Inquilab Logo Happiest Places to Work

گویا ایک عمارت کی مرمت اور اس کے انہدام کے درمیان فرق کوہی فراموش کر دیا گیا

Updated: June 26, 2026, 8:53 PM IST | S. Y. Quraishi | Mumbai

عدالت نے ۲۰۰۳ءکی انتخابی فہرست کو بنیادی حوالہ قرار دینے کے فیصلے کو بھی برقرار رکھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ۲۰۰۳ءکے بعد رجسٹر ہونے والے ہر ووٹر کو دوبارہ اپنی اہلیت ثابت کرنا ہوگی۔

Supreme Court. Photo: INN.
سپریم کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔

’’کسی بھی نمائندہ حکومت کیلئے ووٹوں کی گنتی سے پہلے یہ جاننا ناگزیر ہوتا ہے کہ آخر کن ووٹوں کو گنا جانا ہے اور کن کو نہیں۔ ‘‘چیف جسٹس سوریہ کانت کے۱۲۴؍ صفحات پر مشتمل فیصلے کا یہ ابتدائی جملہ جو ۲۷؍مئی کو اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز بمقابلہ الیکشن کمیشن آف انڈیا مقدمے میں صادر ہوا۔ یہ ایسا فیصلہ ہے جس نے آئین و قانون کے تقاضوں کو بڑی حد تک درست طور پر سمجھا ہے، لیکن زمینی حقائق کو تقریباً مکمل طور پر نظرانداز کر دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عدالت نے ایک عمارت کی مرمت اور اس کے انہدام کے درمیان فرق کوہی فراموش کر دیا ہو۔ پہلے ان نکات کا اعتراف ضروری ہے جن پر عدالت داد کی مستحق ہے۔ بہار میں ’ایس آئی آر‘ کو دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکا تھا۔ تیز رفتار شہری پھیلاؤ اور وسیع پیمانے پر نقل مکانی کے باعث انتخابی فہرستوں میں ایک ہی شخص کے متعدد اندراجات، وفات پا جانے والے ووٹروں کے نام اور مہاجر ووٹروں کے دہرے یا بار بار اندراج جیسے مسائل پیدا ہو چکے تھے۔ اگرچہ سالانہ نظرثانیوں کے ذریعہ ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم مسائل پوری طرح ختم نہیں ہوئے تھے۔ ایسے حالات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے خصوصی جامع نظرثانی کا فیصلہ، جیسا کہ سپریم کورٹ نے بھی قرار دیا ہے، قانونی اور آئینی بنیادوں پر درست تھا۔ اگرچہ اس کے نفاذ کا طریقۂ کار ہرگز مثالی نہیں تھا۔ عدالت نے بجا طور پر قرار دیا کہ ایس آئی آر کی قانونی بنیاد عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ ۲۱(۳) اور آئین کے آرٹیکل ۳۲۴؍میں موجود ہے اور یہ آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے آئینی تقاضے سے متصادم نہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے شہریت کے سوال پر ایک نہایت ضروری اور دانشمندانہ حد بندی قائم کی ہے۔ 
الیکشن کمیشن شہریت کا جائزہ تو لے سکتا ہے، لیکن صرف اس حد تک کہ یہ طے کیا جا سکے کہ کسی شخص کا نام انتخابی فہرست میں شامل رہے گا یا نہیں۔ کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دینا اسے غیر شہری قرار دینے کے مترادف نہیں۔ شہریت کے بارے میں حتمی فیصلہ بدستور شہریت ایکٹ کے تحت مجاز اتھاریٹی ہی کرے گی۔ اگر عدالت یہ حد مقرر نہ کرتی تو ایس آئی آر خاموشی کے ساتھ قومی شہری رجسٹر (این آر سی ) کی ایک غیر اعلانیہ شکل اختیار کر سکتی تھی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ عدالت نے اس راستے کو اختیار کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت کی ایک اور ہدایت بھی قابلِ تحسین ہے۔ الیکشن کمیشن کو حکم دیا گیا ہے کہ۲۰۰۳ءکی بہار انتخابی فہرست سے شہریت کی بنیاد پر خارج کیے گئے تمام افراد کے معاملات چار ہفتوں کے اندر متعلقہ اتھاریٹی کو بھیجے جائیں اور اگر وہ انہیں ہندوستانی شہری قرار دے تو ان کے نام دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل کیے جائیں۔ کم از کم اصولی طور پر یہ ایک معنی خیز تحفظ ہےلیکن اب اس فیصلے کے ان پہلوؤں کی طرف آتے ہیں جو نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ دور رس نتائج کے حامل بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘، مَیں نے فلسطینی بچی کی یہ فلم دیکھی!

یہ فیصلہ اس بنیادی اعتراض کا جواب دینے میں ناکام رہا ہے جو پوری مشق کے مرکز میں موجود تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن نے جو کچھ کیا، وہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی نہیں تھی۔ یہ دراصل ازسرِ نو معلومات جمع کرنے کا عمل تھا، جس میں ابتدا ہی سے نئے سرے سے کام کیا گیا اور ان انتخابی فہرستوں کو عملاً یکسر نظر انداز کر دیا گیا جنہیں مختلف الیکشن کمیشنوں نے تقریباً تین دہائیوں کی مسلسل محنت سے تیار کیا تھا۔ ۳۰؍سال کے دوران بار بار کی جانے والی نظر ثانیوں کے نتیجے میں کمیشن انتخابی فہرستوں میں تقریباً ۹۹؍ فیصد درستگی حاصل کر چکا تھا۔ ۲۰۲۴ءجیسے اہم عام انتخابات بھی انہی فہرستوں کی بنیاد پر منعقد ہوئے اور ان کی قانونی حیثیت پر کوئی سنجیدہ اعتراض سامنے نہیں آیا۔ ایسی صورت میں معمولی باقی ماندہ خامیوں کو دور کرنے کیلئے اس پورے جمع شدہ سرمایۂ محنت کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا اور تقریباً ایک ارب ووٹروں کو دوبارہ جانچ پڑتال کے مرحلے سے گزارنا، دفعہ ۲۱(۳) کے مفہوم میں خصوصی جامع نظرثانی نہیں کہلا سکتا۔ یہ اس سے بالکل مختلف نوعیت کا عمل ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عدالت نے اس بنیادی فرق پر غور ہی نہیں کیا۔ یہ خاموشی فیصلے کی ایک نمایاں کمزوری ہے۔ 
عدالت نے ۲۰۰۳ءکی انتخابی فہرست کو بنیادی حوالہ قرار دینے کے فیصلے کو بھی برقرار رکھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ۲۰۰۳ءکے بعد رجسٹر ہونے والے ہر ووٹر کو دوبارہ اپنی اہلیت ثابت کرنا ہوگی۔ ذرا غور کیجیے کہ یہ لوگ کون ہیں : پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوان، روزگار کی تلاش میں نقل مکانی کرنے والے مزدوراور وہ خواتین جو مختلف عوامی آگاہی مہمات کے ذریعہ انتخابی عمل کا حصہ بنیں۔ یہ وہی طبقات ہیں جنہیں جمہوری عمل میں شامل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن برسوں سے کوشش کرتا رہا ہے۔ اب یہی طبقے دوبارہ تصدیق کے عمل کے باعث حقِ رائے دہی سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جمہوری شمولیت کو وسعت دینے کی کوششیں الٹی سمت میں چل پڑی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسکول کی پہلی گھنٹی اُمیدوں کے نئے سفر کا آغاز

اس کے بعد دستاویزات کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے دستاویزی فریم ورک کو انتظامی اختیارات کے سوچے سمجھے استعمال کا نتیجہ قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے کروڑوں غریب شہریوں کے پاس شناخت اور رہائش کے ایسے باقاعدہ دستاویزی ثبوت موجود ہی نہیں ہوتے جو سرکاری معیار پر پورے اتر سکیں۔ جو ایک قابلِ اعتماد ثبوت ان کے پاس موجود تھا، یعنی ووٹر شناختی کارڈ، اسے بھی ایک ہی جھٹکے میں ناکافی قرار دے دیا گیا۔ سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو وہ طریقۂ تلافی ہے جو عدالت نے غلط طور پر خارج کیے گئے ووٹروں کیلئے تجویز کیا ہے۔ عدالت کے مطابق جن افراد کے نام غلطی سے فہرست سے خارج کر دیئے جائیں ، وہ عدالتی نظرثانی کے ذریعے کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ 
اس جملے کو دوبارہ پڑھئےاور پھر اس ووٹر کا تصور کیجیے جس سے یہ بات کہی جا رہی ہے۔ وہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، جو سیتامڑھی یا مرشد آباد کے کسی گاؤں میں رہتا ہے، جس کا نام شاید اس کی لاعلمی میں فہرست سے خارج کر دیا گیا ہو، جس نے ممکن ہے کبھی مسودۂ فہرست دیکھی بھی نہ ہو، جس کے پاس وکیل کرنے کی استطاعت نہ ہو اور جس کے پاس نہ وقت ہو، نہ پیسہ اور نہ قانونی پیچیدگیوں سے نپٹنے کی صلاحیت، کیا وہ واقعی عدالت سے رجوع کر سکے گا؟غریب ووٹر کیلئے یہ عملاً کوئی علاج نہیں۔ یہ ایسا دروازہ ہے جو بظاہر کھلا دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں بند ہوتا ہے۔ 
شہریت سے متعلق معاملات کو مجاز اتھاریٹی کے سپرد کرنے کی عدالتی ہدایت بھی اسی نوعیت کی کمزوری کا شکار ہے۔ اس کے باوجود عدالت نے ہدایت دی ہے کہ یہ تمام معاملات اگلے پارلیمانی، اسمبلی یا بلدیاتی انتخابات، جو بھی پہلے ہوں ، سے قبل نپٹا دیئے جائیں۔ یہ ایک ایسا وقت مقرر کرنا ہے جس پر عمل درآمد تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فٹ بال کا عالمی جشن: یہ کھیل آج بھی کروڑوں لوگوں کے دل کی دھڑکن ہے

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ عدالت نے عدم تعمیل کی صورت میں کوئی سزا یا جوابدہی کا طریقہ متعین نہیں کیا۔ اگر مجاز اتھاریٹی اگلے انتخابات سے پہلے فیصلہ نہ کر سکے تو کیا متاثرہ ووٹروں سے کہا جائے گا کہ وہ پھر اگلے انتخابات تک انتظار کریں ؟ کوئی بھی ہدایت، اگر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا مؤثر طریقہ موجود نہ ہو، محض کاغذی ہدایت بن کر رہ جاتی ہے۔ صرف مغربی بنگال میں ابتدائی انتخابی فہرستوں سے ۹۰؍ لاکھ سے زیادہ نام خارج کیے جا چکے ہیں۔ تمل ناڈو میں یہ تعداد تقریباً ۷۴؍ لاکھ ہے۔ غلط طور پر خارج کیے جانے والے ووٹروں کا مسئلہ کوئی نظری یا فرضی خدشہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ نقصان پہلے ہی ہو چکا ہے، جبکہ عدالتی تحفظات بعد میں سامنے آئے ہیں۔ 
یہاں  قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ صرف ۱۲؍ روز قبل اسی فیصلے کے مصنف چیف جسٹس سوریہ کانت نے عدالت میں جعلی ڈگری رکھنے والے اور بغیر مقدمات کے پھرنے والے وکیلوں کے بارے میں سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہیں ’کاکروچوں ‘ سے تشبیہ دی تھی لیکن آج یہی فیصلہ غیر ارادی طور پر ایسے وکیلوں کیلئے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ اگر کروڑوں ووٹر اپنے ناموں کے اخراج کے خلاف عدالتی چارہ جوئی پر مجبور ہوتے ہیں تو وہی وکیل، جن کے پاس آج کوئی مقدمہ نہیں ، کل مقدمات کے انبار تلے دبے ہوں گے۔ 
انتخابی فہرست ہر شہری کی جمہوری وابستگی اور سیاسی شناخت کا سرٹیفکیٹ ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے ہمیں یہ تو بتا دیا ہے کہ ایس آئی آر آئینی ہے لیکن عدالت یہ نہیں بتا سکی اور شاید کوئی عدالتی فیصلہ بتا بھی نہیں سکتا کہ اگر ایک جمہوریت صاف انتخابی فہرستوں کے نام پر اپنے غریب ترین شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کر دے، تو کیا وہ واقعی اپنے آپ کو جمہوریت کہلانے کا حق رکھتی ہے؟
(مضمون نگار ہندوستان کے سابق چیف الیکشن کمشنر ہیں )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK