ہند رجب کی کہانی، ان تمام بچوں کی کہانی ہے جن کے بچپن جنگوں کے شور میں کھو گئے۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 3:59 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
ہند رجب کی کہانی، ان تمام بچوں کی کہانی ہے جن کے بچپن جنگوں کے شور میں کھو گئے۔
’’وقت کیا ہوا ہے؟‘‘
’’اندھیرا چھا رہا ہے!‘‘
’’مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔‘‘
یہ ۶؍ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کے آخری کال کے چند جملے ہیں۔ پھر فلسطینی ریڈ کریسنٹ کا نمائندہ بچی کا حوصلہ برقرار رکھنے کیلئے اسے قرآن مجید کی چند آیات کی تلاوت کرواتا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ فون بجنے پر اسکرین دیکھتے ہیں، اور اگر ’’Unknown Number‘‘ لکھا ہو تو اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بعد میں دیکھ لیں گے، یہ سوچ کر زندگی آگے بڑھ جاتی ہے۔ بعض اوقات ایک فون کال صرف دو انسانوں کے درمیان رابطہ نہیں ہوتا بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر تک پہنچنے کی کوشش ہوتا ہے۔
ہند رجب کی کہانی ایسی ہی ایک گھنٹی سے شروع ہوتی ہے۔
وہ کوئی سپر ہیرو نہیں تھی۔ اس نے کوئی جنگ نہیں لڑی تھی۔ اس نے کوئی سیاسی تقریر نہیں کی تھی۔ وہ چھ برس کی ایک بچی تھی، جس کی دنیا شاید اتنی ہی بڑی تھی جتنی ہر چھ سالہ بچے کی ہوتی ہے، ماں کی آغوش، گھر کا ایک کمرہ، اسکول کے خواب، کھلونوں سے وابستہ ننھی خوشیاں اور یہ یقین کہ اگر کبھی ڈر لگے تو گھر کے بڑے اسے ضرور بچا لیں گے۔
۲۹؍ جنوری ۲۰۲۴ء کی دوپہر، غزہ کے شہری اپنے محلہ تل الحوا میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کے بعد علاقہ چھوڑ رہے تھے۔ بشر حمادہ اپنی سویلین گاڑی میں اپنے خاندان کو محفوظ مقام کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ گاڑی میں ان کی بیٹی لیان، دوسرے بچے، رشتہ دار اور چھ سالہ ہند رجب تھی۔ شاید انہیں بھی دیگر افراد کی طرح یقین تھا کہ اگر وہ جنگ سے دور نکل گئے تو زندگی دوبارہ معمول کی رفتار پکڑ لے گی لیکن بعض اوقات جنگ انسان سے منزل نہیں، راستہ ہی چھین لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسکول کی پہلی گھنٹی اُمیدوں کے نئے سفر کا آغاز
فارس گیس اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہی اسرائیلی ٹینکوں نے ان کی کار پر فائرنگ شروع کر دی۔ چند لمحوں میں گاڑی گولیوں سے چھلنی ہو چکی تھی۔ اسی گاڑی سے پہلا فون کال آیا۔ فون ہند رجب نے نہیں اس کی چودہ سالہ کزن لیان نے کیا تھا۔ فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (پی آر سی ایس) کے نمائندے نے کال اٹھایا۔ لیان نے کانپتی آواز میں مدد کی فریاد کی۔ پھر فائرنگ کی آواز آئی۔ اور پھر ایک درد میں ڈوبی چیخ، پھر خاموشی۔ یہ خاموشی ثبوت تھی کہ لیان کی آواز ہمیشہ کیلئے خاموش ہو چکی ہے۔
اس خاموشی کے بعد فون ایک ننھے ہاتھ میں پہنچا۔ اب دوسری طرف ہند رجب تھی۔ چھ سال کی بچی آخر کتنی دیر تک دلیری کا مظاہرہ کرسکتی ہے؟ اس سوال کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔ لیکن اس دن دنیا نے پہلی بار ایک بچی کی ہمت کو گھنٹوں تک ٹوٹتے، سنبھلتے، اور پھر ٹوٹتے ہوئے سنا۔
ایک چھوٹی سی کار میں اس کے ارد گرد اس کے اپنے مردہ پڑے تھے۔ چند لمحے پہلے تک جو آوازیں اس کیلئے زندگی تھیں، اب خاموش ہو چکی تھیں۔ گاڑی کے شیشے چکناچور تھے، ہر طرف گولیوں کے نشانات تھے اور باہر موت ایسے کھڑی تھی گویا اس نے اس پوری گلی کو اپنی تحویل میں لے لیا ہو۔
ہند رجب کال پر بار بار ایک ہی بات کہتی رہی، ’’مجھے یہاں سے نکالیں، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز، کوئی آ جائے۔‘‘ اس کی آواز میں چیخ کم امید زیادہ تھی۔ وہ یہ نہیں کہہ رہی تھی کہ ’’کیا میں زندہ رہوں گی؟‘‘ وہ بار بار صرف یہ پوچھ رہی تھی کہ ’’آپ آئیں گے نا؟‘‘
پی آر سی ایس کے نمائندے تقریباً تین گھنٹے سے زیادہ اس کے ساتھ فون پر رہے۔ کبھی اسے دلاسہ دیتے، کبھی اسے خاموش رہنے کا مشورہ دیتے، کبھی یقین دلاتے کہ ایمبولینس راستے میں ہے۔ ان کی کوشش صرف ایک جان بچانے کی نہیں تھی؛ وہ ایک چھ سالہ بچی کی امید کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس دوران پی آر سی ایس نے غزہ کی وزارتِ صحت کے ذریعے اسرائیلی فوج کے ساتھ مسلسل رابطہ کیا تاکہ ایمبولینس کو محفوظ راستہ دیا جا سکے۔ ایمبولینس دو پیرامیڈکس کے ساتھ تیزی سے ہند رجب کے قریب جارہی تھی۔ فون پر موجود نمائندے سانس روکے انتظار کر رہے تھے۔ ہند کو بار بار یہی کہا جا رہا تھا:’’ہم آرہے ہیں، ہمت رکھو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فٹ بال کا عالمی جشن: یہ کھیل آج بھی کروڑوں لوگوں کے دل کی دھڑکن ہے
یہ فلم کی کہانی ہےجو ہند رجب کی حقیقی کہانی پر مبنی ہے۔ خیر، جب ایمبولینس المجدل اسٹریٹ کے قریب پہنچی تو پیرامیڈکس نے اطلاع دی کہ ایک سبز لیزر ان کی گاڑی پر پڑ رہا ہے۔ یہ آخری اطلاع تھی۔ چند لمحوں بعد ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی۔پھر... ایک بار پھر خاموشی۔ پی آر سی ایس کا رابطہ ان سے ختم ہوگیا۔ تقریباً ۱۲؍ دن بعد جب علاقے سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد علاقے میں رسائی ممکن ہوئی تو وہاں کا منظر انسانیت کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی تھا۔ ہند رجب کی کار وہیں کھڑی تھی۔ گولیوں سے چھلنی۔ اس کے اندر ہند اور خاندان کے دیگر افراد کی لاشیں موجود تھیں۔ چند ہی میٹر کے فاصلے پر وہ ایمبولینس بھی ملی جو اسے بچانے آئی تھی۔ اس کے اندر طبی عملہ بھی جان کی بازی ہار چکا تھا۔
فلمساز جنگ پر فلم بناتے ہیں تو ٹینک، دھماکے، تباہ شدہ عمارتیں، ہیرو یا ویلن دکھاتے ہیں۔ ناظر دو گھنٹے بعد سنیما ہال سے نکلتا ہے تو جنگ کے مناظر کو ساتھ لے جاتا ہے لیکن ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کی ہدایتکار کوثر بن ہانیہ نے جنگ نہیں دکھائی، انہوں نے انتظار دکھایا۔ انہوں نے گولیوں کی آواز سے زیادہ ان لمحوں کو اہمیت دی جب فون کی دوسری طرف بیٹھا ایک نمائندہ کوشش کر رہا تھا کہ اس بچی کا حوصلہ ٹوٹنے نہ پائے۔ فلم نے جذبات ابھارنے کیلئے مصنوعی راستہ اختیار نہیں کیا۔ یہاں نہ زبردستی کے مکالمے ہیں، نہ آنسو رواں کرنے والی موسیقی، نہ ایسے مناظر جو ناظرین کو حکم دیں کہ اب رونا شروع کردیں۔ اس فلم کو ان ’’لوازمات‘‘ کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ حقیقت اسکرپٹ سے زیادہ بے رحم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کالج ڈائری: نیا سفر، نئے راستے، نئی منزلیں
اس فلم کی ریڑھ کی ہڈی وہ اصل آڈیو ریکارڈنگز ہیں جو فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے محفوظ کیں۔ ہند، لیان اور نمائندے کے درمیان ہونے والی گفتگو کو بنیاد بنا کر فلم ایک ایسی دنیا تخلیق کرتی ہے جس میں ناظر صرف دیکھتا نہیں، بلکہ سنتا ہے۔ اور بعض اوقات سن لینا، دیکھ لینے سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ مجھے اس فلم کی خاموشی نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ وہ خاموشی جو لیان کی چیخ کے بعد چھا جاتی ہے۔ وہ خاموشی جو ایمبولینس سے آخری پیغام آنے کے بعد رہ جاتی ہے۔ وہ خاموشی جس میں ایک بچی اپنے اردگرد پڑی لاشوں کے درمیان کسی کے قدموں کی آہٹ سننے کی کوشش کرتی ہے۔اور آخر میں، وہ خاموشی جو سنیما ہال سے باہر نکلنے کے بعد ناظرین اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔
اس فلم پر تاثرات بیان کرنا آسان نہیں۔ اگر اسے صرف فلم کہا جائے تو ہند رجب کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اگر اسے صرف ایک المناک واقعہ کہا جائے تو انسانیت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ فلم داد وصول نہیں کرتی، یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آج کا انسان کہاں کھڑا ہے۔
فلم ختم ہو جاتی ہے۔ اسکرین پر نام آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہال کی روشنیاں جل اٹھتی ہیں۔ لوگ اپنی نشستوں سے اٹھتے ہیں، موبائل فون دوبارہ ہاتھ میں آجاتے ہیں، کسی کے پیغام کا جواب دیا جاتا ہے، کوئی اپنی اگلی منزل کا راستہ دیکھتا ہے، کوئی تصویر کھینچتا ہے، اور زندگی پھر اسی رفتار سے چلنے لگتی ہے جس رفتار سے فلم شروع ہونے سے پہلے چل رہی تھی۔ لیکن ایک چیز پہلے جیسی نہیں رہتی، اور وہ ہے موبائل فون۔ وہی فون جو ہماری روزمرہ زندگی کا سب سے عام حصہ ہے۔
’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ دیکھنے کے بعد یہی فون اچانک ایک نئی معنویت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر اُس دن فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے نمائندے نے بھی اسکرین پر ’’Unknown Number‘‘ دیکھ کر فون نہ اٹھایا ہوتا تو شاید دنیا کبھی ہند رجب کا نام بھی نہ جان پاتی۔ شاید ہمیں یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ ایک بچی تین گھنٹے سے زیادہ اپنے مردہ رشتہ داروں کے درمیان بیٹھی کسی اجنبی آواز سے حوصلہ پاتی رہی۔ شاید ہم کبھی نہ جان پاتے کہ دو پیرامیڈکس، جنہیں باقاعدہ اجازت لے کر مدد کیلئے روانہ کیا گیا تھا، اپنی ایمبولینس سمیت واپس نہ لوٹ سکے۔ شاید ہمیں یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ بعض اوقات دنیا کی سب سے بڑی خبر کسی پریس کانفرنس میں نہیں، ایک خوفزدہ بچے کی لرزتی ہوئی آواز میں چھپی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تعلیم کو عام کرنے کا زبانی دعویٰ اور تعلیمی شعبےکی حقیقی صورتحال
ہند رجب کی کہانی، ان تمام بچوں کی کہانی ہے جن کے بچپن جنگوں کے شور میں کہیں کھو گئے ہیں۔ یہ ان تمام والدین کی کہانی ہے جو اپنے بچوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ’’ہم تمہیں کچھ نہیں ہونے دینگے‘‘، مگر جنگ ان کے وعدوں کو جھٹلا دیتی ہے۔ یہ ان تمام امدادی کارکنوں کی کہانی ہے جو جانتے ہیں کہ شاید وہ واپس نہ آئیں، پھر بھی مدد کیلئے نکل پڑتے ہیں۔ اور یہ ہم سب کی کہانی بھی ہے کیونکہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں خبریں تیزی سے بدل جاتی ہیں البتہ جن گھروں میں جنگ داخل ہوتی ہے وہاں صرف تاریخیں آگے بڑھتی ہیں، زندگی ٹھہر جاتی ہے۔
’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ نے غزہ اور دنیا کے جنگ زدہ علاقوں کے لاکھوں بچوں کی ختم ہونے والی آوازوں میں سے ایک کو بچایا ہے۔