آج کے دور میں موٹیویشنل اسپیچ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ عوام الناس اور طلبہ اس نوعیت کی تقاریر کو دلچسپی سے سنتے ہیں، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر انہیں بار بار دیکھتے اور آگے بھی بڑھاتے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 3:56 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
آج کے دور میں موٹیویشنل اسپیچ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ عوام الناس اور طلبہ اس نوعیت کی تقاریر کو دلچسپی سے سنتے ہیں، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر انہیں بار بار دیکھتے اور آگے بھی بڑھاتے ہیں۔
آج کے دور میں موٹیویشنل اسپیچ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ عوام الناس اور طلبہ اس نوعیت کی تقاریر کو دلچسپی سے سنتے ہیں، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر انہیں بار بار دیکھتے اور آگے بھی بڑھاتے ہیں۔ حقیقت میں یہ کوئی نیا تصور نہیں، بلکہ ابتدائےآفرینش ہی سے اللہ تعالیٰ نے قوتِ خطاب کو لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس لئے جن افراد کو اللہ ربّ العزّت نے قوتِ گفتار اور مؤثر تقریر کی صلاحیت عطا فرمائی ہے، ان پر یہ ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس نعمت کو عوام الناس اور بالخصوص نسلِ نو کی فکری و اخلاقی رہنمائی کے لئے بروئے کار لائیں؛ کیونکہ الفاظ اگر اخلاص کے ساتھ ادا کئے جائیں تو دلوں میں اتر جاتے ہیں اور بسا اوقات ایک مختصر مگر بامقصد خطاب پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لئے باصلاحیت افراد کو چاہئے کہ وہ اپنی تقریری قوت کو خیر، اصلاح اور بیداری کا ذریعہ بنائیں۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: صدقاتِ واجبہ کا مصرف مسلمان، صدقات ِ غیرواجبہ کا غیرمسلم
معلمِ انسانیت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی زندگی کا آغاز بھی ایک عظیم اور بامقصد موٹیویشنل خطاب سے ہوا۔ آپ ؐصفا پہاڑی پر تشریف لے گئے، قریش کے قبائل کو جمع کیا اور ان سے سوال کیا کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک دشمن فوج حملہ کے لئے تیار ہے تو کیا تم میری بات کو سچ مانو گے؟ سب نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا پایا ہے۔ تب آپؐ نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک بڑے عذاب سے ڈرانے والا ہوں، اس لئے اللہ کو ایک مانو اور اسی کی عبادت کرو، اسی میں فلاح اور کامیابی ہے۔ (بخاری) آپؐ کی صفا پہاڑی پر کی گئی یہ تاریخی تقریر درحقیقت موٹیویشنل اسپیچ کا ایک روشن اور بنیادی ماخذ ہے جہاں حکمت ِ خطاب اپنی کامل صورت میں جلوہ گر نظر آتی ہے۔ آپؐ نے تقریر کے آغاز ہی میں ایک ایسا بامعنی سوال کیا جس نے تمام سامعین کی توجہ ، آپؐ کی جانب مبذول کر دی اور پہلے ہی لمحے میں ان کے دل و دماغ کو مخاطب بنا لیا۔ جب حاضرین نے آپؐ کی صداقت کا برملا اعتراف کر لیا تو آپ ؐنے نہایت وقار، سنجیدگی اور دردِ دل کے ساتھ اصل پیغام پیش فرمایا، جو محض ایک اعلان نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح، نجات اور کامیابی کا ضابطہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: فکر کا زاویہ درست ہوجائے تو گفتگو شور نہیں، شعور کے ذریعے ہوتی ہے
نبی اکرم ؐکا ارشاد گرامی ہے: ’’مجھے جوامع الکلم عطا کئے گئے ہیں۔‘‘ (بخاری) یعنی مجھے ایسے جامع اور مختصر کلمات عطا کئے گئے ہیں جو معنی و مفہوم میں بہت وسیع اور گہرے ہوں۔یہ حدیث قوتِ خطابت اور موٹیویشنل تقریر کی غیر معمولی اہمیت کو نہایت واضح انداز میں ثابت کرتی ہے، کیونکہ جوامع الکلم کا مطلب یہی ہے کہ الفاظ کم ہوں مگر پیغام ہمہ گیر، دل نشین اور دیرپا ہو۔ موٹیویشنل تقریروں سے زندگی میں کس طرح انقلاب برپا ہوتا ہے، اس کی ایک تابندہ اور تاریخ ساز مثال وہ ایمان افروز تقریر بھی ہے جو حضرت جعفرؓ نے شاہِ حبشہ نجاشی کے دربار میں کی۔ اس خطاب میں حضرت جعفرؓ نے نہایت وقار، حکمت اور اعتماد کے ساتھ پہلے جاہلیت کے تاریک حالات کا ذکر کیا، پھر رسولِ اکرمؐ کی بعثت، اسلام کی تعلیمات، اخلاقی انقلاب اور سماجی اصلاحات کو مختصر مگر جامع انداز میں بیان کیا، اور بالآخر سورۂ مریم کی آیات تلاوت کر کے پیغامِ حق کو دلوں تک پہنچا دیا۔ اس پر شاہِ حبشہ اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ یہ کلام اور حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات ایک ہی چراغ سے نکلی ہوئی روشنی ہیں، چنانچہ انہوں نے مظلوم مسلمانوں کو نہ صرف پناہ دی بلکہ قریش کے وفد کو ناکام واپس لوٹا دیا۔ (سیرت ابن ہشام)
یہ بھی پڑھئے: والدین کی خدمت و اطاعت کے بغیر سرخروئی اور کامیابی ممکن نہیں
یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جب تقریر سچائی، اخلاص اور مقصدیت سے لبریز ہو تو وہ صرف سامعین کو متاثر نہیں کرتی بلکہ تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ترغیبی یا موٹیویشنل تقریروں کے میدان میں قدم رکھنے والوں کے لئے سب سے بنیادی اور فیصلہ کن اصول اخلاصِ نیت ہے، کیونکہ اثر انگیزی الفاظ کی چمک سے نہیں بلکہ دل کی سچائی سے جنم لیتی ہے۔ مقرر اگر نام و نمود، داد و تحسین اور شہرت کے سراب کے پیچھے دوڑنے کے بجائے اپنی نیت کو محض رضائے الٰہی سے وابستہ کر لے تو اس کی بات دلوں میں راستہ بنا لیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے خود کو اللہ کے سپرد کر دیا، اللہ ربّ العزت نے خود انہیں بلندی عطا فرمائی، ان کے کلمات میں تاثیر رکھی اور ان کے پیغام کو قبولِ عام بخشا۔
یہ بھی پڑھئے: سود کی ممانعت ہی ترقی عزت اور غلبے کی بنیاد ہے
اس تناظر میں عوام الناس اور بالخصوص نسلِ نو کیلئے ایک نہایت اہم پیغام یہ ہے کہ وہ موبائل اور ڈیجیٹل ذرائع کو محض وقت گزاری اور بے مقصد مشاغل تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی فکری، دینی اور اخلاقی تربیت کا وسیلہ بنائیں۔ اگر نوجوان ادھر اُدھر کی غیر مفید چیزوں کے بجائے دینی بصیرت، اخلاقی اقدار اور تعلیمی رہنمائی پر مبنی موضوعات پر ماہرین اور اہلِ علم کی باتوں کو غور سے سنیں تو ان کی سوچ میں پختگی، کردار میں وقار اور زندگی میں توازن پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آپؐ کا وہ سفر ِ مقدس جس کا تصور بھی ذہن ِ انسانی میں نہیں سما سکتا!
آخر میں اس امر پر زور دینا ناگزیر ہے کہ معاشرے کے سنجیدہ، باشعور اور ذمہ دار افراد اپنے گفتار و کردار سے عوام الناس اور بالخصوص نسلِ نو کی درست سمت میں رہنمائی کریں؛ کیونکہ محض تنقید یا شکوہ کافی نہیں ہے۔ اگر اہلِ فکر و نظر آگے بڑھ کر یہ ذمے داری ادا کریں تو ایک فرد نہیں بلکہ پورا معاشرہ فکری انتشار سے نکل کر اصلاح، توازن اور بلندی کی راہ پر گامزن ہو جائیگا۔ ان شاء اللہ