• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نرملا سیتا رمن کا ایک اور مایوس کن بجٹ

Updated: February 08, 2026, 11:44 AM IST | Pranjaye Gohatha Kurta | Mumbai

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی طرف سے سال رواں کیلئے پیش کردہ بجٹ کو ’ پھیکا‘ کہنا بھی کمتر تجزیہ ہوگا۔ جو لوگ اس بات سے خوش ہیں کہ انہوں نے خوش نما عوامی جذبات کو ہوا نہیں دی،انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

Nirmala Sitharaman. Photo: INN
نرملا سیتا رمن۔ تصویر: آئی این این

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی طرف سے سال رواں کیلئے پیش کردہ بجٹ کو ’ پھیکا‘ کہنا بھی کمتر تجزیہ ہوگا۔ جو لوگ اس بات سے خوش ہیں کہ انہوں نے خوش نما عوامی جذبات کو ہوا نہیں دی،انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ پی چدمبرم کے ۹؍ بجٹ پیش کرنے کے ریکارڈ کی برابری کرنے کے بعد، بہت ممکن ہے کہ وہ مرارجی دیسائی کا ۱۰؍ مرکزی بجٹ پیش کرنے کا ریکارڈ بھی توڑ دیں۔ ایسا اسلئے ہے کہ ایسا مانا جارہا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر بنی رہیں گی اور نریندر مودی حکومت مئی۲۰۲۹ء تک اپنی تیسری پانچ سالہ مدت پوری کرلے گی۔

یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:بین المذاہب ہم آہنگی، برادران وطن سے مکالمہ اور مزید بہتری کے امکانات

’بلڈی سنڈے‘ کے بعدشیئر بازار میں کچھ سدھار دیکھا گیا، جس نے گزشتہ ۶؍ برسوں میں بجٹ کے دن اپنی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ وزیر خزانہ نے ایسی کوئی خاص بات نہیں کی جس سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے، روزگار میں اضافہ ہو، محصولات کی وصولی میں اضافہ ہو یا پھر قرض لینے  کی شرح میں کمی کا اندازہ ہو۔بجٹ میں کم از کم تین انتہائی مشہور سرکاری اسکیموں کی ناکامی کا اعتراف کیا گیا ہے: وزیراعظم کی انٹرن شپ اسکیم، پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو( پی ایل آئی) اور’ جل جیون یوجنا‘ جس کا مقصد ہر دیہی گھر کو صاف پانی فراہم کرنا ہے۔  رواں مالی سال کے دوران ’پی ایم انٹرن شپ اسکیم‘  کیلئے نظرثانی شدہ تخمینہ (۱۰؍ ہزار ۸۳۱؍ کروڑ) نصف سے بھی کم ہے اورپی ایل آئی اسکیم کیلئے مختص رقم میں ۳؍ فیصد کمی کی گئی ہے کیونکہ یہ اسکیم آٹو سیکٹر کے علاوہ زیادہ موثر نہیں رہی ہے جبکہ ۲۶۔۲۰۲۵ءکیلئے ’جل جیون یوجنا‘ کا نظرثانی تخمینہ ۲۷؍ ہزار کروڑ کے بجٹ تخمینہ سے کم کر کے۱۷؍ ہزار کروڑ کر دیا گیا ہے۔

جہاں تک مرکزی حکومت کے قرض لینے کا تعلق ہے، بڑی تصویر یہ ہے کہ وہ ملک کے مرکزی بینک اور سپریم مانیٹری اتھارٹی، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)کے ساتھ ساتھ حکومت کے زیر ملکیت پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگس (PSUs) سے رقم حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آر بی آئی کی طرف سے ڈیویڈنڈ حکومت کی کل غیر ٹیکس آمدنی کے تقریباً نصف کی نمائندگی کرے گا۔ درحقیقت، یہ انڈین آئل کارپوریشن اور آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن جیسے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ منافع بخش’پی ایس یوز‘ کے مقابلے میں حکومت کے خزانے میں زیادہ حصہ ڈالے گا۔ اقتصادی ماہرین کو خدشہ ہے کہ ’پی ایس یوز‘منافع کی ادائیگی کیلئے اپنے سرمائے کے اخراجات میں کمی کر دیں گے، جو کہ کسی بھی طرح سے حکومت کے ذریعہ ایک جیب سے دوسری جیب میں رقم منتقل  کرنے جیسا  ہی ہے۔ یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یو جی سی تنازع:مساوات کو یقینی بنانے کی سنجیدہ کوشش یا سیاسی بساط پر ایک اور چال

حکومت نے اپنے ’ڈس انویسٹمنٹ پروگرام‘ کو سست کر دیا ہے: موجودہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق، بجٹ کے ہدف کا صرف۷۲؍ فیصد ہی حاصل کیا جا سکے گا۔ اس کے باوجود،۲۷۔۲۰۲۶ء کے ہدف کو بڑھا کر ۸۰؍ ہزار کروڑ کر دیا گیا ہے۔گزشتہ ۵؍ برسوںمیں پہلی بار ہے کہ ڈس انویسٹمنٹ کا ہدف بڑھایا گیا ہے۔ اسی طرح مرکزی حکومت کی کل ٹیکس آمدنی میں بجٹ تخمینہ کے مقابلے میں تقریباً ۵؍ فیصد کمی آئی ہے اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب کے طور پر ٹیکس وصولی میں بھی کمی آئی ہے۔ماہر اقتصادیات رتھن رائے کا کہناہے کہ۲۱۔۲۰۲۰ء اور ۲۲۔۲۰۲۱ء کے وبائی برسوں میں اضافے کے باوجود، جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر کل سرکاری اخراجات ۱۷۔۲۰۱۶ء سے جمود کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نصاب کے ذریعے معصوم ذہنوں پر فرقہ پرستی کی کاشت کاری : ہم کتنے تیار ہیں؟

پہلی بارجی ایس ٹی کی وصولی کے ہدف کو کم کیا گیا ہے۔ ستمبر۲۰۲۵ء میں جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کے بعد، یہ امید کی جا رہی تھی کہ زیادہ کھپت زیادہ ٹیکس وصولیوں کا باعث بنے گی تاہم ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، گھریلو قرضے ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہیں۔ امیروں پر ٹیکس لگا کر ریونیو بڑھانے کے بجائے زیادہ قرض لے کر مالیاتی خسارے کو کنٹرول کرنے کے فیصلے نے سرکار کو سرمائے کے اخراجات اور سماجی بہبود (صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم) اسکیموں پر نسبتاً کم خرچ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے، کیونکہ یہ دائیں بازو کی حکومت کی نو لبرل اقتصادی پالیسیوں سے محبت کے مطابق ہے۔یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ حکومت دیہی علاقوں میں روزگار پیدا کرنے کیلئے کس طرح بجٹ بنا رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کو ختم کرنے اور اس کی جگہ( وکست بھارت گارنٹی فار ایمپلائمنٹ اینڈ لائیولی ہڈز مشن ۔گرامین) یعنی ’وی بی جی رام جی‘ ایکٹ  لانے کے بعد  منریگا کیلئے نظرثانی شدہ تخمینہ تقریباً اسی سطح (۸۸؍ ہزار کروڑ) پر ہے۔ اس میںاگلے مالی سال  کیلئے ۳۰؍ ہزار کروڑ روپے کا اضافی بجٹ دیا گیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ یہ فنڈز اُن لوگوں کیلئے سالانہ۱۲۵؍ دن کے کام کو یقینی نہیں بنائیں گے جو اس کی مانگ کررہے ہیں، یہ اس صورت میں ہے کہ مرکزی حکومت نےاس پروگرام میں اپنا حصہ۹۰؍ فیصد سے کم کر کے۶۰؍ فیصد کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK