Inquilab Logo Happiest Places to Work

تاج محل کی سازش کو عدالت سنجیدگی سے کیوں لے رہی ہے؟

Updated: July 13, 2026, 9:20 PM IST | Vir Sanghvi | Mumbai

کیا ہوتا ہے جب بیوقوف لوگ پاگل خانے پر قبضہ کرلیتے ہیں؟ شاید اب ہمیں اس کا جواب دیکھنے کو مل سکتا ہے، کیونکہ کچھ ایسا ہی ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

The Taj Mahal has once again been claimed. Photo: INN
تاج محل پر ایک بار پھر دعویٰ ٹھونک دیا گیا ہے۔ تصویر: آئی این این

کیا ہوتا ہے جب بیوقوف لوگ پاگل خانے پر قبضہ کرلیتے ہیں؟ شاید اب ہمیں اس کا جواب دیکھنے کو مل سکتا ہے، کیونکہ کچھ ایسا ہی ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔کچھ دن پہلے الہ آباد ہائی کورٹ نے آخر کار تاج محل کی اصل شناخت سے جڑی ایک  اپیل کو سنجیدگی سے لیا اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) اور مرکزی حکومت سے اس پر جواب طلب کیا۔ درخواست دائر کرنے والے لوگ ۲۰۱۵ء سے اس معاملے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اب تک  یکے بعد دیگرے عدالتیں اسے مسترد کرتی رہی تھیں۔

آخر عدالتیں اس معاملے کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہی تھیں؟ اس کی وجہ شاید وہی ہے، جس کی وجہ سے سمجھدار لوگ اس دعوے کو ہمیشہ لایعنی اور بکواس مانتے رہے ہیں۔ اس درخواست کی بنیاد تاج محل سے جڑی ایک پرانی سازشی تھیوری ہے، جسے مؤرخین طویل عرصے سے مسترد کرتے آئے ہیں۔اس تھیوری کے مطابق تاج محل اصل میں ایک ہندو عمارت تھی جس پر بعد میں مغلوں نے قبضہ کر لیا۔ درخواست گزار صرف اس تھیوری پر بھروسہ ہی نہیں کرتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت تاج محل کے اندر تحقیقات کی اجازت دے اور آخر میں مسلمانوں کو وہاں نماز پڑھنے سے بھی روک دے۔

یہ بھی پڑھئے: اتھنال پالیسی: عوام کو ایک ’ریورس گیئر‘ بھی درکار

میں اس  مطالبے کی حمایت میں دئیے گئے نام نہاد دلائل کی پوری تفصیل نہیں دوں گا۔ صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ ان دعوؤں میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔یہ دعویٰ اتنا عجیب اور بے بنیاد ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا بھی اس کی مخالفت کر چکا ہے۔ خود حکومت ہند بھی اسے نہیں مانتی۔ اور یہ بات سبھی تسلیم کریں گے کہ حکومت ہند ایسی حکومت نہیں ہے جو ہندو مخالف ہو یا مغلوں کو بلاوجہ کریڈٹ دینا چاہتی ہو۔

میں نے تاج محل سے جڑا یہ دعویٰ پہلی بار کئی دہائیوں قبل سنا تھا۔ تب میں اسکول میں پڑھتا تھا اور آسانی سے کسی بھی بات پر یقین کر لیتا تھا۔ اسی زمانے میں میں نے پی این اوک کی کتابیں پڑھیں۔ وہ ’انسٹی ٹیوٹ فار ری رائٹنگ انڈین ہسٹری‘ نام کے ادارے کے سربراہ تھے۔اس عمر میں سازشی تھیوریاں لوگوں کو کافی متاثر کرتی ہیں۔ جیسے مجھے ایرک وان ڈینیکن کی یہ بات دلچسپ لگی تھی کہ ہمارے دیوی دیوتا اصل میں کسی دوسرے سیارے سے آئے ہوئے خلائی مسافر تھے۔ یا پھر یہ کہ برمودا ٹرائینگل کسی دوسری دنیا کا دروازہ ہے۔ یا یہ کہ پال میک کارٹنی کی موت ہو چکی تھی اور ان کی جگہ کسی ہم شکل کو رکھ دیا گیا تھا۔ اسی طرح میں تاج محل والی تھیوری کے بارے میں بھی سوچنے لگا تھا۔پھر میں نے پی این اوک اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی اور باتیں پڑھیں۔ تب پتہ چلا کہ ان کے پاس ایسی کئی اور سازشی تھیوریاں بھی تھیں۔ ان میں ایک دعویٰ یہ بھی تھا کہ فتح پور سیکری اصل میں ایک ہندو شہر تھا۔میں نے جو زیادہ تر تھیوریاں پڑھیں ان میں ایک جیسی سوچ دکھائی دیتی تھی۔

دعویٰ کیا جاتا تھا کہ محنتی ہندوؤں نے کئی شاندار عمارتیں بنائیں لیکن بعد میں مسلم حکمرانوں نے ان پر قبضہ کر لیا، ان کے نام بدل دئیے اور ان کا کریڈٹ خود لے لیا۔ بچپن میں ہی انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کن سازشی تھیوریوں پر بھروسہ کرنا چاہئے اور کسے پوری طرح لایعنی اور بکواس مان کر چھوڑ دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: دَل بدل قانون پر نظر ثانی کی ضرورت ہے

اسلئےمیں یہ ماننے کو تیار تھا کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت طیارے کے حادثے میں نہیں ہوئی تھی یا لی ہاروے اوسوالڈ نے اکیلے قتل نہیں کیا تھا۔ (سچ کہوں تو آج بھی میں دوسری بات پر یقین رکھتا ہوں)۔لیکن میں تھیوری اور ان دعوؤں میں فرق کرتا تھا، جن میں کہا جاتا تھا کہ شیکسپیئر اصل میں شیخ پیر نام کے ایک ہندوستانی تھے۔ یا پھر میرے سنسکرت کے استاد شاستری جی کی اس بات میں، جس میں وہ کہتے تھے کہ ہوائی جہاز کی ایجاد قدیم ہندوستانیوں نے کی تھی، لیکن مغربی ممالک نے ہندوستان کی تہذیب کو اس کا کریڈٹ نہیں دیا۔بعد میں، میں اس دعوے پر بھی ہنسنے لگا، جس میں کہا گیا تھا کہ اپولو۔۱۱؍ مشن کے خلائی مسافر بز ایلڈرین اسلامی مذہبی رہنما بن گئے تھے۔

کہانی یہ تھی کہ جب ایلڈرین چاند پر پہنچے تو انہوں نے ایک آواز سنی۔ زمین پر لوٹنے کے بعد انہیں پتہ چلا کہ وہ آواز مسلمانوں کی اذان تھی۔ اس کے بعد انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور مبلغ بن گئے۔ بعد میں میری خود بز ایلڈرین سے ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے ان کے چاند کے سفر کے بارے میں بات بھی کی۔ وہ بالکل بھی اسلام قبول کرنے والے مذہبی رہنما نہیں بنے تھے لیکن ایسی سازشی تھیوریاں پھیلانے والے لوگ اپنی باتوں سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ بعد میں بز ایلڈرین ایک اور سازشی تھیوری کا حصہ بنے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے اور نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر اترنے کا پورا ڈراما ہالی ووڈ کے ایک اسٹوڈیو میں کیا تھا۔پچھلے کچھ برسوں میں سازشی تھیوریوں اور تاریخ کو نئے طریقے سے لکھنے کے درمیان کا فرق دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ اگر کوئی سنجیدہ مؤرخ تحقیق کر کے ایسی بات سامنے لاتا ہے، جو ہماری پہلے کی معلومات سے الگ ہو، تو مجھے اس سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ۲۰؍ ویں صدی کی شروعات میں موہن جوداڑو کی دریافت اور کھدائی ہونے سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ہندوستانی تہذیب کی تاریخ مؤرخین کی پہلے کی سوچ سے کئی صدیاں پرانی ہے۔اسی طرح، جب مرلی منوہر جوشی انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر تھے، تب انہوں نے کئی بار کہا تھا کہ ہڑپہ تہذیب دریائے سندھ کے نہیں بلکہ دریائے سرسوتی کے کنارے پروان چڑھی تھی۔ اس دعوے کی بھی سنجیدگی سے جانچ ہونی چاہئے۔

ہڑپہ تہذیب سے جڑے کئی سوالات آج بھی حل طلب ہیں۔ ہڑپہ کے لوگ کون تھے؟ کیا وہ آج کے دراوڑی لوگوں کے اجداد تھے؟ کیا ان کا کوئی منظم مذہب تھا؟ اور آج تک ان کی زبان کا راز کیوں نہیں سلجھ پایا؟مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ جیسے سنجیدہ مضمون میں اب سیاست اور انتہا پسندانہ سوچ داخل ہو گئی ہے۔ہندو رائٹ وِنگ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہڑپہ تہذیب کے لوگ ہندو تھے جبکہ اس کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ ہندوتوا سے جڑے لوگ اس بات کے تعلق سے فکر مند ہیں کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ ہڑپہ کے لوگ کسی دوسرے مذہب کو مانتے تھے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ہندو مذہب ہندوستان کا  پہلا مذہب نہیں تھا۔ یعنی ہندو مذہب بعد میں ہندوستان آیا اور ممکن ہے کہ اسے باہر سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ لے کر آئے ہوں۔

آپ کو اور مجھے یہ بات عام سی لگ سکتی ہے۔ آخر عیسائیت یورپ پہنچنے سے کافی پہلے کیرالا پہنچ چکی تھی۔ کون سا مذہب پہلے آیا اور کون سا بعد میں، یہ اہم بات نہیں ہے۔ پوپ آج بھی پوپ ہیں، چاہے روم جب بھی عیسائی شہر بنا ہو لیکن ہندوتوا کے حامی مسلمانوں کو بیرونی بتانے کیلئے اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ باہر سے ہندوستان آئے اور یہاں لوگوں کا مذہب تبدیل کروایا۔ایسے میں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ہندو مذہب کے پھیلنے سے پہلے ہندوستان میں ایک ترقی یافتہ غیر ہندو تہذیب موجود تھی اور شاید ہندو بھی باہر سے آکر اپنا مذہب ساتھ لائے تھے، تو یہ ان کے لئے پریشانی کی بات ہوگی۔سمجھدار لوگوں کو یہ فرق شاید فضول لگے، آخر آج ہم سبھی ہندوستانی ہیں اور ایک ایسے ملک کے شہری ہیں، جہاں مختلف مذاہب، ثقافتیں اور روایتیں یکجا رہتی ہیں لیکن اگر کوئی یہ مانتا ہے کہ مسلمان صرف حملہ آور تھے، جو ہندوستان آئے اور یہاں کی عمارتوں پر قبضہ کر لیا، تو اس کیلئے یہ فرق بہت اہمیت رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سازشی تھیوریوں اور تاریخ سے جڑے اصل سوالات کے درمیان کی سرحد کو جان بوجھ کر دھندلا کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ، والدین، تعلیمی ادارے غرض کہ پورا تعلیمی نظام نمبرات کے پیچھے بھاگ رہا ہے

ہندوتوا سے جڑے انتہا پسند بار بار یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسلم حملہ آوروں کی وجہ سے ہندوؤں کو کتنا نقصان پہنچا۔ وہ یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ ہندوستانی ثقافت میں مسلمانوں کا کوئی بڑا تعاون نہیں تھا اور ان کی ہر کامیابی ہندوؤں کی وراثت اور ثقافت کو چھین کر حاصل کی گئی تھی۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی کچھ لوگ ایسے خیالات رکھتے تھے۔فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ سوچ چند لوگوں تک محدود تھی لیکن اب یہ خطرناک حد تک مرکزی دھارے (مین اسٹریم) کے قریب پہنچ گئی ہے۔ انتہا پسند سوچ کو فروغ دینے کیلئے تاریخ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔اسی لئے ضروری ہے کہ ایسے عجیب اور بے بنیاد دعوؤں کو وہ عزت نہ دی جائے، جس کے وہ حقدار نہیں ہیں۔ نفرت کی وجہ سے سچ کو دبنے نہیں دینا چاہئے۔ایک جھوٹ اگر بار بار دہرایا جائے، تو وہ لوگوں کو سچ لگنے لگتا ہے۔

جو معاشرہ آج کی سیاست کو چمکانے کیلئے اپنی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے اور اس کی اہمیت کو کم کرتا ہے، وہ آخر کار اپنا اور اپنے ہی لوگوں کا نقصان کرتا ہے۔بیوقوفوں کو پاگل خانے پر قبضہ کرنے دینا کبھی بھی اچھا  خیال نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK