اس میدان کی اپنی اہمیت ہے۔ احتجاج گاہ کی حیثیت سے یہ اندرونِ ملک ہی نہیں، بیرونِ ملک بھی مشہور ہے۔وزارت داخلہ کا اسے ڈینوٹیفائی کرنا یعنی نوٹیفائڈ پروٹیسٹ سائٹ کی حیثیت ختم کرنا کیا ہے؟ یہ فیصلہ انتظامی اُمور کے پیش نظر ہے یا نفسیاتی پریشانی کے پیش نظر، یہ کہنا مشکل ہے۔
امیت شاہ کو دور حاضر کا چانکیہ یوں ہی نہیں کہا جاتا۔ پیر کو اُن کی وزارت (داخلہ) نے ایک فرمان جاری کرکے جنتر منتر کی جلسہ گاہ کی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ پچھلے چند ماہ سے نوجوان مظاہرین دلی کے قلب میں واقع جنتر منتر کو مودی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کیلئے میدان جنگ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ پہلے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے اور اب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کیلئے جنتر منتر پر آندولن کرکے جین زی کے احتجاجی لڑکے لڑکیوں نے مودی سرکار کے ناک میں دم کر دیا۔ جنتر منتر ملک کے ان کروڑوں شہریوں کی امیدوں کا مرکز بن گیا جو حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں سے مایوس تھے۔ جنتر منتر عوامی احتجاج کا استعارہ بھی بن چکا ہے اور ریاستی جبر کی علامت بھی۔ اسی لئے امیت شاہ نے کہا ’چھو منتر‘ اور جنتر منترکو دلی کے نقشے سے ہی غائب کردیا۔ انہیں لگا کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔
جولائی میں طلبہ کے آندولن کے سامنے مودی حکومت کو پسپا ہو کر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو مارچنگ آرڈر دینا پڑا تھا۔ اسی لئے ۱۰؍ اکتوبر کو حکومت نے اپنی پوری طاقت لگا کر جنتر منتر پر الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی مخالفت میں ہونے والا کاکروچ جنتا پارٹی اور طلبہ کی تنظیموں کا احتجاج نہیں ہونے دیا۔ نئی دہلی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا؛ ہزاروں پولیس اہلکار اور شدت پسند تنظیموں کے غنڈوں نے پورے علاقہ کی ناکہ بند کر دی؛ پچاس سے زیادہ میٹرو اسٹیشن بند کئے گئے یہاں تک کہ بسوں، ٹرینوں اورہوائی جہازوں تک میں سوار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تاکہ وہ جنتر منتر نہ پہنچ سکیں۔ ایسے زبردست پولیس بندوبست میں پرندہ بھی مار نہیں مار سکتا تھا۔ اس کے باوجود دھن کے پکے نوجوان ان تمام رکاوٹوں کو ٹھوکر مارتے ہوئے جنتر منتر پہنچنے کی کوششیں کرتے رہے اور ووٹ چوری کے خلاف اور ووٹنگ کا اپنا آئینی حق بچانے کیلئے احتجاج کرتے رہے۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی پولیس سوالات کے گھیرے میں
مودی بھکت اور گودی میڈیا جین زی کے تازہ احتجاج کو ’فلاپ شو‘ قرار دے رہا ہے اور مودی حکومت کی جیت کا جشن منا رہا ہے۔ دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور نوجوان مظاہرین اپنی فتح کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ جنتر منتر 2.O کے معرکے میں کون جیتا اور کون ہارا یہ کہنا شاید ابھی قبل از وقت ہوگا کیونکہ پکچر ابھی باقی ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ۱۰؍ اکتوبر کو دہلی میں جمہوریت کو رسوا ضرور کیا گیا۔ بیس پچیس سال کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے پُرامن احتجاج سے نپٹنے کیلئے جس طرح کے جابرانہ اقدام کئے گئے ان کی وجہ سے ساری دنیا میں ہماری بدنامی ہورہی ہے۔
نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، وال اسٹریٹ جرنل اور دی گارجین جیسے بین الاقوامی اخبارات میں نوجوانوں کی تحریک پر طویل رپورٹس نمایاں طور پر شائع کی گئیں۔ انسانی حقوق کمیشن (اقوام متحدہ) نے ۱۰؍ اکتوبر کے واقعات بالخصوص مظاہرین، سول سوسائٹی کے اراکین، وکلا اور صحافیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے مودی حکومت کو تلقین کی ہے کہ وہ شہریوں کے پُر امن طریقے سے جلوس نکالنے کے جمہوری حق کا مکمل احترام کرے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو کوئی اور جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کی حرمت کا درس دے، اس سے زیادہ شرم کی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟
جنترمنتر پر نوجوانوں کو احتجاج سے روک کر مودی جی نے اپنے پاؤں پر ہی کلہاڑی ماری ہے۔ امریکہ اور یورپ میں تو بدنامی ہو ہی رہی ہے، ملک کے اندر بھی انصاف پسند لوگوں میں مودی حکومت کے خلاف بدظنی بڑھ رہی ہے۔ مَیں اندھ بھکتوں کی بات نہیں کررہا ہوں لیکن ایسے بہت سے لوگ جو پہلے بی جے پی کی حمایت کرتے تھے اب پولیس کے سنگدلانہ رویے اور بھگوا دھاری غنڈوں کے تشدد کی وجہ سے مودی حکومت سے ناراض ہیں۔ سب سے زیادہ دھچکا تو دلی پولیس کو لگا ہے۔ عام لوگوں کی نظر میں دلی پولیس ایک بے حد کرپٹ اور ظالم فورس بن گئی ہے۔ حراست میں لیتے وقت احتجاجی لڑکیوں سے نازیبا سلوک کی وجہ سے بھی دلی پولیس کی تھو تھو ہورہی ہے۔ اب وہ جتنے بھی جتن کرلے، اپنا امیج سدھارنا آسان نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بہار کی اُردو تحریک اور شاہد محمود پوری
پولیس کی جارحیت کی وجہ یہ تھی کہ اس کے سیاسی آقاؤں کو احتجاج ناپسند ہے مگر عوام سے مکالمہ کرنا بھی گوارا نہیں جبکہ جمہوریت میں مکالمہ اور گفتگو کی بڑی اہمیت ہے۔ معاشرہ کے بے شمار مسائل اور تنازعات کا باہمی گفت و شنید سے تصفیہ کیا جاسکتا ہے۔ بادشاہتوں اور آمرانہ نظام میں مکالمہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ بادشاہ یا تانا شاہ فرمان جاری کرتے ہیں کیونکہ عوام سے بات چیت کرنا وہ اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں لیکن جمہوری نظام میں ریاست اور شہریوں کے مابین مسلسل رابطہ اور دو طرفہ مکالمہ جاری رہنا چاہئے۔
ہندوستان جنت نشان میں اِس وقت کے سیاسی انتشار اور عدم استحکام کے مختلف اسباب میں ایک اہم سبب حکومت اور عوام کے درمیان مواصلات کا فقدان ہے۔ مودی جی دیش واسیوں سے ہر ماہ ’من کی بات‘ کرتے رہتے ہیں مگر کروڑوں ہندوستانیوں کے دلوں کی بات جاننے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ شہری جب اپنا کام کاج چھوڑ کر کسی بات پر احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ انہیں اس بات سے شدید تکلیف پہنچ رہی ہے۔ کسی جمہوری نظام میں شہریوں کیلئے سب سے بیش قیمت اختیار حق رائے دہی ہے۔ ہمارے معاشرہ میں بے حساب نابرابری اور عدم توازن ہے۔ صرف ووٹ کا حق ایسا حق ہے جو ملک کے امیر ترین صنعتکار اور غریب ترین مزدور کو برابر بناتا ہے۔ اگر مودی حکومت نے ان لوگوں کے جن کے نام اڑا دیئے گئے ہیں نمائندوں کو بلا کر بات کی ہوتی تو وہ انہیں بتاتے کہ ووٹر لسٹ کی صفائی پر اعتراض نہیں لیکن اس بہانے ۱۳؍ کروڑ شہریوں کے نام کاٹنا قطعی برداشت نہیںکیا جاسکتا۔ شہریوں کو، جن کے نام کاٹے گئے، یہ خوف ستا رہا ہے کہ اس کے بعد کا مرحلہ شہریت سے محرومی کا تو نہیں!
یہ بھی پڑھئے: ناول کے صفحات پہ اُبھری کس کی دُنیا، کون ہے یہ!
کئی دہائیوں سے ہر الیکشن میں ووٹ دیتے آئےلوگوں کا نام اس لئے کٹا کہ کسی سافٹ وئیر نے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔ شہریوں کے آئینی حقوق کی محافظ سپریم کورٹ نے بھی انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ جب سارے دروازے بند نظر آئے اور جب انڈین ایکسپریس کی رپورٹ نے تصدیق کر دی کہ دیگر الیکشن کمشنر ( سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی) نے الزام لگایا تھا کہ گیانیش کمار نے ایس آئی آر کے تحت کئی ’’غیر قانونی اقدامات کئے جو اُن کے دائرہ اختیار سے باہر‘‘ تھے تو لوگوں کے پاس سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرنے کے سوا اور کیا راستہ تھا؟ حکومت جب بہری بن جائے تو شہریوں کیلئے آواز بلند کرنا پڑتا ہے۔ جنتر منتر پر تالہ لگا دینے سے کیا ہوگا؟ شہری جس جگہ بھی حکومت کے جبر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں گے وہ مقام جنترمنتر بن جائے گیا۔