Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ پرہندوستان کا موقف ’نرم ‘یا ’ناکام‘ ؟

Updated: March 08, 2026, 11:26 AM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

ایران جنگ پرہندوستان اگر کھل کر کچھ کہتا تو دنیا یقیناً دیکھتی کہ اس ملک میںواقعی ’وشوگرو‘جیسا کچھ ہے لیکن ہندوستان نے یہ موقع گنوادیا ۔اس کی حکومت ایسی حکومت ثابت ہوئی جو سمجھوتہ کرنے میںیقین رکھتی ہے اورجسے خودسپردگی میںمفاد نظر آتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایران جنگ شروع ہونے کےتقریباً ہفتے بھر بعدہندوستان کے محکمہ خارجہ کی جانب سےایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پرخراج عقیدت پیش کیا گیا۔خارجہ سیکریٹری وکرم مصری نے ایران کے سفیرسےملاقات کی اورتعزیتی کتاب پردستخط کرکے ’انتہائی معمولی انداز‘ میں اپنے ’وشوگرو‘ ہونے کی لاج رکھ لی۔ اس کے علاوہ حکومت کے کسی لیڈربشمول وزیر اعظم مودی  نےکوئی باضابطہ بیان جاری کرکےخامنہ ای کےقتل پر تعزیت کا اظہار نہیںکیا ۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت میںحکومت کئی محاذوں پر ناکام نظرآتی ہےبالخصو ص خارجہ پالیسی کے محاذ پرجس کے تعلق سے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی  کے ذریعےمودی کو دیاگیا’کمپرومائزڈ وزیر اعظم‘ کا لیبل کافی ہے۔یہ معاملہ چین کی در اندازی سے چلا آرہا ہےجو ادھر آپریشن سیندور کے بعدامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کےہند-پاک جنگ ختم کروانے کےمتعدد مرتبہ دعوؤںپر مودی حکومت کی خاموشی تک جاری رہا اوراب ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کےبعد بھی جاری  ہے۔ان معاملات میںہندوستان کا’سرینڈر ‘واضح نظرآتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ہندوستان میں اے آئی کے ذریعے ’زندہ‘ ہوتے لوگ، ایک اُبھرتی ہوئی معیشت

ایران جنگ ہندوستان کیلئےاپنے خارجی موقف کومستحکم کرنے کا بہترین موقع تھا۔ہندوستان مضبوطی کے ساتھ اپنا موقف رکھ سکتا تھا کہ وہ کسی بھی صورت جنگ کا حامی نہیں ہےاوربلا جواز حملوںکاتو بالکل بھی نہیں۔ایران پر امریکی اسرائیلی حملوںکے جواب میں جب  ایران نے خلیجی ممالک میںامریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تب وزیر اعظم مودی نے ان ممالک کے سربراہوںکو فون کرنے میںتاخیر نہیںکی اورسبھی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا لیکن ایران پرحملےکی صورت میںجو پہلے کیاگیا تھا ، انہوں نے فون کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ حالانکہ یہاںہندوستان کیلئے دونوں ممالک (ایران  وامریکہ) کے درمیان مذاکرات جاری ہونے کا واضح نکتہ بھی موجود تھا ۔ بہر کیف  ہندوستا ن نےیہاںیہ بات نہیںرکھی ۔ خلیجی ممالک کے ساتھ اظہاریکجہتی ایک آسان اورنرم موقف تھا جبکہ ایران پرحملےپر افسوس کااظہار کرنا بھی آسان نہیں تھا ، اس لئےوزیر اعظم مودی نے اول الذکر متبادل چنا۔  اول الذکر متبادل کے انتخاب میںامریکی مفادات کی حمایت مقصود تھی کیونکہ ان مفادات سے ہندوستان کے اپنے مفادات بھی وابستہ تھے،اس صورت میںمودی حکومت دوسرا راستہ کیوں اختیار کرتی!

یہ بھی پڑھئے: ایران پر امریکہ و اسرائیل کا حملہ عالمی جنگل راج کی توثیق ہے

ایران ہندوستان کادورکا ہی سہی ، پڑوسی ضرور ہے ۔ ایران  مشرق وسطیٰ کا ملک ہے اورمشرق وسطیٰ کومغربی ایشیا بھی کہا جاتا  ہے۔ اس لحاظ سے ایران براعظم ایشیاکا ہی ملک ہے اور اسی براعظم پرہندوستان موجود ہے۔ یعنی جغرافیائی اعتبار سے بھی دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ اقتصادی نقطہ نظر سےدیکھا جائے تو  ایران  ہندوستان کو خام تیل مہیا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے  ۔ ہندوستان ایران کی تیل اور گیس کی صنعت میں سب سے بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں سے ایک ہے ۔ ۲۰۱۱ء میں ہندوستان اور ایران ۱۲؍بلین  ڈالر کے تیل کی تجارت کر رہے تھے جسے بعد میں ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے روک دیاگیا ۔ اب اس میںمزید پابندیاںشامل ہیں اور موجودہ حالات میںامریکی دباؤ کے سبب ہندوستان ایران سے جتنی دوری چاہے اختیار کر سکتا ہے ۔ غالب گمان یہی ہےکہ ہندوستان ان حالات میںدوری اختیارکرنے کوہی ترجیح دےگا کیونکہ فی الحال وہ ’نرم‘ خارجہ پالیسی پر قائم نظرآرہا ہے اوروہ ایک  ایسے ملک سے روابط نہیںبڑھائے گاجو ایک سپر پاور کے عتاب کاشکار ہو۔

ہندوستان ایران جنگ کے تعلق سے اپنی پالیسی میں اتنی نرمی اختیار کئے ہوئے ہے کہ ایران کے میناب میںاسکول پرہوئے فضائی حملے میں ۵۰؍سے ز ائد بچیوںکی ہلاکت پر بھی اس نےکوئی تعزیتی بیان جاری کرنا ضروری نہیںسمجھا۔ ایک سپرپاورکےآگےسرینڈ رکرنے کی اس سے بدتر مثال نہیں ہوسکتی ۔ہندوستان اسرائیل ، امریکہ اور چین جیسی طاقتوںکے آگے سرینڈر کرچکا ہےلیکن وہ اس پر خاموش رہ کر ثابت کرنا چاہتا ہے اس سے اسے کوئی فرق نہیںپڑتاحالانکہ یہی خاموشی اس کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ مودی حکومت کی یہ خاموشی بھی دوطرح کی ہوتی ہے۔ایک تو یہ کہ وہ جارح ملک کے خلاف خاموش اختیار کئے رہتا ہے اوردوسرے یہ کہ ملک میں اپوزیشن کے سوالوںپر کوئی جواب نہیںدیتا ۔ کتنے مواقع پراپوزیشن نے مودی حکومت سے پارلیمنٹ میں جواب مانگا لیکن مودی حکومت نے اصل موضوعات ومسائل پرکبھی لب کشائی کو ترجیح نہیں دی۔

یہ بھی پڑھئے: حالاتِ حاضرہ اور ادب کے طلبہ 

ایران جنگ کے پس منظر میں بحر ہندمیںپیش آئے ایک حالیہ واقعہ پر فی الوقت اپوزیشن مودی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہندوستان کی دعوت پرایک نمائشی تقریب میں شرکت کیلئے آئے ایرانی جہاز پرامریکہ نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میںوہ غرق ہوگیا ۔یہ غیر مسلح جہاز تھا، ہندوستان کی دعوت پر آیا تھالیکن اس پرحملےکےخلاف مودی حکومت  خاموش رہی ۔ اس جہاز پر حملہ ہندوستان کی بحری حدود کی بھی خلاف ورزی تھا لیکن اب توساری حدیں اورسارے پیمانے بدل چکے ہیں۔ مودی حکومت  کے ہندوستان کیلئےاب صرف دوہی حدیں ہیں۔ ایک حد میںوہ خود ساختہ وشو گروہےاوردوسری حد میںوہ بڑی طاقتوںکے آگے سرینڈر ہے۔مودی حکومت کے اسی رویے اور طرز عمل کی وجہ سے ان برسوں میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔کئی عالمی پلیٹ فارموں پر ہندوستان کورسوائیوںکا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے باوجود مودی حکومت  اپنا تجزیہ کرنے کی بجائے اس زعم میںمبتلا ہےکہ اس کی قیادت میںدنیا ہندوستان کو پُرامیدنظروں سے دیکھ رہی ہےجبکہ حقیقت یہ ہےکہ خود مودی حکومت دنیا کی بڑی طاقتوںسے کچھ پانے کی امیدلگائے بیٹھی ہے ۔ ایران جنگ پرہندوستان اگر کھل کر کچھ کہتا تو دنیا یقیناً دیکھتی کہ اس ملک میںواقعی ’وشوگرو‘جیسا کچھ ہے لیکن ہندوستان نے یہ موقع گنوادیا ۔اس کی حکومت ایسی حکومت ثابت ہوئی جو سمجھوتہ کرنے میںیقین رکھتی ہے اورجسے خودسپردگی میںمفاد نظر آتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK