• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتےمہاراشٹر کے بیشتر اخبارات نے اجیت پوار کی ناگہانی موت کو موضوع بنایا

Updated: February 01, 2026, 10:48 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

مہاراشٹر کے تمام موقر اخبارات نے ریاست کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی رحلت کو قومی سیاست کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ انہیں مہاراشٹر کی سیاسی بساط کا وہ درخشاں ستارہ بتایا گیا ہے جو اپنی غیر متزلزل ہمت بے اور غیرمعمولی سیاسی بصیرت کے ذریعہ ایوان اقتدار میں مسلسل ارتعاش پیدا کرتا رہا۔

This public outpouring in Ajit Pawar`s last journey is a testament to his popularity. Photo: INN
اجیت پوار کے آخری سفر میں یہ عوامی سیلاب ان کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر کے تمام موقر اخبارات نے  ریاست کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی رحلت کو قومی سیاست کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ انہیں مہاراشٹر کی سیاسی بساط کا وہ درخشاں ستارہ بتایا گیا ہے جو اپنی غیر متزلزل ہمت بے اور غیرمعمولی سیاسی بصیرت کے ذریعہ ایوان اقتدار میں مسلسل ارتعاش پیدا کرتا رہا۔ جہاں غیر اردو اخبارات نے ان کی انتظامی صلاحیت، سیاسی فراست اور جرأت اظہار پر تفصیلی تبصرے کئے ہیں وہیں کئی اخبارات نے اس افسوسناک ہوائی حادثے کو محکمہ شہری ہوابازی کی سنگین غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے شفاف اور غیر جانب دار جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے بیشتر اخبارات نے منی پور کے حادثے، اور اترا کھنڈ کے واقعے کو موضوع بنایا

 ایک فرد کا حادثہ نہیں ، ایک سیاسی عہد کا خاتمہ ہے

مہاراشٹر ٹائمز( مراٹھی، ۲۹؍ جنوری )

’’مہاراشٹر کی سیاست کا ایک روشن ستارہ ہمیشہ کیلئے غروب ہو گیا۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور این سی پی کے قد آور  لیڈراجیت پوار کی  اچانک طیارہ حادثے میں وفات محض ایک فرد کا حادثہ نہیں بلکہ ایک سیاسی عہد کا خاتمہ ہے۔ گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں سے ریاست کی سیاسی بساط پر اپنی دھاک بٹھانے والے ’دادا‘ کا اس طرح رخصت ہو جانا مہاراشٹر کیلئے ایک ایسا صدمہ ہے جس کی کسک دیر تک محسوس کی جائے گی۔ اجیت پوار کی شخصیت تضادات اور عوامی مقبولیت کا ایک انوکھا امتزاج تھی۔ انہوں نے سیاست کی ابتدائی ابجد اپنے چچا شرد پوار سے سیکھی لیکن جلد ہی اپنی انتھک محنت اور دوٹوک فیصلے کرنے کی جرأت کے باعث اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ بارہ متی جیسے دیہی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا کہ قیادت صرف تقریروں سے نہیں بلکہ ٹھوس نتائج سے حاصل کی جاتی ہے۔ ان کا نظم و ضبط اور علی الصباح کام شروع کرنے کی عادت بیوروکریسی اور سیاسی حلقوں میں ضرب المثل بن چکی تھی۔ان کا سیاسی سفر ہنگامہ خیز رہا۔ چاہے وہ بدعنوانی کے الزامات ہوں یا سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی، اجیت پوار نے کبھی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا۔ وہ ایک ایسے سیاستداں تھے جو دیکھیں گے یا سوچیں گے جیسے روایتی جملوں کے بجائے ہاں یا نا میں جواب دینے پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے اسی کھرے پن اور بے باکی کی وجہ سے جہاں ان کے ناقدین پیدا ہوئے وہیں ان کے چاہنے والوں کی ایک  فوج بھی تیار ہوئی جو اُن کے ایک اشارے پر مرنے کو تیار رہتی تھی۔افسوسناک امر یہ ہے کہ تقدیر نے انہیں اس وقت چھین لیا جب وہ اپنی سیاسی بصیرت کے عروج پر تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کئی اخبارات نے ایران کی صورتحال، خطے اور دنیا کے امن کیلئے خطرہ کو موضوع بنایا

اجیت پوار: انتظامی تاریخ کا ایک روشن باب 

پرہار( مراٹھی، ۲۹؍جنوری)

’’نئے سال کی دہلیز پر مہاراشٹر کو ایک ایسی خبر کا سامنا کرنا پڑا جس نے سیاسی حلقوں اور عوامی زندگی میں ارتعاش پیدا کر دیا۔ ریاست کے سیاسی افق پر’دادا‘ کے لقب سے پہچانے جانے والے اجیت پوار کی ایک حادثے میں ناگہانی موت محض ایک فرد کا بچھڑنا نہیں بلکہ سیاست کے ایک مخصوص دبستان کا خاتمہ ہے۔اجیت دادا کی شخصیت روایتی سیاست دانوں کے برعکس’شہد و شکر‘ جیسی شیریں بیانی سے عاری تھی۔ وہ خوشامد اور مصلحت پسندی کے قائل نہیں تھے بلکہ اپنےدو ٹوک موقف کیلئے شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے کبھی عوام یا انتظامیہ کو خوش کرنے کیلئے ہاں میں ہاں ملانے کا سہارا نہیں لیا۔ ان کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے گھر کے آنگن سے لے کر بیوروکریسی کے ایوانوں تک نظم و ضبط پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو کسی کو خوش کرنے کیلئے اس کی خطاؤں سے چشم پوشی کریں بلکہ ان کی زبان کی کاٹ سے بڑے بڑے عہدیدار لرزہ براندام رہتے تھے۔ اجیت پوار کی سیاسی تربیت ملک کے قد آور لیڈر شرد پوار کے زیر سایہ ہوئی جنہوں نے انہیں اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے میں آسانی تو فراہم کی لیکن ان کی انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے کبھی خود کو اپنے چچا کے سائے میں گم ہونے نہیں دیا۔بطور وزیر خزانہ ان کی کارکردگی ریاست کی انتظامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ وہ بجٹ کے اعداد و شمار اور ترقیاتی منصوبوں کے توازن کو بخوبی سمجھتے تھے۔ ان کی سیاسی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مختلف نظریات رکھنے والے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرنے کے باوجود کبھی کسی سے ان کا تصادم اس حد تک نہیں بڑھا کہ نظام حکومت متاثر ہو۔ انہوں نے ہمیشہ منصب کی لاج رکھی اور سیاسی مخالفین کے خلاف گفتگو کرتے ہوئے بھی شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔اجیت دادا کا اچانک رخصت ہو جانا مہاراشٹر کی سیاست میں ایک ایسا خلا پیدا کر گیا ہے جسے پُر کرنا آسان نہ ہوگا۔ وہ’پوار فیکٹر‘کے ایک متحرک ستون تھے جن کے جانے سے ریاست کی بساطِ سیاست پر نئی صف بندیاں ناگزیر ہو گئی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نےعمرخالد و شرجیل امام کی ضمانت اور گرمیت کی پرول کو موضوع بنایا

شہری ہوا بازی کی مجرمانہ غفلت

نوبھارت ٹائمز( ہندی، ۲۹؍جنوری)

’’ہندوستان میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے دو فضائی حادثات نے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ احمد آباد میں ایئر انڈیا کے طیارے کو پیش آنے والا واقعہ ہو یا بارامتی میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے زیر استعمال طیارے کی تباہی۔ بظاہر یہ دو الگ واقعات نظر آتے ہیں لیکن ان کے پسِ پردہ چھپے حقائق ہوابازی کے شعبے میں جاری سنگین بے ضابطگیوں اور حفاظتی اقدامات میں مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔احمد آباد کیس کی تحقیقات تاحال کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی بلکہ آنے والی  خبروں نے معاملے کو مزید الجھا دیا ہے۔ دوسری جانب بارامتی کا حادثہ تکنیکی اور انتظامی خامیوں کا منہ بولتا ثبوت بن کر سامنے آیا ہے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق پائلٹ کو دھند یا خراب موسم کی وجہ سے رن وے نظر نہیں آ رہا تھا۔ پہلی کوشش ناکام ہونے کے بعد جب دوسری بار لینڈنگ کی سعی کی گئی تو محض چند سیکنڈز کی حدنگاہ کو کافی سمجھ کر جوکھم لیا گیا جس کا نتیجہ ایک ہولناک حادثے کی صورت میں نکلا۔یہاں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اگر حالات قابو سے باہر تھے تو پائلٹ یا عملے کی جانب سے میڈے کال کیوں موصول نہیں ہوئی؟ کیا یہ انسانی غلطی تھی یا نظام کی ناکامی؟ بارامتی جیسے غیر منظم ایئر فیلڈز جہاں تمام تر انتظام ایئرپورٹ اتھاریٹی کےبجائے نجی تربیتی اداروں کے پاس ہوتا ہے وہاں سہولیات کا فقدان جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ کیا محض اخراجات بچانے یا ضابطوں کی نرمی کے باعث انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا گیا؟مذکورہ طیارہ وی ایس آر وینچرز نامی کمپنی کی ملکیت تھا جس کا ایک طیارہ گزشتہ برس ممبئی میں بھی حادثے کا شکار ہو چکا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پرانے حادثے کی رپورٹ آج تک منظرعام پر نہیں لائی گئی۔ جانچ میں یہ سستی اور مصلحت پسندی نئے حادثات کو دعوت دینے  جیسا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بعض اخبارات نے ماب لنچنگ مقدمات، کسی نے اراولی کان کنی کو موضوع بنایا

این سی پی کے مستقبل پر سوالیہ نشان

دی انڈین ایکسپریس( انگریزی، ۲۹؍ جنوری )

’’مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی ایک فضائی حادثے میں المناک موت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ریاست کی سیاست کے ایک متحرک باب کا اچانک اختتام ہے۔ ان کی موت سے پیدا ہونے والا خلا  نہ صرف ان کی پارٹی بلکہ پوری ریاستی سیاست میں مدتوں محسوس کیا جائے گا۔ اجیت پوار کا سیاسی سفر تلون مزاجی اور عملی پسندی کا ایک ایسا مرقع تھا جس میں نظریات سے زیادہ اور انتظامی صلاحیت کو اہمیت حاصل رہی۔چھ بار نائب وزیر اعلیٰ اور آٹھ بار رکن اسمبلی منتخب ہونے والے اجیت پوار نے سیاست کے کئی رنگ دیکھے۔ کانگریس سے اپنے سفر کا آغاز کرنے کے بعد اپنے چچا شرد پوار کی قائم کردہ این سی پی کو مستحکم کیا اور پھر حالات کی بساط پر اپنی الگ راہ نکالتے ہوئے بی جے پی کے زیرِ قیادت این ڈی اے کا حصہ بنے۔ ان کا سیاسی طرز عمل ہمیشہ زمینی حقائق سے جڑا رہا یہی وجہ ہے کہ وہ نظریاتی اختلافات کے باوجود اپنے حلقہ اثر میں بے حد مقبول رہے۔ اجیت پوار کی شخصیت تضادات کا مجموعہ تھی۔ ایک طرف ان پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کئے گئے تو دوسری طرف ایک باصلاحیت منتظم کے طور پر ان کا لوہا بھی مانا گیا۔ بطور وزیر خزانہ مالی نظم و ضبط پر ان کی گرفت بے مثال رہی۔آج اجیت پوار کا نام مادھو راؤ سندھیا، وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور پرمود مہاجن جیسے ان قد آور لیڈروں کی فہرست میں شامل ہو گیا  جو اپنے سیاسی عروج کے دور میں بے وقت موت کا شکار ہوئے۔ ایک ایسی سیاست میں جہاں خاندانی رسوخ اور شخصی کرشمہ اہمیت رکھتا ہے۔اجیت پوار کا جانا این سی پی کے مستقبل پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK