انسانی زندگی کا ایسا کوئی پہلو نہیں ہے جس کے متعلق مذہب اسلام میں رہنمائی نہ فرمائی گئی ہو۔ ایسے ہی موضوعات میں سے ایک ہے : باڈی لینگویج یا انسانی حرکات وسکنات۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 4:37 PM IST | Dr. Mujahid Nadvi | Mumbai
انسانی زندگی کا ایسا کوئی پہلو نہیں ہے جس کے متعلق مذہب اسلام میں رہنمائی نہ فرمائی گئی ہو۔ ایسے ہی موضوعات میں سے ایک ہے : باڈی لینگویج یا انسانی حرکات وسکنات۔
انسانی زندگی کا ایسا کوئی پہلو نہیں ہے جس کے متعلق مذہب اسلام میں رہنمائی نہ فرمائی گئی ہو۔ ایسے ہی موضوعات میں سے ایک ہے : باڈی لینگویج یا انسانی حرکات وسکنات۔ کیمبریج ڈکشنری میں باڈی لینگویج کی تعریف کچھ یوں بیان کی گئی ہے: ’’انسانی جسم کو حرکت دے کر بغیر الفاظ استعمال کئے دوسرے لوگوں پر یہ واضح کرنا کہ آپ کیا محسوس کررہے ہیں۔‘‘ باڈی لینگویج کے ذریعہ ہم روزمرہ کی زندگی میں بہت سارے کام انجام دیتے ہیں۔ جیسے کسی کو ڈرانا، کسی کے سامنے خوشی کا اظہار کرنا، کسی کو کوئی بات سمجھانا وغیرہ۔ اس سلسلے میں قرآن وحدیث میں رموز و اشارات ملتے ہیں ، جن میں ہر شخص کو اپنی حرکات و سکنات کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کی بہترین ادائیگی کی راہ سجھائی گئی ہے۔ اور ایسے طریقے ہم کو بتلائے گئے ہیں جو نہ صرف ہمارے خود کیلئے مفید ہیں، بلکہ ان سے ایک صالح معاشرے کو وجود میں لانے کے متعلق بھی مدد ورہنمائی ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آپؐ کا وہ سفر ِ مقدس جس کا تصور بھی ذہن ِ انسانی میں نہیں سما سکتا!
قرآن مجید میں سورۂ لقمان میں اللہ عزوجل نے انسان کو چلنے کی تعلیم دیتے ہوئے ارشادفرمایا: اور زمین میں اکڑ کر مت چل۔ اور ایک دوسری جگہ رحمٰن کے بندوں کی خصوصیت یہ بیان کی کہ وہ زمین پر آہستگی کے ساتھ چلتے ہیں۔ اس سے زمین پر تواضع کے ساتھ چلنے کی تعلیم دی گئی۔ یہ صرف ایک مثال ہے یہ سمجھنے کے لئے زمین پر چلنے کا ایک عام سا عمل ، اس کے متعلق بھی اسلام میں کس قدر رہنمائی فرمائی گئی ہے اور اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ امت محمدیہ کا ہر ہر فرد کس طرح کی چال اختیار کرے۔
یہ بھی پڑھئے: سود کی ممانعت ہی ترقی عزت اور غلبے کی بنیاد ہے
اسی طرز پر سیرۃ النبیؐ میں آپؐ کے بیٹھنے کے طریقہ کے متعلق یہ ذکر ہے کہ آپؐ اپنے صحابہؓ کے درمیان کسی امتیازی شان کے ساتھ نہیں بیٹھتے تھے۔ اسی وجہ سے مسجد نبویؐ میں کوئی نیا آنے والا آپؐ کو پہچان نہ پاتا کہ آپ ؐ کون ہیں، یہاں تک کہ اس کو پوچھنا پڑتا۔یہ ایک نہایت اہم عادت ہے کہ انسان باوجود دوسروں سے ممتاز وبرترہونے کے اپنی باڈی لینگویج، رہن سہن اور عادات و اطوار کو اپنے ساتھ والوں جیسا ہی بنائے رکھے۔
سیرت نگاروں نے آپ ؐ کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ آپؐ کی تمام حرکات فطری اور بے ساختہ ہوتی تھیں، ان میں کوئی بناوٹ یا تکلف نہ ہوتا تھا اورآپؐ کا ہر عمل تواضع کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ مثلاً بیٹھنے کے لئے آپؐ کسی خاص جگہ کا تقاضہ نہ فرماتے۔ مجلس میں آتے جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتے۔
یہ بھی پڑھئے: والدین کی خدمت و اطاعت کے بغیر سرخروئی اور کامیابی ممکن نہیں
انسان کی باڈی لینگویج کا سب سے اہم استعمال اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی دوسرے شخص سے ملاقات کرتے ہیں۔ حدیث شریف میں آپؐ نے اپنے مسلمان بھائی سے مسکراکر ملنے کو صدقہ قرار دیا۔ خود آپؐ جب بھی گھر میں داخل ہوتے تو مسکراتے ہوئے داخل ہوتے۔ اس لئے کہ ساری باڈی لینگویج میں مسکراہٹ ایسی چیز ہے جو انسان کا دل جیتنے میں سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ عزوجل نے نہایت واضح انداز میں یہ حکم دیا: ’’اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیرو‘‘ (لقمان:۱۸) اس حکم کا واضح مقصد لوگوں سے کرخت انداز سے ملاقات سے اجتناب کرنے کا ہے تاکہ میل ملاپ سے دلوں میں نزدیکیاں پیدا ہوں۔ شمائل ترمذی میں واردہوا ہے حضرت حارث ؓ فرماتے ہیں:میں نے حضور اکرمؐ سے زیادہ مسکرانے والا شخص کوئی اورنہیں دیکھا۔اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی میٹھی زبان سے زیادہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ دلوں کو جیتنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فکر کا زاویہ درست ہوجائے تو گفتگو شور نہیں، شعور کے ذریعے ہوتی ہے
کسی سے ملاقات کے وقت مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رہنا چاہئے کہ ہم اپنے مخاطب کی طرف جس طرح ذہنی طور پر متوجہ ہوتے ہیں اسی طرح جسمانی طور پر بھی ہمیں کسی قسم کی بے پروائی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ روایات میں ملتا ہے کہ جب کبھی آپؐ کسی سے مخاطب ہوتے، بات کرتے تو اس کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہوجاتے تھے۔ اگر ہم نفسیاتی طور پر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس طرح بات کرنے میں تواضع چھلکتا ہے، جبکہ صرف رُخ یا سر کسی کی طرف اور بدن دوسری طرف رکھ کر بات کرنے سے تکبر اور لاپروائی کی بو آتی ہے۔ یہی تواضع آپؐ کے ہر ہر عمل سے ظاہر بھی ہوتاتھا۔ ایک صحابیؓ کہتے ہیں کہ جب آپؐ نماز کا سلام پھیرتے تو ہم آپؐ کے گالوں کی سفیدی دیکھ لیا کرتے تھے۔ یعنی آپؐ مکمل طور پر اپنے چہرے کو سلام میں پھیرا کرتے تھے۔ اسی طرح آپؐ کے بات کرنے کے انداز کے متعلق صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ آپؐ جب بات کرتے تو الفاظ مکمل اداکرتے تھے۔اس لئےکہ ادھور ی بات کرنے سے نہ صرف یہ کہ سامنے والے کو بات سمجھنے میں دقت ہوتی ہے بلکہ کہنے والے کے اس انداز سے تکبر وعناد کی بھی بو آتی ہے۔ بات کرنے میں اشارہ کرنے کی جب ضرورت پڑتی ہے تو ہم اکثر انگلی سے اشارے پر اکتفا کرتے ہیں مگر آپؐ اپنے مکمل ہاتھ سے اشارہ فرماتے تھے۔ اس اشارے کا تصور ہی ہم پر یہ واضح کردیتا ہے کہ پورے ہاتھ سے اشارہ کرنے میں دیکھنے والے کیلئے اشارہ کتنا واضح ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شب ِ معراج کے اہتمام کیساتھ کیا تحفہ ٔمعراج کی ادائیگی کی فکر ہے؟
آپؐ سے بچوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھنا ثابت ہے۔ اسی طرح صحابہؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان سے کوئی بات کہنا بھی ۔ اور احادیث میں یہ بھی ملتا ہے کہ کسی غمزدہ کے سینے پر ہاتھ رکھنا اور اس کیلئے دعا کرنا بھی ثابت ہے۔ آپؐ اس طرح اپنے مبارک لمس کے ذریعہ بچوں، صحابہ کرامؓ اور ان میں سے پریشان حال اشخاص سے محبت کا اظہار اور ان کی دلجوئی فرماتے تھے۔ ملاقات کے وقت آپؐ کے مصافحے کا بھی تذکرہ احادیث میں ملتا ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ’’جب کوئی شخص نبی کریمؐ کے سامنے آتا تو آپ ؐاس سے مصافحہ کرتے ا ور اس وقت تک اپنا ہاتھ نہ کھینچتے جب تک سامنے والا خود نہ کھنچتا، پھر اس وقت تک اس سے چہرہ نہ پھیرتے جب تک وہ چہرہ نہ پھیرتا۔ ‘‘ اس حدیث کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے: ’’اور کبھی بھی آپ ؐکو سامنے بیٹھنے والے کی طرف پاؤں بڑھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔‘‘کتنا غضب کا عزت نفس کا خیال ہے اور اپنے سے ملنے والوں کا کیا ہی پیارا احترام ہے۔ آپؐ نے کسی کی طرف تیر، نیزے وغیرہ سے اشارہ کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
یہ چند باتیں ہیں جو ان بہت طویل تفصیلات میں سے اخذ کی گئی ہیں جو شریعت اسلامیہ نے ہمیں اپنی حرکات وسکنات یا باڈی لینگویج کے متعلق عطا کی ہیں۔ اور ان سب کا مقصد ایسی انسانی عادتیں ڈھالنا ہے جن کے ذریعہ ایک منکسر المزاج اور اخلاق کا اعلیٰ معیار شخص وجودمیں آئے ۔ ایک ایسا شخص جو اپنی بات چیت میں ، چال ڈھال میں اور رکھ رکھاؤ میں محبت کا پیکر ہو، اپنی ہر بات کو بالکل واضح طور پر دوسروں کا خیال رکھتے ہوئے انجام دیتا ہو یا کہتا ہو، اوراس بات کا لحاظ رکھتا ہو کہ کسی اور شخص کو اس کی وجہ سے کسی قسم کا گزند یا تکلیف نہ پہنچے۔