ہمارے ملک میں بھی اب ایسے اسٹوڈیوز اور فری لانسرز کی تعداد بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے جو مرحوم افراد کی آواز، چہرہ اور انداز کو اے آئی کی مدد سے دوبارہ تخلیق کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 10:20 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
ہمارے ملک میں بھی اب ایسے اسٹوڈیوز اور فری لانسرز کی تعداد بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے جو مرحوم افراد کی آواز، چہرہ اور انداز کو اے آئی کی مدد سے دوبارہ تخلیق کرتے ہیں۔
دہلی کے ایک شادی ہال میں اسکرین پر اچانک ایک ویڈیو چلتا ہے۔ ایک بوڑھا شخص جو چند برس پہلے دنیا سے جاچکا ہے، مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے کو شادی کی مبارکباد دے رہا ہے۔ ہال میں بیٹھے لوگ حیران بھی ہیں اور جذباتی بھی۔ یہ کوئی معجزہ نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا کمال ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اب یہ صرف جذباتی تجربہ نہیں بلکہ ایک تیزی سے بڑھتا ہوا کاروبار بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ہندوستانی سنیما کا بدلنا رجحان؛ اب ہدایت کار ہیں ’اسٹار‘
ہندوستان میں اب ایسے اسٹوڈیوز اور فری لانسرز کی تعداد بڑھ رہی ہے جو مرحوم افراد کی آواز، چہرہ اور انداز کو اے آئی کی مدد سے دوبارہ تخلیق کرتے ہیں۔ یہ ویڈیوز شادیوں، یادگاری تقریبات اور خاندانی پروگراموں میں دکھائے جاتے ہیں۔ یہ رجحان جسے دنیا بھر میں ’گریف ٹیک‘ (Grief Tech) یا ڈجیٹل آفٹر لائف ٹیکنالوجی کہا جا رہا ہے، اب ایک نئی معاشی صنعت کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اس کاروبار کی بنیاد دراصل انسانی جذبات ہیں۔ فنانشیل ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق کپڑوں کے ایک ہندوستانی تاجر نے اپنے مرحوم والد کو اپنی شادی میں ’شامل‘ کرنے کیلئے ایک اے آئی ویڈیو بنوایا جس کی قیمت تقریباً ۵۰؍ ہزار روپے تھی۔ آج ہندوستان میں چند سیکنڈز کے ایسے ویڈیوز بنانے کی قیمت عام طور پر ۵۰؍ ہزار سے ایک لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے، خاص طور پر اگر اس میں آواز کی نقل (voice cloning) بھی شامل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے شہروں کے ویڈیو ایڈیٹر، یوٹیوب سے سیکھنے والے فری لانسر اور چھوٹے اے آئی اسٹوڈیوز، سبھی اس نئے کاروبار میں داخل ہو رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس صنعت میں اب تک بڑی کمپنیوں نے قدم نہیں رکھا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا منافع چھوٹے کاروباری افراد کو ہورہا ہے۔
دنیا بھر میں اے آئی کے ذریعے ’ڈجیٹل ریزریکشن‘ (ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی کو دوبارہ زندہ کرنے کا عمل) کا تصور تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ اور جنوبی کوریا میں کچھ اسٹارٹ اپس ایسے اے آئی اوتار تیار کر رہے ہیں جن سے لوگ اپنے مرحوم عزیزوں سے بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی دراصل تین بڑی صنعتوں کو جوڑتی ہے: (۱)مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پروسیسنگ (۲) ڈجیٹل میڈیا اور ویڈیو پروڈکشن (۳) آن لائن میموری یا یادگاری سروسیز۔ اس طرح یہ ایک مکمل ڈجیٹل اکنامک ایکو سسٹم بن رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ہندوستان اس شعبے کیلئے ایک اہم مارکیٹ بن سکتا ہے کیونکہ یہاں خاندانی رشتوں اور مرحومین کی یاد کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔
اگر معاشی زاویے سے دیکھا جائے تو ہندوستان اس صنعت کیلئے کئی وجوہات کی بنا پر مثالی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: کیا جین زی معیشت کا ’’پاور سینٹر‘‘ بن رہی ہے؟
(۱) ڈجیٹل آبادی: ہندوستان دنیا کے سب سے بڑے انٹرنیٹ صارفین میں شامل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کے پاس پہلے سے تصاویر، ویڈیوز اور آوازوں کا ڈجیٹل ذخیرہ موجود ہوتا ہے، جسے اے آئی ماڈلز کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
(۲) سستی ٹیکنالوجی: اے آئی ٹولز جیسے ویڈیو جنریشن سافٹ ویئر اور امیج ماڈلز کی قیمت تیزی سے کم ہو رہی ہے، جس سے نئے کاروبار کھولنا آسان ہو گیا ہے۔
(۳) جذباتی ثقافت: ہندوستان میں یادگاری تقریبات، برسی اور خاندانی رسومات عام ہیں، جس کی وجہ سے اس قسم کی خدمات کیلئے طلب پیدا ہو رہی ہے۔
یہ تینوں عوامل مل کر ایک نئے ڈجیٹل سروس سیکٹر کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
مگر خطرات بھی کم نہیں جہاں یہ صنعت جذباتی سکون فراہم کر سکتی ہے، وہیں اس کے خطرات بھی ہیں۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی دراصل مصنوعی ویڈیوز اور آڈیو بنانے کا طریقہ ہے جو اصل اور جعلی کے درمیان فرق کو مشکل بنا دیتا ہے۔ اس کے ممکنہ مسائل میں شامل ہیں:شناخت اور پرائیویسی کے حقوق، سیاسی یا مالی دھوکہ دہی اور مرحوم افراد کی اجازت کا سوال۔ دنیا بھر میں ڈیپ فیک فراڈ سے اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، اور یہ خطرہ آنے والے برسوں میں مزید بڑھ سکتا ہے۔ اسی لئے ہندوستان میں اب ڈیپ فیک ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی بھی تیار کی جا رہی ہے، جیسے ’واستو اے آئی‘ جو جعلی ویڈیوز کو شناخت کرنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: فرینڈز؛ انسٹاگرام کی نئی چال اور ڈجیٹل معیشت کا بدلتا چہرہ
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند برسوں میں اے آئی پر مبنی یادگاری خدمات، ورچوئل اوتار اور ڈجیٹل یادداشت پلیٹ فارمز ایک بڑی صنعت بن سکتے ہیں۔ اس کے ممکنہ کاروباری ماڈلز میں شامل ہیں: ڈجیٹل میموری اسٹوریج، اے آئی اوتار سبسکرپشن سروسیز، ورچوئل یادگاری تقریبات اور تاریخی شخصیات کی ڈجیٹل بحالی۔ یعنی مستقبل میں ممکن ہے کہ ڈجیٹل قبرستان یا ’ورچوئل میموری پلیٹ فارم‘ ایک عام کاروبار بن جائیں۔مصنوعی ذہانت نے انسان کو نہ صرف مستقبل کی جھلک دکھائی ہے بلکہ ماضی کو بھی ایک نئی شکل دی ہے۔ ہندوستان میں مرحوم افراد کے اے آئی اوتار بنانا ابھی ایک چھوٹا مگر تیزی سے بڑھتا ہوا کاروبار ہے۔ یہ صنعت جذبات، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے امتزاج سے پیدا ہوئی ہے، اور اگر اس کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں کو سنبھال لیا گیا تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ’ڈجیٹل آفٹر لائف‘ ایک نئی عالمی معیشت کا حصہ بن جائے۔