ملک کے بیشتر غیر اردو اخبارات کے اداریوں میں عدالتی نظام، انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں اور انصاف کے بدلتے معیارات پر سنجیدہ بحث دیکھنے کو ملی۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 5:50 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
ملک کے بیشتر غیر اردو اخبارات کے اداریوں میں عدالتی نظام، انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں اور انصاف کے بدلتے معیارات پر سنجیدہ بحث دیکھنے کو ملی۔
ملک کے بیشتر غیر اردو اخبارات کے اداریوں میں عدالتی نظام، انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں اور انصاف کے بدلتے معیارات پر سنجیدہ بحث دیکھنے کو ملی۔ بعض انگریزی اخبارات نے بھوج شالہ، کمال مولا مسجد معاملے میں حالیہ عدالتی فیصلے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے اس کے سماجی اور آئینی اثرات پر سوال اٹھائے تو وہیں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ کے ججوں کے سخت ریمارکس اور طویل قانونی عمل پر بھی بعض اخبارات نے تبصرے کیے۔
اسی طرح جہیز کی لعنت، خواتین پر بڑھتے مظالم اور گھریلو تشدد کے واقعات نے بھی اداریہ نگاروں کو فکر مند رکھا۔
یہ بھی پڑھئے : ’نیٹ‘ پیپر لیک سے لے کر بے روزگاری تک: مودی سرکار کی کارگزاری کے۱۲؍ سال کا جائزہ
پلیس آف ورشپ ایکٹ کو سختی سے نافذ کیا جانا چاہئے
دی ہندو( انگریزی، ۲۰؍ مئی)
دھار (مدھیہ پردیش) میں واقع تاریخی بھوج شالہ، کمال مولا کمپلیکس گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے سے اپنی مذہبی شناخت کے حوالے سے شدید نزاع کا باعث بنا ہوا ہے۔ بالخصوص رام جنم بھومی تحریک کے عروج کے دوران اس تنازع نے مزید شدت اختیار کر لی۔ ۲۰۰۳ء میں آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا نے ایک معتدل اور قابل عمل انتظام وضع کیا تھا جس کے تحت مختلف عقائد کے ماننے والوں کو باری باری اس مقام پر عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ سلسلہ اس وقت تک پرامن طور پر جاری رہا جب تک کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر کے اس عمارت کی حقیقی مذہبی نوعیت کا تعین کرنے کیلئے نئے سرے سے سروے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ ہائی کورٹ نے۲۰۲۴ء میں اس درخواست کو منظور کیا بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی بعض حفاظتی شرائط کے ساتھ اس سروے کو آگے بڑھانے کی توثیق کر دی۔ ۱۵؍ مئی کو ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کمپلیکس بنیادی طور پر ایک ہندو مندر تھا اور مسلم فریق کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت سے متبادل اراضی حاصل کرے۔ اگرچہ عدالت کا اصرار ہے کہ اس کی حیثیت محض مذہبی کردار کا تعین کرنے تک محدود ہے لیکن یہ پیش رفت تشویشناک ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی جانب سے رواں سال جنوری میں بھوج شالہ سے متعلق عدالتی کارروائی کو ازسرنو زندہ کیے جانے کے بعد سامنے آنے والا یہ فیصلہ سراسر آثار قدیمہ کے شواہد اور ۲۰۱۹ کے ایودھیا فیصلے کے طے کردہ اصولوں یعنی’ آستھا‘ پر مبنی ہے۔ بھوج شالہ کا یہ فیصلہ اس خطرناک رجحان کی توثیق کرتا ہے کہ ایودھیا کے فیصلے نے اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی حیثیت کو بار بار متنازع بنانے کا ایک چور راستہ کھول دیا ہے چاہے وہ آثار قدیمہ کے تحت ہی کیوں نہ محفوظ ہوں۔ گیان واپی، شاہی عیدگاہ اور بیجامنڈل کمپلیکس جیسے متعدد مقامات اس بڑھتی فہرست کا واضح ثبوت ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ۱۹۹۱ء کے پلیس آف ورشپ ایکٹ کوا س کی تمام تر سختی اور اصل روح کے ساتھ نافذ کیا جائے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : اس ہفتے اخبارات نے ’نیٹ پیپر لیک‘ اور مودی کے مشوروں پر تنقید کو موضوع بنایا
عدالتی موقف سے ہی عدالتی خامیاں واضح ہو گئی ہیں
مہاراشٹر ٹائمز( مراٹھی، ۲۰؍مئی)
’’غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یواے پی اے) جیسے سخت قوانین کے تحت درج مقدمات میں بھی تعزیراتی قانون کے بنیادی اصول لاگو ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اپنے ہی ایک فیصلے پر سوالیہ نشان اٹھانے سے عدالتی نظام کی خامیاں اور تضادات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ دہلی فسادات کے معاملے میں گزشتہ ۶؍ برسوں سے جیل میں بند عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کرنے والے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے پر جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اُجل بھوئیاں نے سخت اعتراضات کئے ہیں۔ عدلیہ کا اپنی خامیوں کا خود نوٹس لینا ایک مثبت قدم تو ہے لیکن اس سے عدالتی نظام کے تضادات کا وہ اندھیرا گوشہ ملک کے سامنے آیا ہے جس پر بات کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ’ضمانت ایک اصول ہے اور جیل ایک استثنا‘ کا وہ بنیادی اصول جو قانون کی تعلیم کے آغاز میں ہی طلبہ کو سکھایا جاتا ہے، اسے خود سپریم کورٹ کو یاد دلانے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ عدالت کے اس حالیہ تبصرے سے شاید ان دونوں کو فوری طور پر ضمانت نہ ملے لیکن اس بہانے ملک بھر کی جیلوں میں بغیر ٹرائل کے سڑنے والے ہزاروں زیرِ سماعت قیدیوں کا مسئلہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ ۶؍ سال قبل سی اے اے کیخلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد دہلی میں بھڑکنے والے فسادات میں ۵۳؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس معاملے میں جے این یو کے طلبہ لیڈر عمر خالد اور شرجیل امام کو گرفتار کر کے انہیں فسادات کا ماسٹر مائنڈ بتا دیا گیا اور یواے پی اے کی سنگین دفعات لگادی گئیں۔ یہ دونوں گزشتہ پانچ سال سے زائد عرصے سے ضمانت کیلئے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں لیکن سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم اس فیصلے کی خامیاں اب خود عدالت کے حالیہ موقف سےواضح ہو گئی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : ’نیٹ‘ کا امتحان بھی ’جے ای ای‘ کی طرز پر کئی شفٹوں میں لیا جانا چاہئے
سماجی کارکن بننا یا حقوق کی جنگ لڑنا کوئی جرم نہیں
پربھات( مراٹھی، ۱۹؍مئی)
’’چیف جسٹس سوریہ کانت نے میں ملک کے نوجوانوں کے بارے میں ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے سب کو حیران کر دیا۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بات کا غلط مطلب نکالا گیا لیکن اس صفائی کے باوجود یہ معاملہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا اور لوگ سخت ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ملک کے بے روزگار نوجوان دوسروں پر بوجھ ہوتے ہیں جن میں سے کچھ بعد میں سماجی کارکن یا آر ٹی آئی کارکن بن کر ملک کے نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے ایسے نوجوانوں کا موازنہ ’کاکروچ‘ سے بھی کیا۔ عدالت کے اتنے بڑے عہدے پر بیٹھی شخصیت کی طرف سے نوجوانوں کیلئے ایسے الفاظ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر غصے کا طوفان آ گیا ہے۔ ملک کے دوسرے بڑے سماجی کارکنوں نے بھی اس کی سخت مذمت کی ہے۔ آج ہمارے ملک کا نوجوان حالات کی وجہ سے شدید پریشان اور مایوس ہے۔ ملک میں آئے دن امتحانی پرچے لیک ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی سرکاری نوکری کا امتحان ٹھیک سے ہو بھی جائے تو نوکری ملنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی نوکریاں کم ہو رہی ہیں اور بے روزگاری بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ان حالات میں نوجوانوں کے پاس اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے کا واحد راستہ احتجاج ہی رہ جاتا ہے۔ اگر اپنے حقوق کیلئے بیدار ہوکر حکومت سے سوال پوچھنے والے نوجوان کو نظام پر حملہ کرنے والا سمجھ لیا جائے گا توسماج میں اس کے بہت برے نتائج نکلیں گے۔ سماجی کارکن بننا یا معلومات کے حق کیلئے لڑنا کوئی جرم نہیں ہے بلکہ یہ آئینی حق ہے۔ ‘‘
جہیز کے مطالبے پر درندگی کا مظاہرہ
نوبھارت( ہندی، ۲۱؍ مئی)
’’ملک میں ہر سال جہیز یا دیگر وجوہات کی بنا پر خواتین کے قتل کے لگ بھگ ۶۰۰۰؍معاملات سامنے آتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب تعلیم یافتہ اور شہری متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی محفوظ نہیں رہ گئی ہیں۔ حال ہی میں بھوپال میں تیوشا شرما اور گریٹر نوئیڈا میں دپیکا ناگر کی موت اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے کہ خود کو تعلیم یافتہ اور مہذب کہنے والے بھی جہیز کے مطالبے پر درندگی کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آتے۔ ان دونوں نوجوان خواتین میں سے ایک کی شادی محض ۵؍ ماہ قبل اور دوسری کی ڈیڑھ سال پہلے ہوئی تھی۔ دونوں کی موت انتہائی مشکوک حالات میں ہوئی۔ جہیز کے لالچی سسرال والوں نے ان پر وحشیانہ مظالم ڈھائے۔ تیوشا کے مائیکے والوں کا الزام ہے کہ اسے شدید ذہنی و جسمانی تشدد، تذلیل اور جبری اسقاطِ حمل کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پر مسلسل یہ دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ وہ اپنے تمام مالی وسائل اپنے وکیل شوہر کے حوالے کر دے۔ دوسری جانب، نوئیڈا میں ۲۴؍ سالہ دپیکا ناگر نے مبینہ طور پر چھت سے کود کر اپنی جان دے دی۔ اس کے سسرال والے اس پر بار بار قیمتی لگژری گاڑی لانے کا دباؤ ڈال رہے تھے۔ قومی کمیشن برائے خواتین نے اس لرزہ خیز معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے۔ دوسری طرف بھوپال میں تیوشا شرما کیس کی تحقیقات کیلئے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ایسے بے شمار واقعات رونما ہوتے ہیں جن کی رپورٹ تک درج نہیں ہو پاتی۔ ‘‘