امریکی تاریخ کے بااثر انقلابی سیاہ فام رہنمامالکم ایکس جو بعد میں الحاج ملک الشبہاز کے نام سے مشہور ہوئے ، کی خود نوشت’دی آٹو بائیو گرافی- مالکم ایکس‘ کا جائزہ، یہ محض ایک فرد کی داستان حیات نہیں بلکہ امریکی سیاہ فاموں کی اجتماعی محرومی کی دستاویز ہے۔
الحاج ملک الشہباز مالکم ایکس (۱۹۶۵ء۔۱۹۲۵ء) امریکی تاریخ کے متنازع مگر سب سے بااثر انقلابی سیاہ فام رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ ’دی آٹو بائیوگرافی آف مالکم ایکس‘ محض ایک فرد کی داستانِ حیات نہیں، یہ بیسویں صدی میں امریکہ کے ایک سیاہ فام انسان کی اجتماعی محرومی، شناخت کی جستجو، فکری بغاوت اور روحانی ارتقاء کی دستاویز ہے۔ یہ بچپن سے جوانی تک ان کی سوچ کی تشکیل اور عملی جدوجہد کو بے کم و کاست پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب ہمیں ایک ایسے شخص سے متعارف کراتی ہے جو جرم، نفرت اور انتقام کے اندھیروں سے نکل کر شعور، خودداری اور عالمی اخوت کی روشنی تک پہنچتا ہے۔
مالکم ایکس کے والد ارل لِٹل، سیاہ فام خود مختاری کے داعی تھے۔ وہ، یونیورسل نیگرو امپرومنٹ اسوسی ایشن کے بانی مارکس گاروی کے فعال پیروکار تھے۔ یہی وابستگی ان کیلئے وبالِ جان بن گئی۔ سفید فام نسل پرست تنظیموں نے انہیں مسلسل دھمکایا، ان کا گھر جلایا اور بالآخر مشتبہ حالات میں ان کی موت بھی واقع ہوئی۔ مالکم کی ماں لوئیس لِٹل، اس صدمے اور مسلسل معاشی دباؤ کے باعث ذہنی توازن کھو بیٹھیں اور مالکم کو کم عمری ہی میں یتیم خانوں اور اصلاحی اداروں میں دن گزارنے پڑے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کی شخصیت میں بغاوت، عدمِ تحفظ اور نفرت کے بیج بوئے گئے۔ سفید فام سماج کے رویے نے ان کے دل میں یہ احساس راسخ کردیا کہ امریکہ میں سیاہ فام ہونا جرم سے کم نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ڈارون نے اپنی خود نوشت اشاعت کیلئے نہیں اپنے بچوں کیلئے تحریر کی تھی
بوسٹن اور نیویارک کی گلیوں میں مالکم ایکس نے ایک ایسے نوجوان کے طور پر شعور کی آنکھیں کھولیں جو اپنی شناخت سے کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے جرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔ منشیات، چوری اور جوا ان کی زندگی کا حصہ بن گئے۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ اس دور میں وہ’ڈیٹرائٹ ریڈ‘ کہلاتے تھے۔ ایک ایسا نام جو اُن کے اصل وجود سے بیگانگی کی علامت تھا۔ یہ مرحلہ محض ذاتی بگاڑ نہیں بلکہ اس سماجی ڈھانچے کی عکاسی ہے جو ایک سیاہ فام نوجوان کےسامنے راہِ جرم کے سوا کوئی اور متبادل نہیں چھوڑتا۔ مالکم ایکس اپنی خود نوشت میں اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ امریکی معاشرہ کس طرح شعوری طور پر سیاہ فاموں کو حاشیے پر دھکیلتا ہے اور انہیں دوسرے، تیسرے درجے کی زندگی جینے پر مجبور کرتا ہے۔
جرائم کے راستے پر تیز رفتاری نےانہیں زندان میں لا کر پٹخ دیا۔ ۱۹۴۶ءمیں مالکم ایکس کو دس سال قید کی سزا ہوئی۔ قید ان کی زندگی کا نقطۂ انقلاب ثابت ہوئی۔ جیل میں انہوں نے کتابیں پڑھنی شروع کیں۔ قلیل عرصے میں انھوں نے مطالعے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔ لغت سے لے کر تاریخ، فلسفہ، سیاست اور مذہب تک، ہر کتاب ان کیلئے شعور کا ایک نیا روشندان ثابت ہوئی۔ کہتے ہیں کہ میں نے جیل ہی میں ادراک کرلیا تھا کہ مطالعے نے میری زندگی کی راہ کو ہمیشہ کیلئے بدل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی کی کہانی جہاں انسان نہیں، منصوبے مرکز میں رہے
اسی دوران ان کا رابطہ تنظیم نیشن آف اسلام سے ہوا۔ الیجاہ محمد، نیشن آف اسلام کے سربراہ تھے۔ اس کے کارکنان بلیک مسلم کہلاتے تھے۔ جگہ جگہ انھوں نے اپنی عبادت گاہیں بنا رکھی تھیں۔ یہ لوگ کھانے پینے میں حلال و حرام کا لحاظ کرتے تھے۔ عورتیں سادہ اور ساتر ملبوسات پہنتی تھیں البتہ ان کے کچھ عقیدے اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف تھے۔ یہ تنظیم سیاہ فاموں کو خودداری،علاحدہ شناخت اور سفید فام تسلط کے خلاف مزاحمت کا درس دیتی تھی۔ وہ سیاہ فام کو برتر نسل مانتے تھے اور سفید فام کو نسلی طور پر شر پسند۔ مالکم اس گروہ میں شامل ہوئے۔ انھوں نے اپنا خاندانی نام’لٹل‘ ترک کر کے’ایکس‘ اختیار کیا۔ یہ’ایکس‘اس کھوئی ہوئی افریقی شناخت کی علامت تھا جو غلامی نے چھین لی تھی۔
جیل سے رہا ہونے پر مالکم کے بڑے بھائی وِلفرڈ نے انھیں اپنے گھر رہنے کی پیشکش کی۔ اس وقت تک وِلفرڈ اور ان کا کنبہ نیشن کی رکنیت حاصل کرچکے تھے۔ ان کے ساتھ رہ کر مالکم بڑے متاثر ہوئے۔ خاندان کے تمام افراد نظم و ضبط والی پاکیزہ زندگی گزارنے لگے تھے۔ چھوٹے بڑے سب صبح سویرے بیدار ہوتے اور ایک دوسرے کو’ السلام علیکم‘ کہہ کر سلام کرتے۔ نمازوں کی پابندی کرتے۔ نیشن کے سبھی اراکین ایک دوسرے سے ادب وتعظیم سے پیش آتے۔ مخاطب کےنام کے ساتھ احتراماً بردر، سِسٹر، مادام اور سر جیسے القاب استعمال کرتے۔ مالکم کہتے ہیں کہ میں نے کبھی خواب میں بھی ایسے ماحول کا تصور نہیں کیا تھا جہاں ایک سیاہ فام دوسرے سیاہ فام کیلئے حسد و تنگ نظری کے بجائے اخوت و انس کے جذبات رکھتا ہو۔ جہاں لوگ اپنی جلد کےسیاہ رنگ پرشرم نہیں بلکہ فخر کرتے ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: فطرت ایک بے آواز امتحان گاہ ہے جہاں صرف وہی مخلوق آگے بڑھتی ہے جو خود کو ماحول کے مطابق ڈھال سکے
مالکم ایکس، نیشن آف اسلام کے سب سے مؤثر مقرر اور ترجمان بن کر ابھرے۔ ان کی خطابت میں غیر معمولی کاٹ تھی۔ وہ نسل پرستی کو بے نقاب کرتے، سیاہ فاموں کو خود کے دفاع کا حق یاد دلاتے اور عدم تشدد کے یک رخی تصور پر سخت تنقید کرتے۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے برعکس، مالکم ایکس سمجھتے تھے کہ ظلم کے مقابلے میں محض اخلاقی اپیل کافی نہیں؛ بلکہ طاقت کا توازن بنانا ضروری ہے۔ اسی اختلاف نے انہیں شدت پسند بنا کر پیش کیا مگر سیاہ فام نوجوانوں کیلئے وہ وقار اور مزاحمت کی علامت تھے۔ اپنی قائدانہ صلاحیت اور فن تقریر پرشاندار عبور کی وجہ سے جلد ہی تنظیم میں وہ، دوسرے سب سے مقبول لیڈر بن گئے۔ مالکم ہی کی کوششوں سے مشہور مکے بازکیشئس کلے نے بھی اس گروہ میں شمولیت اختیار کی اورمحمد علی نام اختیار کیا۔
وقت کے ساتھ مالکم ایکس کو نیشن آف اسلام کی قیادت، بالخصوص الیجاہ کی ذاتی زندگی اور سیاسی مصلحتوں پر شدید تحفظات پیدا ہوئے۔ نیشن میں حلال حرام اور اخلاقی حدود کی بندشیں تھیں جبکہکچھ دوشیزاؤں نے الیجاہ پر جنسی زیادتی کے الزام عائد کردیئے تھے۔ اس کےعلاوہ دیگر سیاسی امور پر اختلاف بھی ایک وجہ تھی۔۱۹۶۴ء میں مالکم نے تنظیم سے علاحدگی اختیار کرلی ۔
مالکم ایکس کا سفرِ حج ان کی زندگی کا سب سے فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوا۔ مکہ معظمہ میں انہوں نے ہر رنگ، نسل اور قوم کے مسلمانوں کو ایک ساتھ عبادت کرتے دیکھا۔ یہاں ان کا نظریہ یکسر بدل گیا۔ انہوں نے پہلی بار سفید فام انسان کو محض ظالم کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسان کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔ حج کے بعد وہ الحاج ملک الشہباز کہلائے۔ اب وہ ایک خوش عقیدہ مسلمان تھے جن کا نیشن کے عقائد اور سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ملک الشہباز نے مسلم موسک نامی دینی ادارہ قائم کیا اور ’آرگنائزیشن آف ایفرو امیریکن یونیٹی‘ بھی۔ اب ان کا پیغام نسلی نفرت کے بجائے عالمی انسانی حقوق، اخوت اور انصاف پر مبنی تھا۔ وہ جان چکے تھے کہ اصل جنگ رنگوں کی نہیں، ظلم کے نظام کی ہے۔ فکری ارتقا کی یہ رفتار بہتوں کیلئے خطرہ بن گئی۔۲۱؍ فروری ۱۹۶۵ء کو نیویارک میں ایک جلسے کے دوران مالکم ایکس کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ وہ محض ۳۹؍ برس کے تھے۔ جب یہ واردات ہوئی تو ان کے بیوی بچے بھی وہاں موجود تھے۔ وہاں وہ ایک اجتماع سے خطاب کی خاطر پہنچے تھے۔ اس قتل کے الزام میں نیشن آف اسلام کے متعلقین گرفتار ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج بی جے پی کے بڑھتے دبدبے کی علامت ہیں
الیجاہ کے بیٹے وارث دین محمد پر، مالکم کے بڑے اثرات تھے۔ مالکم کی شہادت کے دس برسوں بعد جب الیجاہ کہ موت واقع ہوئی تو قیادت اسی بیٹے کو ملی۔ دین محمد نے پرانے عقائد ترک کرکے نیشن کو عام مسلمانوں کے عقائد سے منسلک کردیا۔ امریکہ میں آج وہ حالات نہیں جو پچاس ساٹھ یا سو برس قبل تھے، لیکن سفید نسل پرستی اپنی جگہ قائم ہے اور مختلف شکلوں میں اپنے وجود کا مظاہرہ کررہی ہے۔
اس کتاب کی طاقت اس کی سچائی ہے۔ مالکم ایکس اپنے عیوب، تضادات اور غلطیوں کو بلا جھجھک بیان کرتے ہیں۔ یہی دیانت داری اس کتاب کو محض سوانح نہیں بلکہ فکری اعتراف نامہ بنا دیتی ہے۔ یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان جامد نہیں، وہ بدل سکتا ہے۔اس خودنوشت کو الیکس ہیلی نے تحریر کیا۔ الیکس ایک تربیت یافتہ صحافی اور مصنف تھے۔ مالکم دن بھر اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہتے اور اکثر رات کو الیکس سے ملتے۔ مالکم بولتے اور الیکس ریکارڈ کرتے۔ ایسی درجنوں میٹنگوں کے نتیجے میں، ہمیں جد وجہد کی یہ شاہکار سچی کہانی دستیاب ہوئی۔ یہ ایسی سدابہار کتاب ہے جو آج بھی مقبول ہے۔’’یہ ایک زندہ تمنا ہے جو آج بھی قلوب کو گرماتی ہے اور روحوں کو تڑپاتی ہے‘‘۔