Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کے نجی نیوز چینلوں کا زوال: وجوہات اور پس منظر

Updated: August 10, 2026, 12:58 PM IST | Pawan Singh | Mumbai

ٹی وی کے اہم ناظرین میں بغیر چینی کی چائے اور ۲؍ بسکٹ نگلتی، سوسائٹیوں اور پارکوں میں ٹہلتی وہ آبادی بچی ہے، جس کے پاس خود زیادہ وقت نہیں بچا ہے لیکن نظریاتی زہر بھرپور ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
بڑے دھوم دھام، رعب و دبدبے اور شان و شوکت کے ساتھ ہندوستان میں ۱۹۹۰ء کی دہائی میں نجی نیوز چینلوں کا جو دور شروع ہوا تھا، وہ اب اپنی زندگی کے آخری مرحلے پر ہے۔ ان نجی نیوز چینلوں کو وینٹی لیٹر کی دہلیز تک کسی اور نے نہیں بلکہ خود انہوں نے پہنچایا ہے۔ ان کی جا بجا دُلتی مارتی صحافت اور لائٹ، کیمرہ، ایکشن طرز کی صحافت ان کو لے ڈوبی۔ آج کے نوجوانوں کا ۹۰؍ فیصد حصہ ان نیوز چینلوں سے بہت دور جا چکا ہے۔ ان کے اہم ناظرین میں بغیر چینی کی چائے اور ۲؍ بسکٹ نگلتی، سوسائٹیوں اور پارکوں میں ٹہلتی وہ آبادی بچی ہے، جس کے پاس خود زیادہ وقت نہیں بچا ہے لیکن نظریاتی زہر بھرپور ہے۔ 
مصدقہ حیثیت اور اعتبار سے کوسوں دور اور پارٹی ترجمانوں کی طرح رپورٹنگ، ہندومسلم اور پاکستان کے موضوعات سے لت پت سڑاند بھری خبروں کی وجہ سے ان چینلوں سےناظرین کا ایک بڑا طبقہ اب غائب ہے۔ چینل صرف سرکاری پروپیگنڈے کا بڑا’بھونپو‘ بن چکے ہیں۔ سائنس، ٹیکنالوجی، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی خبروں کو اب تو کہیں جگہ تک نہیں ملتی۔ ہندوستانی چینلوں پر سائنس اور ٹیکنالوجی سے جڑی خبروں کی کوئی مقررہ گنتی یا سرکاری اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہیں لیکن مختلف میڈیا مطالعوں کے مطابق ٹی وی خبروں میں کُل وقت کا۲؍ فیصد سے بھی کم حصہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو ملتا ہے کیونکہ چینل سیاست اور سنسنی خیز موضوعات کو زیادہ دکھاتے ہیں۔ 
 
 
پرائم ٹائم بلیٹن میں تعلیم، ٹیکنالوجی اور تحقیق پر مبنی خبریں دکھانے کے بجائے پورا دن ایجنڈے پر مبنی خبروں کو چلاتے رہتے ہیں۔ پرائم ٹائم شو کا سچ بھی اب بے نقاب ہو چکا ہے کہ کیسے اقتدار کی حمایت یافتہ ایک پوری لابی کو عوام کی طرح بٹھایا جاتا ہے اور ان سے سوال کئے جاتے ہیں۔ چینل کے مالکان یہ کہہ کر بچ نہیں سکتے کہ سائنسی اور تکنیکی تجزیے عام ناظرین کو کم متوجہ کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ چینلوں نے کبھی سنجیدہ، حقائق پر مبنی، تجزیاتی، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور نئی ایجادات کی خبروں کو ترجیح دی ہی نہیں۔ انہوں نے کبھی نوجوانوں کی پسند کو ترجیح میں رکھا ہی نہیں۔ کانپتے پیروں والی ریٹائرڈ جماعت جو اپنی بچی ہوئی زندگی کاٹ رہی ہے اب وہی ان کے بنیادی ناظرین ہیں۔ بدقسمتی یہ بھی ہے کہ بیشتر نیوز چینلوں میں سائنس کی گہری سمجھ رکھنے والے نہ تو صحافی ہیں، نہ ہی سائنسی سوچ والے ایڈیٹر۔ 
نیوزچینلوں کو سمجھنا ہوگا کہ سبزی منڈی طرز کے مباحثوں کے دن اب لد چکے ہیں۔ جن نجی کمپنیوں اور کارپوریٹ گھرانوں کی پہلی پسند کبھی نیوز چینل ہوا کرتے تھے، اب نہیں ہیں۔ نجی کمپنیوں نے اپنے پروڈکٹس کے اشتہارات کیلئے اب نئے پلیٹ فارم تلاش کر لئے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ وجہ صاف ہے کہ نجی نیوز چینل کے پاس جہاں اب ناظرین کا بڑا طبقہ نہیں بچا، وہیں یہ چینل چھوٹے اضلاع، قصبوں اور گاؤں میں لوگ نہیں دیکھتے۔ انہیں جو وقت ملتا ہے وہ موبائل اسکرین کا ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نیوز چینلوں کی کمائی بری طرح لڑکھڑا چکی ہے۔ ’نیوز لانڈری‘ کی ایک رپورٹ میں پچھلے دنوں پڑھ رہا تھا۔ اس کے مطابق چینلوں نے اب زبردست چھٹنی شروع کر دی ہے۔ ۲۵۔ ۲۰۲۴ءمیں ’ آج تک‘ نے ۱۱۱؍ کروڑ منافع کمایا تھا، وہیں ۲۶۔ ۲۰۲۵ءمیں گھٹ کر ۲۹؍کروڑ ہو گیا۔ چینل کو اشتہارات کم مل رہے ہیں۔ بقول نیوز لانڈری کمپنیوں کو سوشل میڈیا پر اشتہار دینا سستا پڑتا ہے۔ بڑی کمپنیوں کے اشتہارات اب یوٹیوب اور فیس بک کو جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کا دائرہ زیادہ ہے اور نیوز چینلوں سے کئی گنا زیادہ ناظرین سوشل میڈیا پر ہیں۔ سوشل میڈیا پر اشتہار کی لاگت بھی نیوز چینل کے مقابلے کم ہے۔ 
 
 
چینلوں نے گراؤنڈ رپورٹنگ تقریباً بند کر دی ہے۔ وہ براہِ راست اب عام آدمی کے خلاف کھڑے نظر آنے لگے ہیں، ایسے میں عام ناظرین بھی چینلوں سے منہ موڑ چکے ہیں۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا سوشل میڈیا مین اسٹریم میڈیا کے وجود کو مٹا دے گا؟میں بار بار مین اسٹریم میڈیا (الیکٹرانک/پرنٹ) کے حوالے سے لکھتا رہا ہوں کہ اعتبار کا بحران سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ دہلی سمیت پورے ملک میں ۱۸؍جولائی سے ۲۴؍جولائی ۲۰۲۶ء کے درمیان چلے طلبہ تحریک کے دوران سب سے زیادہ ایک اخبار پڑھا گیا اور وہ تھا ’دی ہندو‘۔ لوگوں نے سب سے زیادہ ’دی ہندو‘ کے ویڈیوز دیکھے اور لاکھوں کی تعدادمیں شیئر بھی کئے۔ آن لائن پر بھی لوگوں نے سب سے زیادہ یہی اخبار پڑھا، کیوں ؟ کیونکہ لوگوں کے بھروسے سے خود کو آج بھی اس اخبار نے جوڑ رکھا ہے۔ یہی بھروسہ ’دی ٹیلی گراف‘ نے برقرار رکھا ہے اور خوب دیکھا اور پڑھا گیا۔ میں پھر ’نیوز لانڈری‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھ رہا ہوں کہ’ ڈیٹا بینگز‘ کے یوٹیوب کے ۱۸؍جولائی سے۲۴؍ جولائی ۲۰۲۶ء کے اعداد و شمار اس سلسلے میں ایک دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس مدت میں اخبارات کے یوٹیوب چینلوں پر اپ لوڈ کئے گئے ویڈیوز کو کُل ۱۳ء۲۴؍کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا۔ ان میں اکیلے ’دی ہندو‘کے ویڈیوز ۲ء۵۵؍کروڑ بار دیکھے گئے اور اسے کُل ویورشپ کا تقریباً ۱۹؍ فیصد حصہ ملا۔ دوسرے نمبر پر ’لائیو ہندوستان‘ رہا، جبکہ ’دی انڈین ایکسپریس‘تیسرے نمبر پر رہا۔ ناظرین کو تیز خبر نہیں، سچائی چاہئے۔ 
یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اب ایک بڑی نوجوان آبادی کے پاس موبائل کیمرہ ہے، ہر نوجوان اب رپورٹر ہے، اسے آپ کے چینلوں کی ضرورت نہیں رہی۔ حیرت انگیز رہا طلبہ تحریک کے دوران ’لائیو ہندوستان‘ کا ناظرین کے درمیان پہنچ کر ’دی ہندو‘ کے بعد دوسرا مقام رکھنا۔ میں یہاں ڈیجیٹل ویڈیو کی بات کر رہا ہوں جو طلبہ تحریک کے دوران دیکھے گئے۔ ’نیوز لانڈری‘ کے اس تبصرے سے میں متفق ہوں کہ آج کا ڈیجیٹل ناظر اینکر کی اونچی آواز سے زیادہ دستاویزات، گرافکس، موقعِ واردات کی واقعی تصاویر اور حقائق پر مبنی تجزیہ چاہتا ہے لیکن، ہندی اخبارات کے ویڈیو چینل اب بھی شور ہی کو اپنا ہتھیار مان رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK