نوجوانوں کی رہنمائی کے اس کالم میں ہم نے کبھی تصوّر بھی نہیں کیا تھا کہ اس میں ہمیں ایپسٹین فائلز کا ذکر بھی کرنا پڑے گا مگر اب اسے کیا کیجئے کہ اس میڈیا میں ہم کچھ کہنے سے پہلے ہی نوجوان طبقہ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے ان سب سے واقف ہو چکا ہے۔پرنٹ میڈیا کا البتہ ایک بڑا ہی خوشگوار اور آنکھوں کو ٹھنڈک دلانے والا کردا ر اب بھی باقی ہے کہ ہم برقی صفحات سے زیادہ احسن طریقے سے ورقی صفحات پر اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔ اس پر بحث کر سکتے ہیں اور قلم کی (سیاہی نہیں بلکہ) روشنائی سے بھرپورہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
نوجوانوں کی رہنمائی کے اس کالم میں ہم نے کبھی تصوّر بھی نہیں کیا تھا کہ اس میں ہمیں ایپسٹین فائلز کا ذکر بھی کرنا پڑے گا مگر اب اسے کیا کیجئے کہ اس میڈیا میں ہم کچھ کہنے سے پہلے ہی نوجوان طبقہ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے ان سب سے واقف ہو چکا ہے۔پرنٹ میڈیا کا البتہ ایک بڑا ہی خوشگوار اور آنکھوں کو ٹھنڈک دلانے والا کردا ر اب بھی باقی ہے کہ ہم برقی صفحات سے زیادہ احسن طریقے سے ورقی صفحات پر اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔ اس پر بحث کر سکتے ہیں اور قلم کی (سیاہی نہیں بلکہ) روشنائی سے بھرپورہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نصاب کے ذریعے معصوم ذہنوں پر فرقہ پرستی کی کاشت کاری : ہم کتنے تیار ہیں؟
نوجوانو! سبق، صرف سبق حاصل کر لیجئے کہ ہم ساری مخلوقات میں افضل ہیں، اشرف ہیں اور کسی نام نہاد تہذیب کے علمبردار ہر گز نہیں، اس لیے حق و باطل کی کسوٹی تھامے کھڑے رہیں۔ ایپسٹین فائلز کے خوفناک مناظر دیکھ کر آپ سب سے پہلے اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ پچھلے وقتوں کے ہولناک جانور ڈائنا سور ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اُن میں سے کئی اب انسانوں جیسی شکل و صورت اختیار کرگئے ہیں اور وہ تو صاحبِ اقتدار بھی بن گئے، چند بستیوں اور علاقوں پر نہیں بلکہ کئی ملکوں پر راج کر رہے ہیں۔
نوجوانو! دوسرا سبق یہ ہے کہ آپ لوگ بہت جلد کسی کو اپنا رول ماڈل بنا لیتے ہیں۔ کسی کی دولت، ثروت ، شہرت، شجاعت اور ذہانت و غیرہ سے متاثر ہو کر اُسے اپنا آئیڈیل بنالیتے ہیں۔ آپ کبھی ایلون مسک کی بے شمار دولت سے متاثرہوئے اور کبھی بِل گیٹس کی بے پناہ ذہانت سے۔ کسی خوبرو ہیرو سے متاثر ہوئے اور کسی عالمی طاقت کے سربراہ کی شجاعت سے۔ہم تو فزکس کے مشہور سائنسداں اسٹیفن ہاکنگ سے بھی متاثر ہوگئے تھے کہ جس کےجسم میں کوئی جنبش نہیں ہوتی، وہ ہواؤں میں، خلاؤں میںبات کرتا ہے اور پوری طرح جسمانی معذور ہے۔ آج اگر وہ بھی ان شیطانی فائلز میں موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شیطانیت صرف ذہن میں جنم لیتی ہے اُس کا جسم سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’امریکی معاشرہ سیاہ فاموں کو دوسرے درجے کی زندگی جینے پر مجبور کرتا ہے‘‘
نوجوانو! اِن شیطانی فائلز سے تیسرا سبق یہ ملتا ہے کہ یہ اصل چہرہ ہے۔ جدید تہذیب کے علمبر داروں کا، خواتین و بچّوں کے حقوق کے پاسبانوں کا، میرا جسم، میری مرضی جیسے شیطانی نعرے لگانے والوں کا، اکیسویں صدی میں پچیسویں صدی کی باتیں کرنے والوں کا، کلوننگ سے انسان پیدا کرنے کے دعویٰ کرنے والوں کا، خلاؤں کے ایک ایک انچ پر قبضہ کرنے والوں کا، رِفاہ عام کیلئے ملین / بلین کے عطیہ کرنے والوں کا،مصنوعی ذہانت سے قدرتی ذہانت کو مات دینے کا دعویٰ کرنے والوں کا، الگورتھم سے ساری کائنات پر قبضہ کرنے میں کوشاں ذہین و فطین افراد کا۔
نو جوانو! اِن شیطانی فائلز کا چوتھا سبق یہ ہے کہ یہ فائلز کسی ایپسٹین نامی فرد واحد کا جرم نہیں ہے، آج رائج سارے نظام جیسے تربیتی، تعلیمی، ثقافتی، معاشی اور عدلیاتی نظام کی مکمل ناکامی ہے۔ یہ سارے نظام آناً فاناً تہہ و بالا نہیں ہوئے،اِن کا زوال اُس وقت شروع ہوا جب عقل و خرد والے، علم وفن والے اور دولت و ثروت والے جب ان سبھوں کی بناء پربدمست ہاتھیوں کی طرح جھومنے لگے کہ اب انھیں کوئی نہیں روک سکتا،بس اسی نشے نے انہیں اتنا مخمور کر دیا کہ وہ سارے نظام کی دھجیاں اُڑانے لگے۔
یہ بھی پڑھئے: اجیت پوار کا ہوائی جہاز حادثہ: شہری ہوابازی کی ناقص کارکردگی اور حکومت کی بے حسی
نوجوانو! ان شیطانی فائلز کا پانچواں سبق یہ ہے کہ یہ فائلز ایک استعارہ ہے، بے پناہ دولت اور بے تحا شہ طاقت کا۔ در اصل انسانی دماغ میں خلیات کی تعداد۰۰ ا؍ارب نیورونز ہوتی ہیں۔ اِن کے خلیات میں اپنے آپ میں کوئی کمی و خامی خالق کائنات نے نہیں رکھی۔ انسان ان میں خلل پیدا کرتا ہے اور پھر اُس کی خواہشات کا سلسلہ کبھی نہیں رُکتا۔ کبھی کسی کو بے حساب دولت اور بے پناہ طاقت واقتدار یوں ہی حاصل نہیں ہوتا،وہ صرف اور صرف دوسروں کے ساتھ نا انصافی ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ حق وانصاف کے بل بوتے حاصل کی ہوئی دولت و ذہانت ، حکومت و اقتدار کبھی کوئی انسان عیش و عیّاشی میں نہیں اْڑاتا ۔
نوجوانو! دل دہلانے والی اِن فائلز سے آگے کیا ہے؟ ہم آپ کے لیے غورو فکراپنی زندگی کے لیے منصوبہ تاکہ آج ہمیں، ہمارے آنے والی کوئی بھی نسل ان وحشی درندوں کی صف میں شامل نہ ہو جائے :
(۱) ہمیں بہر حال اپنی زندگی خالق کا ئنات کے آخری کلام کی روشنی ہی میں طے کرنی ہے۔ اس اے آئی اور روبوٹس کے زمانے میں بھی ؟ جی ہاں اس لئے کہ اب کوئی کتاب نہیں آنے والی۔ مگر وہ کیسے ؟ سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اس پر بحث و مباحثہ کرتے نہ رہیں کیونکہ جس کو ہدایت ملی ہے وہ پہلی سورۃ یعنی سورہ فاتحہ پڑھ کر ہی لرز جائے گا کہ اس سے بہتردعا کوئی نہیں ہو سکتی اور وہ یقین کرلے گا کہ یہ اللہ کا کلام ہے البتہ جس کو ہدایت نہیں ملی یا جو گمراہ ہے وہ آخری سورۃ الناس پر پہنچے گا مگر پھر بھی تذبذب یا بے یقینی کی کیفیت کے عالم میں مبتلا رہے گا کہ آیا یہ اللہ کا کلام ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یو جی سی تنازع:مساوات کو یقینی بنانے کی سنجیدہ کوشش یا سیاسی بساط پر ایک اور چال
(۲) جب بھی کوئی انسان اللہ کو اپنامعبود نہیں مانتا تب اس کے پاس صرف ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنالے۔ پھر اُس کی زندگی صرف اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے، واپسی لگ بھگ ناممکن سوائے اس کے کہ اگر وہ تو بہ کرلے۔
(۳) ان سیاہ فائلز کے جدید شیاطین کو پتہ بھی ہے کہ اس کا ئنات کے اس درجہ وسیع نظام کا خالق صرف ایک ہی ہے مگر اُنہوں نے طے کیا ہے کہ انھیں زندگی کا ہر پل ’جینا‘ ہے اور وہ کسی سخت نظام، ڈسپلن، پابندیوں سے ممکن نہیں ہے لہٰذاانہوں نے منطق کو اپنا خدا بنالیا ہے اور اپنے وسائل پر وہ بے حد مسرور اور نازاں ہیں کہ اُنھیں کوئی مات نہیں کرسکتا ، موت بھی نہیں۔
(۴)نوجوانان یہ سمجھ لیں کہ اس کائنات کا سارا معاملہ حق و باطل کی تفریق ہی کا ہے کہ ہم حق و باطل کی تفریق کرپاتے ہیں یا نہیںاور پھر اُس کو بہر صورت و بہر حال نبھاتے ہیں یا نہیں یا ہمارے قول و فعل میں کوئی تضاد ہے؟ اس جد و جہد حیات میں ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے، ہمارا نفس۔آج کا جدید ترین انسان بھی یہ جانتا ہے کہ نفس پر قابو پانا ہی ہے، اس کی تکمیل کے لئے وہ کئی منصوبے اور پروگرام تشکیل دیتے رہتا ہے۔ عرف عام میں اُسے شخصیت سازی یا پرسنالٹی ڈیولپمنٹ کہا جاتا ہے۔ آج یہ پروگرام اربوں روپے بلکہ ڈالر کا عالمی بزنس ہے۔اس کے ذریعے سے نوجوانو آپ سے ہزاروں ڈالر فیس لی جاتی ہے اور اُس کے ذریعے اپنے آپ پر قابو پانا، ڈسپلن اور نظم و ضبط رائج کرنا سکھایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا خبطی پن بالآخر امریکہ ہی کو نقصان پہنچائے گا
در اصل پرسنالٹی ڈیولپمنٹ یاشخصیت سازی ایک قرآنی اصطلاح ہے۔ قرآن میں اُسے تزکیۂ نفس کہا جاتا ہے۔ دنیاوی پروگراموں میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ سانس روک کر آنکھیں بند کرکے وغیرہ اپنے جسم (مع دماغ) پر قابو کیسے پایا جائے۔ ہمارے دین نے بھی اس کے لیے دو نظام مقرر کئے ہیں جن کے نام ہیں (الف) نماز (ب) روزہ۔
نماز میں پورے ارتکاز و یکسوئی کے ساتھ اپنے آپ کو رب کائنات کے سپرد کرنا۔ اس عمل کو وقت کی پابندی کے ساتھ انجام دینے سے ٹائم مینجمنٹ کی عادت پڑ جاتی ہے۔ روزہ ہمارے دین کا ایک ایسا مکمل نظام ہے جس میں سال بھر میں ایک پورا مہینہ بھوک و پیاس سمیت اپنے نفس اور اپنے ہر عمل پر قابو پانا سکھایا جاتا ہے۔ یہ کچھ اس طرح کہ سال کے اگلے گیارہ مہینے وہ ایک مہینے کی سخت قسم کی ٹریننگ پل پل یاد آئے۔ گیارہ مہینے پورے ہوتے ہی پھر رمضان آ رہا ہے ہمارے نفس کو رِیچارج کرنے کیلئے۔
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتےمہاراشٹر کے بیشتر اخبارات نے اجیت پوار کی ناگہانی موت کو موضوع بنایا
نماز و روزے کے ان دو مکمل نظام کی بنا پر ہم دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہر دَور میںہر قسم کے شر چاہے وہ انسانی ہوں یاٹیکنالوجی کی وجہ سے ہوں، اُن سارے شر کا علاج دین کے ان دو فرائض میں پوشیدہ ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیاں بھی سمجھ لیں کہ وہ کسی کی بھی شہرت، دولت ، ذہانت وغیرہ سے متاثر نہ ہوں کیونکہ ہماری سب سے بڑی دولت صرف ہدایت ہے۔ کالج میں دین سے بھٹکنے والے لڑکے یا مُرتد ہونے والی لڑکیاںخوب خوب سمجھ لیںکہ آخری اور مکمل ہدایت نامے یعنی قرآن سے ہدایت حاصل کرنے ہی میں نجات ہے اور ذہنی و قلبی سکون بھی ہے۔