Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۲۴): ’’یہ شامی کباب نہیں، شام کے کباب ہیں، شام ہی میں بنتے ہیں‘‘

Updated: March 15, 2026, 10:27 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

بازار میں یو ٹرن آگیا تھا، یعنی گھوم کر دوسری طرف کی دکانوں اور ٹھیلوں سے سامان خریدو اور نکلتے بنو، بالفاظ دیگر دوسری طرف کی آزمائشوں سے گزرو اور ایمان بچا کے نکل سکو تو نکل جاؤ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رمضان المبارک میں نمازِ عصر کے بعد بازار کا رُخ کرنا، دراصل ایک نفسیاتی امتحان ہوتا ہے۔ آدمی گھر سے اس عزم کے ساتھ نکلتا ہے کہ صرف افطار کا سامان خریدنا ہے مگر پکوانوں کی خوشبوئیں، آوازیں اور دکانداروں کی شاعری نما صدائیں ایسے گھیر لیتی ہیں کہ روزہ دار سوچ میں پڑجاتا ہے کہ وہ افطار بازار میں ہے یا میلے میں۔ اس وقت بازار جانا ویسا ہی خطرناک مشن ہے جیسے خالی پیٹ شادی میں پکوانوں کی قطار میں کھڑا ہونا۔ نیت مضبوط، ارادے فولادی، مگر دل سموسوں کے سامنے ریشم کا ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۱): ہوٹلوں میں ہجوم دیکھ کر لگا کہ لوگ گھریلو کھانوں سے اکتا گئے

’’چاچو! چلو افطار لینے چلتے ہیں۔‘‘ 

ضوران کی آواز میں اور چہرے پر ایسی معصومیت تھی کہ انکار ممکن نہیں رہا۔ مَیں نے عہد کیا تھا کہ عصر کے بعد بھیڑ میں نہیں جاؤں گا مگر چچا ہونے کا منصب بھی تو کئی چیز ہے،  میں نے عہد کو جیب میں رکھا اور موٹر سائیکل کا رُخ  کیا۔ 

’’ہندوستانی مسجد نہیں، درگاہ روڈ!‘‘ یہ کہتے ہوئے مَیں پچھلی سیٹ پر ایسے بیٹھا جیسے جنگی محاذ پر جا رہا ہوں۔ ٹوٹی سڑکیں، ادھورے تعمیراتی کام، اور ہر طرف مٹی کا طوفان۔ بھیونڈی اس وقت شہر کم اور مارول کی کسی فلم کا پوسٹ کریڈٹ سین زیادہ لگ رہا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ تھینوس نے چٹکی یہاں بجائی تھی اور بلدیہ نے باقی کام سنبھال لیا۔ ہر طرف ڈسٹرکشن ہی ڈسٹرکشن۔

’’بے حال‘‘ بھیونڈی شہر اب ’’تباہ حال‘‘ معلوم ہوتا ہے۔ راستے میں ضوران نے بتایا کہ ہندوستانی مسجد (چٹور گلی) کے آس پاس ماسٹر پلان نے ایسا ماسٹر اسٹروک مارا ہے کہ رمضان کی رونقیں بھی کنفیوز ہو گئی ہیں کہ آئیں یا نہ آئیں۔

خیر، گڑھوں میں ہچکولے کھاتے درگاہ روڈ پہنچے، اور سب سے پہلی آواز جس نے اپنی طرف متوجہ کیا، وہ تھی، ’’فیرنی میں آؤ۔ فیرنی میں آؤ۔‘‘

کرخت مردانہ آواز، ہائی پچ۔ فیرنی نہ بھی لینی ہو تو ہر آنے جانے والا یہ جاننے کی کوشش ضرور کرتا ہے کہ آخر اسے فیرنی میں کون بلا رہا ہے، اور یہ کیسی فیرنی ہے جس میں آنا پڑتا ہے۔ 

ہم چچا بھتیجا مسکراتے ہوئے، بھانت بھانت کی پُرکشش ٹیگ لائن والے بازار کا حصہ بن گئے۔ جوں جوں اندر جاتے مزید ایسے فقرے اپنی جانب متوجہ کرتے۔ ہر دکاندار جیسے مارکیٹنگ کی پی ایچ ڈی کئے بیٹھا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۳): بچی نے سوال کیا: ’’ابو! آپ روزہ کیوں نہیں رکھتے؟‘‘

اسی بیچ ایک کیلے والے کی آواز آئی، ’’یہ کیلے ہیں، یہ کیلے ہیں۔‘‘ وہ اعلان کرتا جاتا، خالاؤں اور چچاؤں کو اشارہ کرتا جاتا، اور مکھیوں کو ایسے اڑاتا جیسے وہ گاہک بن کر آئی ہوں تب بھی اسے ناپسند ہیں۔ اس کے ٹھیلے پر ٹھیک ٹھاک گاہک تھے۔ بغل والے کیلے والے کو اس کی یہ شہرت ہضم نہ ہوئی۔ جل کر بولا: ’’وہ کیلے ہیں تو یہ کیا ہے؟‘‘

’’بھائی! تمہارے کیلے جتنی تو ہمارے گاؤں کی کھجوریں ہیں۔‘‘ پہلے ٹھیلے والے نے تمسخرانہ انداز میں کہا، اور خود ہی ہنسنے لگا، جسے دیکھ کر مزید کئی لوگوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔

مَیں نے بھی اس کے مبالغہ آمیز تبصرے پر اُچک کر ٹھیلے پر نظر ڈالی تو پہلا تاثر یہی تھا کہ ان کیلوں کو کیلا کہنا کیلے کی توہین ہے، بھنڈی سے بھی زیادہ کمزور لگ رہے تھے۔ شاید اسی لئے اس ٹھیلے پر گاہک کم اور مکھیاں زیادہ تھیں۔

آگے بڑھے تو خوشبوؤں کا ایسا حملہ ہوا کہ روزہ بھی ایک لمحے کو سوچ میں پڑ گیا۔ میٹھی، نمکین اور تیکھی اشیاء کی خوشبوئیں اپنی جان اور روزہ داروں کے ایمان کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ سموسے، کباب، رس ملائی، چم چم، سیخ، کرسپی اور افطاری اشیاء کے نام پر نہ جانے کیا کیا۔ سبھی انتہائی پُرکشش اور انوائیٹنگ۔ مٹھائیوں پر چاندی کا ورق برائے نام لگا تھا، اور ویسے بھی جب بھوک شدید ہو تو نفیس اور سجی سنوری چیزیں کون  دیکھے۔ 

تبھی ایک نعرہ بلند ہوا ’’یہ شامی کباب نہیں، شام کے کباب ہیں، شام ہی میں بنتے ہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۰): بڑا قبرستان شہرِ خموشاں نہیں جہانِ روحانی کی طرح آباد لگتا ہے

تھے تو وہ شامی کباب ہی مگر سائز میں عام کباب سے زیادہ بڑے، زیادہ ’’ٹیمپٹنگ۔‘‘ ہم اب کباب کی شہریت کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہے تھے کہ شاید احمد الشرع کے ملک سے براہ راست بھیونڈی کے اس ٹھیلے پر پہنچے ہیں۔ اس کے فقرے میں جادو تھا، یا کباب واقعی شام کے تھے، یہ کہنا مشکل ہے مگر گاہکوں کی بھیڑ تھی، اور وہ بڑی مہارت سے پڑیاں بنا کر ’’شام کے کباب کے متوالوں‘‘ کو یوں دے رہا تھا جیسے ملک ِ شام کی سفارت کاری سنبھال رہا ہو۔ لوگ تیزی سے پڑیا لیتے اور بھیڑ میں غائب ہوجاتے۔ اب بازار میں یو ٹرن آگیا تھا، یعنی گھوم کر دوسری طرف کی دکانوں اور ٹھیلوں سے سامان خریدو اور چلتے بنو، بالفاظ دیگر دوسری طرف کی آزمائشوں سے گزرو اور ایمان بچا کے نکل سکو تو نکل جاؤ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK