Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتھنال پالیسی: عوام کو ایک ’ریورس گیئر‘ بھی درکار

Updated: July 13, 2026, 9:14 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

پیٹرول میں اتھنال ملانے کے فیصلے پر ہونے والےہنگامے کے درمیان حکومت کی جانب سے یہ اشارہ کہ فی الحال ۲۰؍ فیصد سے زائد بلینڈنگ نہیں کی جائےگی، عوام کی فتح ہے ، لیکن ممکن ہے کہ حکومت نے یہ اشارے محض عوام کو نچلا بٹھانے کیلئے دئیے ہوں۔

It is said that ethanol-laced petrol does not benefit the public, but the government and car mechanics are definitely getting rich. Photo: INN
کہا جاتا ہے کہ اتھنال آمیز پٹرول سے عوام کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا البتہ حکومت اور گاڑی میکانک ضرور مالا مال ہورہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

پٹرول میں اتھنال کی بلینڈنگ کا فیصد ۲۰؍ سے بڑھاکر ۲۵؍ یا ۳۰؍ کرنے اور اس سے بھی زیادہ بلینڈنگ والا پیٹرول لانے کے حکومت کے اعلان کے خلاف سوشل میڈیا پر جو ہنگامہ برپا ہے اس سے حکومت بڑی حد تک دہل گئی ہے۔ اسی وجہ سے سرکار نے یہ اشارے دئیے ہیں کہ وہ فی الحال ۲۰؍ فیصد سے زیادہ کی بلینڈنگ پر آگے نہیں بڑھ رہی ہے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اپنے سابقہ اقدامات کی طرح اسے بھی فی الحال ٹال کر عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہتی ہے تاکہ بعد میں اس پالیسی پر عمل کیا جاسکے۔ اس میں سرکار کتنی کامیاب ہوتی ہے یہ تو وقت بتائے گا ۔

ویسے بھی ہمارے ملک میں پالیسیوں کی رفتار موسم کی طرح ہے۔ صبح جو چیز قومی فخر قرار پاتی ہے، شام تک اس پر وضاحت آجاتی ہے اور اگلے دن بتایا جاتا ہے کہ ’’آپ  ہماری بات کو درست طریقے سے سمجھ نہیں سکے۔‘‘ اتھنال بلینڈنگ بھی کچھ ایسی ہی داستان ہے جس میں پیٹرول سے زیادہ عوام کا دل و  دماغ جل رہا ہے۔چند برس پہلے بڑے جوش و خروش سے اعلان ہوا تھا کہ پیٹرول میں اتھنال ملایا جائے گا۔ عوام نے بھی سوچا کہ اگر واقعی اتنے فائدے ہیں تو چلو اس بار بھی تجربہ کر لیتے ہیں۔  اس ملک میں ویسے بھی عوام کا کام ہی کیا ہے؟ ہر نئی پالیسی کا ٹرائل ورژن بننا!حکومت نے فرمایا کہ اس سے کسان خوشحال ہوں گے، درآمدی تیل پر انحصار کم ہوگا، ماحول بھی خوش ہوگا اور معیشت خوشی سےجھوم اٹھے گی۔ یہ سن کر عوام نے بھی خوش ہونے کی کوشش کی مگر انہیں یاد آیا کہ وہ پچھلے  ۱۲؍برس سے ہر نئی اسکیم پر خوش ہونے کی مشق کر رہے ہیں لیکن نتیجہ اب تک صرف بلوں میں اضافے کی صورت میں نکلا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قانون کی پاسداری کے تئیں نئی نسل میں دلچسپی پیدا کرنا ضروری ہے

جلد ہی بازار میں سوالات کی قطار لگ گئی۔ کسی نے پوچھا،’’بھائی! ہماری پرانی موٹر سائیکل اس نئے پیٹرول پر چلے گی یا پہلے میکانک کے درشن کرے گی؟‘‘ جواب آیا، ’’فکر نہ کریں، سب تحقیق ہو چکی ہے۔‘‘ہمارے ہاں تحقیق بھی عجیب شے ہے۔ جب تک کوئی مسئلہ نہ ہو، تحقیق مکمل ہوتی ہے۔ جیسے ہی مسئلہ سامنے آئے کہا جاتا ہے کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔روزانہ نئی خبریں آنے لگیں کہ کہیں کچھ دشواریاں ہیں، کہیں اعتراضات ہیں، کہیں عمل درآمد میں رکاوٹ ہے۔ حکومت نے پہلے فرمایاکہ یہ افواہیں ہیں۔پھر فرمایاکہ کچھ معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اس کے بعد فرمایا کہ حالات کے مطابق ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی۔یہ ضروری تبدیلیاں ہمارے ہاں وہی چیز ہے جسے عام زبان میں’’ یو ٹرن‘‘ کہتے ہیں ۔ گویا اگر آپ آج شمال جا رہے ہوں اور کل جنوب کی طرف مڑ جائیں تو یہ غلطی نہیں بلکہ لچکدار حکمت عملی ہے۔

اتھنال آمیز پٹرول کی وجہ سے گاڑیوں میں جو پریشانیاں آرہی ہیں اس سے میکانک حضرات کے چہرے کھل اٹھے ہیں۔ ایک نے تو اپنی دکان کے باہر بورڈ لگا دیا ہے’’اتھنال اسپیشلسٹ۔ گاڑی بھی ٹھیک کریں گے، دل بھی بہلائیں گے۔‘‘ عوام گاڑی لے کر پہنچتے اور میکانک صاحب فلسفیانہ انداز میں کہتے، ’’جناب! یہ انجن  اتھنال کا نہیں، پالیسی کا شکار ہے۔‘‘ کچھ میکانک تو یہ تک کہنے لگے کہ گاڑی کو ’’شراب‘‘ پلائی جائے گی تووہ پھر کیسے چلے گی  وہ تو جھومے گی ہی اور اپنے مالک کو بھی دن میں تارے دکھائے گی۔ واضح رہے کہ اتھنال ایک طرح کا الکحل ہوتا ہے جو پٹرول میں ملنے کے بعد اس کے جلنے میں زیادہ مدد کرتا ہے۔ پھر وہ وقت آیا جب بعض حلقوں سے آوازیں اٹھنے لگیں کہ اتھنال بلینڈنگ کے کچھ عملی مسائل بھی ہیں۔ کسی نے ایندھن کی کارکردگی پر سوال اٹھایا، کسی نے گاڑیوں کی مطابقت کا ذکر کیا، کسی نے انجن کا رونا رویا اور کسی نے سپلائی کے مسائل گنوائے۔ عوام نے پہلی بار محسوس کیا کہ صرف پٹرول ہی نہیں، ان کا دل بھی بلینڈ ہو رہا ہے،آدھا امید میں، آدھا پریشانی میں۔ حکومت نے پہلے تو پورے اعتماد سے فرمایا کہ ’’سب چنگا سی ‘‘ ،پھر فرمایا، ’’کچھ باتیں قابلِ غور ہیں۔‘‘ اس کے بعد کہا، ’’ہم جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘ آخرکار ایسی وضاحتیں آنے لگیں کہ یوں محسوس ہوا جیسے یو ٹرن کو بھی قومی ورثہ  قرار دینے کی تیاری ہو رہی ہو۔

ہمارے یہاں حکومت کی  پسپائی کا بھی ایک منفرد انداز ہے۔ یہاں حکومت یہ نہیں کہتی کہ ’’ہم سے غلطی ہوئی۔‘‘ بلکہ فرمایا جاتا ہے، ’’صورتحال کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر حکمت عملی میں لچک پیدا کی جا رہی ہے۔‘‘یعنی اگر سیدھے سادے الفاظ میں کہا جائے تو مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ’’بھائی، معاملہ الٹا پڑ گیا ہے۔‘‘اس پوری کہانی میں سب سے دلچسپ کردار عوام کا  ہے۔ وہی عوام جو ہر مہینے پٹرول پمپ پر قیمت دیکھ کر پہلے گاڑی بند کرتے ہیں، پھر امیدیں۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ سب ان کے بہتر مستقبل کے لئے ہے۔ عوام نے بھی سوچا کہ ہمارا مستقبل تو ہمیشہ بہتر ہی ہوتا رہتا ہے، بس حال کبھی بہتر نہیں ہوتا۔چلو ایک مرتبہ پھر بہتر مستقبل کی امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ سفارت کاری کو بیکار محض بنانے کے در پے ہیں

سوشل میڈیا والوں نے بھی خوب انصاف کیا۔ کسی نے لکھا، ’’اب گاڑی میں پٹرول کم اور گنے کا رس زیادہ محسوس ہوتا ہے۔‘‘ ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ اگر اتھنال کا تناسب مزید بڑھ گیا تو پٹرول پمپ کے ساتھ شکر کی دکان بھی کھول لینی  چا ہئے۔ ایک اور صاحب بولے، ’’اب گاڑی اسٹارٹ کرنے سے پہلےمٹھاس چیک کر لیا کریں!‘‘اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام کو نئی پالیسیوں سے اتنا خوف نہیں جتنا  نئی نئی وضاحتوں سے ہوتا ہے کیونکہ پالیسی ایک بار آتی ہے، لیکن وضاحتیں کئی قسطوں میں۔

پہلے پریس کانفرنس، پھرایکس پر پیغام، پھر ترجمان، پھر ترجمان کے ترجمان  اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ میڈیا نے غلط سمجھ لیا تھا۔ہمارے یہاں منصوبوں کا ایک غیر سرکاری فارمولا بھی ہے۔ پہلے بڑے بڑے دعوے  کئےجائیں پھر مخالفین کو مایوسی پھیلانے والا قرار دیا جائے  اس کے بعد اگر حقیقت کچھ اور نکل آئے تو کہا جائے کہ ’’ہم تو ابتدا ہی سے مرحلہ وار عمل درآمد کی بات کر رہے تھے۔‘‘

اتھنال بلینڈنگ کی بحث نے کم از کم ایک فائدہ ضرور کیا ہے کہ عوام کو کیمسٹری میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ جو لوگ اسکول کے زمانے میں کاربن اور آکسیجن کے نام سے بھی گھبراتے تھے، وہ اب ایندھن کی کیمیائی ترکیب پر کچھ اس طرح بحث کرتے ہیں جیسے برسوں سے ریفائنریاں چلا رہے ہوں۔ اگر وہ اندھ بھکت ہوں تو پھر کیا کہنے، وہ دوسروں کو اتھنال کے فائدے بھی گناتے ہوئے نظر آتے ہیں، حالانکہ ان میں سے بیشتر ان کے نقصانات جھیل رہے ہوتے ہیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی پالیسی کی کامیابی صرف اشتہاروں، نعروں یا پریزنٹیشن سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل آزمائش عوام کے تجربے سے ہوتی ہے۔ اگر عوام مطمئن ہوں تو پالیسی کامیاب اور اگر وضاحتیں پالیسی سے زیادہ طویل  ہونے لگیں تو سمجھ لیجیے کہیں نہ کہیں انجن کھانس رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: این آر سی نما ایس آئی آر: ۶؍ کروڑ نام حذف، ہر ووٹر مشکوک اور ہر شہری فکرمند

ویسے ہمارے ملک کی سیاست اور پالیسیوں کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ یہاں گاڑیاں کم اور فیصلے زیادہ گیئر بدلتے ہیں۔بہر حال، اتھنال کی پوری داستان نے ایک سبق ضرور دیا ہے کہ پٹرول میں کیا ملانا ہے، اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ فیصلوں میں تدبر، تیاری اور حقیقت پسندی ملائی جائے۔ عوام اب صرف اتنی دعا کرتے ہیں کہ اگلی بار جب کوئی نئی اسکیم آئے تو اس کے ساتھ ایک ’’ریورس گیئر‘‘ بھی مفت دیا جائے، تاکہ اگر معاملہ الٹا پڑ جائے تو کم از کم واپس آنے میں آسانی تو رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK