ان لیبلوں کو بنانا کافی مشکل اور وقت طلب عمل ہے، اس میں معمولی سی غلطی بھی قانون کی خلاف ورزی تصور کی جاسکتی ہے جس کیلئے کمپنی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 10:51 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
ان لیبلوں کو بنانا کافی مشکل اور وقت طلب عمل ہے، اس میں معمولی سی غلطی بھی قانون کی خلاف ورزی تصور کی جاسکتی ہے جس کیلئے کمپنی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔
گروسری شاپنگ کے وقت جب ایک گاہک/ صارف اسٹور میں مختلف اشیاء کا جائزہ لے رہا ہوتا ہے تو اس کی نظریں خاص طور پر ان اشاریوں پر ہوتی ہیں: کیلوریز، اجزاء، شکر اور چربی کی مقدار، ایکسپائری ڈیٹ اور ذخیرہ کرنے کا طریقہ وغیرہ۔ خوراک کی تفصیل پیش کرنے والا یہ لیبل درحقیقت ’سائیلنٹ سیلز مین‘ (خاموش سیلز مین) کا کام کرتا ہے جو صارف کو بتاتا ہے کہ وہ کیا خرید رہا ہے؟ کیسے کھا سکتا ہے؟ اور کیا اسے محفوظ مانا جانا چاہئے؟ اس لیبل کو عام طور پر ’نیوٹریشن فیکٹس لیبل‘ یا ’نیوٹریشن فیکٹس پینل‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان لیبلز کو بنانا کتنا مشکل اور وقت طلب عمل ہے؟ اس میں معمولی غلطی بھی قانون کی خلاف ورزی تصور ہوئی تو کمپنی کو بھاری جرمانہ، اشیاء کے اسٹاکس بازار سے واپس منگوانا، یا اسے مارکیٹ سے نکالنے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: فرینڈز؛ انسٹاگرام کی نئی چال اور ڈجیٹل معیشت کا بدلتا چہرہ
نیوٹریشن لیبل کیوں اہم ہے؟خوراک کے معیار اور حفاظت کے قوانین دنیا بھر میں سخت ہورہے ہیں۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) جیسے ادارے خوراک کی تیاری، اسٹوریج، تقسیم اور فروخت کیلئے واضح قواعد بناتے ہیں۔ عالمی تجارت میں داخل ہونے والی ہر شے کو مختلف ممالک کے الگ الگ ضوابط کے مطابق لیبل حاصل کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہندوستان، امریکہ، یور پی یونین، برطانیہ، خلیجی ممالک، آسٹریلیا سبھی کے قواعد مختلف ہیں۔ روایتی طریقے سے لیبل بنانا مہنگا، سست اور غلطیوں سے خالی نہیں رہتا۔ مارکیٹنگ، آر اینڈ ڈی، غذائیت کے تجزیے، قانونی ٹیم، ڈیزائننگ اور پرنٹنگ ہر مرحلے میں انسانی غلطی کا خطرہ رہتا ہے، خاص طور پر جب ایک برانڈ سیکڑوں اشیاء بناتا ہو، جیسے پارلے ، مختلف برانڈ کے بسکٹ اور دیگر اشیاء بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: بھجن کلبنگ؛ فیک ویڈنگ کے بعد جین زی کا نیا ثقافتی رجحان
لیکن اب ان لیبلز کو تیار کرنا آسان ہوگیا ہے۔ اے آئی کی مدد سے اب یہ لیبل چند سیکنڈز میں ممالک کے قواعد کی مناسبت سے قانونی طور پر درست تیار ہوجاتے ہیں۔ یہ غلطیوں کو فوراً پکڑتا ہے اور معیاری نتائج فراہم کرتا ہے۔ اس سے وقت بچتا ہے اور برانڈ کی عالمی مارکیٹس میں اپنی مقبولیت بڑھانے میں معاونت ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان لیبلز کے ذریعے درآمد اور برآمد کافی آسان ہوجاتی ہے۔ اگر ہندوستانی برانڈز عالمی معیار کے نیوٹریشن لیبل لگانا شروع کردیں تو وہ بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہندوستان کے ساتھ مختلف ممالک کی آزاد تجارت کے معاہدوں کا فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ایک مسالہ کمپنی اپنی مصنوعات امریکہ، یورپ یا مشرقِ وسطیٰ میں فروخت کرنا چاہتی ہے، تو اسے ہر بازار کے الگ قوانین کے مطابق نیوٹریشن لیبل تیار کرنا ہوگا۔ ایف او ایل ایس او ایل جیسی اے آئی ٹیکنالوجیز اس عمل کو نہ صرف آسان بناتی ہیں بلکہ برآمد کے عمل میں تاخیر اور اخراجات کو بھی کم کرتی ہیں۔
ہندوستان میں تقریباً ۲ء۱؍ کروڑ سے زیادہ گروسری اسٹورز اور راشن کی دکانیں ہیں۔ ان چھوٹے کاروباروں کیلئے نیوٹریشن لیبل کے تقاضے اکثر بوجھ بن جاتے ہیں کیونکہ ان کی ڈجیٹل یا قانونی ماہرین تک آسان رسائی نہیں ہوتی۔ وہ اے آئی کی مدد سے کم لاگت سے لیبل تیار کرکے قانونی پیچیدگیوں سے بچ سکتے ہیں۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر ڈجیٹل عالمگیر معیارات کو فروغ دیں تو چھوٹے کاروبار بھی عالمی منڈی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ آج کا صارف کھانے پینے کی اشیاء کے بارے میں زیادہ شعور رکھتا ہے۔ غذائی اجزاء، توانائی، شوگر لیول، اور صحت کے دعوؤں پر صارف کا اعتماد ایک برانڈ کی کامیابی میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ درست لیبل نہ صرف صارف کو معلومات دیتا ہے بلکہ برانڈ کے تئیں وفاداری بھی مضبوط کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ’زیرو کلک‘ اور اے آئی جوابات کے سبب بدلتی ڈجیٹل معیشت
عالمی سطح پر کھانے پینے کی اشیاء کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہندوستان اس میں ایک اہم کھلاڑی بن رہا ہے۔ نیوٹریشن لیبل جیسے حل نہ صرف قانونی پیچیدگیوں کو ختم کر رہے ہیں بلکہ چھوٹے اور بڑے کاروباروں کو عالمی معیشت میں حصہ لینے کے قابل بنا رہے ہیں۔ اگر ملک کا ہر چھوٹا بڑا کاروبار اس جانب توجہ دے تو وہ نہ صرف ڈجیٹل معیشت کا حصہ بنے گا بلکہ روایتی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔