ہمارے آئین کے مطابق، ملک کے ہر شہری کو یہ سماجی اور قانونی حق حاصل ہے کہ وہ کس مذہب کی پیروی کرے یا کسی بھی مذہب سے بالکل پرہیز کرے۔ اس کے باوجود سیاسی مقاصد کیلئے مذہب کا استحصال کرنے والی تنظیمیں اسے قبول نہیں کرتیں۔
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 11:14 AM IST | Ram Puniyani | Mumbai
ہمارے آئین کے مطابق، ملک کے ہر شہری کو یہ سماجی اور قانونی حق حاصل ہے کہ وہ کس مذہب کی پیروی کرے یا کسی بھی مذہب سے بالکل پرہیز کرے۔ اس کے باوجود سیاسی مقاصد کیلئے مذہب کا استحصال کرنے والی تنظیمیں اسے قبول نہیں کرتیں۔
ہمارے آئین کے مطابق، ملک کے ہر شہری کو یہ سماجی اور قانونی حق حاصل ہے کہ وہ کس مذہب کی پیروی کرے یا کسی بھی مذہب سے بالکل پرہیز کرے۔ اس کے باوجود سیاسی مقاصد کیلئے مذہب کا استحصال کرنے والی تنظیمیں اسے قبول نہیں کرتیں۔ آر ایس ایس کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت ایک طرف یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام ہندوستانی ہندو ہیں۔ وہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندو آبادی میں کمی آرہی ہے کیونکہ بہت سے ہندو اسلام اور عیسائیت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندو جوڑوں کو کم از کم تین بچے پیدا کرنے چاہئیں کیونکہ ہندو آبادی میں کمی انتہائی تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھے: یاہو اور ٹرمپ بین الاقوامی قوانین کے پرخچے اُڑا رہے ہیں
یہ دونوں بیانات متضاد ہیں۔ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ ملک میں رہنے والا ہر شخص ہندو ہے۔ دوسری طرف، آپ ہندو مذہب میں گھر واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں! ہندوتوا کی سیاست سے وابستہ بہت سے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان میں تمام لوگوں کا ڈی این اے ایک جیسا ہے۔ جہاں تک جینیات کا تعلق ہے تو اس کا تعلق کسی کے مذہب سے نہیں ہو سکتا کیونکہ عالمی سطح پر لوگ ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ آباد ہو رہے ہیں۔ اسلئے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے ڈی این اے میں مماثلت ہو سکتی ہے۔ کسی کی پیدائش یا رضاکارانہ مذہب کو ترک کرنے اور صرف ڈی این اے کی مماثلت کی بنیاد پر اکثریت کے مذہب کو قبول کرنے کے مطالبے کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ دعویٰ سراسر غلط ہے کہ اسلام ہندوستان میں تلوار کی نوک پر پھیلا کیونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی پہلی بستی کیرالا کے مالابار ساحل پر قائم ہوئی تھی۔ یہ کسی بادشاہ کی تلوار کی نوک پر نہیں ہوا، کیونکہ ۱۸؍ویں صدی میں ٹیپو سلطان سے پہلے تک کسی مسلمان بادشاہ نے کیرالا پر حکومت نہیں کی۔ ہندوستان کی پہلی مسجد، چیرامن جمعہ مسجد، ساتویں صدی میں بنائی گئی تھی۔ بہت ممکن ہے کہ بعد میں لالچ یا دباؤ کی وجہ سے کچھ لوگ مذہب تبدیل کئے ہوں لیکن اسلام قبول کرنے کی سب سے اہم وجہ ہندومذہب میں موجود ذات پات کا نظام تھا جس کی وجہ سے بہت ظلم ہوتے تھے۔یہ مذہبی تبدیلیاں بادشاہوں کی طرف سے نہیں بلکہ صوفی بزرگوں کے انسان دوستانہ اندازِ فکر سے ہوئیں۔ جیسا کہ سوامی وویکانند بتاتے ہیں کہ اسلام ہندوستان میں نچلی ذات کے لوگوں کیلئے ایک آزادی دہندہ کے طور پر آیا۔ بعض صورتوں میں، فاتح مسلمان بادشاہوں نے ہندو بادشاہوں کو معافی کی شرط پیش کی کہ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تاہم اس طرح کے واقعات بہت کم ہوئے ہیں۔ یہ سچائی کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہو گا کہ مذہب کی تبدیلی سے محض لوگوں کے مذہبی طریقے تبدیل ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی الگ عبادت گاہیں ہیں، عبادت کے الگ طریقے ہیں اور الگ مقدس کتاب کے ساتھ ہی ان کی الگ شناخت بھی ہے۔ موجودہ ہندوتوا کے نظریہ سازوں کا یہ دعویٰ ہندو قوم پرستی کے علمبردار ساورکر کے نظریئے سے بھی متصادم ہے، جن کا خیال تھا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پھر مٹی کے چولہے پر کھانا پکانے کا جتن ہونے لگا
جہاں تک عیسائیت کا تعلق ہے، یہ ۵۲ء میں سینٹ تھامس کے ساتھ ہندوستان پہنچا، جس نے مالابار کے ساحل پر گرجا گھر بنائے تھے۔۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی کل آبادی میں ان کا فیصد صرف۲ء۳۰؍ تھا۔ وہ دور دراز قبائلی علاقوں میں کام کرتے ہیں، قبائلی لوگوں کو عیسائیت میں تبدیل کرنے کیلئے متاثر کرتے ہیں۔ تاہم۲؍ ہزار سال بعد بھی کل آبادی میں ان کا۲ء۳۰؍ فیصد حصہ بتاتا ہے کہ یہ مذہبی تبدیلیاں جبر یا لالچ کے ذریعے نہیں کی گئیں۔ مسیحی برادری کا ایک چھوٹا سا طبقہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ مذہب تبدیل کروانا چاہتا ہے، لیکن ان کے بڑے فرقے کسی کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرتے جب تک کہ وہ شخص اپنی مرضی سے ایسا نہ کرے۔
جیسے ہی ہندوستان میں فرقہ وارانہ سیاست نے زور پکڑا، آریہ سماج نے سب سے پہلے مسلمانوں کو ہندو بنانے کی شروعات کی۔ انہوں نےاسے شدھی کا نام دیا۔موجودہ ’گھر واپسی‘ مہم تقریباً چار دہائیاں قبل شروع کی گئی تھی، بنیادی طور پر قبائلی/دلت علاقوں میں۔ قبائلی علاقوں میں، گرم چشموں میں نہانے جیسی دیگر مذہبی رسومات کے ساتھ ہووَن بھی ادا کیا جاتا تھا، جس کے بعد یہ اعلان کیا جاتا تھا کہ اس شخص نے ہندو مذہب اختیار کر لیا ہے۔ کچی آبادیوں میں اس کا مقصد مسلمانوں کو ہندو بنانا تھا۔ اس کی ایک مثال۲۰۱۴ء میں آگرہ کے وید نگر میں پیش آئی۔ فٹ پاتھ پر رہنے والے لگ بھگ۳۵۰؍ مسلمانوں کو، جن میں سے زیادہ تر کچرا چننے والے اور بے سہارا تھے، کو نہا کر آنے کیلئے کہا گیا۔ انہیں بی پی ایل اور راشن کارڈ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں ہووَن کروایا گیا اور پھر انہیں لالچ دے کر ان کے ہندو ہونے کااعلان کر دیا گیا۔ اس آپریشن میں بجرنگ دل اور ہندو جن جاگرتی سمیتی شامل تھے۔ دونوں ہی تنظیمیں آر ایس ایس سے وابستہ ہیں۔ تبدیلی مذہب کیلئے یہ آر ایس ایس کی یہ تنظیمیں غریب مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ بناتی ہیں۔
اس سمت میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے، بی جے پی کی حکمرانی والی کئی ریاستوں نے تبدیلی مذہب کے ایکٹ نافذ کیے ہیں، جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ لوگ اپنے مذہب کا انتخاب خود سے نہ کرسکیں۔ ان میں سے کئی شقیں ایسی ہیں جن میں مذہبی تبدیلی کیلئے کلکٹر کی اجازت درکار ہوتی ہے۔تبدیلی مذہب کا الزام لگا کر کئی پادریوں کو مارا پیٹا گیا۔ گزشتہ کرسمس پر، فٹ پاتھ پر کرسمس کا سامان فروخت کرنے والے چھوٹے دکانداروں کو بھی اسی حوالے سے ہراساں کیا گیا۔ کچھ سال قبل ادیشہ میںپادری اسٹینس اور ان کے دو چھوٹے بیٹوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اخباروں میں ایران جنگ، رسوئی گیس اور نیپال انتخابی نتائج اداریوں کا موضوع رہے
اب’ گھر واپسی‘ کے مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ یہ فرقہ پرست تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کی طرف سے سماج کو تقسیم کرنے کے کھیل کو زندہ کرنے کی کوشش ہے۔ یہ’ گھر واپسی‘ دراصل زبردستی مذہبی تبدیلی کی ایک شکل ہے۔ اسی طرح ’لو جہاد‘ سے متعلق مہم چلائی جا رہی ہے۔ کیرالا اسٹوری۲؍ کا ٹریلر، جو اس مسئلے پر مرکوز ہے، صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک فرقہ وارانہ فلم ہے جس کا مقصد پروپیگنڈا ہے۔
اس فلم کا مقصد ہندو لڑکیوں کو لالچ دینے، ان سے شادی کرنے اور ان کا مذہب تبدیل کرنے کیلئے مسلم نوجوانوں کی ایک منظم مہم ہے۔ کیرالا پولیس نے اس کی جانچ کی اور اسے جھوٹا پایا۔ گھر واپسی کی یہ مہم ہندوستانی آئین ہم آہنگ ثقافتی اقدار کے بالکل خلاف ہیں جو ہندوستان کے جذباتی اتحاد کی بنیاد تھی۔