• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چند چراغِ رہ گزر نوجوانوں کیلئے!

Updated: January 25, 2026, 12:01 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

اس روئے زمین پر ایسا کوئی بھی نہیں ہے جسے ربِّ کائنات نے کوئی صلاحیت، کوئی ہُنراور امکان بخشا نہ ہو۔ ڈھونڈتے کہاںہواُسے؟ بس اپنے دل و دماغ کو ٹٹولو، وہیں پر وہ موجود ہے۔

There is no one on this earth whom the Lord of the universe has not given some ability, some skill, and some potential. Where are you looking for it? Just search your heart and mind, it is there. Photo: INN
اس روئے زمین پر ایسا کوئی بھی نہیں ہے جسے ربِّ کائنات نے کوئی صلاحیت، کوئی ہُنراور امکان بخشا نہ ہو۔ ڈھونڈتے کہاںہواُسے؟ بس اپنے دل و دماغ کو ٹٹولو، وہیں پر وہ موجود ہے۔ تصویر: آئی این این

۱۔جو تنقید کرے وہ عالِم بھی ہو سکتا ہے لیکن جو نکتہ چینی کرے وہ صرف جاہل ہو سکتا ہے۔
۲۔ جنہیں اللہ نے دوسروں کا درد بخشا ہے، وہ مطمئن رہیں وہ اپنے سکونِ قلب کیلئے کسی کے محتاج نہیں رہیں گے۔
۳۔  انسان اپنی ترجیحات کیوں نہیں طے کرپاتا؟ خوش فہمی اور خود فریبی اُس کی بنیادی وجوہات ہیں۔
۴۔  غور کرنے والوں کو ہر چیز میں نشانیاں ہیں۔ نو جوانو ! اللہ سے یہ دُعا بھی کرتے رہئے کہ وہ آپ کو غور کرنے والوں میں شامل کرے ۔
۵۔  افلاس کو ختم کرنا ہے تو اپنے احساس کو مرنے نہ دو۔
۶۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہر امتحان اور ہر بحران سے کوئی سبق حاصل کرو۔
۷۔  ہمیشہ سچ بولنے میں عافیت ہے کیونکہ بہانے بنانے میں کافی ذہنی تناؤ سے گزرنا پڑتاہے۔ 
۸۔  آپ ہواؤں کا رُخ بدل نہیں سکتے مگر اپنے بادبان کوتو درست کر سکتے ہیں۔
۹۔ علم حاصل کرنے میں شاید آسانی نہ ہو مگر علم حاصل کرنے کے بعد یقیناً آسانی ہے ۔
۱۰۔  یہ کیسی انسانی فطرت ہے ؟ خواہش پوری ہونے پر اپنی قابلیت پر رشک کیا جاتا ہے اور پوری نہ ہونے پر اپنی قسمت پر ماتم۔

یہ بھی پڑھئے: ہوسٹل میں مقیم بیٹے کے نام

۱۱۔ غریب آدمی کی بھروسے مند بینک کا نام ہے : کفایت شعاری۔
۱۲۔  زندگی بذات خود مصیبت نہیں ہے البتہ غیر منصوبہ بند زندگی مصیبت ضرور ہے۔
۱۳۔ مکمل بننے جاؤ گے تو ہر کام نا مکمل رہ جائے گا۔
۱۴۔ صحیح کام، صحیح سمت میں، صحیح طریقے سے کیا جائے تو اُس کے نتیجے کو کامیابی کہا جاتا ہے۔ 
۱۵۔  ہر منفی خیال کسی قوم، کسی ملک سے پہلے اپنے آپ پر ایک ظلم ہے۔
۱۶۔  اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہتے ہو ؟ توکسی سے حسد کر لو۔
۱۷۔  زندگی کو اللہ کی سزا سمجھتے رہوگے تو اُسے بھُگتتے رہوگے، انعام سمجھو گے تو خوش و خرم رہو گے۔
۱۸۔ اقدار کی پاسداری سے قو میں روشن ہوتی ہیں البتہ معاشی استحکام سے وہ حقیقی معنوں میں سُرخرو ہوتی ہیں۔
۱۹۔  سُنو فائیوجی جنریشن سُنو؟ آج بھی کہانی، افسانہ اور شعر آپ کی آئی ٹی پر بھاری ہیں کیونکہ وہ زندگی سے ہمارا حقیقی تعارف کراتے ہیں۔ 
۲۰۔  انحصار کی نفسیات سے چھٹکارہ پائے بغیر سُرخروئی کا سورج درو بام پر طلوع نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی پڑھئے: نیا عزم، نیا جذبہ، نئی فکر، نئی تدبیر..... اس کیلئے نئے سال کا انتظار کیوں؟

۲۱۔  اختلاف رائے بُری بات نہیں، اُس کی بناپر مخالفت بھی بُری نہیں البتہ عداوت بُری ہے اور وہ اِس لیے بھی بُری ہے کہ اُس سے ہمارا اپنا نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ 
۲۲۔  انتہائی نیک، انتہائی متقی لوگ بھی آزمائے جاتے ہیں، کیوں کہ آزمائش جب پیغمبروں کی بھی ہوئی تو کوئی اُس سے مستثنیٰ کیسے ہوسکتا ہے ؟
۲۳۔ کتنا ہی سوچئے ، بات یہ واضح ہوجائے گی کہ جب تک عِلم کا عَلم ہمارے ہاتھوں میں تھا، ہم ناقابل تسخیر تھے۔ 
۲۴۔  ہماری قوم کے خمیر میں معجزے رونماہونے کی بڑی تمنّا ہوتی ہے۔ عام آدمی تو پل پل اِسی اُمید پر جیتا ہے کہ کوئی معجزہ رو نما ہو جائے، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ دانشور، اہلِ سند و اہلِ خرد بھی معجزے کی آس کرتے رہتے ہیں ۔
۲۵۔ اس روئے زمین پر ایسا کوئی بھی نہیں ہے جسے ربِّ کائنات نے کوئی صلاحیت، کوئی ہُنراور امکان بخشا نہ ہو۔ ڈھونڈتے کہاںہواُسے؟ بس اپنے دل و دماغ کو ٹٹولو، وہیں پر وہ موجود ہے۔
۲۶۔ صبر کی بڑی اہمیت ہے۔ ربِّ کائنات نے اپنی آخری کتاب میں اسے نماز سے جوڑا ہے کہ اورکہا ہے کہ صبر اور نماز سے کام لو، مگر بے بسی والاصبر نہیں بلکہ صبر جمیل یعنی جتنی بڑی مصیبت، اُتنا بڑا صبر اور اُس کیلئے اُتنا بڑا اجر۔ 
۲۷۔  زندگی کامران ہو سکتی ہے اور بہتر بھی، بالیدہ اور رفیع بھی ہو سکتی ہے۔ ظفر مند اور سر بلند بھی۔شرط یہ ہے کہ خود ترسی کے بجائے خدا ترس بن جاؤ اور فخر کے بجائے شکر اختیار کرو۔
۲۸۔ شخصیت پرستی محض جہالت نہیں، دراصل وہ ایمان سے دستبرداری اوربندے کی خدائی تسلیم کرنے کا اعتراف بھی ہے۔
۲۹۔ دماغ متحرک ہے، تیز ہے، اچھی بات ہے مگر کیا ہمارے قلوب بھی زندہ ہیں ؟
۳۰۔  نوجوانو! ہمدردی بٹورنے والوں، انحصار کرنے اور رعایت کے طلب گاروں، سفارش کے متلاشیوں اور خوشامد کرنے والوں میں شامل مت ہو جائو۔ اس طرح کامیابی ملے نہ ملے ، قلبی سکون ضرور ملے گا۔

یہ بھی پڑھئے: آئیے کوئی خواب بُنیں، ویژن، خاکہ، کوئی منصوبہ تیار کریں آئندہ رُبع صدی کیلئے!

۳۱۔  منافق سوال پوچھتا ہے: کیا یہ راستہ محفوظ ہے، کیا اس پر چل کر فائدہ ہے؟ مخلص ایک ہی سوال پوچھتا ہے، کیا یہ راستہ صحیح ہے؟
۳۲۔ قرآن کی وارننگ: مال فتنہ ہے، اولاد فتنہ ہے، اسلئے فوراً دعا سکھائی : یار ب اُنھیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک فرما۔ 
۳۳۔  سوتے ہوئوں کو جگانا جتنا اہم کام ہے جاگنے والوں کو اُن کی منزل کی جانب لے جانا یا کم ازکم اُس کی نشاندہی کرنابھی اہم ہے۔ 
۳۴۔ سوچ سے بڑی فکر ہوتی ہے اور فکر پیدا ہوتی ہے علم سے اور علم پیدا ہوتا ہے مطالعات ، مشاہدات، احساسات اور تجربات سے۔
۳۵۔آج بھی بہت سے دل ایسے ہیں جنہوں نے دروازے اورکھڑکیاں بند نہیں کی ہیں، وہ  ایک دستک کے طلبگار ہیں۔
۳۶۔   دولت کے انبار خریدنے کے باوجود صحت خریدی نہیں جاسکتی، جسمانی نہیں اور نفسیاتی صحت تو ہر گز نہیں۔
۳۷۔  ایک بات تو واضح ہو رہی ہے کہ جو قوم ٹیکنا لوجی سے ہم آہنگ ہو وہی آباد، جو متصادم ہو وہ برباد ۔ 
۳۸۔  اگر ہم یہ سوچ کر لائحہ عمل مرتّب نہیں کرسکتے کہ یہ تو ہمارے مقدّر میں ہے تو سمجھ لو بے یقینی اور بے سمتی کے علاوہ  ہماری زندگی میںکچھ نہیں بچے گا۔
۳۹۔   جذباتیت اور جو شیلاپن وہاں پر شروع ہوتا ہے جہاں پر شعور کمزور پڑ جاتا ہے۔
۴۰۔  سورج، چاند، ستارے جس طرح اپنے محور کا راستہ نہیں بدلتے، اسی طرح زندگی کی سچائیاں بھی بدل نہیں سکتیں اور نوجوانو! سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ سکون قلب صرف صراط مستقیم ہی میں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نوجوانو! اپنے دین اور اپنے رسولؐ سے محبت کا اظہار اس طرح کریں

۴۱۔یہ کیسا ذہنی دیوالیہ پن ہے، کیسی منحوسیت ہے کہ صرف عوام نہیں، خواص کی بھی اکثریت سحر سے شام اور شام سے سویر تک صرف سیاستدانوں کی خوشامدی کر رہے ہیں۔
۴۲۔ آخری کتاب میں ربِّ کائنات کہتا ہے کہ ہم نے تمھارا نام مسلم رکھا ہے مگر افسوس ہمارا انکار ہے اور اصرار بھی کہ ہم دیو بندی، وہابی،شیعہ اور بریلوی ہیں۔ 
۴۳۔  ان تمام تر اندھیروں میں بھی یہ یاد رکھئے کہ مالک  ہر مضطرب کی دعاسنتا ہے۔ 
۴۴۔  افسوس ہمارے سیاستدانوں نے ایک نئی صنعت قائم کردی : نعرے لگانے والے،تالی بجانے والے، مائک پر چیخنے چلّانے والے اور پھول برسانے والے وغیرہ۔ 
۴۵۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہمیں صاحب کردار پہلے بنناہوگا۔ اُس کے بعد عصر حاضر سے ہم آہنگ اور پھر نفسا نفسی کی مہلک بیماری سے چھٹکارہ پانا ہوگا، قوم کی تعمیرِ نو بس اسی طرح شروع ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK