جب امتیازی سلوک کے خلاف جنگ کی بات آتی ہے، تو راحت کی کچھ وجہ ہوتی ہے، لیکن تشویش کی بھی کافی وجہ ہوتی ہے۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 12:17 PM IST | Vir Sanghvi | Mumbai
جب امتیازی سلوک کے خلاف جنگ کی بات آتی ہے، تو راحت کی کچھ وجہ ہوتی ہے، لیکن تشویش کی بھی کافی وجہ ہوتی ہے۔
جب امتیازی سلوک کے خلاف جنگ کی بات آتی ہے، تو راحت کی کچھ وجہ ہوتی ہے، لیکن تشویش کی بھی کافی وجہ ہوتی ہے۔ آئیے اچھی خبر کے ساتھ شروع کرتے ہیں۔ اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والی تین خواتین کو نفرت انگیز نسلی طعنوں، توہین اور ’بد کرداری‘ کے الزامات کا نشانہ بنایا گیا۔
شمال مشرق سے آنے والے کسی بھی شخص کو یہ بتائیں کہ یہ دہلی میں ہوا ہے، اور آپ کو صرف بے بسی اور اداسی کی سانس ہی ملے گی۔ اس خطے کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اس کے متاثرین اس کے عادی ہو چکے ہیں۔لیکن اس بار، چیزیں مختلف تھیں۔ بڑے سیاسی لیڈران اس میں شریک ہوئے۔ اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو نے اس کے بارے میں پوسٹ کیا، اور شمال مشرقی امور کے مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے بھی اسے ایک مسئلہ بنا کر پیش کیا۔ بدسلوکی کرنے والوں کو گرفتار کر لیا گیا،حالانکہ انہیں اپنے دفاع کا موقع بھی دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بدسلوکی غصے میں کی گئی تھی۔ (ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے اعمال کو جائز قرار دیا جا رہا ہے۔) اس کیس کے ارد گرد ہونے والی شدید سیاسی توجہ اسے ختم نہیں کرے گی، اور شاید ملزمین کو دی جانے والی سزا دوسروں کیلئے ایک انتباہ کا کام کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: جمہوریت میں اختلاف رائے کا حق ہے پھر احتجاج کو جرم کیوں بنایا جا رہا ہے؟
اب آئیے! تشویش کی بات کی طرف۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ چند سال پہلے اس طرح کی زیادتیاں جہالت کی وجہ سے ہوتی تھیں۔ باقی ہندوستان کے لوگ شمال مشرق کے بارے میں بہت کم جانتے تھے، لیکن اب یہ سچ نہیں رہا۔ ہندوستان کے بڑے شہروں میں، لوگ کھاسی، میزو، ناگا، اور دیگر کمیونٹیز کے بارے میں جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ نہ نیپالی ہیں اور نہ ہی چینی۔ پھر بھی، جب بھی کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے، وہی پرانی گالیاں دی جاتی ہیں: ان لوگوں کو’چنکی‘ کہا جاتا ہے، خواتین کے کردار پر سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے، اور بہت کچھ۔ایسا لگتا ہے کہ یہ جلد ختم نہیں ہوگا، اور شمال مشرق کے ہزاروں نوجوان اپنے ہی ملک میں ذلت کا سامنا کرتے رہیں گے۔
کچھ لوگ مجھے صبر کرنے کو کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ سب کچھ بہتر ہو جاتا ہے۔۱۹۶۰ء کی دہائی کے آخر تک جنوبی ہندوستانیوں کی حالت زار کو یاد رکھیں۔ ہندی فلموں میں ان کا مذاق اڑایا جاتا تھا اور سیاہ رنگت کی وجہ سے انہیں ’کالو‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ مزاح کا پہلو ہو، لیکن یہ ہمیشہ ایک چبھن کی طرح لگتا تھا۔ شروع میں، شمالی ہندوستانیوں کو یہ سمجھنے میں کافی وقت لگا کہ تمام جنوبی ہندوستانی ’مدراسی‘ نہیں تھے۔ اس کی وجہ سے کچھ عجیب حالات پیدا ہوئے۔۱۹۶۷ء میں جب شیو سینا بمبئی میں ملیالیوں کو مار رہی تھی تو وہ اپنے متاثرین کو یہاں سے نکل جانے کو کہتی تھی۔ مدراس واپس جائیں کیونکہ شیو سینا کے غصے کا شکار ہونے والے زیادہ تر لوگ اپنی زندگی میں کبھی مدراس نہیں گئے تھے، اسلئے وہ نہیں جانتے تھے کہ کیا کریں۔تقریباً ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ ایک لطیفے (’ارے چنکی‘ یا’اوئے کالیا‘) سے شروع ہوتا ہے اور پھر، ایک بار جب تصویر قائم ہو جاتی ہے، تو اسے آسانی سے ہتھیار بنا دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کھیت کو پرندوں سے بچانے کیلئے طلبہ اونچی آواز میں سبق یاد کرتے ہیں
کہا جاتا ہے کہ جس طرح جنوبی ہندوستانیوں نے شمالی ہندوستانیوں کے امتیازی سلوک اور جہالت پر قابو پالیا، اسی طرح شمال مشرق کے لوگ بھی۔ مجھے امید ہے کہ یہ سچ ہے، لیکن میں اس بتدریج تبدیلی کا انتظار نہیں کرنا چاہتا۔ ہمیں نسل پرستوں کو جیل میں ڈالنا جاری رکھنا چاہئے اور شمال مشرق سے کسی کی توہین کرنے والے کو گرفتار کرنا چاہئے۔ اب جبکہ سزا کا عمل شروع ہو چکا ہے، اسے پوری قوت کے ساتھ جاری رہنا چاہئے۔
کاش میں یہیں ختم کر سکتا اور آپ کو بتاتا کہ ہندوستان امتیازی سلوک کے خلاف یہ جنگ جیت جائے گا، لیکن ہم جانتے ہیں کہ شمال مشرق کے لوگوں پر حملوں کو لے کر چاہے ہم کتنے ہی ناراض کیوں نہ ہوں، مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ ہندو سماج نچلی ذاتوں کیلئے احترام کی کمی اور دلتوں کیلئے حقارت پر مبنی ہے۔
مساوات کے اصول کی صرف بات کی جاتی ہے، لیکن ہم اسے حاصل کرنے کیلئے بہت کم کرتے ہیں۔جب پسماندہ ذاتیں اور دلت اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو اکثر تنازعات پھوٹ پڑتے ہیں کیونکہ اعلیٰ ذاتیں بغیر احتجاج کے ان کا احترام نہیں کرتیں۔ خوش قسمتی سے، ان میں سے زیادہ تر تنازعات انتخابات کے ذریعے لڑے گئے ہیں، اسلئے ہم نے خونریزی سے گریز کیا ہے۔ لیکن یہاں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جب دہلی میں دو عام لوگ شمال مشرق کی خواتین کی توہین کرتے ہیں تو ہمیں غصہ آتا ہے، وزراء بیان دیتے ہیں اور جب معاملہ عدالت میں جاتا ہے تو مزید تقریریں کی جاتی ہیں۔یہ اچھی بات ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے، لیکن یہ ایک گہرا مسئلہ چھپاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرقہ وارانہ منافرت کی توسیع میں بچوں اور عورتوں کی شمولیت
ہندوستان میں شناخت کی بنیاد پر ہونے والی توہین کا سب سے زیادہ شکار مسلمان ہیں اور ان کے معاملے میں یہ توہین بڑھتی جارہی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں کسی بھی وقت سے زیادہ، انہیں احساس کمتری میں مبتلا کر دیا گیا ہے- ان پر شک کیا جاتا ہے، اور ان کی ہندوستانیت اور وفاداری پر مسلسل سوالات کیے جاتے ہیں۔اس معاملے میں، توہین سب سے اوپر والوں کی طرف سے ہوتی ہے، اور کوئی بھی اس پر کچھ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ کچھ لیڈروں کیلئے مسلمانوں کو اکسانا اور ان کی توہین کرنا فرقہ پرست ہندوؤں سے ووٹ حاصل کرنے کا ایک سیاسی حربہ ہے۔
صرف ایک کیس لے لیں۔ آسام میں جہاں انتخابات قریب آ رہے ہیں، وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے حال ہی میں مسلمانوں کے بارے میں کئی ایسے بیانات دیئے ہیں جو واضح طور پر غلط ہیں۔ انہوں نے ہندوؤں کو مسلمانوں کو ان کے طے شدہ اجرت سے کم پیسے دینے کی ترغیب دی، اور ایک ویڈیو میں وہ مسلمانوں پر بندوق اٹھاتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں۔ بعد میں انہوں نے ویڈیو سے کسی بھی تعلق سے انکار کیا، لیکن باقی باتیں ابھی قائم ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس معاملے میں کچھ نہیں کہا۔ اور سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کو دیکھنے سے انکار کر دیا اور اسے نچلی عدالت میں بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھئے: آسام دل بدلی، یوگی-شنکراچاریہ تنازع اور تعلیمی نظام پر ایس سی تبصرہ سرخیوں میں
ان سب میں کہاں کا انصاف ہے؟
تو ہاں، مجھے خوشی ہے کہ حکومت شمال مشرق کے لوگوں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ ہمیں ہر قسم کے امتیاز کا مقابلہ کرنا چاہئے۔
لیکن کیا ہم صحیح معنوں میں امتیازی سلوک سے لڑنے کے بارے میں بات کر سکتے ہیں جب ہماری آبادی کا۱۵؍ فیصد ذلت اور امتیاز کے خطرے سے دوچار ہو اور انصاف کے حصول کا کوئی راستہ نہ ہو؟ افسوس اس بات کا ہے کہ اس تعلق سے عدالت بھی ٹھیک سےاپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا پارہا ہے۔