• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُردو قومی تہذیب کا خوبصورت اظہار ہے: پروفیسر ناگاارجن واڈیکر

Updated: February 15, 2026, 10:38 AM IST | Mumbai

ممبئی میں سہ روزہ عالمی جشن ِاردوکے چوتھے ایڈیشن کا شاندار انعقاد۔ مذاکرے، مشاعرے، مرثیہ خوانی، افسانہ خوانی،مضمون نویسی، ڈرائنگ مقابلے، خطاطی مقابلے، مہندی ڈیزائن،مونو ایکٹنگ، اوپن مائیک، بیت بازی اور اسٹینڈ اَپ کامیڈی سے ہزاروں اہل اُردو محظوظ و مستفیض ہوئے۔

Stage view. The fourth Urdu festival was also memorable because the audience was not only present at each session but also enthusiastic. Photo: INN
اسٹیج کا منظر۔ چوتھا جشن اردو اسلئے بھی یادگار رہا کہ اس کے ہر اجلاس میں سامعین نہ صرف موجود تھے بلکہ پورے جوش و خروش کے ساتھ تھے۔ تصویر: آئی این این

اردو چینل، روٹس آف کائنڈنیس فائونڈیشن اور شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی کے زیر اہتمام فیروز شاہ مہتا بھون، کالینا کیمپس (ممبئی یونیورسٹی) میں چوتھےعالمی جشن اردو کا انعقاد نہایت تزک و احتشام سے کیا گیا۔ ـ افتتاحی سیشن کی صدارت یشونت رائو چوہان مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی کے (ایس ایچ ایس ایس) کے ڈائریکٹر پروفیسر ناگا رجن واڈیکر نے فرمائی اور جشن اردو کا افتتاح بھی کیا۔ ـ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ اردو ہندوستانی تہذیب کا ایک خوبصورت اظہار ہے جس کا ہندوستانی لسانی منظر نامے میں بہت اہم کردار ہے۔ اردو زبان نہ صرف شمالی ہندوستان میں بلکہ جنوب میں بھی بڑے پیمانے پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ مہاراشٹر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس قیصر خالد نے موجودہ دور میں اردو کی شناخت اور ترویج و ترقی کے تعلق سے بہت اہم نکات پیش کئے۔انہوں نے خاص طور سے فروغ ِ اردو کیلئے سرگرم اداروں کے مابین باہمی ہم آہنگی پر زور دیا۔ اردو چینل کے مدیر ڈاکٹر قمر صدیقی نے مہمانان کا تعارف پیش کیا اور جشن کی غرض و غایت بیان کی۔ ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے نظامت کا فریضہ انجام دیا۔اس اجلاس میں ڈاکٹر عبداللہ امتیاز احمد، صدر شعبہ اردو، ممبئی یونیورسٹی نے اردو کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ مہاراشٹر میں اردو کی ترویج و ترقی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔ روٹس آف کائنڈنیس فاؤنڈیشن کی روح رواں ریشما خان نے اردو کے فروغ کیلئے سنجیدہ اقدام اٹھانے پر زور دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: دولت، شہرت، ثروت، شجاعت اورذہانت.....سب سے اہم ہے : ہدایت

چوتھے جشن اردو کے پہلے دن شہر ممبئی و مضافات کے علاوہ ملک بھر سے ادبی شخصیتوں اور ادب دوست احباب کثیر تعداد میں شریک رہے اور اپنی اردو دوستی کا ثبوت فراہم کیا۔ افتتاح کے بعد اوپن مائک میں نوجوانوں نے پورے جوش کے ساتھ حصہ لیا۔ اوپن مائک کے علاوہ طلبہ کے مختلف مقابلے بھی منعقد ہوئے۔ مضمون نویسی اور ڈرائنگ کے مقابلے لیکچر کامپلس میں ہوئے۔ مہندی ڈیزائنگ، خطاطی، مجاہدین آزادی کی تمثیل اور مونو ایکٹنگ کے مقابلے فیروز شاہ مہتا بھون میں ہوئے۔ طلبہ کے مقابلے اور اوپن مائک میں مجموعی طور پر ۱۱۰۰؍ طلبہ نے حصہ لیا۔ ان مقابلوں کے بعد اکیسویں صدی میں اردو ناول کے عنوان سے مذاکرہ تھا جس میں ڈاکٹر سلیم خان، رحمٰن عباس اور صدر عالم گوہر نے معاصر اردو ناول پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اس مذاکرے کے ناظم شاداب رشید (مدیر نیا ورق) تھے۔ مذاکرہ کے بعد شعبہ اردو کے مقبول عام پروگرام ’’میرا ادبی سفر‘‘ کی صدارت ڈاکٹر عبداللہ امتیاز احمد نے کی جبکہ معروف شاعر اعجاز ہندی نے اپنا ادبی سفر بیان کیا۔ افسانہ خوانی کی نشست کی صدارت ڈاکٹر نگار عظیم نے کی جبکہ محمد اسلم پرویز مہمانِ خصوصی تھے۔ اس نشست میں ڈاکٹر وسیم عقیل شاہ کی نظامت میں ڈاکٹر ذاکر فیضی، عظمت اقبال اور محتشم اکبر نے افسانے پیش کیے۔ جشنِ اردو میں ہر سال کی طرح امسال بھی مرثیہ خوانی کی نشست کا اہتمام کیا گیا جو اس بار ڈاکٹر شعور اعظمی مرحوم سے منسوب تھی۔ اس نشست میں ضامن محمد آبادی، سید خوش ناز، منذر شعور اور ساتھیوں نے مرثیہ خوانی اور سوز خوانی پیش کی۔ معروف ڈراما نگار اقبال نیازی کی ہدایت میں اور کردار آرٹ اکیڈمی کے تعاون سے ’’داستانِ کیفی‘‘ جشنِ اردو کی ایک خاص پیشکش تھی جسے سامعین نے کافی پسند کیا۔

داستان گوئی کے بعد گیت سنگیت کی محفل میں گاندھرو جادھو اور گاتھا جادھو نے اپنی ٹیم کے ساتھ کلاسیکی غزلیں اور صوفی قوالی پیش کی۔ پہلے دن کا اختتام آل انڈیا مشاعرہ پر ہوا جس کی صدارت معروف شاعر ونود کمار ترپاٹھی نے کی جبکہ مہمانان خصوصی کے طور پر اسلم چشتی اور ڈاکٹر مہتاب عالم شامل رہے۔ شعراء میں دلشاد نظمی، عبداللہ ندیم، عبید حارث، مقصود آفاق، شہروز خاور، فاضل فیض، احمد اورنگ آبادی اور جمال اختر عراقی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کو اپنے حساب سے معاہدے کیلئے مجبور کرنے میں امریکہ کامیاب

دوسرے دن کا آغاز اوپن مائک کے مقابلے سے ہوا۔ اس کے بعد بیت بازی کا مقابلہ ہوا۔ یہ مقابلہ الفاظ کرافٹ کے تکنیکی تعاون سے منعقد ہوا جو مکمل طور پر ڈیجیٹل تھا۔ یہ مقابلہ طلبہ کے جوش اور ٹیکنالوجی کی آمیزش کے سبب کافی دلچسپ ہوگیا تھا۔ اس کے بعد مالیگائوں میں اردو کے عنوان سے مذاکرہ کی صدارت ڈاکٹر عبدلماجد انصاری نے کی۔ مہمانِ خصوصی ضیا حکیم اور مہمانِ اعزازی ڈاکٹر احتشام دانش تھے جبکہ شرکاء میں جاوید انصاری، مظہر معاذ شوقی اور رمضان مکی شامل تھے۔ اس مذاکرہ میں مالیگائوں کی علمی و ادبی تاریخ کا بھر پور احاطہ کیا گیا۔ امپا کے تعاون سے ’’صحت اور سماج‘‘ میں ڈاکٹر زبیر شیخ، ڈاکٹر یاسمین پٹھان، ڈاکٹر عفان خان، ڈاکٹر رضوان خان اور ڈاکٹر سلیم خان کی ٹیم نے مختلف امراض کے تعلق سے سامعین کو بنیادی معلومات فراہم کیں۔ کوئز ٹائم کے روح رواں اور معروف کوئز ماسٹر حامد اقبال صدیقی کے پیش کردہ کوئز میں سامعین نے پوری دلچسپی کے ساتھ شرکت کی اور انعامات جیتے۔ کوئز کے بعد جواں سال اسٹینڈ اپ کامیڈین ذکی خان نے اپنے فن سے محفل کو قہقہہ زار بنایا اور خوب داد بٹوری۔ ہنسی کی محفل کے بعد معروف ڈراما نگار عدنان سر کھوت کی ہدایت و اداکاری اور ووگ تھیٹر کے تعاون سے ڈراما ’’تین گھنٹے‘‘ پیش کیا گیا جس کواپنے موضوع، عدیم المثال پیشکش اور غیر معمولی اداکاری کے سبب کافی پسند کیا گیا۔ ڈرامے کے بعد دوسرے دن کا اختتام قیصر خالد کی صدارت میں آل انڈیا مشاعرہ پر ہوا۔ ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا مہمانِ خصوصی اورسجیت سہگل مہمانِ اعزازی کے طور پر شریک رہے۔ عرفان جعفری کی نظامت میں جن شعرا نے کلام سنایا وہ تھے: شاہد لطیف، قاسم امام، حامد اقبال صدیقی، عبید اعظم اعظمی، قمر صدیقی، مقصود بستوی، ذاکر خان ذاکر، وسیم خان وسیم، رشید اشرف خان اور ذکی خان۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’صبح کے وقت اخبار بینی اور عشاء کے بعد کتب بینی آج بھی میرے معمول کا حصہ ہے‘‘

جشنِ اردو کے تیسرے دن ’’اوپن مائک‘‘ میں کثیر تعداد میں نوجوان قلمکاروں نے شرکت کی۔ اس کے بعد ترجمہ اور مشینی ترجمہ کے موضوع پر مذاکرہ کی صدارت معروف مترجم قاسم ندیم نے کی جبکہ وقار قادری اور ڈاکٹر غلام عارف بطور مہمان اور ڈاکٹرمحمد تابش خان، شاہ تاج خان اور ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر بطور شرکا شامل رہے۔ اس مذاکرہ کے بعد صحافت اور نئے چیلنجز کے عنوان سے مذاکرہ کی صدارت ٹائمز آف انڈیا کے سینئر صحافی وجیہہ الدین نے کی جبکہ شرکاء میں جاوید جمال الدین، انیس صدیقی، قطب الدین شاہد ، ڈاکٹر قمر صدیقی اور ڈاکٹر رشید اشرف خان شامل رہے۔ اس بار جشن اردو میں مجروح سلطان پوری کے نغموں پر ایک خصوصی پروگرام کی نظامت اقبال نیازی نے کی جبکہ گلوکاروں میں ناصر یوسف، زرین خان اور عرشیہ صدیقی نے اپنے فن کو بڑے سلیقے سے پیش کیا۔ بعد ازیں معرو ف اسٹینڈ اپ کامیڈین رحمٰن خان نے اپنے مزاح سے سامعین کا دل جیت لیا۔ اس کے بعد معروف شاعر اسلم حسن کی کتاب ’’جہاں ہر قدم پہ منزل ہے‘‘ کا اجرا شعبۂ مراٹھی، ممبئی یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ونود کُمرے نے کیا۔ تین روزہ جشنِ اردو کا اختتام کثیر لسانی مشاعرہ کے ساتھ ہوا جس کی صدارت سلیم محی الدین نے جبکہ نظامت کا فریضہ ممتاز ناظمِ مشاعرہ یوسف دیوان نے ادا کیا۔ شعرا میں اعجاز ہندی، نوفل آریہ، سنہیتا جوشی، احسن عثمانی، سہیل اکمل اور مجیب الرحمٰن کے نام شامل تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK