گزشتہ دس برسوں کے دوران ملک کے سیاسی اورسماجی حالات کو بدلنے، بھائی چارگی کی فضا کو آلودہ کرنے اور گنگا جمنی تہذیب کو مٹانے کی کافی کوششیں ہوئیں لیکن حالات و واقعات شاہد ہیں کہ اس محاذ پر باطل طاقتیں ناکام اور امن و اخوت کا پیغام کرنےوالے کامیاب ہیں۔
دیپک کمار جیسے لوگوں کیلئے ہی یہ بات کہی جاتی ہے کہ ’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانکی تاریخ میں جہاںجنگ و جدال اور نفرت وعناد کے بے شمار واقعات ہیں، وہیں اخوت و محبت اور تعاون وایثار کی بھی بہت ساری کہانیاں درج ہیں اور یہ مثبت کہانیاں منفی کہانیوں پر بھاری ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی تہذیب پریقین رکھنے والے وقتی بحران سے کبھی پریشان نہیں ہوتے۔ انہیں رات کی تاریکی کے بعد صبح کے آنےکی امید رہتی ہے۔گزشتہ ایک عشرے میں ملک کے سیاسی اورسماجی حالات کو بدلنے، بھائی چارگی کی فضا کو آلودہ کرنے اور گنگا جمنی تہذیب کو مٹانے کی کافی کوششیں ہوئیں لیکن حالات و واقعات شاہد ہیں کہ اس محاذ پر باطل طاقتیں بری طرح ناکام اور امن و اخوت کا پیغام کرنےوالے کامیاب ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شمال مشرقی لوگوں پرحملوں نے سرکار کی توجہ حاصل کی، لیکن مسلمانوں کا کیا؟
ایک دہائی قبل ملک کی سیاسی فضا تبدیل ہوئی تو کچھ لوگوں کے پر نکل آئے۔ انہیں لگا کہ ’سیاں‘ کوتوال ہوگئے ہیں، اسلئے اب انہیں کچھ بھی کرنے کیلئے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ذہن میں اس بات کا آنا تھا کہ نعرے بازیوں سے ملک کی فضامکدر کرنے کے ساتھ ہی جگہ جگہ پر ماب لنچنگ کے واقعات بھی بڑھنے لگے۔ افسوس اس بات کی ہے کہ اس طبقے کی اس سوچ کو پولیس، انتظامیہ اور کچھ حد تک عدلیہ سے بھی تعاون ملنے لگا۔اس دوران ملک بھر میں یہ تاثر دیا گیا کہ جو اُن کے رنگ میں نہیں رنگے گا،اس کے لئے زمین تنگ کردی جائے گی۔ کچھ حد تک وہ کامیاب بھی رہے۔ لیکن کب تک؟
ایک سائنسی اصول ہے کہ کسی چیز پر جتنا دباؤ ڈالیں گے، وہ اتنی ہی تیزی سے اُبھرے گا۔ایک سماجی اصول ہے کہ دیوار سے پیٹھ لگ جائے تو ناتواں بھی پہلوان سے ٹکراجاتا ہے۔ اُردو کا ایک مشہور شعر ہے کہ’ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے‘ یا پھر یہ کہ ’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘۔اسی طرح ہمارے بڑے بزرگ اکثر کہتے ہیں کہ ’ہر شر میں خیر کے پہلو‘ بھی ہوتے ہیں اور قرآن کی یہ بشارت تو ہمارے لئے مشعل راہ ہے کہ ’اِنا مع العسریسرا‘ یعنی ’بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے‘۔
یہ بھی پڑھئے: جمہوریت میں اختلاف رائے کا حق ہے پھر احتجاج کو جرم کیوں بنایا جا رہا ہے؟
فرقہ پرست طاقتیں بھلے ہی ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرکے اپنی سیاسی عمر میں اضافے کی کوششیں کرتی رہی ہوں لیکن اب انہیں میں سے لوگ ان کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اتراکھنڈ میں ’محمد دیپک‘تو محض ایک مثال ہیں، ورنہ سچ تو ہے کہ ہم اپنے آس بھی دیکھیں تو ایسے افراد ایک دو نہیں بڑی تعداد میں دکھائی دیں گے جو بھائی چارگی کی فضا کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ جس وقت دیپک کمار نے فرقہ پرستوں سے ٹکرانے کی جرأت کی تھی،انہیں قطعاً امید نہیں رہی ہوگی کہ ان کے اس قدم کی ملک بھر میں بلکہ عالمی سطح پر پزیرائی ہوگی۔ اس کے برعکس بہت ممکن ہے کہ اس بات کا خوف بھی رہا ہو کہ انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔ کچھ مہینوں قبل انہیں کی ریاست کے مشہور ضلع نینی تال میں شہلا نیگی کے ساتھ پیش آنے والے واقعات یقینی طور پر انہیں یاد رہے ہوں گے۔اس بہادر لڑکی نے مسلمانوں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ اور مسلم مخالف نعروں کے خلاف کھڑے ہو نے کی جرأت کی تھی اوراس کے نتیجے میں طرح طرح کی دھمکیاں برداشت کی تھیں۔اس کے باوجود اگر دیپک کمار نے حق کا ساتھ دیا تو اس کی وجہ ان کے دل میں جلنے والی وہ روشن شمع تھی جسے ان کے پرکھوں نے گنگا جمنی تہذیب کے تیل سے جلایا تھا۔
دیپک کی ہمت و جرأت کی بازگشت کے درمیان ہی اترپردیش کے بنارس اور چھتیس گڑھ کے دُرگ میں بھی شرپسندوں کے سر اُبھارنے کے واقعات پیش آئے۔ بنارس کی تاریخی بکرامنڈی میں ’اے بی وی پی‘ کے شرپسندوںنے مسلم دکانداروں کو ہراساں کرنے اور ان کی دکانیں بند کرانے کی کوشش کی لیکن انہیں بھی اپنے مذموم منصوبوں میں کامیابی نہیں ملی کیونکہ ان کا جواب دینے کیلئے مقامی افراد سینہ سپرہوگئے تھے۔ وہاں پر ایک دو نہیں درجنوں دیپک کمار تھے۔اسی طرح دُرگ ضلع کے دیوبالودا علاقے میں مہاشیو راتری میلے کے دوران مسلم دکانداروں کو اسٹال بند کرنے پر مجبور کئے جانے کی بات سامنے آئی تھی۔ یہاں بھی برادران وطن نے متاثرہ تاجروں کی حمایت کی اور شر پسندوں کو وہاں سے فرار ہونے پر مجبور کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: کھیت کو پرندوں سے بچانے کیلئے طلبہ اونچی آواز میں سبق یاد کرتے ہیں
اسی ہفتےکی بات ہے۔ تلنگانہ کےجلال پور گاؤں کی جامع مسجد پر کچھ شرپسندوں نے حملہ کرکے نقصان پہنچایا تھا۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد ایک ہندو تاجر نےایک مقامی لیڈر امجد اللہ خان کے ساتھ متاثرہ مسجد کا دورہ کیا اوراس کی مرمت کیلئے مالی مدد کی پیش کش کی۔ اسی دوران لکھنؤ یونیورسٹی میں بھی ایک واقعہ پیش آیا جسے موجودہ تناظر میں خوشگوار کہاجاسکتا ہے۔ وہاں پر یونیورسٹی میں واقع ایک مسجد کو اچانک تالا لگادینے کے خلاف مسلم طلبہ احتجاج کررہے تھے۔ ان طلبہ کو برادران کے طلبہ نے نہ صرف اپنی اخلاقی حمایت دی بلکہ احتجاج میں ان کے ساتھ شریک ہوئے اور احتجاج کے دوران ان کی انسانی زنجیر کے درمیان مسلم طلبہ نے نماز بھی ادا کی۔
ایک جانب جہاں یہ سب کچھ ہورہا تھا، وہیں دوسری جانب فرقہ پرستوں کی شرپسندی بھی جاری تھی۔۲۳؍ فروری کو جے پور میں بی جے پی کے سابق رکن پارلیمان سکھ بیر جونپوریا غریبوں میں کمبل تقسیم کرنے نکلے تھے جو غلطی سے کچھ مسلم غریبوں کے پاس بھی چلے گئے جنہیں انہوں نے چھین لیا۔ ان کی اس حرکت کا مقامی لوگوں نے منہ توڑ جواب دیا۔ مقامی افراد نے نہ صرف ان کے دیئے گئے کمبل واپس کردیئے بلکہ انہیں علاقے میں داخل نہ ہونے دینے کی دھمکی بھی دی۔
یہ بھی پڑھئے: فرقہ وارانہ منافرت کی توسیع میں بچوں اور عورتوں کی شمولیت
اس طرح کے واقعات کا مشاہدہ ہم اپنے آس پاس بھی کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ سب یکطرفہ طور پر نہیں ہوتا بلکہ اس دوران مسلمانوں کی جانب سے بھی ایسے ہی کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ایک مثال ملاحظہ کریں۔ جمعرات کی شب میں بلند شہر کی ایک مسجد میں تراویح کی نما ز ہورہی تھی۔ اسی دوران ایک شور اُٹھا کہ قریب کی بستی میں آگ لگ گئی ہے۔ مسلمانوں نے نماز موقوف کرکے آگ بجھانے کی کوشش شروع کردی اور اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی۔ بعد میں لوگوں نے کہا کہ ’’محبت کے فرشتے اسی طرح ہر آگ کو بجھاتے رہیں گے۔‘‘وحشت رضا علی کلکتوی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’اے مشعل امید یہ احسان کم نہیں ہے:تاریک شب کو تونے درخشاں بنا دیا‘‘.... یہ واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ محبت کی شمع جلاتے رہیں، نفرت کے اندھیرے خود بخود مٹتے رہیں گے۔