Inquilab Logo Happiest Places to Work

جمہوریت میں اختلاف رائے کا حق ہے پھر احتجاج کو جرم کیوں بنایا جا رہا ہے؟

Updated: March 01, 2026, 12:05 PM IST | Sheetal P. Singh | Mumbai

ہندوستانی آئین نہ صرف شہریوں کو ووٹ دینے کا حق دیتا ہے بلکہ سوال کرنے، اختلاف رائے کا اظہار کرنے اور پرامن احتجاج کرنے کا حق بھی دیتا ہے۔

In the last ten years, it has often been seen that the government turns every major incident into a question of `national dignity` and when dignity becomes paramount, dissent becomes a crime. Photo: INN
پچھلے دس برسوں میںاکثر دیکھا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہر بڑے واقعے کو ’قومی وقار‘ کا سوال بنا دیا جاتا ہے اوراور جب وقار سب سے اوپر ہو جاتا ہے تو اختلاف جرم بن جاتا ہے۔۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی آئین نہ صرف شہریوں کو ووٹ دینے کا حق دیتا ہے بلکہ سوال کرنے، اختلاف رائے کا اظہار کرنے اور پرامن احتجاج کرنے کا حق بھی دیتا ہے۔ یہ حقوق ہیں جو کسی بھی جمہوریت کو برقرار رکھتے ہیں۔ اگر شہری حکومت سے سوال نہیں کر سکتے تو جمہوریت آہستہ آہستہ محض ایک رسم بن جاتی ہے۔نئی دہلی میں اے آئی سمٹ کے دوران یوتھ کانگریس کے کارکنوں کا احتجاج، اور اس کے بعد پولیس کی کارروائی اور عدالتی کارروائی، کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ یہ ایک بڑے سوال کا حصہ ہے کہ کیا اب ہندوستان میں اختلاف رائے کو ایک  جرم کے طور پر دیکھا جاتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو خاص طور پر مودی حکومت کے دور میں یہ رجحان کیوں تیز ہوا؟

یہ بھی پڑھئے: کھیت کو پرندوں سے بچانے کیلئے طلبہ اونچی آواز میں سبق یاد کرتے ہیں

احتجاج کوئی رعایت نہیں، یہ بنیادی حق ہے۔ہمارےآئین کا  دفعہ ۱۹(ایک) شہریوں کو تین اہم حقوق دیتا ہے:

۱)اظہار رائے کی آزادی

۲)پرامن طریقے سے اور بغیر ہتھیاروں کے جمع ہونے کا حق اور

۳) ادارے قائم کرنے کا حق

ریاست ان حقوق پر معقول پابندیاں عائد کر سکتی ہے، لیکن آئین میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایسا کرنا ہو تو یہ پابندی ’معقول  ہو،ضروری ہو اوراور غیر متناسب نہ ہو۔آئین میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی احتجاج حکومت کیلئے تکلیف دہ ہو، کسی بڑے واقعے کے دوران ہوتا ہو، یا کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ہوتا ہو تو اسے خود بخود جرم سمجھ لیا جانا چاہئے۔سپریم کورٹ میں اس تعلق سے کئی  نظیریں موجود ہیں۔ سپریم کورٹ نے بارہا واضح کیا ہے کہ پرامن احتجاج جمہوریت کی روح ہے۔ ملاحظہ کریں:

۱) رام لیلا میدان کیس (۲۰۱۲ء)

عدالت نے کہا کہ ’’پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال آخری حربہ ہو سکتا ہے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے بات چیت کرکے اور انتباہ کا سہارا لے۔‘‘اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ طاقت کااستعمال پولیس کا پہلا ردعمل نہیں ہو سکتا۔

۲) مزدور کسان شکتی سنگٹھن بمقابلہ یونین آف انڈیا (۲۰۱۸ء)

اس تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ’’ریاست کی ذمہ داری نہ صرف امن و امان برقرار رکھنا ہے بلکہ احتجاج کو آسان بنانا بھی ہے۔‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کا کام ہر احتجاج کو ’مسئلہ‘ سمجھنا نہیں ہے بلکہ اس بات پر غور کرنا ہے کہ آئینی فریم ورک کے اندر احتجاج کو کس طرح سہولت فراہم کیا جائے۔

۳) امیت ساہنی بمقابلہ پولیس کمشنر (۲۰۲۰ء)

عدالت نے تسلیم کیا کہ سڑکوں یا عوامی مقامات پر غیر معینہ مدت تک قبضہ غلط ہو سکتا ہے، لیکن یہ بھی کہا کہ’’احتجاج پر مستقل پابندی  نہیں ہوسکتی اوراس تعلق سے کوئی من مانی بھی نہیں ہو سکتی۔‘‘

۴)ماڈرن ڈینٹل کالج کیس (۲۰۱۶ء)

اس فیصلے نے تناسب کا اصول قائم کیا کہ ’’کیا کارروائی ضروری تھی؟کیا کم سخت متبادل دستیاب تھے؟کیا غیر ضروری طور پر حقوق کی خلاف ورزی کی گئی؟‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: فرقہ وارانہ منافرت کی توسیع میں بچوں اور عورتوں کی شمولیت

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ اے آئی سمٹ کیس میں مسئلہ کہاں ہے؟ اگردستیاب حقائق کی بنیاد پر، یوتھ کانگریس کے احتجاج کو دیکھیں تو یہ ایکپرامن احتجاج تھا،سیاسی اختلاف کی ایک شکل تھی اور کسی پرتشدد سرگرمی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔اس کے باوجوداس معاملے میں فوری گرفتاریاں ہوئیں اوران پرسنگین مجرمانہ الزامات عائد کئے گئے اور مظاہرین کو پولیس حراست میں بھیج دیا گیا۔ 

اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’کیا یہ کارروائی واقعی ’امن و امان‘ کیلئے تھی یا کوئی نظیر قائم کرکے خوف پیدا کرنے کیلئے کی گئی تھی؟‘‘ سپریم کورٹ کی نظیروں کے مطابق، اس طرح کی صورت حال میں  احتجاج کی جگہ کا تعین کیا جا سکتا تھا۔مظاہرہ محدود ہو سکتا تھا اور مظاہرین سےبات چیت ہو سکتی تھی....لیکن فوجداری قانون کا براہ راست استعمال آئین کی روح سے متصادم ہے۔

لیکن افسوس کہ عدالت نے یوتھ کانگریس کے لیڈر کو ۴؍ دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا۔ یہ حکم بیک وقت دو چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اول یہ کہ عدالت نے پولیس کا مطالبہ پوری طرح قبول نہیں کیا (اس نے ۷؍ دن کی  حراستی تحویل نہیں دی) دوم  اس نے احتجاج کو مکمل طور پر شہری حقوق کے طور پر نہیں دیکھا۔یہ موقف بتاتا ہے کہ آج عدلیہ ایک ایسے ماحول میں کام کر رہی ہے جہاں’قومی سلامتی، بین الاقوامی شبیہ اورتقریب کا وقار‘ جیسے الفاظ کا دباؤ لگاتار بڑھ رہا ہے۔یہ سب مودی حکومت کے دور میں ہی کیوں  بار بار ہو رہا ہے؟ یہ سب سے زیادہ مشکل لیکن اہم سوال ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تعلیمی رہنمائی اجلاس کی سمت و طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلیوں کی ضرورت

۱) ایک ’ایونٹ اسٹیٹ‘ کی سیاست

پچھلے دس برسوں میں، گورننس پالیسی پر مبنی ہونے سے زیادہ واقعات پر مرکوز، مکالمے پر مبنی سے زیادہ انتظامی مرکز بن گئی ہے۔ ہر بڑے واقعے کو ’قومی وقار‘ کا سوال بنا دیا جاتا ہے اوراور جب وقار سب سے اوپر ہو جاتا ہے تو اختلاف جرم بن جاتا ہے۔

۲) پولیس کا بڑھتا ہوا سیاسی استعمال

مودی حکومت کے تحت، پولیس ایک غیر جانبدار قانون نافذ کرنے والے کے بجائے ایگزیکٹو کی توسیع کی طرح کام کر رہی ہے۔ مظاہروں کو اکثر ’سازش،ملک دشمنی،انتشار‘ قرار دیا جاتا ہے۔

۳) اپوزیشن کے تئیں عدم برداشت

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ کسانوں کے احتجاج، طلبہ کی تحریکیں اور اپوزیشن جماعتوں کے مظاہروں کو اکثر سخت کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دراصل جمہوریت میں اقتدار بدل جاتا ہے لیکن احتجاج کا حق مستقل ہوتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ مودی دور میں اس بنیادی اصول کو بار بار ختم کیا گیا ہے۔

۴) لیڈر کی ’مضبوط‘ اور اداروں کی کمزور شبیہ 

ایک مضبوط لیڈر کی شبیہ صرف اس وقت تک جمہوری ہوتی ہے جب تک ادارے آزاد رہیں اور اختلاف رائے کو تحفظ حاصل ہو۔ لیکن جب ہر احتجاج کو ’شبیہ پر حملہ‘ کے طور پر سمجھا جاتا ہے، تو ادارے رفتہ رفتہ خود پر قابو کھو دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آسام دل بدلی، یوگی-شنکراچاریہ تنازع اور تعلیمی نظام پر ایس سی تبصرہ سرخیوں میں

یوتھ کانگریس کا یہ معاملہ بنیادی طور پر پوچھتا ہے کہ کیا اب ہمیں ہندوستان میں احتجاج کرنے سے پہلے ’تقریب کے پیمانے‘ اور’کونسی حکومت‘ پر غور کرنا ہوگا؟آئین اور سپریم کورٹ کی نظیریں واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ احتجاج جمہوریت کا دشمن نہیںبلکہ اس کا محافظ ہے۔ اگر پولیس، گرفتاری اور نظر بندی ہی ہر اختلاف رائے کا جواب ہے تو جمہوریت آہستہ آہستہ رسمی اور کھوکھلی ہو جائے گی۔

آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ عدلیہ کو اپنی دیرینہ نظیروں کو مزید مضبوطی سے نافذ کرنا چاہئے۔پولیس کو آئینی حدود میں رکھا جائےاور حکومت کو تسلیم کرنا چا ہے کہ اپوزیشن کمزوری نہیں جمہوریت کی مضبوطی ہے۔یہ ہندوستانی آئین کی روح ہے اور یہ اس کا امتحان بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK