جب کوئی قوم اپنے اہداف کو صرف زندہ رہنے کی حد تک محدود کر دے تو وہ محنتی افراد تو ضرور پیدا کرتی ہے مگر رہنما، قائد ، دانشور، پالیسی ساز اور لیڈرشپ نہیں پیدا کرپاتی، مسلمانوں کی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 12:33 PM IST | Advocate Mariya Khan | Mumbai
جب کوئی قوم اپنے اہداف کو صرف زندہ رہنے کی حد تک محدود کر دے تو وہ محنتی افراد تو ضرور پیدا کرتی ہے مگر رہنما، قائد ، دانشور، پالیسی ساز اور لیڈرشپ نہیں پیدا کرپاتی، مسلمانوں کی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے
آج کے ہندوستان میں مسلم قوم ایک نہایت اہم اور نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اس کیلئے بظاہر بے روزگاری ، معاشی کمزوری اور مواقع کی کمی جیسے مسائل تو نمایاں ہیں مگر اصل اور سب سے سنگین مسئلہ مسلمانوں میں قانونی شعور کی کمی ہے۔ایک ایسی قوم جو اپنے دستوری حقوق، قانونی اختیارات اور آئینی تحفظات سے ناواقف ہو، وہ لازمی طور پر کمزور ، غیر محفوظ اور دوسروں پر انحصار کرنے والی بن جاتی ہے۔
قانونی آگہی کی عدم موجودگی مسلمانوں کو اس حد تک بے بس اور کمزور کر دیتی ہے کہ وہ جمہوری نظام میں موجود اپنے ہی حقوق کو موثر انداز میں استعمال نہیں کر پاتے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ طویل عرصے سے مسلم قوم کی خواہشات اور جدوجہد کا دائرہ صرف روٹی کپڑا مکان تک محدود رہا ہے۔ یہ بنیادی ضروریات یقیناً اہم ہیں مگر صرف انہی پر اکتفا کرلینے سے کوئی قوم ترقی نہیں کر پاتی۔ یہ اہداف اور مقاصد محض مزدورانہ سوچ کی علامت ہیں، لیڈر شپ کی نہیں۔جب کوئی قوم اپنے اہداف کو صرف زندہ رہنے کی حد تک محدود کر دے تو وہ محنتی افراد تو ضرور پیدا کرتی ہے مگر رہنما، قائد ، دانشور، پالیسی ساز اور لیڈرشپ نہیں پیدا کرپاتی۔ یہی صورتحال آج ہندوستانی مسلمانوں کی ہوگئی ہے۔اس کے افراد محنتی ضرور ہیں مگر ان میں بروقت فیصلہ کرنے کی قوت بہت محدود ہے۔ جو قوم صرف مزدورانہ ذہنیت تک خود کو محدود رکھتی ہے، وہ زندہ تو رہ سکتی ہے مگر قیادت نہیں کر سکتی۔ حقیقی ترقی کیلئے قیادت، حکمتِ عملی اور احساسِ ملکیت ضروری ہے، ورنہ اتحاد اور اجتماعی قوت کمزور ہو جاتی ہے۔لیڈرشپ کی کمی استحصال کے دروازے کھول دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تاریک شب کو تونے درخشاں بنا دیا
آج مسلمان اپنی ترقی اور فلاح کیلئے خودآگے آنے کے بجائے دوسروں پر انحصار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ آج کا مسلمان اس انتظار میں رہتا ہے کہ کوئی اور ان کی طرف سے بولے اور ان کے مسائل پر آواز اٹھائے۔ حالانکہ یہ ذمہ داری عموماً اپوزیشن سے تعلق رکھنےوالی جماعتیں اپنے کندھوں پر اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن ان کی کوششوں میں اخلاص نہیں ہوتا بلکہ وہ مسلمانوں کو صرف ایک ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
قانونی لاعلمی سب سے بڑا نقصان یہ کرتی ہے کہ ناانصافی بڑھ جاتی ہے، استحصال آسان ہو جاتا ہے، غلط الزامات ،جھوٹے مقدمات اور انتظامی دباؤ جیسے ہتھکنڈے عام ہو جاتے ہیں۔ لوگ اکثر اسلئے خاموش رہتے ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پاس کون سا قانونی راستہ موجود ہے۔ جہالت ایک پنجرہ بن جاتی ہے اور خوف ایک ہتھیار۔
یہ بھی پڑھئے: جمہوریت میں اختلاف رائے کا حق ہے پھر احتجاج کو جرم کیوں بنایا جا رہا ہے؟
اس صورتحال سے نکلنے کی ذمہ داری سب سے زیادہ نوجوانوں پر ہے۔ مسلم نوجوان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی کا راستہ تعلیم، قانونی آگہی، شہری شعور اور نظم و ضبط سے ہو کر گزرتا ہے۔ وہ صرف روایتی پیشوں تک محدود رہنے کے بجائے ملک کے اسٹرکچر میں اہم کردار ادا کریں، وکیل بنیں، صحافی بنیں، اساتذہ بنیں، اسکالر بنیں، افسر بنیں، کاروباری اورقائد بنیں۔
تعلیم اعتماد دیتی ہیں، قانونی شعور اور قوت بخشتا ہے ، اثر پیدا کرتا ہے۔ مسلم برادری کو اب ڈر، لا علمی اور انحصار سے آگے بڑھ کر اپنی شناخت اور حقوق کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ قانونی شعور کوئی اختیار نہیں بلکہ نا گریز ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو کمیونٹی کو طاقت، تحفظ اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ مستقبل یقیناً اسی قوم کا ہوگا جو اپنے حقوق کو نہ صرف جانتی ہو بلکہ انہیں دانش مندی اور خود اعتمادی کے ساتھ استعمال کرنے کا فن بھی جانتی ہو۔
یہ بھی پڑھئے: شمال مشرقی لوگوں پرحملوں نے سرکار کی توجہ حاصل کی، لیکن مسلمانوں کا کیا؟
شاید یہ تبدیلی ہمارے دور میں مکمل طور پر نظر نہ آئے لیکن ہماری یہ کوششیں ہمارے بچوں اور آنے والی نسلوں کو زیادہ مضبوط اور بااختیار مقام پر پہنچائیں گی، انشاءاللہ۔