روزہ انسان کی بہت سی خوبیوں کے لئے غذا فراہم کرتا ہے۔ صبر کی صفت، ہمدردی کی صفت، جود و سخاوت کی صفت، خیر پسندی کی صفت، امن پسندی کی صفت، خود احتسابی کی صفت، غرض بہت سی صفات ہیں جو روزے کے نتیجے میں نشو و نما پاتی ہیں لیکن اس کیلئے نیت اور توجہ ضروری ہے۔
قرآن سے ایمان بڑھتا ہے اور احسان کی راہیں کھلتی ہیں ۔ تصویر: آئی این این
اس دنیا میں انسان کی ترقی یہ ہے کہ اس کی بندگی کی سطح درجہ بہ درجہ اونچی ہوتی رہے۔ اس کیلئے خصوصی توجہ اور ریاضت درکار ہوتی ہے۔ ماہِ رمضان میں محنت و ریاضت کا ماحول ہوتا ہے۔ بندگی کے اس موسمِ بہار میں اگر اس پہلو کی طرف خاص توجہ ہوجائے تو ہر سال بندگی کی سطح پہلے سے بلند ہوجائے۔ جنہیں تہجد پڑھنے کی توفیق نہیں ملتی وہ تہجد گزار بندے بن سکتے ہیں۔ جنہیں راہِ خدا میں خرچ کرنے کا خیال نہیں آتا وہ متصدقین کے گروہ میں شامل ہوسکتے ہیں۔ جن کے شب و روز کا بڑا حصہ غفلت کی نظر ہوجاتا ہے وہ ذاکرین اللہ کثیرا کی حسین و جمیل صفت سے متصف ہوسکتے ہیں۔ جو اللہ کی کتاب قرآن مجید سے غافل ہیں وہ قرآن والے ہوسکتے ہیں۔ جو پورے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوئے، وہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوسکتے ہیں۔ بندگی کی موجودہ سطح پر مطمئن ہونے کے بجائے اپنا معیار بلند کیجئے اور پہلے سے زیادہ عبادت گزار بن جائیے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۳): مسجدوں میں جگہ، کرسی اور قرآن کریم کے نسخے…
آپ کا حقیقی زیور آپ کی اعلیٰ صفات ہیں۔ ماہِ رمضان میں بہت سی اعلیٰ صفات سے آپ اپنی شخصیت کو آراستہ کر سکتے ہیں۔ اعلیٰ صفات کی نشو و نما کیلئے رمضان کا موسم بہت ساز گار ہوتا ہے۔ روزہ صرف بھوک پیاس کا احساس نہیں ہے۔ روزہ انسان کی بہت سی خوبیوں کے لئے غذا فراہم کرتا ہے۔ صبر کی صفت، ہمدردی کی صفت، جود و سخاوت کی صفت، خیر پسندی کی صفت، امن پسندی کی صفت، خود احتسابی کی صفت، غرض بہت سی صفات ہیں جو روزے کے نتیجے میں نشو و نما پاتی ہیں۔ لیکن اس کے لئے نیت اور توجہ ضروری ہے۔ بارش کا موسم کھیتوں میں اگائی گئی بالیوں کو شادابی عطا کرتا ہے، لیکن اگر کسان کی توجہ نہ ہو تو بارشوں کے نتیجے میں اگنے اور پھیلنے والی گھانس بالیوں کی نشو و نما کو متاثر کردیتی ہے۔ ماہِ رمضان نیکیوں کا موسم ہے، لیکن نیکیوں کی نشو و نما جبھی ہوگی جب ادھر خاص توجہ دی جائے گی۔
ماہِ رمضان روحانیت کے عروج کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں جسم پر روح کا بول بالا ہوتا ہے۔ جسمانی تقاضوں کو دبا کر روحانی تقاضوں کی تکمیل کی جاتی ہے۔ اگر اس پورے مہینے میں جسم کی طرف توجہ صرف ضرورت کے بقدر رہے اور ساری توجہ روح کی طرف رہے تو روحانی قوت میں اضافہ ہوگا۔ لیکن اگر اس مہینے میں بھی زیادہ توجہ جسمانی تقاضوں کی طرف رہی، لذت کام و دہن کی فکر زیادہ رہی، رمضان کی روح پرور راتیں کھانے پینے کے مقصد سے ہوٹلوں کی نذر ہوتی رہیں، روزے سے زیادہ توجہ افطار اور سحری پر رہی تو جسم کے وزن میں بلاشبہ اضافہ ہوگا، لیکن روحانی قوت میں اضافہ نہیں ہوگا جبکہ یہ اصل قوت ہے۔ یاد رکھیں، روزہ رکھنے کے لئے سحری اور افطار کا اہتمام ہونا چاہئے نہ کہ سحری اور افطار کی خاطر روزے رکھے جائیں۔ رمضان کو لذیذ کھانوں کے لئے نہیں بلکہ بھوک اور پیاس کیلئے یاد کیا جائے۔
رمضان میں جب آپ مادی تقاضوں پر روحانی تقاضوں کو غالب کرنے کا کامیاب تجربہ کرلیں گے، تو اس تجربے سے پوری زندگی فائدہ اٹھائیں گے، ان شاء اللہ۔
موجودہ دور کے انسان پر مادی سوچ کا تسلط رہتا ہے۔ مادی تقاضوں کے بارے میں وہ اتنا فکر مند رہتا ہے کہ اخلاقی اور روحانی تقاضوں کی طرف اسے توجہ دینے کا موقع بہت کم ملتا ہے۔ مادی تقاضوں پر ارتکاز انسان کی شخصیت کو گھن کی طرح چاٹ جاتا ہے اور اس کی الجھنوں اور پریشانیوں میں مسلسل اضافہ کرتا ہے۔ رمضان کے کامیاب روحانی تجربے کے بعد انسان کی کیفیت تبدیل ہونا چاہئے۔ وہ دنیا کے نفع نقصان سے زیادہ آخرت کے نفع نقصان کے بارے میں فکر مند ہوجائے۔
یہ بھی پڑھئے: اہل جنت میں شامل ہونے کیلئے آج ہی اپنا احتساب کرلیجئے
اس دور کے انسان کی سب سے بڑی آزادی یہی ہے کہ وہ مادیت کی بھاری بیڑیوں سے اپنے بوجھل وجود کو آزاد کر لے۔
ماہِ رمضان نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا مہینہ ہے۔ آپ روزے کی حالت میں کئی طرح کی خواہشات کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ دنیا کے سارے فتنہ وفساد کی جڑ نفس پرستی ہے۔ انسان کی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی نفسانی خواہشات ہوتی ہیں۔ یہ نفسانی خواہشات ہی ہیں جو اسے زندگی کے اعلیٰ مقصد سے غافل کردیتی ہیں۔
آپ نے رمضان کے مہینے میں اپنی نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنے میں ایک طرح کی کامیابی حاصل کی ہے۔ رمضان بعد اس کامیابی کو ناکامی سے نہ بدلیں۔ بھوک اور پیاس کی شدید خواہش پر آپ نے قابو پاکر اپنے آپ کو طاقتور بنالیا ہے۔ اب اس طاقت کا خاطرخواہ اور بھر پور استعمال کریں اور ہر طرح کی نفسانی خواہشات کو ان کے طے کردہ حدود میں رکھیں۔
جسم اور جسم کے لباس کی گندگی انسان کو برداشت نہیں ہوتی۔ انسان یہ نہیں چاہتا کہ لوگ اس کے جسم و لباس کی گندگی محسوس کریں۔ اس لئے لوگوں کے محسوس کرنے سے پہلے وہ خود محسوس کرتا ہے اور جلدی سے صاف ستھرا ہوکر گھر سے نکلتا ہے۔
دل کے اندر کی گندگی دوسروں کو نظر نہیں آتی، اس لئے انسان خود بھی انہیں دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ نظر آنے والی بیرونی گندگی کو برداشت نہیں کرتا اور اندرونی گندگی کے ساتھ، جو نظر نہیں آتی، بخوشی گزارا کرلیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دل کی صفائی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ کیوں کہ دل کی طرف اللہ کی خاص توجہ ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آج سورہ ٔانبیاء میں انبیاء کرام ؑ کے قصے اور سورۂ حج میں احکامِ حج سنئے
اگر ہم جسم اور لباس کی صفائی کا خیال اس لئے رکھتے ہیں کہ انسانوں کی توجہ ادھر جاتی ہے تو دل کی صفائی کا خیال اور زیادہ رکھنا چاہئے یہ سوچ کر کہ اللہ کی خاص توجہ دل کی طرف ہوتی ہے۔ روزہ ایک طرح سے باطنی کیفیت ہے۔ روزے میں اپنے اندرون کی طرف دیکھنے کا زیادہ موقع ملتا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اندر کی گندگی صاف کرڈالیں۔ بغض ، کینہ، نفرت، حسد، جلن، گھمنڈ، ریا کاری اور ان گندگیوں کے علاوہ لوگوں سے بہت سی چھوٹی بڑی شکایتیں ہوتی ہیں جو دل کی فضا کو آلودہ رکھتی ہیں۔ان سے بچنا چاہئے۔
انسان کی معمول کی سرگرمیاں ہوتی ہیں، جن میں وہ روزانہ ہی مصروف رہتا ہے۔ تاہم خاص مواقع کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ رمضان کا مہینہ بندۂ مومن کی زندگی کا بہت خاص موقع ہوتا ہے۔ ماہِ رمضان میں زیادہ سے زیادہ وقت رمضان والے کاموں کیلئے نکالنا چاہئے۔ قرآن کی تلاوت و تدبر، قیام لیل، خوب خوب ذکر و دعا، فقراء و مساکین پر زیادہ سے زیادہ انفاق، اپنے نفس کا جائزہ اور تزکیہ نفس کی تدبیریں۔
لایعنی اور غیر مفید کاموں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنا تو کبھی بھی درست نہیں ہوتا ہے، لیکن رمضان کے مبارک مہینے کی کسی قیمتی ساعت کو ضائع کرنا تو بہت بڑی نادانی ہے۔ ماہ رمضان میں جب آپ لغو اور فضول کاموں سے اجتناب کرکے بہترین کاموں میں اپنا وقت لگاتے ہیں تو دراصل آپ اپنے وقت کے سلسلے میں بہترین رویے سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ آپ وقت ضائع کرنے کے بجائے وقت مفید بنانے کا قیمتی تجربہ کرتے ہیں۔ اتنی زبردست آگہی کے بعد توقع کی جاتی ہے کہ ماہِ رمضان کے بعد بھی آپ اپنے وقت کا بہتر استعمال کرنا پسند کرنے لگیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: حجر والوں کاقصہ، شیطان کا انکار، شہد کی مکھی کا ذکر اور آپؐ کی دلدہی کی آیات
ماہِ رمضان میں سرور الانبیاء ؐ کی سب سے خاص سرگرمی قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر غور و فکر ہوتی تھی۔ ماہِ رمضان کا قرآن مجید سے بہت گہرا تعلق ہے۔ اس ماہ میں آپ کا بھی قرآن مجید سے تعلق بہت مضبوط ہوجانا چاہئے۔ اپنی گفتگو کو قرآن سے مربوط کردیجئے۔ قرآن کی باتیں آپ کی باتوں کا موضوع بن جائیں۔ گھر میں بھی قرآنی گفتگو ہو اور گھر سے باہر بھی قرآنی گفتگو ہو۔ اپنی فکر کو بھی قران سے وابستہ کردیجئے۔ قرآن جن موضوعات کو پیش کرتا ہے، ان پر زیادہ سے زیادہ سوچیں اور غور کریں۔ قرآن سے اپنے لگاؤ کو بڑھائیں اور دوسروں کے اندر بھی قرآن سے لگاؤ بڑھانے کی کوشش کریں۔ یقین رکھیں آپ کی کامیابی قرآن سے وابستہ ہے۔ قرآن سے ایمان بڑھتا ہے۔ قرآن سے احسان کی راہیں کھلتی ہیں ۔ قرآن سے حکمت و دانائی ملتی ہے۔ قرآن سے سوز و گداز ملتا ہے۔ قرآن سے بلندیوں کی طرف لے جانے والا زینہ ملتا ہے۔ قرآن سے حقیقی کامیابی کا راز کھلتا ہے۔ ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ قرآن کے کتنے فوائد ہیں۔ دراصل قرآن والا ہی اللہ والا ہوتا ہے۔ رمضان بلندیوں پر لے جانیوالا مہینہ ہے۔ ان بلندیوں تک پہنچنے اور ثابت قدمی کے ساتھ وہیں رک جانے کا عزم کریں۔ (زندگی ٔ نو)