اتراکھنڈ میں’محمددیپک‘ نے بھگوا شرپسندوں کے سامنے انسانیت کے دفاع کی جو مثال پیش کی وہ تقاضا کرتی ہے ا ب ہم سب ان کا ساتھ دیں، جس طرح بھی ممکن ہو۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 12:03 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
اتراکھنڈ میں’محمددیپک‘ نے بھگوا شرپسندوں کے سامنے انسانیت کے دفاع کی جو مثال پیش کی وہ تقاضا کرتی ہے ا ب ہم سب ان کا ساتھ دیں، جس طرح بھی ممکن ہو۔
اتراکھنڈ کے شہر کوٹ دوار میں ایک معمرمسلم دکانداروکیل احمد کے ساتھ ۲۶؍جنوری کواس وقت کچھ بھی ہوسکتا تھا جب بجرنگ دل کے کچھ شرپسنددکان پر پہنچے تھے اوران سےپوچھا تھا کہ تمہاری دکان کا نام ’ بابا‘ کیوں ہے؟ کوٹ دوارمیںسدھ بلی بابا کامند ر ہے۔شرپسندوں کا مطالبہ تھاکہ مسلم دکانداراپنی دکان کے نام سے’ بابا‘کا لفظ ہٹادےکیونکہ وہ نہیںچاہتے کہ ایک مسلم کی دکان کے نام میںوہ لفظ شامل ہو جوان کے مندرکے نام میں ہے۔معمر دکاندارپارکنسن نامی اعصابی مرض میںمبتلا ہیں،ایسی صورت میں ان کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگتے ہیں ۔ اس دوران پڑوس کی دکان میںدیپک کمار کشیپ نامی نوجوان موجود تھا جوکچھ گڑی بڑی محسوس کرکے باہر آیا اور شر پسندوںسے براہ راست مکالمہ کیا۔جب انہوں نےنوجوان سے اس کانام پوچھاتواس نے اپنا نام ’محمد دیپک ‘ بتایا ۔ یہاں تو معاملہ تھوڑی بہت کہا سنی کے بعد نپٹ گیامگراس کے بعدبجرنگ دل کے غنڈوں نے ہجوم کی شکل میں کوٹ دوارمیں دیپک کے جم اورگھر پر حملہ کرنے اوراس کے اہل خانہ کوخوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔پولیس کی کارروائی بجرنگ دل کا ہنگامہ روکنے تک محدود رہی ،ان کی غنڈہ گردی کیخلاف کچھ نہیں کیاگیا۔پولیس نے ۷۰؍ سالہ مسلم دکاندار وکیل احمد کی شکایت پربجرنگ دل کے کارکنوںکے خلاف ایف آئی آر درج کی اورکوٹ دوار کے ایک شہری کی شکایت دیپک کمار اور وجے راوت کے خلاف بھی معاملہ درج کیا ۔دیپک کمار نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنے اور اپنے ساتھی کے خلاف ایف آئی آر پر سوال اٹھایا ہے۔ در اصل اس پورے معاملے میں دیپک کمارکےساتھ ان کا دوست وجےراوت بھی تھاجس نے ان کا پورا ساتھ دیا۔ ان دونوں نوجوانوں کاکہنا ہےکہ وہ ایک معمر مسلم دکاندار کے دفاع میںصرف انسانیت کیلئے کھڑے رہے جس کی آج پورے ملک کو ضرورت ہے۔کوٹ دوار کے اس واقعے کے بعددیپک کی حمایت جو آوازیں اٹھ رہی ہیں اس کی مثال اس ملک میں بہت کم ملتی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس ‘پراس معاملے میں جو بھی ویڈیو ز گردش کررہے ہیںوہ سارے کے سارے دیپک کی حمایت میں ہیں ۔ صحافی اجیت انجم نے وکیل احمد کےبیٹے شعیب سے جب اس واقعے کے بارےمیں پوچھا توانہوںنے جواب دیا کہ وہ بجرنگ دل والوں سے بہت ڈر اور گھبرا گئےتھے مگر اس دوران دیپک کو اوپر والے نے فرشتہ بناکر بھیج دیا۔ اجیت انجم نے اس موقع پربڑی اچھی بات کہی کہ یہ بات وہ خود کہنے والے تھے۔مزید ایک ویڈیو میںدیپک نے جو کہا وہ ہر درد مند دل رکھنےوالے کی آنکھیںنم کردینے او رضمیر جھنجھوڑ دینے کیلئے کافی ہے۔دیپک کے مطابق ’’مجھے جو صحیح لگا ،میں نے کیا ، مجھےمرنے کے بعدبھگوان کو جواب دینا ہے۔نفرتیں پھیلانا بہت آسان ہےلیکن محبت پھیلانا مشکل ہے ۔کسی کو اس کامذہب پوچھ کر ہراساں نہیںکیاجاسکتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتےمہاراشٹر کے بیشتر اخبارات نے اجیت پوار کی ناگہانی موت کو موضوع بنایا
ان کے دوست وجے راوت بھی اس پورے معاملے میں شانہ بہ شانہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔وجےیوتھ کانگریس کے ضلعی صدر بھی ہیں ۔ ان کاکہنا ہےکہ ’’ دیپک کے خلاف ایف آئی آر سے ان کی حمایت میں ہی اضافہ ہوا ہے۔کوئی گروہ کسی کی نجی پراپرٹی میں کس طرح داخل ہوسکتا ہے اور کس طرح دکان کانام تبدیل کرنے کامطالبہ کرسکتا ہے۔‘‘ وجے کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دکان وہاں۳۰،۳۵؍سال سےہےاور اس کے سامنے ان کے دوست کی بھی دکان ہے۔ ’محمد دیپک‘ کے مطابق ان کی والدہ ایف آئی آر سے تھوڑی خوفزدہ ہیںجوبالکل جذباتی ردعمل ہے لیکن انہوں نے اپنے بیٹے سے کبھی یہ نہیںکہا کہ اس نے جو کیا وہ نہیںکرنا چاہئے تھا۔دیپک کے بقول’’ میں ہندوستانی ہوں اور ہر ہندوستانی کوبرابرکے حقوق حاصل ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جس کی لاٹھی اس کی بھینس !کیا آج ہی کیلئے یہ کہاوت بنائی گئی تھی؟
دیوبھومی اتراکھنڈ میں صرف دیپک نہیںہیںجنہوں نے بھگوا شرپسندوںکی آنکھوںمیں آنکھیںڈال کر بات کی اور انسانیت کیلئےکھڑے ہونے کی مثال پیش کی ۔اس سے کچھ مہینےقبل گزشتہ سال بھی ایسا ہی ایک معاملہ سامنے آیا تھا جب شیلا نیگی نے اسی طرح شرپسندوںکے ہجو م میں کھڑی ہوکر صرف انسانیت کی حمایت کی تھی۔ معروف اوربیباک صحافی رویش کمار نے ’محمد دیپک‘ پر بنائےاپنے ویڈیو میںان کا بھی ذکر کیاہے۔
یہ بھی پڑھئے: کارپوریشن انتخابات: اتنا غیر واضح اور گنجلک منظر نامہ کبھی رہا؟
یہ ۳۰؍ اپریل ۲۰۲۵ء کا معاملہ ہے جب اتراکھنڈ کے نینی تال میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی پر پولیس نے کیس درج کیاتھا۔ اس میںملزم ایک مسلم نوجوان تھا ۔ یہ خبر پھیلتے ہی کچھ ہندوتوا تنظیموں نے شہر کے پولیس تھانے کے باہر احتجاج شروع کر دیا۔ رفتہ رفتہ یہ احتجاج پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ مظاہرین نے مسلم کمیونٹی کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی، ایک مسجد پر پتھراؤ کیا اور کچھ گھروں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں نینی تال کا مرکزی بازار مکمل طور پر بند کردیاگیا۔ اس کے بعدکچھ ہی دیر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا۔ شیلا نیگی نامی ایک ہندو خاتون کو بھیڑ کے درمیان کھڑے ہو کر ہجوم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ جب چاروں طرف مسلم مخالف نعرے لگ رہے تھے، نیگی نے بے خوف ہوکر اتحاد اور ہم آہنگی کی بات کی۔ اس وقت نیوز لانڈری کو انٹرویو دیتے ہوئے نیگی نے کہا تھا کہ انہیں سوشل میڈیا پر دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن وہ پھر بھی فرقہ وارانہ اتحاد اور بھائی چارے پر یقین رکھتی ہیں۔وہ متاثرہ کے خلاف زیادتی پر احتجاج کر رہے تھے لیکن اسی دوران نازیبا نعرے بھی لگا رہے تھے۔ شیلانیگی نے کہا تھا کہ ہم کیسے محفوظ ہوسکتے ہیں جب ایک لڑکی کے خلاف ہونے والی زیادتی پر احتجاج کرنے والے خواتین کے بارے میں ہی گھٹیا نعرے بازی کریں ۔ شیلا نےکہا تھاکہ یہ صرف ایک ہجوم تھا جو لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ شیلاکے مطابق ’’انہوں نے میرے والد سے پوچھا کہ کیا وہ مسلمان ہیں یا پاکستانی؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں مسلمانوں ہوں، اس موقع پر وہ ایسا سوال کیسے پوچھ سکتے ہیں۔ انہوں نے معاملے کوفرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ۔‘‘شیلا نیگی کا بھی یہی پیغام تھا کہ ہندوہو یا مسلم سب ایک ہیں۔شیلا نے مجرم یا ملزم کا ساتھ نہیںدیاتھا بلکہ اس کی آڑ میںجو غلط ہورہا تھا ، اسکے خلاف آواز اٹھائی تھی۔اس وقت نہ شیلا نیگی کوسرکاری طورپر کوئی حمایت وتائید ملی ، نہ اس مرتبہ ’محمد دیپک ‘ اور وجے راوت کو۔نفر ت پھیلانے والے اورملک کو تقسیم کرنے والےعناصر کے ہجوم میں دیپک اور شیلا نیگی جیسے لوگ کم ہیں مگر ہیںضروراور یہی وہ لوگ ہیں جو اس بات سے واقف ہیںکہ اس ملک کوکس چیز کی ضرورت ہے۔وہ جانتے ہیںفرقہ واریت ملک کو تباہ کرکے رکھ دے گی ۔ اگر فرقہ واریت اور اس بنیاد پر کسی کو نشانہ بنانے کا معاملہ نہ بھی ہوتب بھی وہ جانتےہیںکہ انسانیت کیا ہے اور انسانیت کیلئے کھڑا کیوں ہونا چاہئے۔ کمزوروں اور استحصال زدہ لوگوںکی مددنیز کسی ناانصافی وزیادتی کے خلاف آواز اٹھانے کا کام دیپک اور شیلا جیسے لوگ صرف اپنی ذمہ داری سمجھ کر اور ضمیر کی آواز پر کرتے ہیں ، انہیںاس کی بھی پروا نہیںہوتی کہ کون ان کا ساتھ دے گا، کون نہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آگے بڑھ ایسے لوگوںکی حمایت کریں، ہم سے جتنی اورجیسی بھی ممکن ہو۔