Inquilab Logo Happiest Places to Work

علماء اُمت کی ذمہ داریاں

Updated: April 10, 2026, 3:20 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai

فکری اختلاف ختم ہونا ممکن نہیں لیکن علماء کے درمیان اختلاف کی خلیج کم ہو جائے تو اُمت میں خود بخو د اختلاف کم ہو جائیگا۔

Muslims, regardless of their race or region, must unite on common issues. Photo: INN
مسلمان رنگ و نسل میں خواہ کسی بھی خطے کے ہوں لیکن مشترک مسائل پر اتحاد ضروری ہے۔ تصویر: آئی این این

علماء کا مقام بہت بلند ہے اور اسی نسبت سے ان کی ذمہ داریاں بھی بہت اہم ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’زمین میں علماء کی مثال ایسی ہی ہے، جیسے آسمان میں ستارے۔‘‘ (المسند الجامع، مسند احمد)

اس حدیث میں علماء کو ستاروں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اگر ہم اس کو سمجھنے کے لئے قرآن مجید کی طرف رجوع کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ستاروں کے تین بنیادی کام ہیں: پہلا کام یہ ہے کہ وہ آسمانِ دنیا کے لئے زینت و آرائش کا ذریعہ ہیں: ’’اور آسمانِ دنیا کو ہم نے چراغوں (یعنی ستاروں اور سیّاروں) سے آراستہ کر دیا اور محفوظ بھی ۔‘‘  (فصلت:۱۲) دوسرا کام یہ ہے کہ ستارے رات کی تاریکی اور سمندر کی اتھاہ تنہائی میں لوگوں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں: ’’اور (رات کو) لوگ ستاروں کے ذریعہ (بھی) راہ پاتے ہیں۔‘‘  (سورہ النحل : ۱۶) تیسرے : یہ شیطان کے لئے کوڑے ہیں، جو انہیں آسمان کی طرف بڑھنے سے روکتے ہیں: ’’اور بے شک ہم نے سب سے قریبی آسمانی کائنات کو (ستاروں، سیاروں، دیگر خلائی کرّوں اور ذرّوں کی شکل میں) چراغوں سے مزیّن فرما دیا ہے، اور ہم نے ان (ہی میں سے بعض) کو شیطانوں (یعنی سرکش قوتوں) کو مار بھگانے (یعنی ان کے منفی اَثرات ختم کرنے) کا ذریعہ (بھی) بنایا ہے۔‘‘ (الملک:۵)

یہ بھی پڑھئے: دانشمندی اسی میں ہے کہ دنیا کو ہاتھ میں رکھا جائے دل میں نہیں

اگر اس تشبیہ کے پس منظر میں غور کیا جائے تو علماء کی تین ذمہ داریاں قرار پاتی ہیں:

اول یہ کہ وہ اپنے اخلاق و کردار کے اعتبار سے ایسی اعلیٰ سطح پر ہوں کہ امت کے لئے زینت قرار پائیں ، ان کے اندر داعیانہ مزاج اور پیغمبرانہ اخلاق ہوں  تا کہ امت ان کے گرد جمع ہو سکے۔

دوسرے : وہ امت کیلئے رہنما اور مقتدیٰ ہوں ، وہ احکام شریعت کی رہنمائی کریں اور اُمت کو ایمان ، اعمال اور اخلاق  سے آراستہ کریں۔

تیسرے : وہ اُمت کو ان فکری انحرافات اور تہذیبی اور عملی بے راہ روی سے بچائیں  جو دراصل شیطان کی طرف سے ہے اور جس کو دنیا میں شیطانی طاقتیں قوت پہنچاتی ہیں۔

اس وقت ان تینوں پہلوؤں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ (بہت سے) علماء اخلاقی پہلو سے اس قدر گر گئے ہیں کہ حکومتیں ان سے اپنے منشاء کے مطابق فتاویٰ حاصل کرتی ہیں، دنیا کے معمولی مفادات کے بدلہ وہ اپنے آپ کو فروخت کرنے کو تیار رہتے ہیں ۔ امام ابوحنیفہؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور علامہ ابن تیمیہؒ  جیسے سلف صالحین نے اپنے اپنے زمانہ میں جو کردار پیش کیا ، آج ان کی حیثیت قصۂ پارینہ جیسی ہو گئی ہے۔ اسی طرح علماء کے ایک  گروہ نے اپنی داعیانہ حیثیت کو فراموش کر دیا ہے،  اُمت کی رہنمائی ، ان کی اصلاح اور انسانیت کو دین حق کی طرف بلانے کے فریضہ کی طرف ان کی توجہ بہت کم ہوگئی ہے ، ان کی زندگی اس طرح گزرتی ہے کہ گویا وہ جامعات اور اداروں کے ملازم ہیں، حالانکہ وارثِ انبیاء ہونے کی حیثیت سے اصل میں وہ خدا کے ملازم تھے اور ’’میرا اجر تو صرف اللہ (کے  ذمۂ کرم) پر ہے‘‘ (سورہ یونس : ۷۲ ) ان کا امتیاز تھا۔  اسی طرح آج پوری دنیا میں مسلمانوں کو اخلاقی اقدار سے دور کرنے، ایمانی حمیت سے محروم کرنے، مغربی افکار کا اسیر بنانے اور مغربی تہذیب کو مسلط کرنے کا جو ایجنڈہ نئے عالمی نظام اور گلوبلائزیشن کے نام پر  جاری و ساری ہے ، پوری جرأت اور حوصلہ مندی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا علماء کا فریضہ ہے اور اس سلسلہ میں عالم اسلام کے علماء کی ذمہ داری زیادہ ہے مگر ہم یہ کہنے کے موقف میں نہیں ہیں کہ علماء واقعی اس فریضہ کو انجام دے رہے ہیں، اس لئے ان تینوں محاذوں پر کام کرنے اور نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خدمت ِ حجاج: سعادت بھی ہے اور امانت بھی

اس ضمن میں تین اہم نکات کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی جارہی ہے:

(۱)سلف صالحین اور علماء سابقین کے کام کرنے کے دو طریقے ہوتے تھے : ایک طریقہ مسلم حکومتوں کے غلط اقدامات پر مقاومت کا تھا ، جسے اللہ کے رسولؐ  نے جہاد قرار دیا ہے۔ (مسند احمد )۔  دوسرا طریقہ مسامحت کا ہے، مسامحت سے میری مراد یہ ہے کہ حکمرانوں سے کہا جائے کہ تخت اقتدار پر آپ ہی متمکن رہیں ، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں؛ لیکن آپ اسلامی مقدسات، اسلامی اقدار اور مسلمانوں کے مفادات کے محافظ بنیں، ہم آپ کے حریف و رقیب نہیں ہیں، ہم آپ کے رفیق اور مؤید ہیں، اس طرح ان سے اعلاء کلمۃ اللہ کا کام لیا جائے جیسا کہ امام مالکؒ اور امام ابو یوسفؒ نے عباسی دور میں کیا۔ حالات کے پس منظر میں یہ دوسری صورت زیادہ بہتر ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جس کی آپ ؐ  نے تلقین فرمائی تھی۔ سیدنا حضرت حسن ابن علی رضی اللہ عنہما کا خلافت کے مسئلہ میں صلح کو ترجیح دینا بھی اسی نوعیت کا واقعہ ہے؛ کیونکہ مقاومت کی صورت میں مسلمانوں کی ناحق خونریزی ہوتی ہے اور اعداء اسلام کو اس بات کا موقع مل جاتا ہے کہ وہ امت کے نا پختہ ذہن نوجوانوں کو اپنا آلہ کار بنائیں اور انہیں اسلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بنائیں۔

یہ بھی پڑھئے: مذہب سے دوری: جدید تعلیم کا اثر یا تربیت کی کمی؟

(۲)دوسری ضروری بات یہ ہے کہ یوں تو اُمت میں اختلاف کے بہت سے اسباب ہیں:  لیکن مذہبی اختلاف کی خرابی بہت گہری ہوتی ہے اور نفرت کے جذبات کو ابھارنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔یہ تو ممکن نہیں کہ فکری اختلاف ختم ہو جائے اور تمام مکاتب فکر ایک دوسرے میں ضم ہو جائیں، فقہی مسالک کا تنوع باقی نہ رہے، لیکن دو باتیں ممکن ہیں: ایک یہ کہ ہم اختلاف کے باوجود اتحاد کا سبق سیکھیں، مشترک ایجنڈے پر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں اور اُمت کے مشترک مسائل کو مل جل کر حل کریں۔ قرآن مجید نے تو اہل کتاب کو بھی مشترک مسائل پر اتحاد کی دعوت دی ہے: ’’آپ فرما دیں: اے اہلِ کتاب! تم اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، (وہ یہ) کہ ہم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اﷲ کے سوا رب نہیں بنائے گا، پھر اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دو کہ گواہ ہو جاؤ کہ ہم تو اﷲ کے تابع فرمان (مسلمان) ہیں۔‘‘ (آل عمران:  ۶۴) تو کیا مسلمانوں کے درمیان مشترک مسائل پر اتحاد نہیں ہو سکتا؟ دوسرے: اختلاف رائے کے اظہار میں احتیاط سے کام لیں اور ایک دوسرے کے احترام کو ملحوظ رکھیں، ہم سلف صالحین کے یہاں دیکھتے ہیں کہ اہل سنت کا خوارج اور معتزلہ سے سخت اختلاف رہا، اس کے باوجود ان کی تکفیر کرنے سے احتیاط برتی گئی۔ لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کا ہر گروہ دوسرے گروہ کی تکفیر پر کمر بستہ ہے اور انہیں اپنے ہی مختلف الفکر مسلمان بھائیوں سے بمقابلہ غیر مسلموں کے زیاد ہ نفرت ہے۔ اگر علماء کے درمیان اختلاف کی خلیج کم ہو جائے تو اُمت میں خود بخو د اختلاف کم ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: عہدِ اضطراب، بحرانِ شعور اور فکر ِ اسلامی کی بازیافت

(۳)تیسری ضروری بات یہ ہے کہ علماء کو یہ بات سمجھائی جائے کہ وہ امت کے مختلف فرقوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات پر توجہ دینے کے بجائے اعداء اسلام، صہیونی و صلیبی میڈیا اور مستشرقین کی طرف سے اُٹھائے جانے والے سوالات پر توجہ دیں اور کتاب و سنت نیز سلف صالحین کے علمی ورثہ سے استفادہ کرتے ہوئے اسلام کے خلاف پیدا کئے جانے والے شبہات کا نہ صرف بھر پور دفاع کریں؛ بلکہ استشراق کے مقابلہ استغراب کے فن کو وجود میں لائیں، یہودیت، عیسائیت، مغربی افکار، مغربی تہذیب اور مغربی تاریخ کا ناقدانہ مطالعہ کیا جائے اور جدید علمی اسلوب میں ان کی خامیوں اور کوتاہیوں کو پیش کیا جائے۔ اس کے لئے اسلامی جامعات میں مستقل شعبہ قائم ہو، نیز اس کام کو اتنی قوت کے ساتھ انجام دیا جائے کہ عالم اسلام اقدامی پوزیشن میں آجائے۔ یہ اس دور میں اسلام کی حقیقی خدمت ہوگی اور اس طرح علماء اپنے فریضہ منصبی کو ادا کر سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK