• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شب ِ معراج کے اہتمام کیساتھکیا تحفہ ٔمعراج کی ادائیگی کی فکر ہے؟

Updated: January 16, 2026, 8:44 PM IST | Dr Mufti Tanzim Alam Qasmi | Mumbai

تمام مسلما نو ں کا عقیدہ ہے کہ رسو ل اکر م ﷺ کو بید ار ی کی حالت میں اسی جسم و رو ح کے سا تھ سا تو ں آسما ن کی سیر کرائی گئی ، جس کو سیرت اور حدیث کی کتابوں میں اسراء اور معراج سے موسوم کیا جاتا ہے۔

A spiritual scene of prayer at Al-Aqsa Mosque. The Dome of the Rock is visible in the background. Photo: INN
مسجد اقصیٰ میں نماز کا ایک روح پرور منظر۔ عقب میں گنبد ِ صخریٰ نظر آرہا ہے۔ تصویر: آئی این این

تمام مسلما نو ں کا عقیدہ ہے کہ رسو ل اکر م ﷺ کو بید ار ی کی حالت میں اسی جسم و رو ح کے سا تھ سا تو ں آسما ن  کی سیر کرائی گئی ، جس کو سیرت اور حدیث کی کتابوں میں اسراء اور معراج سے موسوم کیا جاتا ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور پھر مسجد اقصیٰ سے عرش الٰہی تک یہ طو یل تر ین سفر رات کے صر ف ایک حصہ میں انجام پایا ہے ۔ اس میں کسی اہل ایمان کے لئے کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے سفر اور اس میں پیش آمدہ عجائب و واقعات کی اطلاع دی ، جس کی تفصیل مختلف کتب احادیث میں مذکور ہے ، متعدد راویوں کے ذریعہ اس واقعہ ٔ  معراج کی خبر اور پھر قرآن کے ذریعہ اس کی تصدیق  ایک مسلمان کے دل میں یقین و اطمینان کی کیفیت پید ا کرنے کیلئے کا فی ہے ، البتہ جس کی نظر مادی دنیا کے حد ود میں گھری ہو ئی ہے ، آخرت پر جس کویقین نہیں اور جس کی نظر میں قرآن و سنت کی کو ئی اہمیت نہیں ہے وہ عقل و قیاس کا سہارا لے کر معراج کے مقد س سفر کو مشکو ک بنا سکتا ہے۔ زمانہ ٔ نبوت میں بھی کفار مکہ نے اس کو جھٹلا کر اپنی عاقبت خراب کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: کیا ِ رسولِؐ رحمت کی اُمت اتنی بے خوف ہوسکتی ہے؟

معراج نبویؐ  کے سال میں اگرچہ اختلاف ہے تاہم اکثر محققین کا اتفا ق ہے کہ یہ وا قعہ ہجرت سے پہلے اور سفر طائف کے بعد پیش آیا ہے اور یہ سفرآپؐ کی دلداری ،مکی زندگی میں بت پر ستو ں کی جا نب سے کی گئی مخا لفت اور خا ص طو ر پر سفر طائف میں پیش آمد ہ مصائب و مشکلات پر صبر کرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعا م واحسان تھا اس لئے  قدرت نے سفر طائف کے بعد اور مکی دور کے اختتام کے بعد یہ سیر کر ائی جو درحقیقت اس بات کا اعلا ن تھا کہ اب تنگی اور مصیبت کے ایام ختم ہونے والے ہیں ،ہجر ت کا زما نہ قر یب ہے ، معر اج اور ہجر ت کے بعد کشادگی،   فراخی اور خوشی کے ایام شروع ہوں گے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ، ہجرت کے بعد مدینہ میں بہت جلد اسلامی ریاست قائم ہو گئی، سوائے چند لوگوں کے تمام قوموں نے آپؐ  کا بڑھ کر استقبال کیا۔ یہاں مسلما نو ں کو آزادی ملی اور کسی خوف و ہراس کے بغیر ایک خدا کی عبادت کی جانے لگی۔ کچھ ہی سال گزرے تھے کہ مخالفین زیر ہوگئے، مکہ فتح ہو ا اور چہار جانب سے وفود بارگاہِ نبویؐ میں  آنے لگے اور اسلام کا دائرہ اتنا وسیع ہوا کہ اہل باطل دم بخود ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ وا قعہ ٔ معراج کی شکل میں رسول اکرم ﷺ کو یہ عظیم بشارت اور پھر انعام خداوندی کا تسلسل آپ ؐکے اس صبر کا نتیجہ تھا جو کفار مکہ کی اذیت پر کیا گیا۔  یہی و جہ ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ  نے اپنے بندوں کو صبر کی بارہا تلقین کی ہے۔ ارشاد باری  تعالیٰ ہے: ’’اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔‘‘ (البقرہ:۱۵۵)

یہ بھی پڑھئے: کیا جسم لرز اُٹھا؟ رونگٹے کھڑے ہوئے؟ چشم نم ہوئی؟

معر اج میں آپؐ  کو اتنا اوپر اٹھایا گیا جو مادی کائنات سے ماوراء اور عقل انسانی کی سرحد سے بالاتر تھا، جہا ں پہنچ کرحضرت  جبریل علیہ السلام کے بھی پر جلنے لگتے ہیں ، جس مقا م تک کسی مخلوق کی رسائی نہ ہوئی ہے اور نہ ہوسکتی ہے یعنی وہ عر ش عظیم جس کے بعد اب اور کو ئی مقام نہیں ، اسی وجہ سے بعض عارفین اور اہل علم کا خیال ہے کہ رسو ل اکرم ﷺ کو عرش تک سیر کرانے میں ان کے ختم نبوت کی طر ف اشارہ تھا۔ کتاب وسنت سے عرش کے بعد کسی مخلوق کا وجود ثا بت نہیں۔ اسی طر ح نبوت ور سالت کے تمام کمالات آپؐ پر ختم ہیں، اب آپؐ کے بعد نبو ت کا کوئی مقام نہیں چنانچہ تمام اہل توحید کا یقین ہے کہ نبوت آپؐ کی بعثت پر ختم ہوچکی ہے ، قیا مت تک کے لئے  مذہب اسلام کو شریعت بنا کر نازل کیا گیا ہے۔ توحید کے ساتھ جس طر ح رسالت کا اقرار ضروری ہے اسی طرح کامل ایمان کے لئے ختم رسالت کا بھی اقرار ضروری ہے اس کے بغیر ایما ن معتبر نہیں ۔ 

معتبر نصو ص سے ثابت ہے کہ معراج سے قبل آپؐ  کا سینۂ مبارک چاک کیا گیا اور قلب اطہر کوآب زمزم سے دھو کر پھر اسی جگہ رکھ دیا گیا تاکہ آپؐ  کا قلب مبارک عا لم ملکوت کی سیر ، تجلیات الہیہ اور آیات ربا نیہ کے مشا ہد ہ اور اللہ تعالیٰ کی مناجات اور کلا م کا تحمل کر سکے ، گویا اللہ تعالیٰ نے اس عظیم نعمت کیلئے  خو د سے انتظا م فرمایا  ۔ معلوم یہ ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو بڑا بنانا چاہتا ہے تو خو د اس کی جانب سے اس کا انتظام بھی کر دیا جاتا ہے ۔ اسی لئے  ایک انسا ن کو حوصلہ بلند رکھنا چا ہئے،  اپنی تنگی ٔ بسا ط کی طر ف نظر نہ کر ے ، اللہ سے توفیق اور مقبولیت کی دعا  مانگتا رہے۔

یہ بھی پڑھئے: مسلم قائدین یاد رکھیں، اسلام میں قیادت ایک امانت ہے

جب قبولیت کی گھڑی آئے گی تو خود بخود اس کا انتظام ہوجائے گا ۔ شرعی احکام کی پابندی ہمارا کام ہے اور اس پر بے پایاں رحمتوں اور سعادتوں کی بارش برسانا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔جب قبولیت کی گھڑی آئے گی تو خود بخود اس کا انتظام ہوجائے گا ۔ شرعی احکام کی پابندی ہمارا کام ہے اور اس پر بے پایاں رحمتوں اور سعادتوں کی بارش برسانا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

معراج کا ایک اہم سبق اور پیغام نماز کا اہتمام بھی ہے۔ روزہ ، زکوٰۃ اور حج یقیناً اسلام کے بنیادی ارکان ہیں لیکن ان کی فرضیت حضرت جبریل امینؑ  کے ذریعے نازل کی گئی اور نماز ایسا فریضہ ہے جس کے لئے رسول اکرم ﷺ کو آسمان پر بلایا گیا اور بڑی عزت واکرام کے ساتھ نماز کا تحفہ عطا کیا گیا جس سے نماز کی غیر معمولی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن شریف میں تقریباً دو سو مقامات پر نماز کی تاکید، اس کے ادا کرنے پر خوشخبری اور نہ پڑھنے پر عذاب کی وعید  ہے۔ احادیث میں بھی مختلف پہلوؤں سے نماز کا تذکرہ کیا گیا ہے، اس کے شرائط ، ارکان اور آداب کو اس قدر اہتمام سے بیان کیا گیا ہے کہ دوسرے ارکان کے بیان میں یہ اہتمام نہیں پایا جاتا۔

یہ بھی پڑھئے: اختلاف میں علمی و اخلاقی توازن قائم رکھئے

رسول اکرمؐ  کا طریقہ مبارک تھا کہ جو شخص اسلام میں داخل ہوتا اس سے آپؐ  توحید کے بعد نماز کا عہد لیا کرتے، وصال کے وقت جب کہ زبان مبارک سے پورے لفظ نہیں نکل رہے تھے ، اس وقت بھی آپؐ نے غلاموں کے حقوق کے ساتھ نماز کی تاکید فرمائی تھی ۔ ایک انسان پر توحید ورسالت کے بعد جو عمل سب سے پہلے فرض ہوتا ہے وہ یہی نمازہے، خواہ مرد ہو یا عورت،  غلام ہو یا آزاد، امیر ہو یا غریب جب تک ہوش وحواس باقی ہے، شریعت نے ہر بالغ شخص کو اس کا پابند بنایا اور اس کی تاکید کی ہے، روایات سے معلوم  ہوتا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب ہوگا، اگر وہ اچھی اور پوری اتر آئی توباقی اعمال بھی پورے اتریں گے اور وہ خراب ہو گئی تو باقی اعمال بھی خراب نکلیں گے۔ (الترغیب والترہیب)

گویا نماز آخرت کی کامیابی اور اللہ کی رضامندی کی کنجی ہے اور قیامت کی ہولناکیوں اور اس دن پہنچنے والے غم ، دکھ، درد سے بچنے کا ذریعہ بھی۔ یاد رہے کہ یہ ایسا دکھ ہے جس کی مدافعت کے لئے وہاں نہ کوئی درہم ودینار ہوگا، نہ دوستی اور محبت کام آئے گی،جس کا سلسلہ موت سے ہی شروع ہوجاتا ہے اور جو زندگی کے سارے دکھوں سے بڑھا ہوا ہوگا، اس لئے ایک عقلمند انسان کو دیگر عبادات واذکار کے ساتھ خاص طور پر نماز کے ذریعے اس عظیم دکھ سے نجات کا سامان فراہم کر لینا چاہئے کہ نماز ہی دراصل آخرت کے غموں سے بچنے کی تدبیر اورراحت کا ذریعہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جب ماں کا شعور بیدار ہو تو وہ آنے والے زمانوں کی فکری لکیر کھینچ دیتی ہے

آج لو گ شب ِ معرا ج بڑی دھوم دھام سے منا تے ہیں مگر ان کی زندگی نما ز جیسی اہم ترین عبا دت سے خا لی ہو تی ہے جس کے لئے آپؐ کو آسمان پر بلا یا گیا اور جس کے لئے اس  مقدس اور با بر کت سفر کا اہتمام کیا گیا۔ شب ِمعرا ج کے تذ کرہ کا مقصد جہاں آپؐ کے حیرت انگیز معجزہ کا اظہا ر  ہے و ہیں اس کا بڑا مقصد اپنی زند گی کو اس سے ملنے وا لے دروس اور پیغام سے سنوارنا بھی ہونا چاہئے۔ صرف اس وا قعے کے تذکرہ سے ہما ری ذمہ داری پوری نہیں ہوتی۔ ہمیں نماز جیسی اہم  عبادت کے فوت ہو نے اور اس سے غفلت اور لاپروائی پر توبہ کرنی چاہئے اور آئندہ اس کے اہتمام کا عزم مصمم کر نا چا ہئے کہ در حقیقت یہی شب معرا ج کی حقیقی قدردانی اور اس کا صحیح استقبال ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK