔ شناخت کسی جھنڈے یا نعرے سے نہیں، کردار کی خوشبو سے ہوتی تھی، اور یہی خوشبو پورے ماحول میں رچی بسی رہتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: جسمانی حرکات و سکنات میں بھی وقار رہنا چاہئے

مگر وقت کے بہاؤ میں یہ منظر دھندلا گیا، اور آج یہی سوال ذہن کو کچوکے لگاتا ہے کہ یہ زوال آخر آیا کیسے؟ کیا کوئی حادثہ تھا جس نے اس عمارت کو گرا دیا، یا یہ ترکِ اصول کا نتیجہ تھا جو آہستہ آہستہ بنیادوں کو کھوکھلا کرتا گیا؟ غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انحطاط ہمیشہ شور کے ساتھ نہیں آتا، وہ خاموشی سے عادات بدلتا ہے، ترجیحا بدلتا ہے اور اقدار کو رسمی یادداشت میں بدل دیتا ہے۔ جب اخلاق اپنے سرچشمے سے کٹ جائے تو وہ روایت تو رہ جاتا ہے، قوت نہیں رہتا، اور جب اقدار علم کے بجائے سنی سنائی باتوں پر قائم ہوں تو ان میں زندگی کی حرارت باقی نہیں رہتی۔
اخلاقیات کا سرچشمہ اگر تلاش کیا جائے تو وہ کسی فلسفی کی تجریدی فکر یا کسی سماجی معاہدے کی پیداوار نہیں بلکہ وہ پاکیزہ زندگیاں ہیں جنہیں انسانی تاریخ نے ہمیشہ معیار مانا ہے۔ ان ہستیوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ پیغام کے اعلان سے پہلے ہی اپنے کردار کے ذریعے دلوں میں جگہ بنا لیتی تھیں۔ جن قوموں میں وہ پیدا ہوئیں، وہی قومیں ان کی سچائی، دیانت اور امانت پر گواہ بنیں، حتیٰ کہ اختلافِ فکر کے باوجود ان کے اخلاق پر انگلی اٹھانے کی جرأت نہ کر سکیں۔ گویا ان کی شخصیت دلیل کی محتاج نہیں ہوتی تھی؛ ان کا وجود ہی دلیل بن جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: فکر کا زاویہ درست ہوجائے تو گفتگو شور نہیں، شعور کے ذریعے ہوتی ہے

اسی تسلسل میں آخری پیغمبرؐ کی حیات ِ مبارکہ سب سے روشن مثال ہے۔ نبوت کے اعلان سے پہلے ہی آپؐ معاشرے میں ایسے مقام پر فائز تھے جہاں اعتماد خود آپؐ کے اسم مبارک کا حصہ بن چکا تھا۔ جن زبانوں پر بعد میں الزام اور انکار کے الفاظ آئے، وہی زبانیں پہلے آپؐ کی صداقت اور امانت کی معترف تھیں۔ 
یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاق محض ایک ذاتی خوبی نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ معیار بن جاتا ہے، ایسا معیار جس کی پیروی کی تاکید آسمانی کلام میں کی جاتی ہے۔ جب کسی شخصیت کے اخلاق کو خود خالق کائنات بلند ترین درجہ عطا کرے تو  وہ  تاریخ کا حوالہ نہیں رہتی بلکہ ہر دور کے لئے میزان بن جاتی ہے۔ اس میزان میں اخلاق الفاظ سے نہیں، عمل سے ناپا جاتا ہے؛ دعوؤں سے نہیں، کردار سے پہچانا جاتا ہے۔
اسلامی اقدار یک ایسے ہمہ گیر نظامِ حیات کا اظہار ہیں جس کی جڑیں حکم ِ الٰہی میں پیوست ہوں، جس کی فکری غذا قرآن سے ملتی ہو اور جس کی عملی صورت تعلیماتِ نبویؐ میں ڈھلتی ہو۔ جب یہ تینوں عناصر کسی معاشرہ میں باہم مربوط ہو جائیں تو وہاں اخلاق محض فرد کی ذاتی خوبی نہیں رہتا بلکہ اجتماعی فضا کا حصہ بن جاتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ  خلافت ِ  راشدہ اسی ہم آہنگی کی روشن مثال تھی، جہاں قانون، کردار اور شعور ایک ہی سمت میں رواں تھے، اور اسی ہم سمتی نے معاشرے کو تحفظ، وقار اور معنویت عطا کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: والدین کی خدمت و اطاعت کے بغیر سرخروئی اور کامیابی ممکن نہیں

لیکن آج کا منظر نامہ اس سے خاصا مختلف  ہے۔ قرآن جو کبھی زندگی کی رہنمائی کا محور تھا، اب اکثر رسمِ تلاوت تک محدود ہوتا جا رہا ہے، اور وہ بھی بتدریج کمزور پڑتی ہوئی فضا میں۔ جب کلامِ الٰہی سے تعلق محض آواز تک سمٹ جائے اور فہم و تدبر پس منظر میں چلا جائے تو اقدار کی عمارت خود بخود کھوکھلی ہونے لگتی ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ سستی اور بے حسی کے خول سے باہر آکر دوبارہ اس کلام سے زندہ رشتہ قائم کیا جائے، کیونکہ معاشرہ کی تشکیل محض نیک خواہشات سے نہیں بلکہ واضح اصولوں سے ہوتی ہے، اور وہ اصول اسی سرچشمے سے پھوٹتے ہیں۔
درحقیقت  اخلاقی احیا کا راستہ کسی فوری مہم یا وقتی جوش سے نہیں گزرتا، بلکہ مستقل شعوری محنت سے نکلتا ہے۔ جب تعلیم، مطالعہ اور عمل ایک دوسرے کے معاون بن جائیں تو وہی معاشرہ جنم لیتا ہے جو اقدار کا محافظ بھی ہوتا ہے اور آنے والی نسلوں کیلئے دلیل بھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ محض یادداشت نہیں رہتی بلکہ حال کی تعمیر اور مستقبل کی ضمانت بن جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK