Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسوۂ نبویؐ کا مطالعہ کیجئے، ماحولیاتی تبدیلی کے اسباب، اثرات اور حل بھی ملیگا

Updated: May 22, 2026, 4:02 PM IST | Dr. Naeem Anwar Noorani | Mumbai

ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمیاتی تغیرات کے نقصانات سے بچنےکے لئے ضروری ہے کہ ہم قدرتی وسائل اور اللہ کی طرف سے ملنے والی نعمتوں کو اعتدال و توازن کے ساتھ استعمال کریں۔

Plantation plays a very important role in environmental and climate adaptation, and attention should be paid to this. Photo: INN
شجر کاری (plantation) کا ماحولیاتی اور موسمیاتی سازگاری میں بڑا ہی اہم کردار ہے، اس جانب توجہ دینی چاہئے۔ تصویر: آئی این این

بنی نوعِ انسان اس وقت جہاں دیگر کئی مسائل سے برسرِپیکار ہے وہیں اسے ماحولیاتی و موسمیاتی تغیر کا بھی سامنا ہے جس کے سبب حیاتِ انسانی ایک بہت بڑے نقصان سے دوچار ہورہی ہے۔ کسی بھی علاقے کی آب و ہوا اس کے ماحول پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر آب و ہوا صاف ہے اور اس میں کسی قسم کی آلودگی و آلائش شامل نہیں ہے تو انسانوں اور اس کے اردگرد کے ماحول پر اس کے اچھے اثرات ظاہر ہوں گے اور اگر آب و ہوا میں نظافت کے بجائے کثافت اور آلودگی کا عنصر زیادہ ہے تو اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے۔ ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلی سے مراد وہ دیرپا اور مسلسل تبدیلیاں ہیں جو فطری اور انسانی عوامل کی بناء پر موسمیاتی نظام اور قدرتی ماحول میں رونما ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں میں درجہ حرارت میں اضافہ، سمندر کی سطح کا بڑھنا، موسموں کی شدت میں اضافہ اور قدرتی و ناگہانی آفات کا بڑھنا شامل ہیں۔ 

ماحول کی سازگاری کیلئے نبویؐ ہدایات

ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تغیر سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں اورنقصانات سے بچنے کےلئے مختلف اقدامات کرنے ہوں گے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے اقوال و فرامین اس حوالے سے بھی ہمیں بھرپور رہنمائی عطا کرتے ہیں۔ ذیل میں اس حوالے سے سیرتِ الرسولؐ کی روشنی میں چند نکات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی جائے گی:

 شجر کاری: ماحولیاتی آلودگی سے بچنے، موسم کو صحت افزا اور ماحول کو سازگار بنانے کے لیے درختوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔ جنگلات کے کٹاؤ کے عمل سے رکنا ہوگا اور عام زرعی زمینوں میں درختوں کی پیداوار کو بڑھانا ہوگا اور بڑی تعداد میں ہر جگہ درختوں کو لگانا ہوگا۔   درختوں کوبڑی تعداد میں لگانے کی ترغیب ہمیں احادیث رسولؐ  سے ملتی ہے۔ اللہ کے  رسولؐ نے فرمایا: ’’جو مسلمان درخت لگائے پھر اس میں سے کوئی کھائے تو درخت لگانے والے کو صدقے کا ثواب ملےگا۔‘‘(صحیح مسلم) گویا درخت جہاں انسان کی دنیا کو نفع بخش بناتا ہے، وہاں اس کی آخرت کو بھی اجروثواب کا حامل بناتا ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے اور صحتمند معاشرے کے قیام کے لئے درخت لگانے کو بے پناہ اہمیت دی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اگر قیامت کی ساعت و گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اوروہ اس کو لگاسکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو۔‘‘

(مسند احمد بن حنبل) 

یہ بھی پڑھئے: شخصیت سازی کے چند اصول جن کے ذریعے خود میں تبدیلی لا سکتے ہیں

شجر کاری (Plantation) کا ماحولیاتی اور موسمیاتی سازگاری میں بڑا ہی اہم کردار ہے۔ اسلئے حدیث مبارک میں تاکید کی جارہی ہے کہ تم اپنی کاوشوں کو کبھی ترک نہ کرو خواہ قیامت کا منظر ہی تمہارے سر پر سوار ہو۔

 زمین کا نفع بخش اور پیداواری استعمال:  موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مختلف ممالک غذائی قلت کا سامنا کررہے ہیں۔ اس ضمن میں اللہ کے رسولؐ  کی سیرت ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ زمین انسان کا مستقر اور ٹھکانہ ہے اور اس کی حیات کی کل متاع اسی زمین کے ساتھ وابستہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’ اور اس میں (جملہ مخلوق کے لیے) غذائیں (اور سامانِ معیشت) مقرر فرمائے (یہ سب کچھ اس نے) چار دنوں (یعنی چار ارتقائی زمانوں) میں مکمل کیا، (یہ سارا رِزق اصلًا) تمام طلب گاروں (اور حاجت مندوں) کے لئے برابر ہے۔‘‘ (سورہ فصلت:۱۰)

بعض لوگ زمین کے ذرائع اور وسائلِ رزق پر قابض ہوجاتے ہیں اور دوسرے لوگوں تک اس پیداوار اور رزق کو آسانی کے ساتھ نہیں پہنچنے دیتے۔ وہ معاشرے میں عدمِ مساوات پیدا کرکے  رزق کی قلت کا سبب بنتے ہیں۔ اسلام رزق کی زیادت و کثرت کی نعمت پانے والوں کو اس رویے سے روکتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق (کے درجات) میں فضیلت دی ہے (تاکہ وہ تمہیں حکمِ انفاق کے ذریعے آزمائے)، مگر جن لوگوں کو فضیلت دی گئی ہے وہ اپنی دولت (کے کچھ حصہ کو بھی) اپنے زیردست لوگوں پر نہیں لوٹاتے (یعنی ضرورتمندوں پر خرچ نہیں کرتے) حالاں کہ وہ سب اس میں (بنیادی ضروریات کی حد تک) برابر ہیں، تو کیا وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ (النحل:۷۱)

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: حالت ِاحرام میں خوشبو کا استعمال منع ہے

ایک اور مقام پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جس کے پاس کوئی زمین ہے، اسے چاہیے کہ اس میں کھیتی باڑی کرے اور اگر وہ خود کھیتی باڑی نہ کرسکے تو اپنے کسی (مسلمان) بھائی کو دے دے۔‘‘ (صحیح مسلم)

 بنیادی ضروریات کی فراہمی اور ماحول کی سازگاری:  ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں جو انسانوں کی مختلف سرگرمیوں کی وجہ سے رونما ہورہی ہیں، ان کا حل بھی ان کو مشترکہ کاوشوں اور اجتماعی قربانیوں کے ذریعے سے کرنا ہے۔ اللہ کے رسولؐ کی سیرتِ اقدس ہمیں یہ بھی تعلیم دیتی ہے کہ تمام انسان بعض بنیادی چیزوں میں مساوی حق رکھتے ہیں جیسا کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ہر انسان کے لئے ان اشیاء کے سوا کوئی حق نہیں ہے، رہنے کے لئے مکان، جسم ڈھانپنے کے لئے کپڑا، کھانے کے لئے روٹی اور پینے کے لئے پانی۔‘‘ (ترمذی)

 وسائل کے استعمال میں اعتدال و توازن: ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمیاتی تغیرات کے نقصانات سے بچنےکے لیے ضروری ہے کہ ہم قدرتی وسائل اور اللہ کی طرف سے ملنے والی نعمتوں کو اعتدال و توازن کے ساتھ استعمال کریں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بے شک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘ (الاعراف:۳۱)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ  ایک مرتبہ حضرت سعدؓکے پاس سے گزرے جو وضو کرتے ہوئے (اچھے طریقے سے وضو کرنے کی کوشش میں) ضرورت سے زائد پانی بہا رہے تھے۔ آپؐ نے یہک دیکھ کر  ان سے فرمایا: ’’یہ کیسا اسراف ہے؟ انہوں نے عرض کیا: (یارسولؐ اللہ!) کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ ؐ نے فرمایا: ہاں، چاہے تم بہتے دریا کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھے ہو ۔‘‘(ابن ماجہ فی السنن)

حضرت جابر ؓروایت کرتے ہیں کہ:’’اللہ کے رسولؐ  نے ٹھہرے ہوئے پانی (جھیل، تالاب اور جوہڑ وغیرہ) میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘(مسلم فی الصحیح)

یہ بھی پڑھئے: ’’میرا رَب تو وہی ہو سکتا ہے جس نے سب کو پیدا کیا، جس کے سب محتاج ہیں‘‘

 ہمیں آج اپنے معاشرے کو ہر ہر لحاظ سے ایک مثالی معاشرہ بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہمیں اپنے ماحول کو سازگار بنانے کے حوالے سے اپنے انفرادی اور اجتماعی کردار کو موثر بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔  اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پوری قوم کو یک جان اور یک قالب ہونے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

صفائی نصف ایمان اور ہمارا رویہ

ماحولیاتی و موسمیاتی تغیرات سے اپنے معاشرہ کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کے اصولِ طہارت اور ضابطہ ٔ نفاست کو اپنی زندگیوں میں ایک لازمی عادت کے طور پر شامل کریں۔ ہم جس بھی ماحول میں اپنی زندگی گزار رہے ہوں، لازم ہے کہ وہاں دور دور تک گندگی کا نام و نشان نہ ہو۔  صفائی و طہارت کے اصول پر عملدرآمد ہی سے ہم ماحولیاتی آلودگی سے پاک معاشرے کو قائم کرسکتے ہیں۔

باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’ اس میں ایسے لوگ ہیں جو (ظاہراً و باطناً) پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ طہارت شعار لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘ (سورہ توبہ:۱۰۸)

اللہ کے رسولؐ نے طہارت و نظافت کو نصف ایمان قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے۔‘‘ (ترمذی)

یہ بھی پڑھئے: غفلت کو سمجھئے، یہ لاعلمی ہی نہیں باطنی نیند بھی ہے

اللہ کے رسولؐ  نے یہ بھی ارشاد فرمایا:

’یقیناً اللہ تعالیٰ طیب و پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کو ہی پسند فرماتا ہے۔ نظافت والا ہے، سو نظافت کو پسند فرماتا ہے۔ لطف و کرم والا ہے اور لطف و کرم کو پسند فرماتا ہے۔ سخی و جواد ہے اور سخاوت کو (بے حد) پسند فرماتا ہے۔ لہٰذا تم بھی اپنے گھروں کے صحنوں اور حویلیوں کو صاف ستھرا رکھا کرو اور یہود کی مشابہت نہ اختیار کرو۔‘‘(ترمذی)

ہمارے معاشرہ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہماری ماحولیاتی فضا آلودہ ہے، ہمارے اپنے اعمال کے باعث ہمارے ماحول کو تغیرات کا سامنا ہے اور وہ اقدار جو ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی نظری اور عملی پہچان ہیں اور ایک مسلمان کی سب سے بڑی شناخت ہیں، وہ اقدار ہماری زندگی میں بہت ہی کم نظر آتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK