اس ہفتہ غیر اردو اخبارات کے اداریوں اور تجزیوں میں کئی اہم موضوعات نمایاں رہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران۔ اسرائیل تنازع اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی رسہ کشی پر تفصیلی تبصرے کئے گئے جن میں بین الاقوامی سفارت کاری کی کمزوریوں اور خطے کے غیر یقینی مستقبل پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
سنیچر کو کاکروچ پارٹی کے احتجاج میں لہرایا گیا پوسٹر۔ تصویر: آئی این این
اس ہفتہ غیر اردو اخبارات کے اداریوں اور تجزیوں میں کئی اہم موضوعات نمایاں رہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران۔ اسرائیل تنازع اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی رسہ کشی پر تفصیلی تبصرے کئے گئے جن میں بین الاقوامی سفارت کاری کی کمزوریوں اور خطے کے غیر یقینی مستقبل پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ملک کے سیاسی منظرنامے میں کاکروچ پارٹی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کو ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے اس کے ممکنہ سیاسی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ جبکہ ہندی میڈیا نے مغربی بنگال میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور ٹی ایم سی کے سرکردہ رہنماؤں پر ہونے والے حملوں کو جمہوری اقدار کیلئےخطرہ قرار دیکر سخت تنقید کی۔ جنوبی ہند کی ریاستوں میں کانگریس کی نئی سیاسی حکمت عملیوں اور تنظیمی سرگرمیوں پر بھی بہت کچھ لکھا گیا۔
عالمی سفارت کاری کی کمزوری
دی ٹائمز آف انڈیا( ۴۔ جون)
انگریزی اخبار’’دی ٹائمز آف انڈیا‘‘ اپنے اداریہ میں لکھتا ہے کہ ’’مشرقی وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور ایران۔ اسرائیل کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کی کمزوریوں اور بین الاقوامی طاقتوں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان پسِ پردہ اختلافات اب راز نہیں ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبینہ تلخ گفتگو کی خبریں اشارہ کرتی ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کے پس منظر میں ایسے اختلافات موجود ہیں جنہیں سفارتی بیانات سے مکمل طور پر چھپایا نہیں جا سکتا۔ اگرچہ اسرائیلی قیادت حسب روایت ایسے تمام دعوؤں کی تردید کر رہی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو بدستور مضبوط قرار دے رہی ہے تاہم خطے میں جاری پیش رفت اس بات کی غماز ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے اسٹریٹجک مقاصد میں واضح فرق موجود ہے۔ امریکہ کی بنیادی ترجیح ایران کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنا اور اپنے علاقائی مفادات کا تحفظ کرنا ہے جبکہ اسرائیل اس بحران کو مشرقی وسطی کے سیاسی توازن کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اسرائیلی حکمت عملی کے تین نمایاں پہلو ہیں۔ اول ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو براہِ راست عسکری دباؤ کے ذریعے کمزور کرنا دوم غزہ میں ایسی زمینی اور سیاسی حقیقتیں پیدا کرنا جن سے آزاد فلسطینی ریاست کا تصور مزید دشوار ہو جائے اور سوم لبنان کی سرحد پر ایک وسیع سکیورٹی بفر زون قائم کرکے اپنی دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانا۔ ان اہداف کے حصول کے لیے اختیار کی جانے والی جارحانہ پالیسی نہ صرف فلسطینی مسئلے کے لیے تشویشناک ہے بلکہ اس کشیدگی کے اثرات صرف مشرقی وسطی تک محدود نہیں رہیں گے۔ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم مزید شدت اختیار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے متاثر ہوتے ہیں تو عالمی توانائی منڈیاں شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور اقتصادی سست روی ایسے نتائج ہیں جن کا اثر امریکہ، یورپ، ایشیا اور ترقی پزیر ممالک سب کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اخبارات نے کمال مولا مسجد فیصلے اور بعض نے خالد و شرجیل کی ضمانت کو موضوع بنایا
کاکروچ جنتا پارٹی
پربھات(۳۔ جون)
مراٹھی اخبار’’ پربھات‘‘ نے اداریہ لکھا ہے کہ’’ملک کی سیاسی بساط پر اکثر ایسے موڑ آتے ہیں جو بظاہر معمولی نظر آتے ہیں لیکن ان کے بطن میں ایک بڑے سیاسی و سماجی ارتعاش کے امکانات چھپے ہوتے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے کی ۶ جون کو نئی دہلی واپسی اور ان کا مجوزہ احتجاج بھی کچھ اسی نوعیت کا نظر آتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ابھیجیت نے ایک منفرد نام کے ساتھ سیاسی سفر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دو کروڑ سے زائد نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑ لیا یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ ہندوستانی سیاست میں جین زی کے ایک نئے انقلاب کا پیش خیمہ ہے؟ تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی ابھیجیت کو جس طرح کی سنسرشپ، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندی، ویب سائٹ بلاک کیے جانے اور ذاتی نمبر لیک ہونے کے بعد بیرون ملک سے جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، اس نے اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دباؤ کے باوجود ابھیجیت نے جس عزم کا مظاہرہ کیا ہے وہ دیدنی ہے۔ ابھیجیت کا یہ موقف کہ ان کی تحریک انارکی یا بدامنی پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ مکمل طور پر آئینی اور پرامن دائرہ کار کے اندر ہوگی ان کی سیاسی پختگی کا عکاس ہے۔ نوجوانوں کے نام اپنے ویڈیو پیغامات میں ان کا یہ سوال کہ گرفتاری کے خوف سے آخر کب تک ڈر ڈر کر جیا جائے؟ براہ راست ملک کے نوجوان طبقے کے دلوں میں اترتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ‘‘
جنوبی ہند میں ۲؍ ہفتوں میں ۳؍ بڑے واقعات
لوک مت( ۳۰۔ مئی)
مراٹھی اخبار’’ لوک مت‘‘ لکھتا ہے کہ’’جنوبی ہند کی سیاست میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران رونما ہونے والے تین بڑے واقعات نے سیاسی مبصرین کو چونکا دیا ہے۔ ان تبدیلیوں نے نہ صرف مقامی سیاست کا رخ متعین کیا ہے بلکہ مرکز میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس کی اندرونی حکمت عملی میں بھی ایک واضح تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ پہلا اہم واقعہ تامل ناڈو میں دیکھنے کو ملا جہاں اسمبلی انتخابات کے معلق نتائج سامنے آتے ہی کانگریس نے ڈی ایم کے کے ساتھ اپنا برسوں پرانا اتحاد ختم کرکے وجے تھلاپتی کا ساتھ دینے کا ایک بڑا جوا کھیلا۔ راہل گاندھی کے اس غیر متوقع فیصلے پر سیاسی حلقوں میں کافی بحث ہوئی۔ دوسری طرف کیرالا میں کانگریس کی قیادت والے اتحاد یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو ملنے والی کامیابی کے بعد یہ قیاس آرائیاں عروج پر تھیں کہ گاندھی خاندان کے وفادار کے سی وینوگوپال یا منجھے ہوئے سیاست دان رمیش چنیتھلا میں سے کوئی ایک وزیراعلیٰ کی کرسی سنبھالے گا۔ مگر کانگریس نے تمام روایتی مساواتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے زمینی سطح پر مضبوط پکڑ رکھنے والے رہنما وی ڈی ستیشن کو کمان سونپ کر سب کو حیران کر دیا۔ سیاسی پنڈتوں کیلئے سب سے زیادہ دلچسپ معرکہ کرناٹک کا تھا جہاں قیادت کی تبدیلی کا مرحلہ درپیش تھا۔ سدارامیا کی جگہ ڈی کے شیوکمار کو اقتدار منتقل کرنے کا عمل کسی بڑے ہنگامے یا اندرونی خلفشار کے بغیر خاموشی اور سلیقے سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔ کانگریس کی یہ حکمتِ عملی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو ملکی سیاست کے عین مرکز میں لا کھڑا کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس نے ماضی کے تلخ تجربات سے سخت سبق سیکھا ہے اور اپنی فیصلہ سازی کے عمل کو تبدیل کیا ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نے ’نیٹ پیپر لیک‘ اور مودی کے مشوروں پر تنقید کو موضوع بنایا
مغربی بنگال کی صورتحال
جن ستہ(۲۔ جون)
ہندی اخبار’ جن ستہ‘نے لکھا ہے کہ’’مغربی بنگال میں انتخابی معرکوں کے بعد سیاسی و پرتشدد تصادم کی روایت نئی بات نہیں لیکن حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتیجے میں رونما ہونے والی بڑی سیاسی تبدیلی اور بی جے پی کی جانب سےحکومت سازی کو ریاست میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا تھا۔ عوامی حلقوں میں یہ امید فطری تھی کہ اقتدار کی اس منتقلی کے مثبت اثرات طرز حکمرانی سے لے کر زمینی سطح پر عام آدمی کے معیار زندگی پر بھی مرتب ہوں گے۔ تاہم جو منظرنامہ ابھر کر سامنے آیا ہے وہ انتہائی مایوس کن ہے۔ حالات گواہی دے رہے ہیں کہ ریاست میں شرپسند عناصر کو قانون سے بالاتر ہونے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے اپوزیشن رہنماؤں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ریاستی انتظامیہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض تماشائی بنی ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں سیاسی انتقام کی آگ کو جس طرح بھڑکایا گیا ہے اور اپوزیشن پارٹیوں کے کارکنوں و رہنماؤں پر منظم حملے کیے گئے ہیں اس نے امن و قانون کے پورے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ صورتحال اس سنگین سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا مغربی بنگال کے غیور عوام نے اسی انتشار اور لاقانونیت کے لیے تبدیلی کے حق میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا؟‘‘