Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرقہ وارانہ منافرت کی توسیع میں بچوں اور عورتوں کی شمولیت

Updated: March 01, 2026, 11:49 AM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

گزشتہ دنوں لکھنؤ میں پروین توگڑیا کم عمر طلبہ کو خود دفاعی اقدام کے طور پر تشدد کا ایسا سبق پڑھاتے ہوئے دیکھے گئے جو انھیں جارح اور متشدد بھی بنا سکتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

۱۸۵۷ء کے انقلاب کے بعد اس ملک میں اپنی حکومت کو مستحکم بنانے کی خاطر انگریزوں نے فرقہ وارانہ منافرت کا جو کھیل شروع کیا تھا وہ کھیل آزاد ہندوستان میں نہ صرف جاری ہے بلکہ مختلف موقعوں پر اس کھیل کے ایسے خطرناک مظاہر سامنے آئے ہیں جو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ انگریزوں کی غلامی سے نجات پانے کے باوجود بعض عناصر آج بھی سماج میں موجود ہیں جو ذہنی طور پر اب بھی غلامی کی زندگی جی رہے ہیں۔ہندوستان کی دو نمایاں قوموں ہندو اور مسلمان کے درمیان نفرت اور دشمنی پیدا کرنے کی خاطر انگریزوں نے جن تاریخی اور مذہبی مفروضات کو حقائق کے طور پر رائج کرنے کی کوشش کی تھی ، فرقہ پرست سیاست انہی مفروضات کے سہارے اتحاد اور یکجہتی کی روایت کو کمزور بناتی ہے اور یہی حربہ اسے اقتدار تک پہنچنے میں مدد کرتا ہے۔ ملک میں فرقہ ورانہ منافرت اور اس سے پیدا شدہ تشدد کے کھیل کو بڑھاوا دینے میں مذہب اور سیاست سے وابستہ وہ عناصر فعال رہے ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر ملک کی سالمیت کو بھی داؤ پر لگانے سے باز نہیں آتے۔ ان دنوں دھرم آمیز سیاست کو جو عروج حاصل ہو اہے اس کے سبب یہ عناصر کھلے بندوں فرقہ ورانہ منافرت کی تشہیر میں مصروف ہیں۔ اس ضمن میں انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ انھوں نے فرقہ وارانہ کشیدگی کا ایسا ماحول بنا دیا ہے جس نے عورتوں اور بچوں کو بھی اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ ملک میں فرقہ ورانہ منافرت کے اس سنگین رجحان کے سبب سماجی سطح پر ایسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں جو نہ صرف حال بلکہ طویل مدت تک ملک کے مستقبل کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔

وطن عزیز میں فرقہ ورانہ منافرت سے متعلق گزشتہ کچھ برسوں کے دوران جو سروے ہوئے ہیں ان میں یہ تشویش ناک انکشاف ہوا ہے کہ فرقہ پرست عناصر بچوں اور عورتوں کو مسلمانوں کے خلاف آلہ ٔ کار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔فرقہ ورانہ منافرت کے کھیل میں عورتوں اور بچوں کی شمولیت ایسے خطرناک سماجی رجحان کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے جس کے سبب معاشرتی امن و آشتی کی فضا روز بہ روزمکدرہو رہی ہے۔سماج میں ایسی زہر آلودفضا تعمیر کرنے میںمسلمانوں کے خلاف سیاسی اور مذہبی فورم سے دی جانے والی نفرت آمیز تقاریر کا کلیدی کردار رہا ہے ۔ ان تقاریر اور گودی میڈیا کے مباحث میں مذہبی اور سیاسی افراد کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے بیانات کا اثر ان صورتوں میں نمایاں ہورہاہے کہ اب عوامی مقامات پر ہندو عورتیں مسلمانوں سے اپنی نفرت کا اظہار کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتیں۔نفرت کے اس اظہار میں مسلمانوں پر طعن و تشنیع کے علاوہ بعض اوقات مسلمان عورتوں کے خلاف تشدد سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران ٹرین ، بس ، مارکیٹ ، اسکول یا کسی تفریحی مقام پر ہندو عورتوں کے ذریعہ مسلمان عورتوں سے گالم گلوچ یا انھیں زد وکوب کئے جانے کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: خراب ہوتی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے درمیان ’محمد دیپک‘ کا بھائی چارگی کا اعلان

عوامی مقامات پر ہندو عورتوں کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کے اس اظہار کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایسی ہندو عورتوں کی خاصی تعداد ہو گئی ہے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز پروپیگنڈہ پھیلاتی رہتی ہیں۔ خوشبو پانڈے، شرمستھا پنولی، ہرشا ٹھاکر ، رددھما شرما اور راگنی تیواری کے علاوہ ایسی متعدد ہندو لڑکیاں اور عورتیں سوشل میڈیا پر اس مذموم عمل میں متحرک ہیں۔ان کے علاوہ ایسی سوشل میڈیا خواتین صارفین کی بھی خاصی تعداد ہے جو اپنی شناخت کو مخفی رکھ کر فرقہ ورانہ منافرت کی تشہیر میں مصروف ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی ارباب اقتدار ایسی خواتین کے پرستاروں میں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آسام دل بدلی، یوگی-شنکراچاریہ تنازع اور تعلیمی نظام پر ایس سی تبصرہ سرخیوں میں

ہندو عورتوں کے علاوہ کم عمر بچوں میں بھی اس نفرت آمیز رجحان کو دیکھا جا سکتا ہے۔یہ رجحان ان اسکولوں میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے جہاں ہندو اور مسلمان بچے اکٹھا تعلیم حاصل کرتے ہیں۔اس کے علاوہ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ذریعہ چلائے جانے والے تعلیمی اداروں میں فرقہ ورانہ منافرت کا اظہار کھلے بندوں ہوتا ہے اور ایسے ماحول میں تربیت پانے والے بچے جب سماج کے فعال رکن کی حیثیت اختیار کرتے ہیں تو فرقہ ورانہ منافرت اور تشدد میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔گزشتہ دنوں لکھنؤ کے ایک اسکول میں پروین توگڑیا کم عمر بچوں کو خود دفاعی اقدام کے طور پر تشدد کے ایسا سبق پڑھا رہے تھے جو انھیں جارح اور متشدد بھی بنا سکتا ہے اور توگڑیا کے تربیت یافتہ یہ بچے اس جارحیت کا استعمال کس کے خلاف کریں گے اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔کم عمر بچوں میں فرقہ ورانہ منافرت کو عام کرنے میں گودی میڈیا اور سوشل میڈیا کا وہ گروہ بھی متحرک کردار ادا کر رہا ہے جو مختلف حیلوں اور مفروضات کے ذریعہ ہمہ وقت مسلمانوں کی تضحیک اور تذلیل کرتا رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم پر اپوزیشن کی سرد مہری

فرقہ ورانہ منافرت کے کھیل میں ہندو عورتوں اور بچوں کی شمولیت سماج کی سالمیت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس صورتحال نے اس سماجی تصور پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس میں عورتوں کو صنف نازک اور بچوں کو معصوم اور فرشتہ صفت کہا جاتا ہے۔ شدت پسند ہندوتوا کے پیروکاروں نے اپنے مفاد کیلئے عورتوں اور بچوں کو آلۂ کار کے طور پر استعمال کر کے سماج میں ایسے پیچیدہ مسائل پیدا کر دئیے ہیں جو طویل مدت تک اتحاد و یکجہتی کی فضا کو آلودہ کرتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK