• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپ ؐ کے مثل نہ کل کوئی تھا، نہ آج ہے، نہ تاریخ انسانی میں کوئی آئیگا

Updated: February 06, 2026, 3:57 PM IST | Nighat Hashmi | Mumbai

نبی کریم ؐکی آمد سے پہلے انسانی زندگی میں تبدیلیاں لانے والی بہت سی ہستیاں موجود تھیں لیکن یہ آپؐ کی ذات ِ مبارکہ تھی جس نے انسان کے اندر اتنی گہری تبدیلی پیدا کی کہ انسان کا رشتہ اُس کے خالق سے جوڑا۔

While reaching the Prophet`s Mosque is a blessing, it is also our right to continue to follow the beautiful example of the Prophet Muhammad (PBUH). Photo: INN
مسجد نبویؐ تک پہنچنا جہاں ایک سعادت ہے وہیں اس کا حق یہ بھی ہے کہ ہم اسوۂ حسنہؐ پر تازندگی عمل پیرا رہیں. تصویر: آئی این این

اللہ کے رسول ﷺانسانی بلندی کی اعلیٰ ترین مثال تھے۔ سائیکالوجی میں ایسی شخصیت کے لئے Balanced Personality کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جس کا معنی ہے متوازن شخصیت۔ آپؐ نے اپنی حیات ِ طیبہ میں خالق کی عبادت ہی نہیں کی، آپؐ  کی عبادت بے مثال، آپؐ  کا اللہ تعالیٰ کی ذات سے تعلق بے مثال، آپؐ  کا اخلاق بے مثال ۔ آپؐ انسانوں کے بیچ میں رہے۔ آپ ؐ کے معاشرتی تعلقات بھی بے مثال تھے جیسے آپ ؐ کی عبادت بے مثال تھی۔ آپ ؐ  کو جس کسی بھی حیثیت میں دیکھیں، باپ کی حیثیت میں دیکھیں، شوہر کی حیثیت میں دیکھیں، دوست کی حیثیت میں دیکھیں، ایک اچھے رشتہ دار کی حیثیت میں دیکھیں، یتیموں اور بیواؤں کے ملجا وماویٰ کی حیثیت میں دیکھیں ، آپؐ  عظیم ہیں۔۔

یہ بھی پڑھئے: ہماری پوری زندگی اخلاقی حدود کی پابند ہونا چاہئے

رسول اللہ ﷺنے ایک بہترین معاشرہ قائم کر کے دکھایا، آپؐ  نے ایسے اصول دیئے جس کی وجہ سے معیشت کے اُمور اور مالیاتی نظام بہترین انداز میں چلائے جانے لگے ۔ آپ ؐنے ریاست کے انتظام کے لئے مملکت کو چلانے کے لئے اصول اور ضابطے دیئے ، بین الاقوامی تعلقات میں بے مثال اسوہ چھوڑا۔ آپ ؐجیسا نہ کل کوئی تھا، نہ آج ہے، نہ تاریخ انسانی میں کوئی دو بارہ  آئے گا۔ اسی لئے تو رب العزت نے کہا:

’’اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر  بلند فرما دیا۔‘‘ (الم نشرح:۴)

رسول اللہ کی شخصیت کا جائزہ لینے سے پہلے ہمیں یہ جائز لینے کی ضرورت ہے کہ تاریخ انسانی میں اس سے پہلے کس نوعیت کی شخصیات آتی رہیں؟  آپ ؐکی شخصیت کس اعتبارسے مختلف ہے؟ اللہ کے رسول ؐکی آمد سے پہلے بھی اور آپ ؐ کی آمد کے بعد بھی تاریخ کو زیروزبر کرنے والے فلسفی آتے رہے۔ آج بھی دنیا ان کے فلسفوں سے واقف ہے، وہ فلسفے جنہوں نے نظام زندگی کو بدل دیا۔ آپ ؐکی آمد سے پہلے دنیا کو فتح کرنے والے افراد بھی آئے، جیسے سکند را عظم ، خسرو، سائرس اور ایک ہی دوسری شخصیات۔

یہ بھی پڑھئے: ڈیجیٹل دُنیا : لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے!

آپ ؐکی آمد سے پہلے بھی واعظ موجود تھے، نصیحت کرنے والے، بڑے میٹھے انداز میں وعظ ونصیحت کرتے تھے۔ آپ ؐکی آمد سے پہلے انسانی زندگی میں تبدیلیاں لانے والی بہت سی ہستیاں موجود تھیں لیکن یہ آپ ﷺ کی ذات ِ مبارکہ تھی جس نے انسان کے اندر اتنی گہری تبدیلی پیدا کی کہ انسان کا رشتہ اُس کے خالق سے جوڑا۔ آپؐ ؐنے جو کام بنیادی طور پر کیا وہ یہ ہے کہ انسان کو اندر سے بدل دیا۔ انسان کیسے بدلا؟ اُس کی سوچ بدلی،  اُس کے جذبات اور احساسات بدلے، اس کی خواہشات کے پیمانے بدل گئے، اُس کی عبادتوں کے انداز بدل گئے، گھر کے اندر کی زندگی بدلی، مارکیٹس کے اصول وضوابط بدل گئے۔ بات تعلیمی اداروں کی ہو، بات عدالت کی ہو، بات سوسائٹی کی ہو، معاشرے میں جہاں جہاں سے بھی انقلاب کی لہریں اُبھرتی ہیں، ہر ادارے کو اللہ کے رسولؐ  نے بدل کے رکھ دیا۔

یہ آپؐ  کا عظیم الشان کارنامہ ہے کہ آپؐ نے انسان کے مزاج اور  اس کی عادات و اطوار کو بدل دیا۔ انسان کی شخصیت اور اس کے کام کا اندازہ اس کے زیر تربیت افراد سے لگایا جاتا ہے۔ نبی ؐکے تربیت یافتہ افراد اور دوسرے انبیاء ؑ کی اقوام کے مزاج میں واضح فرق ہے۔مثلاً جب موسیٰؑنے اپنی قوم کو جہاد کے لئے نکلنے کا کہا تو انہوں نے انتہائی کرختگی کا مظاہرہ کیا کہ جاؤ تم اور تمہارا رب لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کے تربیت یافتہ افراد کار و یہ پوری تاریخ انسانیت میں بے مثال ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شب ِ برأت کو رسم نہ بنائیں بلکہ شب ِ توبہ اور شب ِ دُعا کے طور پر گزاریں

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓکہتے ہیں کہ مجھے مقدادؓکی کسی بات نے اتنا متاثر نہیں کیا جتنا اس بات نے اور میرا جی چاہتا ہے کہ میری ساری عمر کی نیکیاں مقداد ؓ  کو مل جائیں لیکن یہ ایک نیکی مجھے مل جائے جس نے اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے پر رونق اور خوشی کے آثار پیدا کر دیئے۔ حضرت مقدادؓ نے رسولؐ اللہ سے عرض کیاتھا کہ ’’اے اللہ کے رسول ؐ!  ہم آپؐکے ساتھ وہ معاملہ نہیں کریں گے جو قومِ موسیٰؑ نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جاؤ تم اور تمہارا رب دونوں لڑو، جب دونوں یہ کام کر لو گے تو ہم بھی آجا ئیں گے۔ نہیں، یا رسولؐ اللہ! ہم تو آپؐ کے آگے سے بھی آئیں گے، آپ ؐکے پیچھے سے بھی آئیں گے، آپ ؐکے دائیں سے بھی آئیں گے، آپؐ کے بائیں سے بھی آئیں گے  اور ہر طرف سے آپؐ  کا دفاع کریں گے۔ اس پر اللہ کے رسول ؐکے چہرے پر ایسی مسکراہٹ آئی  اور آپؐ کا چہرہ اتنا جگمگایا کہ عبد اللہ بن مسعود ؓکہتے ہیں کہ کاش مجھ سے بھی ایسا ہی نیکی کا کام ہو جائے، میں بھی ایسی بات کہوں جس سے اللہ کے رسولؐ  کے چہرے پہ وہ مسکراہٹ آجائے … یہ آپ ؐ  کے تربیت یافتہ صحابیؓ ہیں۔ یہ آپؐ کی شخصیت کا نہایت عمدہ پہلو ہے۔

اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیدا کردہ نتائج کو ہم اگر دیکھنا چاہیں تو عیسائیوں کے بارے میں خود قرآن کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان محبت ورافت اور رحمت پیدا کردی کہ یہ  ایسے افراد ہیں جو انسانیت سے محبت کرتے ہیں اور حضرت عیسیٰؑکی تعلیمات جو ہمیں کتب مقدسہ  سے ملتی ہیں ،اس کے توسط سے ہمیں یہ ملتا ہے کہ اگر کوئی تمہارے دائیں گال  پر تھپڑ مارے تو تم  بایاںگال بھی آگے کردو ، لیکن محمد رسول اللہ ﷺ نے اعتدال والا رویہ سکھا یا، عفو و درگزر بھی سکھایا لیکن اگر کوئی اپنی زیادتی پر بدلہ لینا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بھی اجازت دیتا ہے۔ اس اعتبار سے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک بار حضرت عائشہ ؓنے  اُس چور کو برا بھلا کہنا شروع کیا جس نے ان کا ہار چرالیا تھا تو آپؐ نے فرمایا تھا: ’’عائشہ، کیوں چور کا بوجھ ہلکاکرتی ہو؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: اَنا، نہ فرد کیلئے سودمند ثابت ہوتی ہے اور نہ معاشرے کیلئے

کتنا توازن ہے! اللہ کے رسول ؐ نے کیسے اعتدال والا رو یہ سکھایا کہ بدلہ لے سکتے ہو لیکن اتنا جتنا کسی نے ظلم کیا۔ اس سے آگے نہیں جانا۔ آپؐ نے چور کی وکالت نہیں کی لیکن اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بتایا کہ تمہاری Limitaions کیا ہیں ؟ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ اگر ہم دوسرے انبیاء ؑکی تعلیمات کے اثرات دیکھنا چاہیں تو ان سے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کسی نوعیت کی تھی ؟ آپ ؐ کا بنیادی کا رنامہ یہ ہے کہ آپ ؐنے حیات انسانی کے ہر گوشے کو Touch کیا اور ہر گوشے کے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی۔

رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ؐکے دشمنوں نے بھی آپؐ کی عظمت کا اعتراف کیا۔ ہرقل کے دربار میں جب اللہ کے رسولؐ کا نمائندہ پہنچا تو اس موقع پر ابوسفیان بھی اپنی تجارت کے سلسلے میں اسی علاقے میں موجود تھے۔ ہر قل نے دانش مندی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ان افراد کو بلا یا جن کو ان کی شخصیت کا تجربہ تھاجو اللہ کے رسولؐ  کے دشمن تھے۔ ابو سفیان بھی انہی میں شامل تھے، کہتے ہیں ’’واللہ! اگر ہر قل نے مکہ سے آنے والے افراد سے یہ بات نہ کہی ہوتی کہ اگر یہ جھوٹ کہے تو تم اس کے بارے میں میری مدد کرنا، تو میری زبان سے ضرور اللہ کے رسولؐ کے خلاف کوئی بات نکل جاتی لیکن ہر قل نے جب اس کے لئے پورا اہتمام کر لیا تو اس وقت اس نے سوال کیا۔ اس کا سوال یہ تھا :  اس کا نسب کیسا ہے ؟ تو  میں نے کہا کہ وہ تو بڑے اونچے اور عالی نسب والے ہیں۔ یعنی  خاندانی اعتبار سے وہ ہم میں اہم درجہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: قرآن میں قیامت کا پورا منظر کئی پہلوئوں سے نگاہوں میں اُجاگر کردیا گیا ہے!

ہرقل کے سوالات مَیں آپ کے سامنے اس لئے رکھنا چاہتی ہوں تا کہ آپ ؐکی عظیم شخصیت کو ہم دشمنوں کی نظر میں دیکھ سکیں کہ دشمن آپ ؐکے بارے میں کیا اظہار خیال کرتے ہیں؟

ہرقل کا  یہ سوال تھا: ’’  تم مجھے یہ بتاؤ جب تک اس نے نبوت کا دعوی نہیں کیا تھا، کیا اس سے پہلے اس پر کبھی جھوٹ کا الزام عائد کیا گیا ؟‘‘  اس پر ابو سفیان نے کہا :’’نہیں ،ہماری قوم میں وہ (آپؐ) صادق کے نام سے مشہور ہے، سب لوگ اس کی سچائی کا اعتراف کرتے ہیں ۔‘‘  

یہ سن کرہرقل نے کہا کہ ’’جو شخص انسانوں کے اندر سچا مشہور ہے کیسے ممکن ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باند ھے۔  اگر وہ نبوت کا اقرار کرتا ہے، اگر وہ یہ کہتا ہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے تو اس کی بات یقیناً سچی  ہوگی۔‘‘

ہرقل نے یہ سوال کیا تھا  ’’یہ بتاؤ کبھی وہ عہد شکنی کرتے ہیں؟‘‘یہ بنیادی انسانی اخلاقیات ہیں، تو  ابو سفیان نے کہا کہ’’نہیں‘‘ تو ہر قل نے کہا ’’رسول ایسے ہی ہوتے ہیں وہ دھوکہ نہیں دیتے۔‘‘

پھر ہرقل نے سوال کیا  ’’وہ تمہیں کن باتوں کا  حکم دیتے ہیں؟‘‘  ابوسفیان نے جواب دیا کہ  ’’ وہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرنے، اس کا کسی کو شریک نہ بنانے کا حکم دیتے ہیں، بت پرستی سے منع کرتے ہیں اور نماز پڑھنے، سچ بولنے، پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔‘‘  ہر قل نے کہا :’’اگر یہ باتیں جو تم کہہ رہے ہو سچ ہیں تو عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا کہ جہاں میرے یہ دونوں پاؤں ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ (پیغمبر) آنے والا ہے۔ مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ تمہارے اندر ہو گا۔ اگر میں جانتا کہ اس تک پہنچ سکوں گا تو اس سے ملنے کے لیے ہر تکلیف گوارا کرتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سرورِ کائنات ؐ سے محبت زبانی نہیں قلبی ہو اَور اس کا اظہار سراسر عملی ہو!

صاحبو ذرا غور کیجئے، یہ آپ ؐ کا دشمن ہے۔ ایمان نہیں لا یا،  صرف خط پہنچا، صرف تحقیق کی ہے اور اس بنیاد پر کہتا ہے کہ اگر میں اس کے پاس مدینہ میں ہوتا تو ضرور اس کے پاؤں دھوتا  یعنی میں اس کی وہ عزت و توقیر کرتا کہ سب حیرت زدہ رہ جاتے۔ 

انسان کی شخصیت کا اگر اندازہ لگانا ہو تو شریک حیات کی گواہی بہت بڑی گواہی کہی جاتی ہے۔ اللہ کے رسول ؐجب اللہ تعالیٰ کی جانب سے منصب امامت  پر فائز ہوئے اور غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو آپؐ گھبرا گئے۔ واپس گھر آئے،  اور اس موقع پر اپنی بیوی حضرت خدیجہؓ سے کہا کہ مجھے کچھ اوڑھا دو ۔ پھر جب کچھ سکون میں آئے تو تمام واقعہ بیان فرمایا اور کہا کہ مجھے میری جان کا ڈر ہے۔ اس موقع پر حضرت خدیجہؓ نے جو الفاظ کہے وہ توجہ کے طالب ہیں۔  انہوں نے فرمایا تھا:

’’ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپؐ تو رشتوں کو جوڑنے والے ہیں، درماندہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور جب کبھی مشکل وقت آن پڑتا ہے تو آپؐ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK