Inquilab Logo Happiest Places to Work

سیرتِ رسولؐ کا نفسیاتی مطالعہ محض علمی مشق نہیں بلکہ عصر ِ حاضر کی ایک اہم ضرورت ہے

Updated: August 21, 2026, 5:11 PM IST | Dr. Ahmed Urooj Mudassir | Akola

علم نفسیات کی اصطلاحات ذہن میں رکھ کر حیاتِ طیبہؐ کا مطالعہ کریں تو سیرتِ نبویؐ جدید نفسیات کے کئی اہم تصورات جذباتی ذہانت، ہمدردی، رویوں کی اصلاح، سماجی وابستگی، غصے پر قابو اور شخصیت سازی کیلئے غیر معمولی عملی مثالیں فراہم کرتی ہے۔

To read the blessed life of the Messenger of Allah (PBUH) merely as a list of historical events is to overlook a profound scholarly dimension of the Seerah. Picture: INN
اللہ کے رسولؐ کی حیاتِ مبارکہ کو محض تاریخی واقعات کی فہرست کے طور پر پڑھنا سیرت کے ایک عظیم علمی پہلو کو نظرانداز کرنا ہے۔ تصویر: آئی این این

قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کے اخلاق کو خُلُقٍ عَظِیمٍقرار دیا اور آپؐ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے جانے کا اعلان کیا۔ آپؐ کی دعوت کا کمال صرف یہ نہیں تھا کہ آپؐ نے لوگوں کو عقائد و احکام سکھائے، بلکہ آپؐ نے انسان کے اندر تبدیلی پیدا کی۔ آپؐ نے جاہل کو ذلیل نہیں کیا بلکہ تعلیم دی، گناہ گار کی ملامت نہیں کی بلکہ اس کی اصلاح کی، غم زدہ کو صرف صبر کا حکم نہیں دیا بلکہ اس کے غم کو سمجھا، نوجوان کے جذبات کو دبانے کے بجائے ان کی تہذیب کی، بچوں کو معمولی سمجھنے کے بجائے ان کی دنیا میں اتر کر گفتگو کی اور اپنی جماعت کی غلطیوں پر انتقام کے بجائے تربیت، عفو اور مشاورت کا راستہ اختیار کیا۔ علم نفسیات کی اصطلاحات کو ذہن میں رکھیں اور حیات طیبہﷺ کا مطالعہ کریں تو سیرتِ نبویؐ جدید نفسیات کے کئی اہم تصورات جذباتی ذہانت، ہمدردی، رویّوں کی اصلاح، مثبت تقویت، سماجی وابستگی، غصے پر قابو، مشاورت اور شخصیت سازی کیلئے غیر معمولی عملی مثالیں فراہم کرتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:فتاوے: معتدہ کے تعلق سے ایک سوال

اس اعتبار سے اللہ کے رسولؐ کی حیاتِ مبارکہ کو محض تاریخی واقعات کی فہرست کے طور پر پڑھنا سیرت کے ایک عظیم علمی پہلو کو نظرانداز کرنا ہے۔ آپؐ نے افراد کے مزاج پہچانے، ان کی نفسیاتی استعداد کے مطابق گفتگو کی، سوال کرنے والوں کو سوال کے پس منظر سمیت سمجھا، اور ایسا ماحول پیدا کیا جس میں انسان اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے اصلاح کی طرف بڑھ سکتا تھا۔ قرآن کریم نے بھی آپؐ کی قیادت کے اسی نفسیاتی حسن کو یوں بیان کیا کہ اللہ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کیلئے نرم ہوئے؛ اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہوجاتے۔ 

جذباتی ذہانت: انسان کے دل کو پڑھنے کا نبویؐ اسلوب

علم جدید نفسیات میں جذباتی ذہانت یعنی اموشنل انٹیلی جنس سے مراد اپنے جذبات کو پہچاننا، انہیں قابو میں رکھنا، دوسروں کے جذبات کو سمجھنا اور مناسب سماجی رویہ اختیار کرنا ہے۔ حضور پاکؐ کی سیرت میں جذباتی ذہانت کا یہ وصف بہت واضح اور نمایاں نظر آتا ہے۔ آپؐ انسان کو صرف اس کے الفاظ سے نہیں پرکھتے تھے بلکہ اس کے لہجے، کیفیت، حالات اور باطن میں چھپی ضرورت کو بھی سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ کا طرزِ اصلاح محض حکم دینے کا نہیں تھا بلکہ دل کو ساتھ لے کر چلنے والا تھا۔ 

مسجد میں ایک بدوی کے پیشاب کرنے کا واقعہ اس سلسلے میں غیر معمولی مثال ہے۔ صحابۂ کرام ؓ نے اسے روکنے کے لئے آوازیں بلند کیں، لیکن رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، جب وہ فارغ ہوگیا تو وہاں پانی بہانے کا حکم دیا۔ بعد ازاں آپؐ نے تعلیم دی کہ لوگوں کے لئے آسانی پیدا کرنے والے بنو، سختی پیدا کرنے والے نہیں۔ اس واقعے میں ایک عظیم نفسیاتی اصول پوشیدہ ہے: غلط رویے کو درست کرنے سے پہلے اس رویے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نقصان کو بڑھنے سے روکنا چاہئے۔ اگر اس شخص کو دورانِ عمل ڈانٹا جاتا یا جسمانی طور پر روکا جاتا تو ممکن تھا کہ وہ مزید اضطراب، شرمندگی یا انتشار کا شکار ہوتا اور مسجد میں ہونے والی نجاست بھی وسیع ہوجاتی۔ آپؐ نے پہلے نقصان کو محدود کیا، پھر تعلیم دی۔ یہی جذباتی بصیرت غصے کے باب میں بھی نظر آتی ہے۔ ایک شخص نے آپؐ سے نصیحت طلب کی تو آپؐ نے فرمایا: ’’غصہ نہ کرو۔ ‘‘ اس نے بار بار یہی درخواست دہرائی اور آپؐ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا۔ یہ مختصر ترین نصیحت دراصل انسانی رویّے کی جڑ پر ہاتھ رکھتی ہے۔ غصہ صرف ایک جذبہ نہیں ؛ اگر بے قابو ہوجائے تو فیصلہ سازی، تعلقات، زبان اور اعمال سب کو متاثر کرتا ہے۔ جدید نفسیاتی اصطلاح میں اسے Emotional Regulation کہا جاسکتا ہے، جبکہ نبوی تربیت میں اس کا بنیادی حل نفس پر قابو، حلم اور ضبطِ جذبات ہے۔ 

اللہ کے رسولؐ نے انسانی جذبات کو ختم کرنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ انہیں صحیح رخ دینے کی حکمت سکھائی۔ غم آیا تو آنکھیں نم ہوئیں، محبت ہوئی تو محبت کا اظہار ہوا، خوشی ہوئی تو مسکراہٹ آئی؛ لیکن جذبات، عقل اور اخلاق اللہ کی رضا کے تابع رہے۔ یہی متوازن شخصیت دراصل جذباتی صحت کی علامت ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:یاد رہے، ہر تکلیف ہاتھ سے نہیں پہنچتی، بعض زبان سے پہنچائی جاتی ہے اور بعض خاموش رویوں سے!

 ہمدردی اور Empathy

دوسرے انسان کی جگہ کھڑے ہوکر اسے سمجھنا

نفسیات میں Empathy کو کسی دوسرے شخص کے احساسات اور نقطۂ نظر کو سمجھنے کی صلاحیت کہا جاتا ہے۔ اللہ کے رسول ؐکی سیرت کا ہر پہلو دل آویز ہے مگر اس پہلو پر غور فرمائیے کہ آپؐ لوگوں کے درد کو محض دیکھتے نہیں بلکہ محسوس کرتے تھے۔ قرآن نے آپؐ کے بارے میں فرمایا کہ تمہاری تکلیف آپ پر گراں گزرتی ہے، تمہاری بھلائی کے خواہشمند ہیں اور اہلِ ایمان کیلئے نہایت شفیق و رحیم ہیں۔ آپ کے فرزند، حضرت ابراہیم ؓ کی وفات کے موقع پر آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! آپؐ بھی رو رہے ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا کہ یہ رحمت ہے۔ پھر فرمایا کہ آنکھیں آنسو بہاتی ہیں، دل غمگین ہوتا ہے، لیکن ہم وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے رب کو پسند ہو۔ 

 اس واقعے میں غم کے صحت مند اظہار کا ایک نہایت خوب صورت نمونہ موجود ہے۔ آپؐ نے غم کو کمزوری نہیں سمجھا، نہ جذبات کو دبانے کی تعلیم دی؛ بلکہ جذبات کے اظہار اور اخلاقی ضبط کے درمیان توازن قائم کیا۔ آج ذہنی صحت کے مباحث میں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ جذبات کو مکمل طور پر دبانا انسان کے لئے مفید نہیں۔ صحت مند شخصیت اپنے احساسات کو پہچانتی، قبول کرتی اور مناسب انداز میں ظاہر کرتی ہے۔ سیرتِ نبویؐ ہمیں اس کا عملی نمونہ فراہم کرتی ہے۔ آنسو آئے تو آنسو بہے، مگر شکوۂ تقدیر نہیں کیا؛ دل غمگین ہوا مگر زبان نے حدودِ بندگی سے آگے جانے کی جرأت نہیں کی۔ 

آپؐ کی ہمدردی صرف بڑے سانحات تک محدود نہ تھی۔ بچوں کے ساتھ آپؐ کا برتاؤ اس کا عمدہ نمونہ ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ان کے چھوٹے بھائی ابوعمیر کے پاس ایک چھوٹا سا پرندہ تھا۔ آپؐ اس بچے کے ساتھ اس قدر گھل مل جاتے کہ اس سے پوچھتے: ’’اے ابو عمیر! نُغیر کا کیا ہوا؟‘‘ ایک بظاہر معمولی جملہ دراصل Child Psychology کے ایک اہم اصول کی ترجمانی کرتا ہے: بچے کی دنیا کو معمولی نہ سمجھو۔ جس چیز کو بالغ معمولی سمجھتا ہے، وہ بچے کیلئے پوری جذباتی کائنات ہوسکتی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ آپؐ کی مجلس میں کمزور، غریب، غلام، بچہ، نوجوان، عورت اور بزرگ سب اپنے آپ کو انسانی وقار کا حامل محسوس کرتے تھے۔ ہمدردی کا حقیقی کمال یہی ہے کہ سامنے والا آپ کے پاس آکر خود کو ’’دیکھا گیا‘‘ محسوس کرے۔ 

یہ بھی پڑھئے:قرآن و حدیث کی روشنی میں جین زی سے برتاؤ

 Conflict Management

 غصہ اور تنازع : ردِعمل کے بجائے حکمت

انسانی تعلقات میں سب سے پیچیدہ نفسیاتی مسئلہ اور تنازع ہے۔ خاندان، معاشرہ، ادارہ اور ریاست، ہر جگہ اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ اصل کمال اختلاف ختم کردینا نہیں بلکہ اختلاف کو تباہ کن بننے سے روکنا ہے۔ سرور دو عالم ؐ نے اس میدان میں حلم، ضبط، عفو اور حکمت کے ایسے نمونے پیش کیے جو معنویت سے بھرپور ہیں اور جن کی معنویت ہر دور میں قائم ہے۔ 

قرآنِ کریم نے غزوۂ احد کے پس منظر میں واضح فرمایا کہ اگر رسولؐسخت دل اور تندخو ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہوجاتے؛ پھر آپؐ کو درگزر، استغفار اور مشاورت کا حکم دیا گیا۔ غور کیجئے کہ معاملہ معمولی انتظامی غلطی کا نہیں تھا؛ جنگی حالات میں بعض صحابہ کے طرزِ عمل کے نتیجے میں شدید نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود قیادت کا نبوی اسلوب انتقام نہیں بلکہ تعلق کی مرمت تھا۔ 

نفسیات کی زبان میں کسی غلطی کے بعد انسان کو مسلسل شرمندہ کرنا اس کے اندر دفاعی ردِعمل پیدا کرسکتا ہے۔ وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اسے Justify کرنے لگتا ہے۔ اللہ کے رسولؐکا اسلوب اس کے برعکس تھا: غلطی کی اصلاح، شخصیت کا احترام۔ یہی فرق تربیت اور تحقیر کے درمیان ہے۔ اسی طرح غصے کے بارے میں ’’لا تغضب‘‘ کی نبوی نصیحت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسانی شخصیت کی اصلاح میں جذباتی محرکات پر قابو پانا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں غصے سے مراد محض غصے کا احساس نہیں بلکہ ایسا بے قابو ردِعمل ہے جو انسان کو ظلم، بدزبانی، حق تلفی یا تشدد جیسے غلط فیصلے تک لے جائے۔ 

آج Conflict Management میں Pause، Active Listening، De-Escalation اور Perspective-taking جیسے تصورات اہم سمجھے جاتے ہیں۔ سیرتِ نبویؐ میں ان سب کی عملی روح موجود ہے، اگرچہ انہیں جدید اصطلاحات میں بیان نہیں کیا گیا تھا مگر اب انہیں بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ آپؐ نے ہمیں یہ سبق دیا کہ طاقت کا سب سے بلند درجہ یہ نہیں کہ انسان دوسرے کو خاموش کردے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اشتعال کے لمحے میں بھی اپنے نفس کو خاموش رکھ سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK