قرآن مجید کا اندازِ بیان اتنا جامع اور سحرانگیز ہے کہ جب تعذیب خانوں کا ذکر ہوتا ہے تو اس عجیب و غریب انداز میں کہ کانوں سے سن کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے اور قوتِ متخیلہ اس کی تائید کرتی ہے، اور جب راحت بخش قیام گاہوں اور ٹھنڈے اور گھنے سایوں کا ذکر ہوتا ہے تو قوتِ احساس و ادراک پر حالت ِ محویت و استغراق طاری ہوجاتی ہے۔کاش ہم غور کریں!
قرآن کی زبان میں مشاہد ِ قیامت سے مراد زندگی بعد موت، محاسبہ ٔ اعمال، جنت اور دوزخ ہے۔ قرآن نے اس دنیا کے بعد جس عالم ِ آخرت کا لوگوں سے وعدہ کیا ہے اس کے محض ذکر پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے ایک محسوس زندہ و متحرک اور اُبھرتی ہوئی نمایاں شکل میں پیش کرکے اس کی مکمل و مجسم تصویر لوگوں کے سامنے رکھ دی ہے۔ مسلمانوں نے اس عالم ِ آخرت میں اپنی زندگیاں پورے احساسات و جذبات کے ساتھ گزار دی ہیں۔ ان کی آنکھوں نے اس کے مناظر کو دیکھا ہے اور ان کے دل و دماغ نے ان سے گہرا تاثر قبول کیا ہے۔ ان کے مشاہدے سے ان کی قلبی کیفیات لحظہ بہ لحظہ بدلتی رہی ہیں۔ کبھی ان کے دلوں پر گھبراہٹ اور کبھی ان کے جسموں پر کپکپی طاری ہوئی ہے۔ ایک گھڑی ان کے دلوں میں خوف و ہراس اور سراسیمگی کی لہر دوڑ گئی ہے، تو دوسرے لمحے وہ لذت آشنائے سکون و اطمینان ہوئے ہیں۔ کبھی دوزخ کی آگ کی لپٹوں سے ان کے جسم جھلس جھلس گئے ہیں اور کبھی نسیم ِ بہشت کی تھپتھپاہٹ سے انہیں راحت و آسودگی حاصل ہوئی ہے۔ اس طرح گویا انہوں نے اس مقررہ دن کی آمد سے قبل ہی اپنے شب و روز اس حیاتِ جاوداں کی روح فرسا سختی اور لذت افزا راحت سے پوری طرح آشنا رہ کر گزارے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: والدین کی خدمت و اطاعت کے بغیر سرخروئی اور کامیابی ممکن نہیں
یہ عالم ِ آخرت بڑا وسیع و عریض ہے۔ اس کی وسعت و کشادگی ایسی ہی ہے جیسی عقیدۂ اسلامی میں وضاحت و صراحت ہے، یعنی موت، موت کے بعد دوبارہ زندگی، پھر جنت و دوزخ۔ وہ لوگ جو ایمان لائیں گے اور عملی زندگی میں نیکی کی روش اختیار کریں گے، ان کے لئے جنت ہوگی جس میں انہیں لازوال ابدی نعمت نصیب ہوگی۔ دوسری طرف وہ لوگ جو کفر و انکار کی راہ چلیں گے اور دربارِ الٰہی میں اپنی حاضری کو جھٹلائیں گے، ان کے لئے دوزخ کی آگ ہوگی جو اَبدی عذاب کی ایک شکل ہے۔ نہ وہاں کوئی سفارش کام آئے گی، نہ فدیہ دے کر عذاب سے چھٹکارا ہوگا،نہ باریک تول والی میزانِ عدل میں بال برابر بھی کوئی فرق ہوگا۔ اعمال کا تول پورا پورا ہوگا۔ ہرایک کو اپنے کئے کی پوری جزا ملے گی۔ جو شخص اس دنیا میں ذرّہ بھر نیکی کرے گا وہاں اس کا بدلہ پالے گا، اور جو شخص اس دنیا میں ذرّہ بھر برائی کرے گا وہاں اس کی سزا پالے گا۔
قرآن کی بیان کردہ یہ کھلی اور واشگاف حقیقت مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی چھاپ ایک ایسے عالم پر لگی ہوئی ہے جو انسانی زندگی کے جملہ پہلوئوں پر حاوی، ٹھوس اور جان دار مناظر پر مشتمل ہے۔ یہ مختلف اوضاع اور مختلف پہلوئوں کے حامل معاشروں میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ قرآن کا اندازِ بیان اتنا جامع اور سحرانگیز ہے کہ جب تعذیب (عذاب) خانوں کا ذکر ہوتا ہے تو اس عجیب و غریب انداز میں کہ کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے اور قوتِ متخیلہ اس کی تائید کرتی ہے، اور جب راحت بخش قیام گاہوں اور ٹھنڈے اور گھنے سایوں کا ذکر ہوتا ہے تو قوتِ احساس و ادراک پر حالت ِ محویت و استغراق طاری ہوجاتی ہے۔ غرضیکہ قرآن میں اس ادبی فراوانی اور فنی کمال کیلئے صفحات پر صفحات وقف ہوئے ہیں جن کی حیثیت منفرد قسم کی ہے۔ دنیا کے ادبی سرمایے میں نہ ان کی کوئی نظیر ہے نہ مثال۔
یہ بھی پڑھئے: الفاظ اگر اخلاص کے ساتھ ادا کئے جائیں تو دِلوں میں اتر جاتے ہیں
روزِ قیامت اور اس کی ہولناکی
ان مشاہد کا ایک اہم مقصد قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی منظرکشی ہے۔ وہ ہولناکیاں کہ جن کی وجہ سے کائنات کا ذرہ ذرہ لرزہ براندام ہوگا۔ نوعِ انسانیت پر عالمِ سراسیمگی طاری ہوگا اور مارے خوف کے وہ کانپ رہی ہوگی۔ قریب قریب کوئی ایک منظر بھی ایسا نہیں جس میں سب زندہ نفوس شامل نہ ہوں۔ خوف و دہشت کی وجہ سے کائنات اور فطرت کی کوئی علاحدہ حیثیت نہیں ہوگی سوائے اس کے کہ اس میں کسی نہ کسی نوع کی زندگی کے آثار موجود ہوں۔ کسی منظر میں نمودار ہونے والے وجود کبھی تو جملہ افراد فطرت ہوتے ہیں اور کبھی یہ پوری نوعِ انسانی کے گوش بر آواز و نگاہ بر انجام، نفوس یا انواع و اقسام کی حیوانی مخلوقات۔ اور کبھی میدانِ حشر میں یہ بھی ہوتے ہیں اور وہ بھی۔ پھر کسی وقت یہ افراد ہستی خاموش فطرت کی شکل میں، کبھی بے زبان حیوان کی صورت میں اور کبھی انسان کی حیثیت میں برابر نمودار ہوتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
’’جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں گے، اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور جب دس مہینے کی حاملہ اُونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیئے جائیں گے اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟ اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا اور جب جہنم دہکائی جائے گی اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی اس وقت ہرشخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔‘‘ (سورہ التکویر : ایک تا۱۴)
یہ بھی پڑھئے: شب ِ معراج کے اہتمام کیساتھ کیا تحفہ ٔمعراج کی ادائیگی کی فکر ہے؟
غرضیکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ارض و سما، انس و حیوان، خورد و کلاں، جنت و دوزخ سب پر خوف و دہشت کا عالم طاری ہوگا اور سب کے سب گھبراہٹ اور انتظار میں ہوں گے کہ دیکھیے انجام کیا ہونے والا ہے؟
کبھی صرف مظاہر فطرت کے مناظر ہی نگاہوں کے سامنے نمودار ہوتے ہیں اور ماحول کی ہولناکی پوری فضا میں ہیجان و ارتعاش پیدا کردیتی ہے:
’’جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا۔ وہ تہ و بالا کردینے والی آفت ہوگی۔ زمین اس وقت یک بارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔‘‘ (الواقعہ:ایک تا۶)
یہ بھی پڑھئے: عقل اور مشاہدہ کی سرحدیں جہاں ختم ہو جاتی ہیں، وہاں سے اللہ تعالیٰ کا غیبی نظام شروع ہوتا ہے
انسان کی بے بسی اور وارفتگی: قیامت کے دن خوف و دہشت کے مارے انسان ایسا حواس باختہ ہوگا کہ اسے کسی کی سُدھ نہ رہے گی، حتیٰ کہ اسے اپنے ماں باپ اور اپنے اہل و عیال تک بھول جائینگے۔ قرآن نے اس کیفیت کی ایسی عکاسی کی ہے کہ دیکھ کر قلب و روح پر خوف طاری ہوجاتا ہے، جیسے:
’’اس روز آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ ان میں سے ہرشخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔‘‘ (سورہ عبس :۳۴؍تا۳۷)
’’لوگو! اپنے رب کے غضب سے بچو، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے۔ جس روز تم اسے دیکھو گے حال یہ ہوگا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائیگی، ہرحاملہ کا حمل گر جائے گا اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔‘‘ (الحج :۱-۲)