• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جب دل پتھر ہونے لگے تو رَمضان دستک دیتا ہے

Updated: February 27, 2026, 10:26 AM IST | Dr. Ahmed Arooj Mudassir | Mumbai

دل کی سختی انسانی شخصیت کی سب سے خطرناک بیماری ہے۔ جب دل سخت ہو جاتا ہے تو نصیحت اثر نہیں کرتی، دعا میں لذت باقی نہیں رہتی، قرآن کی آیات دل میں نہیں اترتیں اور گناہ پر ندامت نہیں ہوتی۔

The Sunnah of giving Zakat, Sadaqat, and breaking the fast during Ramadan is actually a teaching to feel the feelings of others. Photo: INN
رمضان میں زکوٰۃ، صدقات اور افطار کرانے کی سنت دراصل دوسروں کے جذبات کو محسوس کرنےکی تعلیم ہے۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ عظیم مہینہ ہے جو محض عبادات کی کثرت کا موسم نہیں، بلکہ باطن کی زمین کو نرم کرنے، دل کی سختی کو پگھلانے، شخصیت کو وقار عطا کرنے اور انسان کو ازسر ِ نو سنوارنے کا موقع ہے۔ یہ مہینہ انسان کو اس کی اصل کی طرف لوٹاتا ہے۔ وہ اصل جس میں بندگی ہے، خشوع ہے، حیا ہے، محبت ہے، اور جواب دہی کا شعور ہے۔ رمضان انسان کو یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف جسمانی تقاضوں کا نام نہیں، بلکہ روحانی بالیدگی کا سفر بھی ہے۔ اگر انسان اس مہینے کو شعور اور ارادہ کے ساتھ گزارے تو یہی ایام اس کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بیدار رہیں،رحمت کا حصار کہیں لغویات میں ٹوٹ نہ جائے!

دل کی سختی انسانی شخصیت کی سب سے خطرناک بیماری ہے۔ جب دل سخت ہو جاتا ہے تو نصیحت اثر نہیں کرتی، دعا میں لذت باقی نہیں رہتی، قرآن کی آیات دل میں نہیں اترتیں، اور گناہ پر ندامت محسوس نہیں ہوتی۔ انسان بے حس ہو جاتا ہے، دوسروں کے درد سے بے نیاز ہو جاتا ہے، اور اپنے مفاد کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ قرآن مجید نے اس کیفیت کو نہایت شدید انداز میں بیان کیا:
’’پھر اس کے بعد (بھی) تمہارے دل سخت ہوگئے چنانچہ وہ (سختی میں) پتھروں جیسے (ہوگئے) ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت (ہو چکے ہیں، اس لئے کہ) بیشک پتھروں میں (تو) بعض ایسے بھی ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، اور یقیناً ان میں سے بعض وہ (پتھر) بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی ابل پڑتا ہے، اور بیشک ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں،  اور اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں۔‘‘ (البقرہ:۷۴)
یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ جب دل پتھر سے زیادہ سخت ہو جائے تو ایمان کی روشنی مدھم پڑنے لگتی ہے۔ بندگی کی روح ختم ہو جاتی ہے اور انسان ظاہری عبادات کے باوجود اندر سے خالی رہ جاتا ہے۔
علمِ نفسیات بھی اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ انسان کا جذباتی نظام اگر مسلسل غفلت، خود غرضی، غصہ اور حرص کے زیر ِ اثر رہے تو اسکے اندر   emotional numbness یا جذباتی بے حسی پیدا ہو جاتی ہے۔ جدید ماہرینِ نفسیات کے نزدیک جب انسان بار بار منفی جذبات کو دباتا ہے، یا اپنی غلطیوں کا سامنا نہیں کرتا، تو اس کا ضمیر دھندلا ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنے اعمال کے اخلاقی پہلو کو کم محسوس کرتا ہے۔ یہ کیفیت دراصل دل کی سختی ہی کی ایک نفسیاتی تعبیر ہے۔ اسی طرح مسلسل خود مرکزیت  اور فوری لذتوں کے پیچھے بھاگنا شخصیت میں عدمِ توازن پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ضبطِ نفس کمزور اور ہمدردی معدوم ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۹): یہ بندۂ خدا کی عنایت ہے، مت پوچھو بندۂ خدا کون ہے

رمضان اسی لئے آتا ہے کہ اس نفسیاتی اور روحانی جمود کو توڑے۔ اللہ تعالیٰ نے روزے کو فرض کرتے ہوئے اس کا مقصد واضح کر دیا: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پچھلی قوموں پر فرض کیے گئے تھے ۔ تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو ۔ ‘‘ (البقرہ:۱۸۳) تقویٰ دراصل دل کی بیداری کا نام ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان کو ہر لمحہ یہ شعور رہتا ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے تقویٰ انسان میں self-regulation کو مضبوط کرتا ہے۔ وہ اپنے جذبات، خواہشات اور ردِعمل کو قابو میں رکھنا سیکھتا ہے۔ یہی ضبطِ نفس دل کی سختی کو نرم کرنے کا پہلا قدم ہے۔
روزہ انسان کو صرف بھوک اور پیاس کا تجربہ نہیں کراتا، بلکہ اسے اپنے نفس کے مقابل کھڑا کرتا ہے۔ جب انسان اپنی جائز خواہش کو بھی اللہ کے حکم پر چھوڑ دیتا ہے تو اس کے اندر ارادہ (willpower) مضبوط ہوتا ہے۔ جدید نفسیات میں اسےdelayed gratification کہا جاتا ہے، یعنی فوری لذت کو مؤخر کر کے اعلیٰ مقصد کو ترجیح دینا۔ تحقیقات بتاتی ہیں کہ جو افراد اپنی خواہشات کو قابو میں رکھ سکتے ہیں وہ زیادہ متوازن، باوقار اور ذمہ دار شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ رمضان ایک ماہ کی ایسی عملی تربیت ہے جو انسان کے اندر اسی صلاحیت کو پروان چڑھاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے روزے کی روح کو اخلاقی اصلاح سے جوڑا۔ فرمایا:’’ کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا (روزے رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘(بخاری)
یہ ارشاد واضح کرتا ہے کہ روزہ محض جسمانی ریاضت نہیں، بلکہ اخلاقی تزکیہ ہے۔ اگر زبان جھوٹ سے آلودہ رہے، دل میں کینہ باقی رہے، اور رویے میں سختی ہو تو روزے کی روح حاصل نہیں ہوتی۔ رمضان انسان کے اندر ایک ہمہ جہت احتساب پیدا کرتا ہے،الفاظ کا بھی، جذبات کا بھی، اور تعلقات کا بھی۔

یہ بھی پڑھئے: حقیقت ضرار، باغ والوں کا زعم اور نتیجہ، فرعون کا نشان عبرت بننا اور دُعائے یونسؑ

دل کی سختی کا ایک بڑا سبب خودغرضی ہے۔ جب انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے تو اس کا دل تنگ ہو جاتا ہے۔ رمضان بھوک کے ذریعے انسان کو دوسروں کے درد سے جوڑتا ہے۔ دن بھر کی پیاس اور کمزوری اسے یاد دلاتی ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی زندگی مستقل محرومی کا نام ہے۔ یہی احساس ہمدردی کو جنم دیتا ہے۔ نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ empathy یعنی دوسروں کے جذبات کو محسوس کرنے کی صلاحیت شخصیت کو نرم، متوازن اور باوقار بناتی ہے۔ رمضان میں زکوٰۃ، صدقات اور افطار کرانے کی سنت دراصل اسی جذبے کو اجتماعی سطح پر فروغ دیتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ رمضان میں غیر معمولی سخاوت فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کی فیاضی صرف مال تک محدود نہ تھی، بلکہ مسکراہٹ، دلجوئی، خیر خواہی اور عفو تک پھیلی ہوئی تھی۔ سخاوت دراصل دل کی نرمی کی علامت ہے۔ جو دل سخت ہو، وہ دینے سے کتراتا ہے؛ اور جو دل نرم ہو، وہ بانٹنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کا اصل وقار مال کو  پاس رکھنے میں نہیں، بلکہ بانٹنے میں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مدارس کو زکوٰۃ اس لئے دی جائے!

غصہ بھی دل کی سختی کی ایک نمایاں علامت ہے۔ جب دل میں وسعت نہ ہو تو معمولی بات بھی اشتعال کا سبب بن جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو اسے فحش گوئی نہ کرنی چاہئے اور نہ شور مچائے، اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں۔‘‘ (بخاری، مسلم)
یہ تعلیم دراصل جذباتی نظم (emotional regulation) کی اعلیٰ مثال ہے۔ انسان کو سکھایا جا رہا ہے کہ اشتعال کے لمحے میں خود کو یاد دلاؤ کہ تم ایک مقدس عہد کے اندر ہو۔ جدید نفسیات کے مطابق جب انسان ردِعمل دینے سے پہلے توقف کرتا ہے تو اس کے دماغ کا وہ حصہ فعال ہوتا ہے جو عقل اور توازن سے متعلق ہے۔ رمضان اسی توقف کی عادت ڈالتا ہے، اور یہی عادت شخصیت میں وقار پیدا کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK