نیتن یاہو نے نیو یارک ٹائمز کے خلاف عصمت دری اور جنسی استحصال کے مضمون پر مقدمہ کیا، جس میں کالم نگار نکولس کرسٹوف نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف منظم جنسی تشدد کے الزامات شائع کیے۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 7:02 PM IST | Tel Aviv
نیتن یاہو نے نیو یارک ٹائمز کے خلاف عصمت دری اور جنسی استحصال کے مضمون پر مقدمہ کیا، جس میں کالم نگار نکولس کرسٹوف نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف منظم جنسی تشدد کے الزامات شائع کیے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر خارجہ گڈون ساعر نے کالم نگار نکولس کرسٹوف کے مضمون کی اشاعت کے بعد نیو یارک ٹائمز کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی ہدایت دی۔امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر اسرائیلی وزارت خارجہ کی طرف سے شیئر کیے گئے ایک بیان میں، اسرائیلی حکام نے اس مضمون کو ’’جدید پریس میں اسرائیل کی ریاست کے خلاف شائع کیے گئے انتہائی گھناؤنے اور بگڑے ہوئے جھوٹ میں سے ایک قرار دیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ کے۶۰؍ فیصد حصے پر قبضہ کرلیا ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ
بعد ازاں وزارت نے اخبار پر مضمون کی حمایت کرنے کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ نیو یارک ٹائمز کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔واضح رہے کہ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب کرسٹوف نے’’ خاموشی جو فلسطینیوں کی عصمت دری کے ساتھ ملتی ہے ،‘‘کے عنوان سے ایک رائے کا حصہ شائع کیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ اسرائیلی جیل محافظوں، فوجیوں، آباد کاروں اور تفتیش کاروں کی طرف سے فلسطینی قیدیوں کو وسیع پیمانے پر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ساتھ ہی کرسٹوف نے کہا کہ انہوں نے۱۴؍ فلسطینی مردوں اور عورتوں کا انٹرویو کیا جنہوں نے اسرائیلی فورسیزاور آباد کاروں کے حملوں یا حراست کے دوران جنسی زیادتی اور دیگر بدسلوکی کے واقعات بیان کیے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ اورایران پرمغربی میڈیا کی رپورٹنگ ’غیرانسانی بنانے‘ پر مبنی ہے: صحافی اسکاہل
مزید برآں کالم نگار نے لکھا کہ "اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اسرائیلی لیڈروں نے عصمت دری کا حکم دیا،لیکن انہوں نے دلیل دی کہ’’ اسرائیلی حکام نے ایک حفاظتی نظام بنایا ہے جہاں جنسی تشدد ایک عام طریقہ کار بن چکا ہے،‘‘جس میں انہوں نے ایک اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔ساتھ ہی مضمون میں آلہ سے عصمت دری، جنسی اعضاء پر مارپیٹ، جنسی تشدد کی دھمکیاں، اور قید کے دوران ذلت آمیز سلوک کے حوالے سے شہادتیں شامل تھیں۔
اس کے علاوہ کرسٹوف نے یورو-میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر، سیو دی چلڈرن، بتسیلیم، اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس سمیت متعدد تنظیموں کی رپورٹوں کا حوالہ دیا جن میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور بدسلوکی کے الزامات دستاویز کیے گئے تھے۔انہوں نے گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اقوام متحدہ کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں اسرائیل پر فلسطینیوں کو ’’نظامی طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے‘‘کا الزام عائد کیا گیا تھا۔حالانکہ نیو یارک ٹائمز اور کرسٹوف نے اسرائیل کے مقدمہ دائر کرنے کے اعلان پر اب تک عوامی طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا تھا۔